Back to حضرتِ عثمان

طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا

طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا
طلحہ قاتل عثمان میں سے تھا

📜 ولا يختلف العلماء الثقات في أن مروان قتل طلحة يومئذ و كان في حزبه.

 

📝 قابل اعتماد علماء کا اس بات پر کوئی اختلاف نہیں ہے کہ طلحہ کو مروان بن حکم نے (قتل عثمان کے الزام میں) جنگ جمل میں قتل کیا جب وہ اس کی جماعت میں تھا۔

 

📚 الاستيعاب - ابن عبد البر - ج ٢ - الصفحة ٧٦٦

 

۔

 

⚔ مروان نے اھل سنت کے عشر مبشر والے صحابی طلحہ کو قتل کیا ⚔

 

🖋 ذولفقار مشرقی

 

طبرانی نے اپنی سند سے بیان کیا ہے کہ قیس بن ابی حازم نے فرمایا : 

 

📜 رأيت مروان بن الحكم حين رمى طلحة يومئذ بسهم فوقع في عين ركبته فما زوال الدم يسيح إلى أن مات

 

📝 میں نے مروان بن حکم کو تیر پھینکتے ہوئے دیکھا جو حضرت طلحہ کے گھٹنے میں پیوست ہو گیا تھا ، جس کے باعث مسلسل خون بہتا رہا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی

 

📚 معجم الکبیر - طبرانی // جلد ۱ // صفحہ ۷۲ // رقم ۲۰۱ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔

 

نور الدین ھیثمی نے اس روایت کے بارے میں یوں کہا : 

 

🔗 اس کو طبرانی نے روایت کیا ہے اور اسکے تمام راوی صحیح ہے۔

 

📚 مجمع الزوائد - ھیثمی // جلد ۸ // صفحہ ۱۴۸ // رقم ۱۴۸۲۲ // طبع دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان۔

 

🚩 نوٹ : کچھ حضرات کہتے ہیں کہ قیس بن ابی حازم جنگ جمل میں شامل ہی نہیں تھا اسلے وہ حدیث الحواب کا بھی انکار کرتے ہیں جبکہ اس میں صراحت کے ساتھ قیس بن ابی حازم بول رہا ہے کہ اس نے خود دیکھا مروان ایسا کر رہا تھا جس سے مرسل والا اعتراض رفع ہوجاتا ہے۔۔۔الحمدللہ۔

 

ابن حجر عسقلانی نے طلحہ کے زیل میں یوں لکھا ہے : 

 

📝 خلیفہ بن خیاط نے اپنی تاریخ میں اسماعیل بن خالد سے جنہوں نے قیس بن ابی حازم سے روایت کیا ہے کہ جمل کے دن حضرت طلحہ کے گھٹنے میں تیر پھینکا گیا ، جب اس تیر کو روکتے تو گھٹنا پھول جاتا اور چھوڑتے تو گھٹنا ظاھر ہوجاتا ۔ آپ نے فرمایا : اس کو اس کے حال پر چھوڑ دو ۔ 

 

ابن عساکر نے متعدد طرق کے ساتھ روایت کیا ہے کہ جس شخص نے حضرت طلحہ پر تیر پھینکا تھا وہ مروان بن حکم تھا ۔ 

 

اور ابی القاسم بغوی نے بھی صحیح سند کے ساتھ جارود بن ابی سبرہ سے روایت کیا ہے کہ مروان نے جمل کے دن جب حضرت طلحہ کو دیکھا تو کہنے لگا: آج کے بعد میں قصاص کا مطالبہ نہیں کروں گا ، پھر اس نے تیر پھینکا اور حضرت طلحہ کو قتل کردیا ۔ 

 

اور یعقوب بن سفیان صحیح سند کے ساتھ قیس بن ابو حازم سے روایت کرتے ہیں کہ مروان بن حکم نے لشکر کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا تو کہنے لگا : اس ( طلحہ) نے عثمان کے قتل میں اعانت کی تھی ، پھر تیر پھینک کر آپ کو زخمی کر دیا ، جس سے مسلسل خون جاری رہا حتی کہ آپ وصال فرما گئے ۔ 

 

اور عبدالحمید بن صالح نے قیس سے اور طبرانی نے یحیی بن سلیمان الجعفی سے وکیع کی اسی سند سے روایت کیا ہے کہ یحیی نے کہا : میں نے مروان بن حکم کو تیر پھینکتے ہوئے دیکھا جو حضرت طلحہ کے گھٹنے میں پیوست ہو گیا تھا ، جس کے باعث مسلسل خون بہتا رہا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی ۔ یہ واقعہ جمادی الاول 36 ھجری میں ہوا ۔ 

 

ابن عماد حنبلی نے بھی اپنی کتاب میں ایسا ہی لکھا : 

 

📝 اور اس دن طلحہ بن عبیداللہ قرشی تمیمی قتل ہوا۔ کہا جاتا یے کہ مروان نے اسکو تیر سے قتل کیا کیونکہ اسکے دل میں اسکے خلاف بغض تھا۔ یہ دونوں جنگ (صفین) میں ایک ہی طرف تھے۔

 

📚 شذرات الذھب - ابن عماد حنبلی // جلد ۱ // صفحہ ۲۰۶ // طبع دار ابن کثیر دمشق شام۔

 

شمس الدین ذھبی نے مروان کے زیل میں بھی ایسا ہی لکھا ہے :

 

📜 وله اعمال موبقة, نسال الله السلامة, رمى طلحة بسهم وفعل وفعل

 

📝 اور اسکے اعمال کافی برے تھے۔ ھم اللہ سے اسکے لے سلامتی مانگتے ہیں۔ اس نے طلحہ کو تیر مارا اور کیا جو کرنا تھا۔

 

📚 میزان الاعتدال - ذھبی // جلد ۶ // صفحہ ۳۹۵ - ۳۹۶ // طبع مکتبہ رحمانیہ لاھور ھندوستان۔

 

۔

 

خلیفہ سوم کے قتل میں شریک صحابی سے صحابی نے انتقام لیا۔

 

اسلامی تاریخ کا عجیب المیہ ۔۔۔

 

جناب خلیفہ سوم کے قتل میں شریک اصحاب میں سے ایک مشہور نام عشرہ مبشرہ والے صحابی جناب طلحہ کا نام ہے ۔۔۔

 

ابن أبي شيبه اپنی کتاب المصنف میں ، ابن عبد البر نے الإستيعاب میں اور ابن حجر نے تهذيب التهذيب میں نقل کیا ہے:

 

📜 حدثنا وَكِيعٌ عن إسْمَاعِيلَ عن قَيْسٍ قال كان مَرْوَانُ مع طَلْحَةَ يوم الْجَمَلِ قال فلما اشْتَبَكَتْ الْحَرْبُ قال مَرْوَانُ َلاَ أَطْلُبُ بِثَأْرِي بَعْدَ الْيَوْمِ قال ثُمَّ رَمَاهُ بِسَهْمٍ فَأَصَابَ رُكْبَتَهُ فما رَقَأَ الدَّمُ حتي مَاتَ قال وقال طَلْحَةُ دَعَوْهُ فَإِنَّمَا هو سَهْمٌ أَرْسَلَهُ اللَّهُ.

 

📝 مروان جنگ جمل میں طلحه ساتھ تھا ، جس وقت جنگ شروع ہوئی، مروان نے کہا : آج کے بعد عثمان کے خون کا بدلہ لینے کی کوشش نہیں کروں گا ،یہ کہا اور ایک تیر طلحہ کی پھر پھینکا ،تیر طلحہ کے گھٹنے پر آلگا، طلحه نے کہا : یہ تیر اللہ کی طرف سے آیا ہے ، اس کے گھٹنے سے خون نکلتا رہا اور وہ مرگیا ۔

 

📚 إبن أبي شيبة الكوفي، أبو بكر عبد الله بن محمد (متوفاي235 هـ)، الكتاب المصنف في الأحاديث والآثار، ج 7، ص 542، ح 37803، تحقيق: كمال يوسف الحوت، ناشر: مكتبة الرشد - الرياض، الطبعة: الأولي، 1409هـ؛

 

📚 إبن عبد البر، يوسف بن عبد الله بن محمد (متوفاي463هـ)، الاستيعاب في معرفة الأصحاب، ج 2، ص 769، تحقيق علي محمد البجاوي، ناشر: دار الجيل - بيروت، الطبعة: الأولي، 1412هـ.

 

📚 العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852هـ) تهذيب التهذيب، ج 5، ص 19، ناشر: دار الفكر - بيروت، الطبعة: الأولي، 1404هـ - 1984م.

 

🔗 اس روایت کی سند کی تحقیق:

 

وكيع بن الجراح: ثقة حافظ عابد من كبار التاسعة.

 

📚 تقريب التهذيب، ج 2، ص 284، رقم: 7441.

 

اسماعيل بن ابوخالد: ثقة ثبت من الرابعة مات سنة ست وأربعين.

 

📚 تقريب التهذيب، ج 1، ص 93، رقم: 439.

 

قيس بن ابوحازم: ثقة من الثانية مخضرم ويقال له رؤية.

 

📚 تقريب التهذيب، ج 2، ص 32، رقم: 5583.

 

 

اہل سنت کے بزرگ علما نے اس سلسلے میں موجود روایات کے صحیح ہونے کااعتراف کیا ہے ۔۔۔

 

 

لہذا اہل سنت کے ان علما کے نذدیک جناب عثمان کے قتل میں اصحاب بھی شریک تھے ۔۔۔

 

 

ابن حجر عسقلانی اعتراف کا اعتراف

 

📜 وروى بن عساكر من طريق متعددة أن مروان بن الحكم هو الذي رماه فقتله منها وأخرجه أبو القاسم البغوي بسند صحيح عن الجارود بن أبي سبرة قال لما كان يوم الجمل نظر مروان إلى طلحة فقال لا أطلب ثأري بعد اليوم فنزع له بسهم فقتله وأخرج يعقوب بن سفيان بسند صحيح عن قيس بن أبي حازم أن مروان بن الحكم رأى طلحة في الخيل فقال هذا أعان على عثمان فرماه بسهم في ركبته فما زال الدم يسيح حتى مات أخرجه عبد الحميد بن صالح عن قيس وأخرج الطبراني من طريق يحيى بن سليمان الجعفي عن وكيع بهذا السند قال رأيت مروان بن الحكم حين رمى طلحة يومئذ بسهم فوقع في عين ركبته فما زوال الدم يسيح إلى أن مات وكان ذلك في جمادى الأولى سنة ست وثلاثين من الهجرة وروى بن سعد أن ذلك كان في يوم الخميس لعشر خلون من جمادى الآخرة وله أربع وستون سنة ۔۔۔۔۔۔۔۔:

 

📚 الإصابة في تمييز الصحابة (3/ 532):المؤلف : أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل العسقلاني الشافعي۔الناشر : دار الجيل - بيروتالطبعة الأولى ، 1412

 

ابن حجر نے فتح الباري میں لکھا ہے:

 

📜 وقتل طلحة يوم الجمل سنة ست وثلاثين رمي بسهم جاء من طرق كثيرة ان مروان بن الحكم رماه فأصاب ركبته فلم يزل ينزف الدم منها حتي مات.

 

📝 طلحه 36 ہجری کو قتل ہوا ، اس کا قاتل مروان حكم تھا۔ اسی کے تیر سے نکلے خون کی وجہ سے وہ مر گیا اور یہ بات متعدد طرق سے نقل ہوئی ہے۔

 

📚 العسقلاني الشافعي، أحمد بن علي بن حجر أبو الفضل (متوفاي852هـ)، فتح الباري شرح صحيح البخاري، ج 7، ص 82، تحقيق: محب الدين الخطيب، ناشر: دار المعرفة - بيروت.

 

امام ابنِ عبدالبر کی گواہی ملاحظہ فرمائیں: 

 

ابنِ عبدالبر صحابی "طلحہ بن عبیداللہ " باب میں فرماتے ہیں: 

 

📜 ولا يختلف العلماء الثقات في أن مروان قتل طلحة يومئذ وكان في حزبه

 

📝 ثقہ علماء کے درمیان اس میں کوئی اختلاف نہیں کہ (دامادِ عثمان) مروان (بن حکم) ہی نے (صحابی) طلحہ (بن عبیداللہ) کو اس (جمل کے) دن قتل کیا تھا اور یہ طلحہ (بن عبیداللہ) کے گروہ میں ہی شامل تھا

 

📚 الاستیعاب في معرفة الاصحاب جلد ١۔ ص ٧٦٦ ۔ طبع دار الجیل بیروت 

 

🖋 ولی العصر

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10
Gallery Image 11
Gallery Image 12
Gallery Image 13
Gallery Image 14
Gallery Image 15
Gallery Image 16
Gallery Image 17
Gallery Image 18
Gallery Image 19
Gallery Image 20
Gallery Image 21
Gallery Image 22