ذوالنورین امام علی ع کا لقب ہے
🔴 لقب "ذوالنورین" دراصل امیرالمومنین علی علیہ السلام کے القابِ شریفہ میں سے ہے۔
⭕️ امویوں کے بڑے جرائم میں سے ایک یہ تھا کہ پیغمبر اکرم ﷺ کے بعد جعلی احادیث گھڑیں، اور خاص طور پر ان فضائل و القاب کو جو امیرالمومنین علیہ السلام کے ساتھ خاص تھے، اپنے حکمرانوں کے لئے چرا کر استعمال کرنے لگے۔
ان میں سے ایک مشہور لقب "ذوالنورین" ہے۔ امیرالمومنین کو یہ لقب اس لئے دیا گیا کہ آپ دو نور یعنی امام حسن و امام حسین علیہما السلام کے والد ہیں، جو سید شباب اہل الجنۃ ہیں۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ یہ لقب صرف مولا علی علیہ السلام کے لائق تھا، کیونکہ دونوں نور آپ کے صلب سے ہیں۔ لیکن بعد میں امویوں نے یہ لقب عثمان کے لئے گھڑ لیا۔
✍ علامہ کراجکی نے خلفائے عمریہ کے ان جعلی القاب کے بارے میں اپنی کتاب التعجب میں وضاحت کی ہے اور عثمان کے لئے "ذوالنورین" کو ایک جعلی و اموی ساختہ لقب قرار دیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
🔹 ان کا ایک عجیب کام یہ ہے کہ عثمان بن عفان کو "ذوالنورین" کہتے ہیں۔ ان کا گمان یہ ہے کہ اس نے رسول خدا ﷺ کی دو بیٹیوں سے شادی کی تھی،
حالانکہ اس بارے میں کئی اقوال ہیں:
1. بعض نے کہا وہ رسول اکرم ﷺ کی سوتیلی بیٹیاں (ربیبہ) تھیں جو خدیجہ کے پہلے شوہر سے تھیں۔
2. بعض نے کہا وہ خدیجہ کی بہن کی بیٹیاں تھیں، جنہیں خدیجہ نے اپنی کفالت میں رکھا تھا جب ان کی ماں (ہالہ) کا انتقال ہوگیا۔ (یہی قول صحیح ہے)
3. یا پھر بعض کہتے ہیں وہ رسول اکرم ﷺ کی بیٹیاں تھیں، لیکن بہرحال فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے درجے کی ہرگز نہ تھیں۔
اس کے باوجود عثمان کو محض ان دونوں کے ساتھ نکاح کی وجہ سے "ذوالنورین" کہنے لگے،
اور سب سے اہم بات یہ کہ خود محدثین اہل سنت نے اس روایت کو جعلی کہا ہے 👇
https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=1301158125546552&id=100069571310961&mibextid=Nif5oz
لیکن امیرالمومنین کو "ذوالنورین" نہیں کہا گیا، حالانکہ آپ دو سبط (حسن و حسین علیہما السلام) کے والد ہیں، جو دونوں امام، سید شباب اہل جنت، عرشِ الٰہی کے گوشوارے، نبی رحمت ﷺ کے دو پھول اور سیدہ نساء العالمین فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے بیٹے ہیں۔
روایت ہے کہ مجاہد نے کہا: ابن عباس سے پوچھا گیا کہ علی ابن ابی طالب کے بارے میں کیا کہتے ہو؟
انہوں نے کہا:
"خدا کی قسم! وہ وہی ہیں جو سب سے پہلے دو شہادتوں (کلمہ) پر ایمان لائے، جنہوں نے دونوں قبلوں (بیت المقدس اور کعبہ) کی طرف نماز پڑھی، جنہوں نے دو مرتبہ بیعت کی، جنہیں اللہ نے دو سبط (حسن و حسین) عطا فرمائے، جن پر دو بار سورج پلٹا، جنہوں نے دو بار تلوار کھینچی۔ وہ اس امت میں ایسے ہیں جیسے ذوالقرنین تھے۔"
🔹 "دو سبط" سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے علی علیہ السلام کو وسعت علم و جسم عطا فرمائی جیسے طالوت کو کی تھی۔
🔹 "دو بار سورج پلٹنا" ایک بار رسول اکرم ﷺ کی حیات میں اور ایک بار بعد از رحلت ہوا۔
🔹 "دو بار تلوار کھینچنا" ایک بار رسول اللہ ﷺ کی حیات میں مشرکین کے خلاف اور دوسری بار آپ ﷺ کے بعد جمل، صفین اور نہروان کی جنگوں میں۔
ابن عباس نے مزید فرمایا: علی علیہ السلام علم و عمل دونوں میں دوہری شرافت کے مالک ہیں، اسلام میں سبقت اور جہاد میں بھی دو فضیلتوں والے ہیں۔ آپ دوہری نیکیوں والے ہیں کیونکہ والد اور والدہ دونوں ہاشمی ہیں۔ اس اعتبار سے وہ عثمان سے کہیں زیادہ اس لقب کے مستحق ہیں کہ "ذوالنورین" کہلائیں۔
📚 التعجب من أغلاط العامة في مسألة الإمامة، علامہ کراجکی (م 449ھ)، تحقیق: کریم فارس حسون، ص 102.
تبدیلی ممنوع
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen