پچھلے ساڑھے بارہ سو سال سے ناصبیین، شیعہ حضرات کو قتل عثمان کا الزام دیتے آ رہے ہیں۔ اور ان کا پروپیگنڈہ اسقدر زیادہ ہے کہ ہمارے اہلسنت برادران بھی اس کی زد میں آنے سے محفوظ نہیں رہتے اور شیعہ کو قاتل عثمان سمجھنا شروع کر دیتے ہیں۔ مختصرا ان ناصبی حضرات کا کہنا ہے کہ
عبد اللہ ابن سبا ایک یہودی تھا جو حضرت عثمان کے دور میں ظاہر ہوا۔
اس عبد اللہ ابن سبا نے لوگوں کو ورغلایا کہ مولا علی(ع) رسول (ص) کے جانشین ہیں اور باقی خلفاء کی خلافت نا جائز ہے۔
اس نے حضرت عثمان کے دور میں آپ کے خلاف کوفہ و شام میں سازش کا آغاز کیا۔ بعد میں یہ مصر چلا گیا اور وہاں باغیوں کی ایک فوج تیار کی۔
بہت سے معزز صحابی، جیسے کہ عمار یاسر اور ابو ذر غفاری وغیرہ اس یہودی ابن سبا کے پیرو کار بن گۓ اور انہوں نے حضرت عثمان کے خلاف سازش میں سبائیوں کا ساتھ دیا۔
مصر کے باغیوں کی اس فوج نے مدینہ آ کر حضرت عثمان کو قتل کر دیا۔
جنگ جمل اور صفین میں مولا علی ع اور حضرت عائشہ اور امیر معاویہ کے درمیان صلح ہونے والی تھی مگر رات کی تاریکی میں ان سبائیوں/شیعوں نے حملہ کر کے جنگ کا آغاز کر دیا۔ وغیرہ وغیرہ۔
آئیۓ تاریخ کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ ان الزامات کی حقیقت کیا ہے۔
سیف ابن عمر کذاب سے تعارف
اس دیو مالائی کہانی کے سلسلہ رواۃ پر ایک نظر ڈالنے سے آپ کو پتا چل جاۓ گا کہ ان تمام روایات کے سلسلے میں سیف ابن عمر کا نام موجود ہے۔
اہل سنت علماء سیف ابن عمر کذاب کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
اہل سنت علماء کا اس پر اجماع ہے کہ سیف بن عمر کذاب اور ضعیف ہے اور اس کی روایات ہرگز قابل اعتماد نہیں۔
امام حاکم: "سیف زندیق ہے اور اس کی روایات متروک ہیں۔"
امام نسائی: "سیف کی روایات ضعیف ہیں اور انہیں ترک کر دینا چاہیۓ کیونکہ وہ ناقابل اعتبار ہیں۔"
یحیی ابن معین: "سیف کی روایات ضعیف اور ناکارہ ہیں۔"
ابو حاتم: "سیف کی روایات متروک و مہمل ہیں۔"
ابو داؤد: "سیف کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ وہ جھوٹا ہے۔ اس کی کچھ روایات نقل کی گئ ہیں جبکہ زیادہ تر ترک کر دی گئ ہیں۔"
ابن حبان: "سیف نے ثقہ روایوں کے نام لے کر جھوٹی روایات گھڑی ہیں۔ اس کا شمار کاذبوں اور زندیقوں میں ہوتا ہے۔"
دار قطنی: "سیف ضعیف ہے۔"
ابن سکن: "سیف ضعیف ہے۔"
ابن عدی: "سیف ضعیف ہے۔ اس کی کچھ روایات مشہور ہیں مگر زیادہ تر روایات ہتک آمیز ہیں اور ان کو نقل نہیں کیا جاتا۔
امام جلال الدین سیوطی: "سیف کی روایات ضعیف ہیں۔"
ابن حجر عسقلانی: حافظ عسقلانی ایک روایت نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں، "اس روایت کی بہت سے راوی ضعیف ہیں، اور ان میں سے سب سے زیادہ ضعیف سیف ابن عمر ہے۔"
الذھبی: "سیف ابن عمر نے دو کتب لکھی ہیں جن کو علماء نے بالاتفاق رد کر دیا ہے۔" (المغنی فی الضعفاء، ص 292)
وہ روایات جو سیف بن عمر کذاب کے بغیر نقل ہوئی ہیں
اس موقع پر ہم یہ بتاتے چلیں کہ شیعہ اور سنی کتب میں تقریبا 14 روایات ایسی ہیں جن کے سلسلہ رواۃ میں سیف بن عمر کذاب کا نام نہیں آتا ہے۔
یہ 14 روایات ہر گز یہ نہیں ثابت کرتیں کہ سبائیوں (یا بقول ناصبی حضرات شیعوں) نے حضرت عثمان کے قتل میں کسی قسم کا حصہ لیا ہے۔ یہ 14 روایات صرف یہ بتاتی ہیں کہ مولا علی ع کی زندگی میں ایک شخص گذرا تھا جس کا نام عبد اللہ ابن سبا تھا اور جس کو مولا علی ع نے آگ میں جلوا دیا تھا۔
ارباب دانش کو دعوت فکر ہے کہ اگر واقعی عبد اللہ ابن سبا نام کا کوئی شخص گذرا تھا جسکے ہزاروں پیروکار تھے اور جس نے کہ اسلامی خلافت کے خلاف ایسی سازشیں کیں کہ جو کہ ہزاروں مسلمانوں کے خون کے صورت میں ظاہر ہوئیں، اس کا ذکر صرف اور صرف چھٹی صدی کا ایک مورخ کرے؟
پہلی صدی سے لیکر پانچویں صدی تک اہلسنت میں ہزاروں مورخین، علماء، محدثین، فقہاء گذرے۔ کیا وجہ ہے کہ:
ان میں سے ایک نے بھی عبد اللہ ابن سبا جیسی مشہور شخصیت کے بارے میں ایک بھی لفظ اپنی کتابوں میں درج نہیں کیا؟
کیا وجہ ہے کہ امام مالک ، ابو حنیفہ، شافعی اور احمد بن حنبل جیسے لوگ ان ہزاروں سبائیوں اور قتل عثمان میں ان کے کردار سے بالکل بے خبر تھے؟
کیا وجہ ہے کہ بخاری ومسلم سے لیکر ترمذی و نسائی و متقی الہندی تک ابن سبا کے متعلق ایک بھی لفظ نہیں نقل کر سکے؟
مزید حیرت انگیز حقیقت یہ ہے کہ ابن عساکر نے جو روایات نقل کی ہیں، یہ بھی اہلسنت کے اس پروپیگنڈے کو بالکل نہیں ثابت کر رہی ہیں کہ عبد اللہ ابن سبا اور اسکے ہزاروں پیروکاروں کا قتلِ عثمان میں کوئی حصہ تھا۔
یہ روایات تو صرف یہ بیان کر رہی ہیں کہ مولا علی ع کے زمانے میں (یعنی عثمان کے زمانے کے بہت بعد) عبد اللہ ابن سبا نامی ایک شخص نمودار ہوا جس نے کہ علی کی خدائی کا دعوی کیا۔ اس پر علی ع نے اس کو آگ میں جلوا دیا۔
ابن حجر عسقلانی نے ابن عساکر کی کچھ روایات اپنی کتاب "لسان المیزان" میں اپنے تبصرے کے ساتھ نقل کی ہیں۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ حافظ عسقلانی ابن عساکر کی ان روایات کے متعلق کیا کہتے ہیں۔ (تمام روایات کے لیے ابن عساکر کی تاریخ مدینۃ الدمشق کا مطالعہ کريں)۔
ابن حجر عسقلانی لکھتے ہیں:
"عبد اللہ ابن سبا کا شمار غالیوں، زندیقوں اور گمراہ لوگوں میں ہوتا تھا اور اس کو علی نے آگ میں جلوا دیا تھا۔" (لسان المیزان، ج3، ص239)
ابن حجر آگے لکھتے ہیں:
"ابن عساکر نے اپنی تاریخ میں اس کا ذکر کیا ہے کہ ابن سبا کا تعلق یمن سے تھا اور یہ کہ وہ ایک یہودی تھا جس نے کہ اسلام قبول کر لیا تھا۔ وہ شہروں میں سفر کرتا تھا اور مسلمانوں کو ان کے لیڈروں کے خلاف بھڑکاتا تھا اور انہیں ان کے خلاف ابھارتا تھا۔ پھر وہ اس مقصد کے لیے دمشق میں داخل ہوا۔" اس کے بعد ابن عساکر نے اس کے متعلق ایک لمبی داستان نقل کی ہے جو کہ سیف ابن عمر سے مروی ہے اور جس کی اسناد صحیح نہیں ہیں۔" (لسان المیزان، ج3، ص289)
اس کے بعد حافظ عسقلانی نے ایک اور روایت نقل کی ہے، جس کے سلسلہ رواۃ میں دو راویوں کے نام غائب ہیں۔ اس روایت کے حاشیہ میں وہ لکھتے ہیں کہ یہ روایت متروک ہے۔ روایت یہ ہے۔
"علی منبر پر آۓ اور یہ کہا: اس شخص کو کیا ہوا ہے؟ لوگوں نے جواب دیا کہ یہ اللہ اور اس کے رسول کو جھٹلا رہا ہے۔" (لسان المیزان، ج3، ص289)
اس کہ بعد حافظ عسقلانی مزید ایک روایت نقل کرتے ہیں:
"علی نے عبد اللہ ابن سبا سے کہا: (رسول ص نے) مجھے بتایا ہے کہ (میرے بعد) 30 کذاب گذریں گے (جو نبوت کا دعوی کریں گے)۔ اور تم ان میں سے ایک ہو۔" (لسان المیزان، ج3، ص290)
انہوں نے ایک یہ روایت بھی نقل کی ہے:
"عبد اللہ ابن سبا اور اس کے ساتھی علی کی خدائی میں یقین رکھتے تھے۔ اور یقینا علی نے اپنی خلافت کے دوران ان کو آگ میں جلوا دیا تھا۔" (لسان المیزان، ج3، ص290)
عبد اللہ ابن سبا کے متعلق شیعہ روایات، جن میں سیف بن عمر کا نام موجود نہیں
پہلی صدی سے لیکر چوتھی صدی تک، تمام شیعہ مورخین، محدثین اور علماء میں سے صرف ایک شخص ( الکشی) ایسا گذرا ہے جس نے کہ کچھ روایات نقل کی ہیں جن کے سلسلہ رواۃ میں سیف ابن عمر کا نام نہیں ہے۔ مگر یہ روایات کسی طرح بھی اہلسنت کے اس پروپیگنڈہ کو ثابت نہیں کر رہی ہیں کہ سبائیوں (یا بقول ناصبی حضرات کے شیعوں) نے حضرت عثمان کے خلاف کوئی شورش برپا کر کے ان کے قتل کا اقدام کیا۔ الکشی کی ان روایات کے متعلق یاد رہے:
الکشی (جس کا زمانہ چوتھی صدی کا ہے) کی یہ روایات شیعہ علماء کے نزدیک پایہ صحت تک نہیں پہنچتیں۔ اس کی کتاب "رجال کشی" پر تنقید کے لیے علامہ تشتری اور علامہ عسکری کی کتبِ رجال کا مطالعہ فرمائیں۔
بعد میں آنے والے چند شیعہ علماء مثلا شیخ طوسی، احمد ابن طاؤس اور علامہ حلی نے الکشی کی یہ چند روایات اپنی کتب میں درج کی ہیں۔
یہ 14 سنی اور شیعہ روایات کو اگر صحیح مان بھی لیا جاۓ تو یہ جو تصویر پیش کر رہی ہیں وہ سیف ابن عمر کذاب کی پیش کردہ تصویر سے بالکل مختلف ہے۔ مثلا:
سیف ابن عمر کذاب کا دعوی تھا کہ عبد اللہ ابن سبا حضرت عثمان کے دور میں ظاہر ہوا، جبکہ یہ روایات اس کے بر عکس ثابت کر رہیں ہیں کہ عبد اللہ ابن سبا حضرت علی ع کے دور میں ظاہر ہوا۔
سیف کذاب کے برعکس عبد اللہ ابن سبا نے یہ نہیں کہا کہ مولا علی ع رسول اللہ ص کے جانشین ہیں، بلکہ اس کا دعوی تھا کہ (نعوذ باللہ) مولا علی ع خدا ہیں۔
یہ روایات بتاتی ہیں کہ مولا علی ع نے عبد اللہ ابن سبا کو باقی تمام غالیوں سمیت آگ میں جلوا دیا۔ جبکہ سیف ابن عمر کذاب نے ایسا کوئی واقعہ درج نہیں کیا ہے۔
ان 14 روایات کے مطابق عبد اللہ ابن سبا کا حضرت عثمان کے دور میں کوئی وجود نہ تھا اور اس کا حضرت عثمان کے خلاف سازش میں کوئی کردار نہیں تھا اور نہ ہی اس نے حضرت عثمان کو قتل کیا۔
ان 14 روایات کے مطابق عبد اللہ ابن سبا کا جنگ جمل اور سفین میں کوئی حصہ نہیں تھا۔ جبکہ سیف ابن عمر کے مطابق جنگ جمل میں دونوں فریقوں میں صلح ہونے والی تھی کہ سبائیوں نے رات کے اندھیرے میں دونوں فوجوں پر حملہ کر کے یہ جنگ شروع کروا دی۔
ان 14 روایات کے مطابق عمار یاسر (ر) اور ابو ذر غفاری (ر) ہرگز عبد اللہ ابن سبا کے پیرو کار نہیں تھے اور یہ الزام ان پر صرف سیف ابن عمر کذاب نے لگایا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ سیف ابن عمر کذاب کی کتابوں کے بعد (جو کہ 170 ہجری کے لگ بھگ لکھی گئیں) یہ دیو مالائی قصہ ناصبی حضرات میں خوب مشہور ہوا اور انہوں نے کھل کر اس کا پروپیگنڈہ کیا (کیونکہ ایک طرف اس سے عثمان اور بنی امیہ کی غلط کاریوں کی براۃ ثابت ہوتی تھی، اور دوسری طرف ان غلط کاریوں کی وجہ سے ہزاروں مسلمانوں کے خون کا الزام شیعوں پر دھرا جا سکتا تھا) ۔
مگر اس کے باوجود سینکڑوں سنی علماء اپنی ہزاروں کتابوں میں ایک بھی مرتبہ اس قصے کو اس کے عینی شاہدوں سے نقل نہیں کر سکے (کیونکہ اس دیو مالائی قصہ کا کوئی عینی شاہد ہی نہ تھا)۔
وہ مورخین، جنہوں نے بغیر کسی سند کے یہ قصہ نقل کیا ہے
جیسا کہ ہم نے اوپر بیان کیا ہے کہ سیف ابن عمر کذاب کے بعد یہ قصہ ہر عام و خاص کی زبان پر عام ہو گیا۔ خصوصا جب ابن جریر طبری نے ان واقعات کو اپنی تاریخ میں سیف بن عمر کذاب کے حوالے سے درج کیا تو اس کی شہرت میں بے پناہ اضافہ ہوا اور لوگوں نے آنکھیں بند کر کے اس کو قبول کرنا شروع کر دیا، کیونکہ اس سے ایک طرف تو حضرت عثمان کی براۃ ثابت ہوتی تھی اور دوسری طرف شیعہ کو فتنے کا مورد الزام ٹہرانے کا موقع ہاتھ آتا تھا۔
اس لیے اہل سنت میں سے 3 علماء نے یہ واقعات اپنی کتب میں بغیر کسی سند کے درج کیے ہیں۔
علی ابن اسمعیل اشعری (متوفی 330 ہجری)
عبد الکریم شہرستانی (متوفی 548ہجری)
ابن طاہر البغدادی (متوفی 429 ہجری)
ان سب علماء نے ان واقعات کو نقل کرتے وقت لکھا ہے کہ مثلا "لوگ کہتے ہیں کہ۔۔۔۔۔"۔
اگر واقعی ان قصوں میں کوئی جان ہوتی تو انہیں اس کی سند درج کرنے میں کیا عذر تھا؟
نیز ان علماء کی کتب کو دیکھ کر ہی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ اپنی کتب کو لوگوں کے لیے پرکشش بنانے کے لیے کس طرح سے دیو مالائی قصوں کو اپنی کتب میں نقل کیا ہے۔ مثلا عبد الکریم شہرستانی نے ایک مخلوق کا ذکر کیا ہے جو کہ آدھے انسان تھے اور ان کا آدھا چہرہ ہوتا تھا اور ایک آنکھ، ایک ہاتھ اور ایک پاؤں تھا۔ یہ مسلمانوں سے باتیں کیا کرتے تھے اور ان کے ساتھ شاعری کا مقابلہ کرتے تھے۔ یہ گھوڑے کی طرح تیز بھاگتے تھے اور لوگ ان کے شکار پر جایا کرتے تھے۔ عباسی خلیفہ متوکل نے اپنے زمانے کے سائنس دانوں کو حکم دیا تھا کہ ان پر تحقیق کریں وغیرہ وغیرہ۔
اسی طرح شیعوں میں سے دو علماء نے عبد اللہ ابن سبا کے متعلق بغیر کسی سند کے کچھ واقعات نقل کیے ہیں کہ مولا علی ع نے عبد اللہ ابن سبا کو آگ میں جلوایا تھا۔
حسن ابن موسی نو بختی (متوفی 310ہجری)
سعد ابن عبد اللہ العشری القمی (متوفی 301 ہجری)
نوٹ: یہ دونوں بھی سیف ابن عمر کے بہت بعد گذرے ہیں اور اس وقت تک عبد اللہ ابن سبا کا قصہ لوگوں میں عام ہو چکا تھا۔ اسی لیے انہوں نے بھی قصہ کا آغاز ایسے کیا ہے کہ "لوگ کہتے ہیں کہ۔ ۔ ۔ "
سیف ابن عمر کے ناصبی پیروکاروں کے پروپیگنڈہ کے مطابق، عبد اللہ ابن سبا کا تاریخ میں کردار اتنا زیادہ ہے کہ ہزاروں لوگ اس کے عینی گواہ ہونے چاہیۓ تھے۔ کیا وجہ ہے کہ ان کو ان تمام واقعات کا ایک بھی عینی گواہ نہیں ملتا؟
خلیفہ چہارم اور اہلِ مدینہ کی عبداللہ ابن سبا کو آگ میں جلوانے کی بدعت
ناصبی حضرات کے پاس سیف کذاب سے پاک ایک بھی روایت نہیں ہے جو کہ بتاتی ہو کہ ابن سبا نے عثمان کے قتل میں کوئی حصہ لیا ہو۔
مگر پھر بھی ناصبی حضرات ابن عساکر کی ان گیارہ روایات کو لے کر بیٹھ جاتے ہیں کہ جن کی اسناد موجود ہیں۔ (حالانکہ یہ قتلِ عثمان میں سبائیوں کو رتی بھر کردار بھی بیان نہیں کر رہیں بلکہ الٹا ثابت کر رہی ہیں کہ ابن سبا جناب عثمان کے قتل کے کہیں بعد میں جا کر علی ابن ابی طالب کے دورِ خلافت میں پہلی بار نمودار ہوا)۔
اس موقع پر ہمیں ان ناصبی حضرات کی خدمت میں پیش کرنا پڑتا ہے کہ اگر ابن عساکر کی یہ روایات درست ہیں تو پھر تو ان کے مطابق علی(ع) نے ابن سبا کو آگ میں جلوا دیا تھا، جو کہ آپ کے مطابق صرف اور صرف اللہ کا حق ہے۔
تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا خلیفہ چہارم بدعتِ ضلالت میں مبتلا تھا؟
اگر یہ سچ ہے تو صرف خلیفہ چہارم ہی کیوں، بلکہ ناصبی حضرات کو چاہئے کہ مدینے کے تمام صحابہ و تابعین پر وہ بدعتِ ضلالت کا فتویٰ لگا دیں کیونکہ اُن سب کے سامنے یہ فعل ہوا اور کسی نے خلیفہ چہارم کو نہیں روکا؟
اسی طرح شیعہ میں رجال کشی کی روایات (کہ جن کی اسناد موجود ہیں) ہمارے نزدیک صحیح نہیں، مگر ناصبی حضرات ان کی مدد سے اپنا مدعا ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔ چلیں ایسا ہی سہی مگر الکشی کی یہ روایات پھر عبداللہ ابن سبا کو جلانے کا ذکر کر رہی ہیں۔
دوسرا دعویٰ سیف نے یہ کیا کہ علی(ع) نے سیف کو آگ میں نہیں جلوایا تھا، بلکہ مدائن کی طرف ملک بدر کر دیا تھا۔ (تاکہ خلیفہ چہارم اور مدینے کے دیگر ہزاروں صحابہ و تابعین کو بدعتِ ضلالت کے الزام سے بچایا جا سکے)
بعد میں آنے والے سنی علماء نے مثلاً شہرستانی اور البغدادی وغیرہ نے سیف کذاب کی پیروی میں یہی دعویٰ کیا کہ ابن سبا کو جلوایا نہیں گیا تھا، بلکہ مدائن ملک بدر کر دیا۔ مگر جب ثبوت کی باری آئی تو وہ ندارد۔ یعنی ایک بھی ایسی روایت نہیں جس کی اسناد سیف کذاب سے پاک ہوں اور وہ ان کے دعویٰ کی تائید کرے۔
حقیقت میں قاتلین عثمان کون ہیں؟
آئیۓ اب دیکھتے ہیں کہ اصل قاتلین عثمان کون ہیں۔
ابن جریر طبری روایت کرتے ہیں جعفر بن عبداللہ محمدی سے، وہ عمرو سے، وہ محمد بن اسحق سے، وہ اپنے چچا عبدالرحمن بن یسار سے:
جب لوگوں (اہلِ مدینہ) نے دیکھا کہ عثمان کیا کر رہے ہیں تو انہوں نے اصحاب رسول ص، جو کہ جہاد کے لیے سرحدی صوبوں میں بکھرے ہوۓ تھے، کو خطوط لکھے کہ: "تم لوگ خدا کی راہ میں اور محمد کے دین کی خاطر جہاد کرنے کی غرض سے نکلے ہوۓ ہو۔ تمہاری غیر موجودگی میں محمد کا دین تباہ و برباد ہو گیا ہے۔ چنانچہ تم لوگ واپس مدینہ پلٹ آؤ اور آ کر محمد کے دین کو بچاؤ۔ چنانچہ وہ لوگ ہر سمت سے واپس آ گۓ یہاں تک کہ انہوں نے (یعنی صحابہ نے) عثمان کو قتل کر دیا۔
تاریخ طبری، انگلش ایڈیشن، جلد 15، صفحہ 184
صرف ابن اسحاق ہی نہیں، بلکہ وہ تمام روایات جو کہ سیف بن عمر کذاب کے علاوہ نقل ہوئی ہیں ان میں صراحت کے ساتھ اس بات کی نشاندہی ہے کہ عثمان کے قتل میں اہم کردار ادا کرنے میں طلحہ، زبیر، عائشہ ، عمرو بن العاص اور عبد الرحمن بن عوف جیسے صحابہ نے ادا کیا۔
Written by Wilayat