حضرت عثمان کا قتل اور صحابہ
حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو شھید کیا ،فزیکلی قتل میں کوئی بلوائی شامل نہیں تھا بلکہ اصحاب رسولﷺ نے قتل میں سرگرم حصہ لیا یہان تک کہ شھید خلیفہ کی تدفین بقیع میں نہ ھونے دینے والا بندہ بھی انصاری صحابیؓ تھا ، جیسا کہ آپ پڑھیں گے کہ یہ خبریں ھمیں عثمانِ غنی رضی اللہ عنہ کے دشمنوں کی طرف سے نہیں ملیں کہ ان کو جھٹلایا جا سکے بلکہ ھمارے اپنے محدثین اور راویوں کی چھان پھٹک کرنے والے اصحاب الرجال کی جانب سے دی گئ ہے ! ـ
1⃣ فروہ بن عمرو الانصاری: جو بیعت عقبہ میں بھی موجود تھے اور السابقون الاولون کے رضی اللہ عنھم میں سے ہیں ـ
📚 استیعاب ۳: ۵۲۳
📚 اسعد الغابہ ۴/۷۵۳
2⃣ محمد بن عمرو بن حزم انصاریؓ یہ وہ صحابی رسول ﷺ ہیں جن کا نام بھی خود رسول اللہ ﷺ نے رکھا تھا
📚 استیعاب۳: ۲۳۴
3⃣ جبلہ بن عمرو ساعدی انصاریؓ بدری .یہ وہ صحابی تھے جنہوں نے حضرت عثمانؓ کے جنازہ کو بقیع میں دفن نہیں ہونے دیا تھا ـ
📚 تاریخ المدینۃ ۱: ۲۱۱
4⃣ عبدا للہ بن بُدیل بن ورقاء خزاعؓی .یہ فتح مکہ سے پہلے اسلام لاچکے تھے امام بخاری کے بقول یہ وہی صحابی ہیں جنہوں نے حضرت عثمان ؓ کا گلا کاٹا تھا .
📚 تاریخ الاسلام از بخاریؒ الخلفاء: ۷۶۵
5⃣ محمد بن ابو بکرؓ : یہ حجۃ الوداع کے سال میں پیدا ہوئے اور امام ذہبی کے بقول انہوں نے حضرت عثمانؓ کے گھر کا محاصرہ کیا اور ان کی ڈاڑھی کو پکڑ کر کہا : اے نعثل (یہودی) ! خدا تمہیں ذلیل و رسوا کرے .
📚 تاریخ الاسلام از بخاری : ۱۰۶
6⃣ عمروبن حمقؓ : یہ بھی صحابی رسولؐ تھے جنہوں نے امام مزی کے بقول حجۃ الوداع کے موقع پر محمد رسول اللہ ﷺ کی بیعت کی تھی اور امام ذہبی کے بقول یہ وہی صحابی ہیں جنہوں نے حضرت عثمانؓ پرخنجر کے پے در پے نو وار کرتے ہوئے کہا: تین خنجر خداکے لئے مار رہا ہوں اور چھ اس چیز کے بارے میں جو تیرے بارے میں میرے دل میں ہے !
[وثب علیہ عمرو بن الحمق وبہ عثمان رمق وطعنہ، تسع طعنات وقال : ثلاث للہ وستّ لمّا فی نفسی علیہ.]
📚 تہذیب الکمال۴۱:۴۰۲؛
📚 تہذیب التہذیب ۸:۲۲
7⃣ عبدالرحمن بن عدیسؓ : یہ اصحاب بیعت شجرہ میں سے ہیں اور قرطبی کے بقول مصر میں حضرت عثمان ؓکے خلاف بغاوت کرنے والو ں کے لیڈر تھے یہاں تک کہ حضرت عثمانؓ کو قتل کر ڈالا .
📚 استیعاب ۲: ۳۸۳؛
📚 تاریخ الاسلام از بخاری ـ الخلفاء: ۴۵۶
اب سوال یہ ھے کہ ان قاتل اصحاب کے بارے میں ھمارے اکابر علماء اور محدثین کا رویہ کیا تھا ـ
امام بخاریؒ تاریخِ اسلام میں لکھتے ہیں
📜 کلّ من ھؤلاء نبرئ منھم ونبغضھم فی اللہ ...نرجو لہ النّار
📝 ان سب قاتلین سے ھم اعلانِ برآت کرتے ہیں، اور ان سے اللہ کی خاطر بغض رکھتے ہیں اور ان میں سے ھر ایک کے آگ میں جانے کی آرزو کرتے ہیں
📚 تاریخ الاسلام از بخاریؒ الخلفاء ۴۵۶
امام ابن حزم لکھتے ہیں:
📜 لعن اللہ من قتلہ، والرّاضین بقتلہ ...بل ھم فسّاق محاربون سافکون دما حراما عمدا بلا تأویل علی سبیل الظّلم والعدوان فھم فسّاق ملعونون
📝 خدا کی لع نت ہو ان پر جنہوں نے حضرت عثمان ؓکو قتل کیا اور جو ان کے قتل پر راضی ہیں( یعنی جو نہ مانے وہ بھی کا فر ) ...یہ لوگ فاسق ، محارب اور بغیر تاویل کے محترم خون بہانے والے ہیں لہذا فاسق و ملعون ہیں .
📚 الفصل ۳: ۴۷و ۷۷
صحابہ پر بےخوف ھو کر لعن تیں کرنے والے یہ سارے اھلسنت علماء ہیں ،
اب سوال یہ ھے کہ ایک طرف تو یہ اکابر علماء جو Opinion Maker ہیں اصحابِ بدر، اصحابِ شجرہ اور اصحاب بیعتِ عقبہ پر لع نت کر رھے ہیں ، جبکہ دوسری جانب چھوتے خلیفہ راشد کے خلاف جنگ کرنا اور بغاوت کرنا جس میں بہت سےصحابہ شامل ھیں ان کو رضی اللہ کہنا اور آلِ رسول کے چھوٹے بچوں ، جوانوں اور ستر سالہ بوڑھے کو شھید کرنے والے یزید پر لع نت کی ممانعت کی جاتی ہے کیا یہ کھلے سے بھی بڑا تضاد نہیں ہے ؟
مقتول بنو امیہ سے تعلق رکھتا ھو تو اس کے قاتل پر لع نت اگرچہ وہ جید صحابہؓ ہی کیوں نہ ھوں ،، اور اگر مقتول بنو ھاشم کا ھو تو قاتل رضی اللی ، رحمۃ اللہ علیہ اور مغفور لھم ھو جاتا ھے
Gallery
Tap any image to view full screen