Back to حضرتِ عثمان

عثمان نے رقیہ/کلثوم کو قبر میں کیوں نہیں اُتارا؟

عثمان نے رقیہ/کلثوم کو قبر میں کیوں نہیں اُتارا؟
عثمان نے رقیہ/کلثوم کو قبر میں کیوں نہیں اُتارا؟
عثمان نے رقیہ/کلثوم کو قبر میں کیوں نہیں اُتارا؟
عثمان نے رقیہ/کلثوم کو قبر میں کیوں نہیں اُتارا؟
عثمان نے رقیہ/کلثوم کو قبر میں کیوں نہیں اُتارا؟
عثمان نے رقیہ/کلثوم کو قبر میں کیوں نہیں اُتارا؟
عثمان نے رقیہ/کلثوم کو قبر میں کیوں نہیں اُتارا؟
عثمان نے رقیہ/کلثوم کو قبر میں کیوں نہیں اُتارا؟
عثمان نے رقیہ/کلثوم کو قبر میں کیوں نہیں اُتارا؟

❌ کیا یہ بات صحیح ہے کہ امیرالمؤمنین علیؑ نے حضرت فاطمہؑ کی شہادت کے 9 دن بعد شادی کر لی؟

 

✅ جواب

 

ناسبی نے ایک کتاب کا اسکین لگایا جس میں دعوی کیا ہے کہ

 

📜 ويقال : إنه تزوج بعد وفاة فاطمة صلوات الله عليها وعلى أبيها بتسع ليال،

 

📃 کہا گیا کہ : فاطمہ ع کی وفت کے 9 دن بعد علی ع نے شادی کرلی

 

📚 قوت القلوب

 

▪️ لیکن جب ہم نے ابو طالب مکی کی کتاب قوت القلوب کی طرف رجوع کیا تو پتا چلا یہ جناب صوفی ہیں اور میں نے دیکھا کہ انہوں نے اصل بات کو واضح اور قطعی انداز میں نہیں کہا، بلکہ ایک غیر یقینی انداز میں بیان کیا ہے:

 

👈 کہا جاتا ہے 👉 کہ انہوں نے حضرت فاطمہؑ کی وفات کے نو راتوں بعد شادی کی۔

 

🚩 بھائی کہا تو بہت کچھ جاتا ہے تم نواسب کی طرف سے ، سند کہاں ہے اسکی ؟

 

▪️خیر میں نے دیکھا کہ بظاہر اہل بیتؑ کے ائمہ سے کوئی ایسی روایت موجود نہیں ہے جو امیرالمؤمنینؑ کے حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی شہادت کے بعد شادی کے مدتِ زمانہ کو متعین کرے۔ اور نہ ہی میں نے کسی کو یہ مدت طے کرتے ہوئے دیکھا ہے

 

👈 جب تھوڑی سی محنت کرکے پتا چلا کہ یہ قول سب سے پہلے گھڑنے وال خود یہی ملعون تھا اس سے پہلے کسی نے ایسی بات نقل نہیں کی، 

 

اسی کے قول کو شیعہ علما نے نقل کیا باقاعدہ اس سے منسوب کرکے 

 

▪️جیسا کہ صاحبِ مناقب شھر آشوب نے لکھا کہ

 

📜 وفي قوت القلوب 👉 أنه تزوج بعد وفاتها بتسع ليال

 

📃 کتاب قوت القلوب میں آیا ہے کہ آپؑ نے وفات کے نو راتوں بعد شادی کی۔

 

📚 ابن شہر آشوب کی کتاب مناقب (ج3، ص305)

 

▪️ اسی طرح علامہ مجلسی سے لکھا کہ

 

📜وفي قوت القلوب 👉 أنه تزوج بعد وفاتها بتسع ليال 

 

📃 کتاب قوت القلوب میں آیا ہے کہ آپؑ نے وفات کے نو راتوں بعد شادی کی۔

 

📚 علامہ مجلسی کی بحار الانوار (ج42، ص94)

 

لہٰذا اگر اس قول کا اصل ماخذ قوت القلوب ہے، جیسا کہ ابن شہر آشوب اور علامہ مجلسی نے ذکر کیا ہے، تو اس پر دو وجوہات کی بنا پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا:

 

1️⃣ پہلی وجہ: اصل عبارت خود شک اور غیر یقینی انداز (کہا جاتا ہے) میں ہے، جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مؤلف نے خود اس پر یقین کے ساتھ فیصلہ نہیں دیا 

👈 اور نہ ہی کوئی مضبوط سند ذکر کی ہے۔

 

2️⃣ دوسری وجہ: کتاب قوت القلوب کا مصنف اہل تشیع میں سے نہیں ہے، بلکہ وہ اہل تصوف میں سے تھا، اور اس کی طرف بعض سخت اقوال اور انحرافی نسبتیں بھی منسوب ہیں، جس کی وجہ سے وہ قابلِ اعتماد حجت نہیں سمجھا جاتا۔ (جیسا کہ تاریخ الاسلام للذہبی میں اس کی تفصیل موجود ہے)

 

اور صوفی حضرات تو ویسے ہی ہمارے آئمہ اہل بیت ع کے نزدیک ملعون و لعنت شدہ ہیں ، تفصیلی پوسٹ دیکھیں 👇

 

https://m.facebook.com/story.php?story_fbid=935766628752372&id=100069571310961

 

۔

 

اور اس ناسبی نے دوسرے حصے میں جو خباثت بکی ہے اسکا جواب انشاءﷲ مواد جمع کرکے تسلی سے دیا جائے گا فلحال زرا یہ ملعون خلیفہ ثالث کے کرتوت ملاحظہ کریں 👇

 

📜 ان رقية رضي الله عنها لما ماتت قال رسول الله صلي الله عليه وسلم لا يدخل القبر رجل قارف أهله فلم يدخل عثمان بن عفان رضي الله عنه القبر...

 

📃 جب رقیہ سلام اللہ علیہا فوت ہوئی تو رسول اللہ ص نے فرمایا اس کی قبر میں وہ نہ اترے جس نے آج ہمبستری کی ہو پھر یہ ہوا کہ عثمان بن عفان قبر میں نہیں اترے

 

📚 مسند احمد بن حنيل ، ج 3 ، ص 229

 

🥹 حضرت عثمان ام کلثوم بنت رسول کی وفات پر بہت غمگین تھے اور اسی غم کو ہلکہ کرنے کیلئے اسی رات یعنی ایک دن بھی صبر کئے بغیر لونڈی کے ہاں ہلکہ ہونے چلے گئے

 

 📚 صحیح بخاری

 

▪️ ابن بطال نے شرح بخاری میں تشریح کرتے لکھا ہے

 

📜 أراد النبي ( ص ) أن يحرم عثمان النزول في قبرها . وقد كان أحق بها ، لأنه كان بعلها . وفقد منهم علقا لا عوض منه ، لأنه حين قال " عليه السلام " : " أيكم لم يقارف الليلة أهله " سكت عثمان ، ولم يقل : أنا ، لأنه كان قد قارف ليلة ماتت بعض نسائه ، ولم يشغله الهم بالمصيبة ، وانقطاع صهره من النبي ( ص ) عن المقارفة ، فحرم بذلك ما كان حقا له ، وكان أولي به من أبي طلحة وغيره ، وهذا بين في معني الحديث . ولعل النبي ( ص ) قد كان علم ذلك بالوحي ، فلم يقل له شيئا ، لأنه فعل فعلا حلالا ، غير أن المصيبة لم تبلغ منه مبلغا يشغله ، حتي حرم ما حرم من ذلك ، بتعريض دون تصريح " .

 

📃 نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عثمان کو اس کی قبر میں اترنے سے منع کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ حالانکہ وہ اس کے زیادہ حقدار تھے کیونکہ وہ ان کے شوہر تھے۔ اور ان کے درمیان ایک ایسا تعلق تھا جس کا کوئی نعم البدل نہیں تھا، کیونکہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "تم میں سے کون ہے جس نے آج رات اپنی بیوی کے ساتھ تعلق قائم نہیں کیا؟" عثمان خاموش رہے اور نہیں کہا: "میں"، کیونکہ ان کی بیوی اسی رات فوت ہوئی تھیں، اور غم اور مصیبت نے بھی اس کو کسی سے ہمبستری کرنے سے نہیں روکا، اس لیے انہوں نے اس حق کو کھو دیا جو ان کا حق تھا اور وہ اس کے زیادہ مستحق تھے ابو طلحہ وغیرہ سے۔ یہ حدیث کے معنی میں واضح ہے۔ اور شاید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بات وحی کے ذریعے جان لی تھی، اس لیے انہوں نے عثمان کو کچھ نہیں کہا، کیونکہ انہوں نے ایک جائز فعل کیا تھا، لیکن مصیبت نے انہیں اس حد تک متاثر نہیں کیا کہ وہ مشغول ہو جاتے، جس کی وجہ سے انہوں نے اپنا حق کھو دیا، تعریض کے ساتھ بغیر تصریح کے۔

 

📚 شرح صحیح بخاری، ابن بطال، جلد 3، صفحہ 328

📚 سمط النجوم العوالی جلد1، صفحہ 512

 

لیں جناب ہمارے پاس تم نواسب کی طرح بے سند کہانیاں نہیں ہیں بلکہ تمہاری صحیح ترین کتب سے تمہارے خلفا کے کرتوت موجود ہیں۔ 

 

انشاءﷲ اس موضوع پر ابھی مزید حوالہ جات بھی آئیں گے

 

بدر علی

 

تبدیلی ممنوع

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9