Back to حضرتِ عثمان

صحابہ عثمان کو نعثل کہتے تھے اور جنت البقع میں دفن نہ ہونے دیا

صحابہ عثمان کو نعثل کہتے تھے اور جنت البقع میں دفن نہ ہونے دیا
صحابہ عثمان کو نعثل کہتے تھے اور جنت البقع میں دفن نہ ہونے دیا
صحابہ عثمان کو نعثل کہتے تھے اور جنت البقع میں دفن نہ ہونے دیا
صحابہ عثمان کو نعثل کہتے تھے اور جنت البقع میں دفن نہ ہونے دیا
صحابہ عثمان کو نعثل کہتے تھے اور جنت البقع میں دفن نہ ہونے دیا
صحابہ عثمان کو نعثل کہتے تھے اور جنت البقع میں دفن نہ ہونے دیا
صحابہ عثمان کو نعثل کہتے تھے اور جنت البقع میں دفن نہ ہونے دیا
صحابہ عثمان کو نعثل کہتے تھے اور جنت البقع میں دفن نہ ہونے دیا
صحابہ عثمان کو نعثل کہتے تھے اور جنت البقع میں دفن نہ ہونے دیا

🔴 صحابہ حضرت عثمان کو نعثل کہتے تھے ؟ 🔴

 

1⃣ 📜 قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدٍ: " أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ تَسَوَّرَ عَلَى عُثْمَانَ مِنْ دَارِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ وَمَعَهُ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَتَّابٍ , وَسَوْدَانُ بْنُ حُمْرَانُ , وَعَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ فَوَجَدُوا عُثْمَانَ عِنْدَ امْرَأَتِهِ نَائِلَةَ وَهُوَ يَقْرَأُ فِي الْمُصْحَفِ سُورَةَ الْبَقَرَةِ، فَتَقَدَّمَهُمْ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ فَأَخَذَ بِلِحْيَةِ عُثْمَانَ، فَقَالَ: قَدْ أَخْزَاكَ اللَّهُ 👈🏼 يَا نَعْثَلُ،👉🏼 فَقَالَ عُثْمَانُ: لَسْتُ بِنَعْثَلٍ، وَلَكِنْ عَبْدُ اللَّهِ وَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ مُحَمَّدٌ: مَا أَغْنَى عَنْكَ مُعَاوِيَةُ وَفُلَانٌ وَفُلَانٌ، فَقَالَ عُثْمَانُ: يَا ابْنَ أَخِي، دَعْ عَنْكَ لِحْيَتِي، فَمَا كَانَ أَبُوكَ لِيَقْبِضَ عَلَى مَا قَبَضْتَ عَلَيْهِ , فَقَالَ مُحَمَّدٌ: مَا أُرِيدُ بِكَ أَشَدُّ مِنْ قَبْضِي عَلَى لِحْيَتِكَ، فَقَالَ عُثْمَانُ: أَسْتَنْصِرُ اللَّهَ عَلَيْكَ وَأَسْتَعِينُ بِهِ , ثُمَّ طَعَنَ جَبِينَهُ بِمِشْقَصٍ فِي يَدِهِ , وَرَفَعَ كِنَانَةُ بْنُ بِشْرِ بْنِ عَتَّابٍ مَشَاقِصَ كَانَتْ فِي يَدِهِ فَوَجَأَ بِهَا فِي أَصْلِ أُذُنِ عُثْمَانَ، فَمَضَتْ حَتَّى دَخَلَتْ فِي حَلْقِهِ , ثُمَّ عَلَاهُ بِالسَّيْفِ حَتَّى قَتَلَهُ

 

📝 راوی بیان کرتے ہیں کہ عمرو بن حزم کے گھر سے دیوار پھاند کر محمد بن ابی بکر حضرت عثمان کے گھر داخل ہوئے اور ان کے ساتھ کنانہ بن بشیر بن عتاب سودان بن حمران اور عمرو بن الحمق تین آدمی اور بھی تھے جب داخل ہوئے تو حضرت عثمان کو دیکھا کہ وہ اپنے اہلیہ کے پاس بیٹھے قرآن میں کریم سے سورہ بقرہ کی تلاوت کر رہے تھے ان حملہ آوروں میں سے محمد بن ابی بکر آگے بڑھا اور جناب عثمان غنی کی داڑھی پکڑ لی اور کہنے لگا 👈🏼 اے نعثل 👉🏼 اللہ تجھے رسوا کرے حضرت عثمان نے فرمایا میں نعثل نہیں ہوں بلکہ اللہ کا بندہ اور مومنوں کا امیر ہوں یہ سن کر محمد بن ابی بکر بولا اے عثمان تمہیں فلاں فلاں نے کیا فائدہ دیا حضرت عثمان بولے برادرزادے میری داڑھی چھوڑ دے یہ جرات تو تیرا باپ ابوبکر بھی نہ کر سکتا تھا جس کا مظاہرہ آج تو نے کیا محمد بن ابی بکر بولا داڑھی پکڑنے سے تو کہیں بڑھ کر ایک کام کرنے کا ارادہ ہے( یعنی قتل کرنے کا) حضرت عثمان غنی استغفراللہ کہی اور اس سے طلب مدد کی اس کے بعد محمد بن ابی بکر نے ہاتھ میں پکڑی قینچی سے عثمان غنی کی پیشانی زخمی کر دی ادھر کنانہ بن بشیر نے ان قینچوں سے آپ کو زخمی کرنا شروع کر دیا جو اس کے ہاتھ میں تھیں آپ کے کانوں کی جڑ پر زخم لگائے جو حلق تک اترگے پھر تلوار لے کر آپ پر حملہ آور ہوا پھر اس وقت چھوڑا جب آپ قتل (شہید )ہو گئے

 

📚 الطبقات الكبرى -نویسنده : ابن سعد جلد : 3 صفحه : 73 مطبوعہ دار صادر - بيروت

 

2⃣ 📜 وَرَوَى الْحَافِظُ ابْنُ عَسَاكِرَ أَنَّ عُثْمَانَ لَمَّا عَزَمَ عَلَى أَهْلِ الدَّارِ فِي الِانْصِرَافِ وَلَمْ يَبْقَ عِنْدَهُ سِوَى أَهْلِهِ تَسَوَّرُوا عَلَيْهِ الدَّارَ وَأَحْرَقُوا الْبَابَ وَدَخَلُوا عَلَيْهِ، وَلَيْسَ فِيهِمْ أَحَدٌ مِنَ الصَّحَابَةِ وَلَا أَبْنَائِهِمْ، إِلَّا مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي بَكْرٍ، وَسَبَقَهُ بَعْضُهُمْ، فَضَرَبُوهُ حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهِ وَصَاحَ النِّسْوَةُ فانزعروا وَخَرَجُوا وَدَخَلَ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهُ قَدْ قُتِلَ، فَلَمَّا رَآهُ قَدْ أَفَاقَ قَالَ: عَلَى أَيِّ دِينٍ أَنْتَ 👈🏼 يَا نَعْثَلُ؟ 👉🏼 قَالَ:

عَلَى دِينِ الْإِسْلَامِ، وَلَسْتُ بِنَعْثَلٍ وَلَكِنِّي أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، فَقَالَ: غَيَّرْتَ كِتَابَ اللَّهِ، فَقَالَ: كِتَابُ اللَّهِ بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ، فَتَقَدَّمَ إِلَيْهِ وَأَخَذَ بِلِحْيَتِهِ وَقَالَ: إِنَّا لَا يُقْبَلُ مِنَّا يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَنْ نَقُولَ: (رَبَّنَا إِنَّا أَطَعْنَا سادتنا وكبراءنا فأضلونا السبيلا) وشطحه بِيَدِهِ مِنَ الْبَيْتِ إِلَى بَابِ الدَّارِ، وَهُوَ يَقُولُ: يَا ابْنَ أَخِي مَا كَانَ أَبُوكَ لِيَأْخُذَ بِلِحْيَتِي

 

📝 حافظ ابن عساکر نے روایت بیان کی ہے کہ جب حضرت عثمان نے اپنے گھر رہنے کا ارادہ کر لیا اور آپ کے ساتھ صرف آپ کی اہلیہ رہ گئی تو کچھ لوگ دیوار پھاند کر آپ کے گھر داخل ہوئے دروازے جلا دیے ان حملہ آوروں نے صحابہ کرام اور ان کی اولاد میں سے ماسوا محمد بن ابی بکر کے اور کوئی نہ تھا پھر ان حملہ آوروں میں سے بعض نے آپ کو اتنا زدوکوب کیا کہ آپ پر غشی طاری ہوگئی عورتوں نے شور مچایا جس پر یہ لوگ چھوڑ کر چلے گئے بعد میں محمد بن ابی بکر آیا اس کا خیال تھا کہ عثمان غنی فوت ہو چکے ہوں گے لیکن ابھی انہیں افاقہ تھا کہنے لگا 👈🏼 اے نعثل 👉🏼 تم کس دن پر ہو فرمایا دین اسلام پر ہوں مین نعثل نہیں ہوں بلکہ مومنوں کا امیر ہوں محمد بن ابی بکر بولا تم نے کتاب اللہ کو تبدیل کردیا ہے فرمایا اللہ کی کتاب میرے اور تمہارے درمیان ہے (یعنی اس بات کا فیصلہ اللہ کے سپرد) یہ سن کر محمد بن ابی بکر نے آگے بڑھ کر عثمان غنی کی داڑھی پکڑ لی اور کہنے لگا کہ اگر کل قیامت کو ہم یہ کہیں کہ اے اللہ ہم نے اپنے سرداروں اور بڑوں کی اطاعت کی انہوں نے ہمیں صراط مستقیم سے بہکا دیا تو ہمارا یہ بہانہ ہرگز قبول نہ کیا جائے گا پھر اس نے آپ کو کمرے سے نکال کر حویلی کے دروازے تک گھسیٹا اس دوران عثمان غنی یہ کہہ رہے تھے بھتیجے تیرا باپ بھی میری داڑھی پکڑنے کی جرات نہ کرتا اگر زندہ ہوتا

 

📚 البداية والنهاية - نویسنده : ابن كثير جلد : 7 صفحه : 185 مطبوعہ دار الفكر بیروت

 

فخر رازی، اهل سنت کے بڑے مفسر لکھتے ہیں کہ :

 

3⃣ 📜 أن عثمان رضي الله عنه أخر عن عائشة رضي الله عنها بعض أرزاقها فغضبت ثم قالت يا عثمان أكلت أمانتك وضيعت الرعية وسلطت عليهم الأشرار من أهل بيتك والله لولا الصلوات الخمس لمشى إليك أقوام ذوو بصائر يذبحونك كما يذبح الجمل

فقال عثمان رضي الله عنه ضرب الله مثلا للذين كفروا امرأة نوح وامرأة لوط الآية فكانت عائشة رضي الله عنها تحرض عليه جهدها وطاقتها وتقول أيها الناس هذا قميص رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يبل وقد بليت سنته اقتلوا نعثلا قتل الله نعثلا 

 

📝 عثمان نے عائشہ کے ضرورت کے اموال میں کوتاہی کی، اسی وجہ سے عائشہ ناراض ہوئی اور عثمان کو کہا کہ : اے عثمان تم نے امانت کو کہا لیا امت کو حقیر جانا اپنے خاندان کے برے لوگوں کو ان پر مسلط کیا۔ اللہ کی قسم اگر پنجگانہ نمازیں نہ ہوتیں لوگوں کے بابصیر اقوام تم پر حملہ کرتے اور تجھے اونٹ کی طرح ذبح کرتے۔

عثمان بے کہا

کہ اللہ نے کافروں کے لئے حضرت نوح اور حضرت لوط کی بیویوں کی مثال دی ہے۔

عائشه اپنی تمام قدرت اور توانائی سے لوگوں کو عثمان کے خلاف بھڑکاتی تھی اور کہتی تھی کہ : اے لوگوں رسول اللہ کی قمیص ابھی تک ہرانی نہیں ہوئی اور ان کی سنت کو فراموش کیا گیا اس نعثل کو قتل کرو اللہ اس کو قتل کرے۔

( نعثل مصر کے ایک یہودی کا نام تھا کہ جس کی بڑی داڑھی تھی اور وہ اپنی بے وقوفی کی وجہ سے مشہور تھا )

 

📚 المحصول فی علم الأصول، ج 4، ص 343

 

🔴 ابن اثیر جزرى نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ: 🔴

 

📜 نعثل ( هـ ) فی مقتل عثمان لا یمنعنك مكان ابن سلام أن تسب نعثلا كان أعداء عثمان یسمونه نعثلا تشبیها برجل من مصر كان طویل اللحیة اسمه نعثل وقیل النعثل الشیخ الأحمق وذكر الضباع ومنه حدیث عائشة اقتلوا نعثلا قتل الله نعثلا تعنی عثمان وهذا كان منها لما غاضبته وذهبت إلى مكة.

 

📝 عثمان کے دشمن عثمان کو نعثل کہتے تھے، یعنى درحقیقت عثمان کو مصر کے یہودی سے تشبیہ دیتے تھے ، کہا گیا ہے کہ نعثل بے وقوف اور احمق بوڑھے کے معنی میں ہے اور عائشه نے بھی کہا: نعثل کو قتل کرو، اسی معنی کو مراد لیا تھا کیونکہ عائشہ نے یہ تب کہا جب عثمان نے عائشه کو ناراض کیا تا ناراضگی کی شدت سے وہ مکہ چلی گئی.

 

📚 النهایة فی غریب الحدیث والأثر، ج 5، ص 79

 

▪️ابن ابی الحدید اس بارے میں کہتے ہیں:

 

📜 "عثمان کو سب سے پہلے نعثل کہنے والی عائشہ تھیں۔"

 

📚 شرح نہج البلاغہ، جلد 6، صفحہ 131

 

#تعلیمات_اہلبیت

#talimaat_e_ahlbait

#التماس_دعا

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9