Back to حضرتِ عثمان

عثمان کے قاتل شیعہ یا اصحاب؟

امام اہلسنت ابن عبدالبر نے اپنی کتاب الاستیعاب، ج3، ص213 پر مولا علی (ع) کی یہ تقریر نقل کی ہے:

 

۔طلحہ، ‍زبیر اور عائشہ مجھ سے اس چیز کا حق مانگ رہے ہیں جو انہوں نے خود ترک کر دی تھی۔ اور یہ اس خون کا قصاص مانگتے ہیں، جو انہوں نے خود بہایا ہے۔ یہ خود عثمان کے قتل کے ذمہ دار ہیں، اور میں ہرگز اس میں شامل نہ تھا۔ لیکن یہ اب اس کا انکار کرتے ہیں۔ میں ہرگز عثمان کے قتل میں شامل نہیں۔ اور عثمان کے قتل کے واحد مجرم یہ باغی گروہ خود ہے۔ انہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر اسے توڑ دیا

 

ابن جریر طبری نے زیاد بن ایوب سے، انہوں نے معصب بن سلمان التمیمی سے، انہوں نے محمد سے، انہوں نے عاصم بن کلیب سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی ہے:

کلیب کہتے ہیں کہ جب وہ جہاد سے واپس آئے تو کچھ دنوں کے بعد یہ مشہور ہو گیا کہ طلحہ و زبیر آ رہے ہیں اور اُن کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ بھی ہیں۔ یہ سن کر لوگوں کو بہت حیرت ہوئی کیونکہ لوگوں کا خیال تھا کہ ان لوگوں نے ہی عثمان سے ناراض ہو کر لوگوں کو اُس کے خلاف کیا تھا۔ اور اب بدنامی سے بچنے کے لئے قصاص کا نام لے کر نکلے ہیں۔

حضرت عائشہ نے کہا کہ ہم تو تمہاری خاطر ہی عثمان کی تین حرکتوں پر ناراض ہوئے تھے: پہلا یہ کہ اُس نے ناعمر لوگوں کو حاکم مقرر کیا، دوسرا یہ کہ اُس نے عامہ کی زمینوں پر قبضہ کیا اور تیسرا یہ کہ اُس نے لوگوں کو دروں اور چھڑی سے مارا۔

 تاریخ طبری، انگلش ایڈیشن، جلد 16، صفحہ 100

 

العقد الفرید، ص 218 پر درج ہے کہ مروان نے عائشہ کو کہا،

 

عثمان تمہارے خطوط کی وجہ سے مارا گیا ہے۔

 

اور ابن سعد نے نقل کیا ہے:

 

قال أخبرنا أبو معاوية الضرير قال أخبرنا الأعمش عن خيثمة عن مسروق عن عائشة قالت حين قتل عثمان تركتموه كالثوب النقي من الدنس ثم قربتموه تذبحوه كما يذبح الكبش هلا كان هذا قبل هذا فقال لها مسروق هذا عملك أنت كتبت إلى الناس تأمرهم بالخروج إليه قال فقالت عائشة لا والذي آمن به المؤمنون وكفر به الكافرون ما كتبت إليهم بسوداء في بيضاء حتى جلست مجلسي هذا قال الأعمش فكانوا يرون أنه كتب على لسانها

عائشہ سے مروی ہے کہ جس وقت عثمان قتل ہوئے تو انہوں نے کہا کہ تم لوگ انہیں میل کچیل سے پاک صاف کپڑے کی طرح کر دیا (یعنی پہلے اپنی بدعتوں کی وجہ سے گندے تھے اور اب پاک صاف ہو گئے تھے) پھر ان کو مینڈھے کی طرح ذبح کر دیا۔ مسروق نے کہا کہ یہ آپ ہی کا تو عمل ہے۔ آپ ہی نے تو لوگوں کو خط لکھ کر اُن پر خروج کرنے کا حکم دیا تھا۔ عائشہ نے قسم کھائی کہ میں نے ایک لفظ نہیں لکھا۔ اعمش نے کہا کہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ یہ خط عائشہ کے حکم سے لکھے گئے تھے۔

سنی حوالہ: طبقات ابن سعد (اردو، نفیس اکیڈمی) جلد دوم، صفحہ 177

 

اور متعدد سنی مورخین نے جناب عمار یاسر کا یہ واقعہ بھی نقل کیا ہے:

 

جب عثمان کے قتل کی اطلاع عائشہ کو ملی تو انہوں نے روتے ہوئے کہا عثمان پر اللہ رحم کرے وہ قتل ہو گئے۔ حضرت عمار بن یاسر(ر) نے کہا تم ہی لوگوں کو اُن کے(عثمان) کے خلاف ورغلاتی تھیں اور آج رو رہی ہو۔ (فقال لھا عمار یاسر: انت بالامس تحرضین علیہ ثم انت الیوم تبکینہ)

سنی حوالے

طبقات ابن سعد، طبع لیدن، ج 5، صفحہ 25

طبری، جلد 5، صفحہ 140، 166، 172 اور 176

انساب الاشراف، البلاذری، جلد 5، صفحہ 70، 75 اور 91

 

ابن اثیر نے ابن زبیر کا عائشہ کو بہکانا بھی نقل کیا ہے:

 

کان الذی ازام المومنین علی الخروج ابن زبیر

یعنی عائشہ کو خروج کے لئے ابن زبیر نے بھڑکایا تھا۔

النہایۃ فی غیرب الحدیث، جلد 1، صفحہ 8

غریب الحدیث الحربی، جلد 3، صفحہ 980 اور 38

 

اور العقد الفرید، ج 2، ص 210 پر لکھا ہے:

 

"مغیرہ بن شعبہ عائشہ کے پاس آیا۔ عائشہ نے اس سے کہا، "جنگ جمل میں جو تیر پھینکے گۓ، ان میں سے کچھ تو مجھے چھوتے ہوۓ گذرے۔" مغیرہ نے جواب دیا،"اگر ایک تیر بھی تمہیں لگ کر قتل کر دیتا تو یہ اس بات کی توبہ ہوتی کہ تم نے لوگوں کو عثمان کے قتل پر اکسایا کرتی تھیں۔"

 

ابن قیتبہ اپنی کتاب "الامامہ و السیاسہ" کی صفحہ 55 پر تحریر کرتے ہیں:

 

جب مقام اوطاس میں حضرت عائشہ سے مغیرہ ابن شعبہ کی ملاقات ہوئی تو اس نے آپ سے دریافت کیا کہ:

اے ام المومنین کہاں کا ارادہ ہے؟ فرمایا بصرے کا کہا کہ وہاں کیا کام ہے ؟فرمایا خون عثمان کاقصاص لینا ہے اس نے کہا کہ عثما ن کے قاتل تو آپ کے ہمراہ ہیں .پھر مروان کی طرف متوجہ ہوا ,اور پوچھا کہ تمہارا کہا ں کا ارادہ ہے؟اس نے کہا کہ میں بھی بصرہ جارہا ہوں کہا کس مقصد کے لیے؟ کہا کہ عثمان کے قاتلوں سے بدلہ لینا ہے اس نے کہا کہ عثمان کے قاتل تو تمہارے ساتھ ہی ہیں اور انہی طلحہ و زبیر نے تو انہیں قتل کیا تھا .

 

۔

 

۔

 

عثمان کے قاتل "اہل تشیع" یا پھر "طلحہ/ زبیر/عائشہ"؟ 

 

السلام علیکم

 

ہم اس موضوع پر پہلے بھی ایک حوالہ آپ حضرات کی خدمت میں ہدیہ کر چکے ہیں

لنک ملاحظہ کریں

 

امام اہلسنت : خلیفہ عثمان کے قاتل ؟

 

چند اور معتبر روایات ملاحظہ ہوں

 

ہمیں مسند امام احمد، جلد ۳، صفحہ ۳۱، روایت ۱۴۱۴، تحقیق شیخ الارناوط ؛ میں یہ روایت ملتی ہے کہ 

 

مطرف تابعی نے زیبر سے کہا کہ اے ابو عبداللہ! تم کیوں آئے ہو جب کہ تم نے خلیفہ عثمان کو چھوڑ دیا حتی کہ وہ قتل ہو گئے، اب تم اس کے خون کا بدلہ طلب کر رہے ہو؟ زیبر نے کہا کہ ہم نبی پاک، ابو بکر، عمر، عثمان کے عہد میں قرآن میں تلاوت کرتے تھے اس آیت کی، مگر کیا جانتے تھے کہ اس کا اطلاق ہم پر ہو گا، حتی کہ یہ واقعہ ہو گیا

 

عربی متن یوں ہے

 

Quote

 

1414 - حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ، حَدَّثَنَا شَدَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا غَيْلانُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُطَرِّفٍ، قَالَ: قُلْنَا لِلزُّبَيْرِ: يَا أَبَا عَبْدِ اللهِ، مَا جَاءَ بِكُمْ ضَيَّعْتُمُ الْخَلِيفَةَ حَتَّى قُتِلَ، ثُمَّ جِئْتُمْ تَطْلُبُونَ بِدَمِهِ؟ فَقَالَ الزُّبَيْرُ: " إِنَّا قَرَأْنَاهَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ: {وَاتَّقُوا فِتْنَةً لَا تُصِيبَنَّ الَّذِينَ ظَلَمُوا مِنْكُمْ} [الأنفال: 25] خَاصَّةً لَمْ نَكُنْ نَحْسَبُ أَنَّا أَهْلُهَا حَتَّى وَقَعَتْ مِنَّا حَيْثُ وَقَعَتْ " (1)

 

شیخ الارناوط نے اس سند کو عمدہ/جید کہا ہے

 

شیخ احمد شاکر نے مسند احمد کی تحقیق میں اسے صحیح سند قرار دیا، دیکھیے جلد ۲، صفحہ ۱۹۱، حدیث ۱۴۱۴

 

شیخ مقبل الوداعی نے اس روایت کو اپنی کتاب، الجامع الصحیح مما لیس فی الصحیحین، جلد ۵، صفحہ ۹۷؛ پر درج کیا، اور کہا

 

حدیث صحیح، رجالہ رجال الصحیح

 

یعنی حدیث صحیح ہے، اور سارے راوی، صحیح حدیث کے راوی ہیں

 

گویا، زبیر نے مطرف کی بات سے انکار نہیں کی

 

اسی طرح، حسن بصری سے منقول ایک روایت مستدرک امام حاکم، مع تلخیص ذہبی، جلد ۳، صفحہ ۱۲۸، روایت نمبر ۴٦۰٦؛ میں درج ہے کہ حسن بصری کہتے ہیں کہ

 

طلحہ و زبیر بصرہ آئے تو لوگوں نے کہا کہ کیوں آئے ہو؟ دونوں نے کہا کہ عثمان کے خون کا بدلہ طلب کرنے۔ حسن بصری کہتے ہیں کہ سبحان اللہ! لوگوں میں عقل نہیں کہتے کہ خدا کی قسم! تمہارے علاوہ کس نے عثمان کو قتل کیا۔۔۔۔

 

عربی متن یوں ہے

 

Quote

 

4606 - فحدثنا أبو بكر بن إسحاق الفقيه و علي بن حمشاد قالا : ثنا بشر بن موسى ثنا الحميدي ثنا سفيان ثنا أبو موسى يعني إسرائيل بن موسى قال : سمعت الحسن يقول : جاء طلحة و الزبير فقال لهم الناس ما جاءكم قالوا نطلب دم عثمان قال الحسن أيا سبحان الله أفما كان للقوم عقول فيقولون و الله ما قتل عثمان غيركم قال : فلما جاء علي الكوفة و ما كان للقوم عقول فيقولون أيها الرجل إنا و الله ما ضمناك 

تعليق الذهبي قي التلخيص : سكت عنه الذهبي في التلخيص

 

ذہبی اس روایت پر خاموش رہے

 

نیز، یہ روایت شیخ مقبل الوداعی کی تحقیق میں جلد ۳، صفحہ ۱۳۷، روایت نمبر ۴٦۷۰ ہے۔ اور شیخ نے سند میں کسی ضعف کا اشارہ نہیں کیا

 

میں اہلبیت کا ادنی غلام یہ عرض کرتا ہوں کہ اس کے راویان ثقہ ہیں

 

گویا یہ ۲ معتبر روایات اس بات پر دلیل ہیں کہ ان دونوں حضرات کا قتل عثمان میں کردار رہا ہے ، اس حد تک کہ حسن بصری نے انہیں ہی قاتل کہہ ڈالا

 

راوی بیان کرتے ہیں کہ عمرو بن العاص کا نکاح عثمان کی ایک سوتیلی بہن ام کلثوم بنتِ عقبہ بن ابی معیط سے ہوا تھا۔ مگر جب عثمان نے انہیں معزول کیاتو اُس نے اپنی بیوی(عثمان کی بہن)کو طلاق دیے دی۔

*.تاریخ طبری، انگلش ایڈیشن، جلد 15،صفحہ 170 تا 172

 

اور ابن اثیر نے تاریخ کامل، ج3، ص141پر لکھا ہے:"میں عبد اللہ کا باپ ہوں۔ میں نے وادی السباع میں رہتے ہوۓ عثمان کوقتل کیا ہے۔ اگر طلحہ خلیفہ ہوۓ تووہ جود و سخا کے لحاظ سے عرب کے جوانمرد ہیں۔ اوراگر ابن ابی طالبکو خلافت ملی تو وہ حکمرانی سے اعتبار سے ناپسندیدہ شخصیت ہیں۔"اور ابن جریر طبری نے موسیٰ بن عقبہ سے یہ روایت نقل کی ہے:واقدی کا بیان ہے کہ ابن ابی الزناد نےموسی بن عقبہ سے بحوالہ ابن ابی حبیبہ سے بیان کیا ہے کہ عثماننے ایک دن تقریر کی تو عمرو بن العاص کھڑا ہوا اور کہا کہاے امیرالمومنین!آپ نے کئی ناخوشگوار باتیں کی ہیں اور ہم نے بھی آپ کے ساتھ شریک ہو کر اس جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس لئے آپ توبہ کریں اور ہم بھی آپ کے ساتھ توبہ کریں گے۔اس پر عثمان نے قبلہ رو ہو کر ہاتھاٹھائے اور رو کر دعا کی۔

*.تاریخِ طبری، اردو ایڈیشن جلد سوم، صفحہ 376

 

اس روایت سے پتا چلتا ہے کہ بیشک عثمان نے جو غلطیاں کیں تھیں اُسپر لوگ اُس سے ناراض تھے۔ بلکہ عثمان کو بھی ان کی اچھی طرح خبر تھی اور اُس پر رورو کر توبہ بھی کرتے تھے مگر مروان کی وجہ سے یہ غلطیاں پھر دہراتے تھے(مروان کے متعلق یہ روایات آگے آ رہی ہیں)۔

یہی روایت محمد بن عبداللہ سے بھی امام طبری نے نقل کی ہے:۔۔۔عثمان نے مروان کے اس مشورہ پر عمل کرنے سے انکار کر دیا لیکن مروان اپنی بات پر ڈٹا رہا اور اصرار کرتا رہا۔ یہاںتک کہ عثمان باہر نکل آیا اور منبر پر بیٹھ کر اللہ کہ حمد و ثناء بیان کی اور پھر کہا: اہلِ مصر کے پاس اپنے خلیفہ کی کچھ باتیں پہنچی تھیں وہ جھوٹ ہیں اور جن کی تحقیق کے لئے وہ یہاں آئے تھے۔ لیکن جب انہیں اس بات کا یقین ہو گیا کہ جو اطلاعات ملی تھیں وہ جھوٹ ہیں تو وہ اپنے ملک کی طرف روانہ ہوگئے ہیں۔ اس موقع پرعمرو بن العاص(جو ان تیس افراد کے وفد میں شامل تھا جنہوں نے اہلِ مصر سے ملاقات کی تھی اور عثمان کی طرف سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کی شکایات پر عمل کریںگے) مسجد کے ایک کونہ سے پکاراٹھا اور کہا کہ اے عثمان!تم اللہ سے ڈرو اور توبہ کرو۔ ہم بھی تمہارے ساتھ توبہ کریں گے۔ اس پر عثمان نے انہیں مخاطب کیا اور کہا: تم ابھی تک ہوا سے بھر غبارے پھوڑ رہ ہو؟ خدا کی قسم! تم اپنے کام سے معزول ہونے کے بعد اس قسم کی حرکتیں کر رہے ہو۔

*.تاریخ طبری، انگلش ایڈیشن، جلد 15،صفحہ 177

 

اسی طرح انصار اور مہاجرین میں سےکئی اصحاب نے عثمان کی کھلم کھلا مخالفت کی۔ حتی کہ بدری صحابہ بھی عثمان کے خلاف اس تحریک میں شامل تھے اور انکو گمراہ و ضلالت میں مبتلا سمجھتے تھے۔

امام ابن عبد البر اپنی کتاب الاستیعاب، ج4،ص48پر ذکر ابو الحسن مذانی میںلکھتے ہیں:ابو الحسن مذانی رسول (ص) کے اصحاب میں سے تھے۔ اور یہ ان اصحاب میں سے تھے جو کہ "عقبہ"اور"بدر" کے موقع پر موجود تھے۔ قتل عثمان کے دن، زید بن ثابت نے مدینہ کے انصار سے کہا،"کیا ہم دوسری بار بھی اللہ کے انصار بن جائیں؟ابو الحسن نے جوابدیا،"ہرگز نہیں! اللہ کی قسم ہم ہرگز تمہاری پیروی نہیں کریں گے۔ کیونکہ اگر ہم نے ایسا کیا توہمارا شمار قیامت کے دن ان لوگوںمیں ہو گا جو یہ کہہ رہے ہوں گےکہ ہمارے سرداروں نے ہمیں گمراہکیا۔

"اسی طرح العقد الفریدکے صفحہ215پر درج ہے:

"جن لوگوں نے عثمان کو قتل کیا، ان کےسردار عبدالرحمن، حکیم اور عبد اللہ تھے۔ وہ مدینہ آۓاور مہاجرین اور انصار نے ان کے ساتھ مل کر عثمان کو گھیر لیااور آخر میں قتلکر دیا۔"وہ لوگ، جو مسلمانوں میں تفرقہ چاھتے ہیں، وہ عمرو بن العاص، طلحہ و زبیر، عائشہ اور دیگر مہاجریناور انصار کو چھوڑ کر سارا الزام شیعوں پر لگاتے ہیں کہ انہوں نےعثمان کو قتل کیا۔ اور اللہ حقائق کوچھپانے والوں پر اپنی لعنت کرے۔ امین۔کیا عبد اللہ بنسبا نے عثمان کے خلاف لوگوں کو خطوط لکھے؟جی ہاں، یہ صرف اور صرف سیف ابن عمر کذاب ہے جس نے یہ الزام لگایا تھا کہ سبائیوں نے صحابہ کا نام لیکر جھوٹے خطوط لکھےتھے(ابن جریر طبری نے سن35ہجری کے واقعات میں سیف کذاب سے دو روایات نقل کیں ہیں جس میںاس کذاب نے یہ الزام لگایا ہے)

اور ناصبی حضرات آج تک سیف کذابکے اس جھوٹ کا پروپیگنڈہ کرتے آ رہے ہیں۔

مگر ان حضرات کو آج تک وہ خطوط نظر نہیں آئے جو صحابہ نے عثمان کے خلاف لکھے اور سیف کذاب سے پاک دوسری روایات میں نقل ہوئے:امام ابن قتیبہ اپنی کتاب الامامہ و سیاسۃ، صفحہ64پر لکھتے ہیں کہ جب طلحہ اور عائشہ بصرہ پہنچے تو ایک شخص طلحہ کے پاس آیا اور کہا:"اے طلحہ، کیا تم اس خط کو پہچانتے ہو؟ طلحہ نے جواب دیا کہ ہاں۔ اس پر اسشخص نے کہا، "کیاتم کو شرم نہیں آتی کہ کچھ دنوں پہلے ہی تم ہمیں خط لکھ کر عثمان کے خلاف اکساتے ہو اور اب ہم سے مطالبہ کر رہے ہو کہ عثمانکے قتل کے قصاص میں تمہارا ساتھ دیں؟

"ابن جریر طبری نے احمد بن زہیر سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے وہب بن جریر بن حازم سے، انہوں نے یونس بن یزید سے، انہوں نے زہری سے روایت کی ہے:۔۔۔ عثمان بن حنیف نے طلحہ و زبیر سے ان شرائط پر صلح کی کہ وہ علی(ع) کو خط لکھیں گے اور اس کا جواب آنے تک وہی نماز کی امامت کرائیں گے۔مگر طلحہ و زبیر نے دو دن ہی انتظار کیا اور پھر اس کے بعد زابوقہ کے مقام پر اُن پرحملہ کر دیا۔ اس حملے میں انہیں کامیابی ہوئی اور انہوں نے عثمان کو پکڑ لیا اور قتل کرنا چاہا۔ مگر پھرانصار کے ڈر سے قتل تو نہ کیا، مگر انہیں مارا پیثا اور بال نوچ ڈالے۔پھر طلحہ اور زبیر اٹھے اور (اہلِ بصرہ) سے مخاطب ہو کر تقریر کرنے لگے اور کہا:اے بصرہ کے لوگو! توبہ جرم کو ختم کردیتی ہے۔ ہم تو امیر المومنین(عثمان)سے صرف یہ چاہتے تھے کہ وہ(شکایات) کو دور کریں۔اور ہم نے یہ نہیں چاہا تھا کہ کوئی انہیں قتل کرے، مگر بیوقوف لوگ عقلمندوں پر غالبآ گئے اور انہوں نے عثمان کو قتل کر دیا۔اس پر لوگوں نے طلحہ کو جوابدیا:“مگر اے ابو محمد! تمہارے خطوط جو ہمارے پاس آتے تھے، اُنسےتو کچھ اور ہی ظاہر ہوتا تھا؟"اس پر(طلحہ کی بجائے)زبیر لوگوں سے مخاطب ہوا اور کہاکہ:کیا تمہیں میری طرف سے بھی عثمان کے متعلق کوئی خط ملا تھا؟ پھر زبیر نے بیان کرنا شروع کیا کہ عثمان کیسے قتل ہوا اوراس سلسلے میں علی(ع)کی برائیاں بیان کرنا شروع کیں۔

*.تاریخ طبری، انگلش ایڈیشن، جلد16،صفحہ68تاصفحہ69 

 

۔البلاذری نے انساب الاشراف، ج2، ص229پر ایسی ہی روایت نقل کی ہےکہ:عبد اللہ بن حاکم التمیمی نے طلحہ پر الزام لگایا کہ وہ عثمان کے خلاف لوگوں کو خطوط لکھ کر اکسایا کرتا تھا اور طلحہ نے اقرار کیا کہ اس نے یہ خطوط لکھے۔

العقد الفرید، ص218پر درج ہے کہ مروان نے عائشہ کو کہا،"عثمان تمہارے خطوط کی وجہ سے مارا گیا ہے۔"اور ابن سعد نے نقل کیا ہے

 

وهابیوں ہے کوی جواب آکبر تهماچو کا چیلنج ہے .

 

۔

 

۔

 

وہ لوگ، جو مسلمانوں میں تفرقہ چاھتے ہیں، وہ عمرو بن العاص، طلحہ و زبیر، عائشہ اور دیگر مہاجرین اور انصار کو چھوڑ کر سارا الزام شیعوں پر لگاتے ہیں کہ انہوں نے عثمان کو قتل کیا۔ اور اللہ حقائق کو چھپانے والوں پر اپنی لعنت کرے۔ امین۔

 

کیا عبد اللہ بن سبا نے عثمان کے خلاف لوگوں کو خطوط لکھے؟

 

جی ہاں، یہ صرف اور صرف سیف ابن عمر کذاب ہے جس نے یہ الزام لگایا تھا کہ سبائیوں نے صحابہ کا نام لیکر جھوٹے خطوط لکھے تھے (ابن جریر طبری نے سن 35 ہجری کے واقعات میں سیف کذاب سے دو روایات نقل کیں ہیں جس میں اس کذاب نے یہ الزام لگایا ہے) اور ناصبی حضرات آج تک سیف کذاب کے اس جھوٹ کا پروپیگنڈہ کرتے آ رہے ہیں۔

 

مگر ان حضرات کو آج تک وہ خطوط نظر نہیں آئے جو صحابہ نے عثمان کے خلاف لکھے اور سیف کذاب سے پاک دوسری روایات میں نقل ہوئے:

 

حیرت ہے کہ لوگ عمرو بن العاص جیسے لوگوں کا قتل عثمان میں کردار کو بھول کر سارا الزام یہودیوں پر ڈالتے ہیں۔ جبکہ یہ شخص اتنا چالاک تھا کہ کسی زمانے میں ایسا چالاک یہودی نہ گذرا ہو گا۔ اور اس کے پاس عثمان کو قتل کرنے کی تمام وجوہات موجود تھیں۔ خلیفہ دوم عمر کے زمانے میں یہ مصر کا حاکم مقرر تھا۔ جب عثمان خلیفہ ہوۓ تو انہوں نے اسکو معزول کر کے اپنے دودھ شریک بھائی عبد اللہ ابن سعد کو وہاں کا حاکم مقرر کر دیا۔ اس برطرفی پر یہ عثمان کا شدید مخالف ہو گیا۔

 

اس نے اس پر بس نہیں کیا اور طیش میں آ کر اپنی بیوی ام کلثوم بنت عقبہ کو جو حضرت عثمان کی مادری بہن تھیں، طلاق دے دی۔ اس پر عثمان نے عمرو کو سخت الفاظ میں برا بھلا کہا۔ لیکن اس سے عمرو کا رویہ اور باغیانہ ہو گیا۔ وہ طلحہ و زبیر سے مل کر عثمان کے خلاف سازشیں کرنے لگا۔ وہ حجاج سے ملا کرتا تھا اور انہیں عثمان کی گمراہیوں کی داستانیں سنایا کرتا تھا۔ جب عثمان کے خلاف نفرت کا علاؤ جل اٹھا، تو یہ مدینے سے نکل کر فلسطین میں اپنے قصر میں واپس آ گیا.

 

  العقد الفرید کے صفحہ 215 پر درج ہے: "جن لوگوں نے عثمان کو قتل کیا، ان کے سردار عبدالرحمن، حکیم اور عبد اللہ تھے۔ وہ مدینہ آۓ اور مہاجرین اور انصار نے ان کے ساتھ مل کر عثمان کو گھیر لیا اور آخر میں قتل کر دیا۔"

 

امام ابن قتیبہ اپنی کتاب الامامہ و سیاسۃ، صفحہ 64 پر لکھتے ہیں کہ جب طلحہ اور ‏عائشہ بصرہ پہنچے تو ایک شخص طلحہ کے پاس آیا اور کہا:

 

"اے طلحہ، کیا تم اس خط کو پہچانتے ہو؟ طلحہ نے جواب دیا کہ ہاں۔ اس پر اس شخص نے کہا، "کیا تم کو شرم نہیں آتی کہ کچھ دنوں پہلے ہی تم ہمیں خط لکھ کر عثمان کے خلاف اکساتے ہو اور اب ہم سے مطالبہ کر رہے ہو کہ عثمان کے قتل کے قصاص میں تمہارا ساتھ دیں؟"

 

البلاذری نے انساب الاشراف، ج2، ص229 پر ایسی ہی روایت نقل کی ہے کہ:

 

عبد اللہ بن حاکم التمیمی نے طلحہ پر الزام لگایا کہ وہ عثمان کے خلاف لوگوں کو خطوط لکھ کر اکسایا کرتا تھا اور طلحہ نے اقرار کیا کہ اس نے یہ خطوط لکھے۔

 

العقد الفرید، ص 218 پر درج ہے کہ مروان نے عائشہ کو کہا، "عثمان تمہارے خطوط کی وجہ سے مارا گیا ہے۔"

 

اور ابن سعد نے نقل کیا ہے:

 

قال أخبرنا أبو معاوية الضرير قال أخبرنا الأعمش عن خيثمة عن مسروق عن عائشة قالت حين قتل عثمان تركتموه كالثوب النقي من الدنس ثم قربتموه تذبحوه كما يذبح الكبش هلا كان هذا قبل هذا فقال لها مسروق هذا عملك أنت كتبت إلى الناس تأمرهم بالخروج إليه قال فقالت عائشة لا والذي آمن به المؤمنون وكفر به الكافرون ما كتبت إليهم بسوداء في بيضاء حتى جلست مجلسي هذا قال الأعمش فكانوا يرون أنه كتب على لسانها

 

عائشہ سے مروی ہے کہ جس وقت عثمان قتل ہوئے تو انہوں نے کہا کہ تم لوگ انہیں میل کچیل سے پاک صاف کپڑے کی طرح کر دیا (یعنی پہلے اپنی بدعتوں کی وجہ سے گندے تھے اور اب پاک صاف ہو گئے تھے) پہر ان کو مینڈھے کی طرح ذبح کر دیا۔ مسروق نے کہا کہ یہ آپ ہی کا تو عمل ہے۔ آپ ہی نے تو لوگوں کو خط لکھ کر اُن پر خروج کرنے کا حکم دیا تھا۔ عائشہ نے قسم کھائی کہ میں نے ایک لفظ نہیں لکھا۔ اعمش نے کہا کہ لوگ گمان کرتے ہیں کہ یہ خط عائشہ کے حکم سے لکھے گئے تھے۔

 

سنی حوالہ: طبقات ابن سعد (اردو، نفیس اکیڈمی) جلد دوم، صفحہ 177

 

امام ابن جریر طبری نے جعفر سے، انہوں نے عمرو اور علی سے، انہوں نے حسین سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے محمد بن اسحق سے، انہوں نے یحیی بن عباد سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی ہے: اہلِ مدینہ نے عثمان کو خط لکھا اور اُس سے مطالبہ کیا کہ وہ توبہ کرے۔ اور ساتھ میں انہوں نے خدا کی قسم کھائی کہ اگر وہ ہرگز پیچھے نہیں ہٹیں گے جبتک کہ عثمان کو قتل نہ کر دیں یا پھر عثمان اپنے وعدے کے مطابق ان کے مطالبات کو پورا نہ کر دے۔ تاریخِ طبری، انگلش ایڈیشن، جلد 15، صفحہ 187

 

کنز الاعمال، ج6، ص 385، ذکر فضائل عثمان پر درج ہے کہ:

 

"جب مصری افواج وہاں پہنچ گئیں اور عثمان کے خلاف بولنا شروع کر دیا تو عثمان کو بھی اس کی خبر ہوئی۔ اس پر عثمان منبر پر آۓ اور کہا، "اے رسول (ص) کے صحابیو، تم پر اللہ کی لعنت ہو کہ میری بدگوئیاں کرتے ہو۔ تم میرے عیوب کو تو خوب اچھالتے ہو، لیکن میرے فضائل کو چھپاتے ہو۔

 

اور البدایہ، جلد ہفتم، صفحہ 337 ذکر قتل عثمان پر لکھا ہے:

 

"مصر میں صحابہ کی اولادوں نے مل کر ایک گروہ بنایا جو کہ لوگوں کو عثمان کے خلاف اکسایا کرتا تھا۔ اس گروہ کے سردار محمد بن ابی بکر تھے، جو کہ حضرت ابو بکر، خلیفہ اول کے بیٹے تھے۔ اور اس گروہ کے نائب قائد محمد بن ابی حذیفہ تھے جو کہ معاویہ کے کزن تھے۔

 

"رسول اللہ (ص) کے صحابی، عبد الرحمن ابن عدیس بیعت رضوان کے وقت موجود تھے اور انہوں نے بھی درخت کے نیچے بیعت کی تھی۔ اور وہ اس گروہ کے سردار تھے جو مصر سے آیا تھا اور جس نے عثمان کے گھر کا گھیراؤ کیا تھا اور انہیں قتل کیا تھا۔"

یہ روایت اہلسنت کی ان کتابوں میں موجود ہے:

الاستیعاب، ج2، ص 203 

اسد الغابہ، ج3، ص444

الاصابہ فی معرفۃ الصحابہ، ج2، ص403 

مروج الذھب، ج2، ص352

 

البدایہ و النہایہ، جلد ہفتم، صفحہ 371 ذکر مقاتل عثمان پر درج ہے:

 

"عثمان کو قتل کرنے کے بعد انکے قاتلوں نے چاہا کہ ان کا سر تن سے جدا کر دیں۔ مگر عثمان کی صاحبزادی اور آپ کی دو ازواج نے چیخ و پکار شروع کر دی اور اپنا منہ پیٹنا شروع کر دیا۔ عبد الرحمن ابن عدیس نے کہا کہ عثمان کو اسی حالت میں چھوڑ دو اور پھر وہ وہاں سے چلے گۓ۔" نوٹ: عبدالرحمن ابن عدیس (صحابیِ بیعت رضوان) پر بھی سب کا اتفاق ہے کہ اس نے قتلِ عثمان میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا.  

 ابن البر اپنی کتاب الاستیعاب، ص322 میں لکھتے ہیں: "لوگوں کو عثمان کے خلاف بھڑکانے میں محمد بن ابی خذیفہ نے بہت نمایاں کردار ادا کیا۔ عثمان نے اسے پال پوس کر بڑا کیا تھا کیونکہ اس کا باپ مر گیا تھا۔ جب لوگ عثمان کے خلاف ہونے لگے تو محمد نے مصریوں کو شہہ دی۔ اس طرح صورتحال مزید بگڑ گئی۔"

 

اسی طرح اسد الغابہ، ج5، ص 87 اور اصابہ فی معارفۃ الصحابہ، باب ذکر محمد بن ابی حذیفہ میں درج ہے:

 

"وہ شخص، جس پر لوگوں کو سب سے زیادہ عثمان کے خلاف بھڑکانے کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے، وہ معاویہ کا ماموں زاد بھائی محمد ابن ابی حذی

 

کیا وجہ ہے کہ ناصبی حضرات پچھلے ساڑھے بارہ سو سالوں سے ان صحابہ کا عثمان کے قتل میں کردار کا ذکر کرنے کی بجائے مستقل سارا زور اس پر لگا رہے ہیں کہ یہ شیعہ تھے جنہوں نے عثمان کو قتل کیا تھا، جبکہ ان کے پاس سیف کذاب سے پاک ایک بھی روایت ایسی نہیں ہے جو کہ یہ بتاتی ہو کہ سبائیوں(یا بقول ناصبی حضرات کے شیعوں) نے قتل عثمان نے ذرا سا بھی حصہ لیا ہو؟