طلحہ کے بیٹے کا اقرار کہ طلحہ ہی قتل عثمان میں ملوث تھا
عثمان کے قتل میں طلحہ کا کردار اسقدر نمایاں تھا کہ حتی کہ اس کے بیٹے نے بھی اس کا اقرار کیا۔ امام ابن قتیبہ اپنی کتاب امامہ و سیاسۃ کے صفحہ 60 پر لکھتے ہیں:
"کسی نے محمد بن طلحہ سے پوچھا کہ عثمان کو کس نے قتل کیا تھا۔ اس نے جواب دیا، "عثمان کے قتل کا ایک تہائی ذمہ دار عائشہ ہیں اور ایک تہائی ذمہ دار میرا باپ طلحہ ہے۔"
امام طبری روایت کرتے ہیں:
ایک شخص محمد بن طلحہ کے پاس آیا (جو کہ طلحہ کے بیٹے تھے)۔ یہ محمد بن طلحہ بہت عبادت گذار شخص تھے۔ ان سے اس آدمی نے سوال کیا کہ عثمان کو کس نے قتل کیا ہے۔ تو انہوں نے جواب دیا کہ عثمان کے قتل کی ذمہ داری تین آدمیوں پر ہے۔ ایک تہائی ذمہ داری تو اس (اونٹ کی) ہودج والی یعنی حضرت عائشہ پر ہے۔ اور ایک تہائی ذمہ داری اُس شخص پر ہے جو کہ سرخ اونٹ پر سوار ہے یعنی میرا باپ طلحہ اور ایک تہائی علی ابن ابی طالب پر ہے:
یہ سن کر وہ آدمی بولا میں تو اپنے آپ کو گمراہی میں ہی سمجھتا ہوں۔ یہ کہہ کر وہ علی ابن طالب کے ساتھ مل گیا اور محمد بن طلحہ کے جواب میں یہ اشعار پڑھے:
میں نے طلحہ کے بیٹے سے پوچھا کہ مدینہ میں جس شخص کو قتل کیا ہے
اور جو دفن بھی نہیں کیا جا سکا ہے، اس کی ہلاکت کی ذمہ داری کس پر ہے۔
اس نے جواب دیا عثمان بن عفان کے قتل کی ذمہ داری تین لوگوں پر ہے
تہائی تو اس عورت پر ہےجو ہودج میں سوار ہے۔
اور تہائی سرخ اونٹ والے سوار پر
اور تہائی علی ابن ابی طالب پر ہے۔
بات یہ ہے کہ ہم لوگ تو بدوی آدمی ہیں اور ان باتوں کو ہم نہیں سمجھتے
میں نے اسے جواب دیا پہلے دو آدمیوں کے بارے میں تو تم نے سچ کہا۔
لیکن تیسرے آدمی کے بارے میں تم نے غلطی کی ہے۔
تاریخِ طبری، جلد سوم، صفحہ 478
اسی طرح العقد الفرید، ج2، ص 218 اور امامہ و سیاسۃ کے صفحہ 45 پر درج ہے:
"سعد بن ابی وقاص سے پوچھا گیا کہ عثمان کو کس نے قتل کیا؟ سعد نے جواب دیا، "عثمان کے قتل کی تلوار عائشہ نےبلند کی اور اسے طلحہ نے دھار لگا کر تیز کیا۔"
العقد الفرید، صفحہ 220 پر حضرت نائلہ (زوجہ عثمان) کا ایک خط نقل کیا گیا ہے جو آپ نے معاویہ بن ھند کے نام لکھا تھا:
" نائلہ بنت فرافصہ کی طرف سے معاویہ بن ابی سفیان کے نام:
میں عثمان کے قتل کے وقت موجود تھی اور میں تمہیں پورا واقعہ بیان کرتی ہوں۔ مدینہ کے لوگوں نے ہمارے گھر کا محاصرہ کر لیا اور دروازے پر مسلح لوگوں کا پہرہ لگا دیا۔ پچاس دن تک انہوں نے کسی چیز کو گھر میں داخل نہیں ہونے دیا۔ ان میں محمد بن ابی بکر، عمار یاسر، طلحہ اور زبیر شامل تھے، جنہوں نے لوگوں کو عثمان کے قتل کا حکم دیا۔"
فصول المہیمہ، ص79، ذکر جمل اور مطالب السؤل، ص117، ذکر جمل میں لکھا ہے:
علی (ع) نے طلحہ سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ وہ ان سے لڑنا چاھتا ہے۔ اس پر طلحہ نے جواب دیا، "میں خون عثمان کا بدلہ لینے کے لیۓ لڑ رہا ہوں۔" امام علی (ع) نے کہا، "اگر تمہارے دل میں ذرا بھی انصاف ہے تو تمہیں مان لینا چاہیۓ کہ یہ تم اور تمہارے دوست تھے جنہوں نے عثمان کو قتل کیا۔
امام اہل سنت زھری نے بھی مولا علی (ع) اور زبیر کے درمیان ایسی ہی گفتگو نقل کی ہے، جو کہ ان کے درمیان جنگ جمل سے پہلے ہوئی۔ ابن جریر طبری نے احمد بن زہیر سے، اُس نے اپنے باپ خیثمہ سے، اُس نے وہب بن جریر سے، اُس نے اپنے باپ سے، اُس نے یونس بن یزید سے، اس نے زہری کے حوالے سے بیان کیا ہے:
جب علی(ع) کو بصرہ میں حکیم بن جبلہ اور اسکے ستر آدمیوں کے قتل کی خبر ملی تو علی(ع) بصرہ کے جانب روانہ ہوئے اور آپ کے ساتھ بارہ ہزار کا لشکر تھا۔ اور علی(ع) مقتولین کے لئے یہ اشعار پڑھ رہے تھے:
یا لھف نفسی علی ربیعۃ ۔ ربیعۃ السامعۃ المطیعۃ
سنتھا کانت بھا الوقیعۃ
اور میری جان ربیعہ پر قربان ہو جو کہ باتوں کو سننے والا اور پھر اطاعت کرنے والا تھا۔
تمام جنگوں میں اُس نے نے یہی مثال قائم کی
جبکہ یہ تم ہی تو ہو کہ جس نے عثمان کو قتل کیا ہے
تاریخ طبری، انگلش ایڈیشن، جلد 16، صفحہ 125 اور صفحہ 126
یہی روایت تقریباً انہی الفاظ میں ابن جریر طبری نے عمر سے، اُس نے ابو بکر سے، اس نے قتادہ سے نقل کی ہے (تاریخ طبری، انگلش ایڈیشن، جلد 16، صفحہ 115)
امام اہلسنت ابن عبدالبر نے اپنی کتاب الاستیعاب، ج3، ص213 پر مولا علی (ع) کی یہ تقریر نقل کی ہے:
طلحہ، زبیر اور عائشہ مجھ سے اس چیز کا حق مانگ رہے ہیں جو انہوں نے خود ترک کر دی تھی۔ اور یہ اس خون کا قصاص مانگتے ہیں، جو انہوں نے خود بہایا ہے۔ یہ خود عثمان کے قتل کے ذمہ دار ہیں، اور میں ہرگز اس میں شامل نہ تھا۔ لیکن یہ اب اس کا انکار کرتے ہیں۔ میں ہرگز عثمان کے قتل میں شامل نہیں۔ اور عثمان کے قتل کے واحد مجرم یہ باغی گروہ خود ہے۔ انہوں نے میرے ہاتھ پر بیعت کی اور پھر اسے توڑ دیا۔
طلحہ اور زبیر کے قتلِ عثمان میں کردار کے متعلق لوگوں کی اور حضرت عائشہ کی یہ رائے تھی:
ابن جریر طبری نے زیاد بن ایوب سے، انہوں نے معصب بن سلمان التمیمی سے، انہوں نے محمد سے، انہوں نے عاصم بن کلیب سے، انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی ہے:کلیب کہتے ہیں کہ جب وہ جہاد سے واپس آئے تو کچھ دنوں کے بعد یہ مشہور ہو گیا کہ طلحہ و زبیر آ رہے ہیں اور اُن کے ساتھ ام المومنین حضرت عائشہ بھی ہیں۔ یہ سن کر لوگوں کو بہت حیرت ہوئی کیونکہ لوگوں کا خیال تھا کہ ان لوگوں نے ہی عثمان سے ناراض ہو کر لوگوں کو اُس کے خلاف کیا تھا۔ اور اب بدنامی سے بچنے کے لئے قصاص کا نام لے کر نکلے ہیں۔
حضرت عائشہ نے کہا کہ ہم تو تمہاری خاطر ہی عثمان کی تین حرکتوں پر ناراض ہوئے تھے: پہلا یہ کہ اُس نے ناعمر لوگوں کو حاکم مقرر کیا، دوسرا یہ کہ اُس نے عامہ کی زمینوں پر قبضہ کیا اور تیسرا یہ کہ وہ لوگوں کو دُروں اور چھڑی سے مارتا اور سزائیں دیتا تھا۔
تاریخ طبری، انگلش ایڈیشن، جلد 16، صفحہ 100