عاشورہ کا روزہ؟
عاشورہ کا روزہ اور کتب اہلسنت
1️⃣ روایت اول:
🔵 حضرت عائشہؓ کہتی ہیں: "قریش زمانۂ جاہلیت میں عاشورا کے دن روزہ رکھتے تھے، رسول اللہﷺ بھی اس دن روزہ رکھتے تھے۔ جب رسول اللہﷺ مدینہ تشریف لائے تو اس دن کا روزہ رکھتے اور دوسروں کو بھی اس کا حکم دیتے۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشورا کا روزہ چھوڑ دیا گیا، اب جو چاہے رکھے اور جو چاہے چھوڑ دے۔"
📚 صحیح بخاری، ج2، ص250، حدیث 2002، کتاب الصوم، باب 69
🔴 سوال:
وهابی حضرات ہمیں یہ سمجھائیں کہ زمانۂ جاہلیت کے مشرکین جو کافر اور نجس تھے اور توحید کے منکر تھے، وہ کیسے روزے رکھتے تھے؟
ذرا سند بھی پیش کریں کہ قریش کے مشرکین عاشورا کا روزہ کیوں رکھتے تھے؟ 😁
👈🏻 یہ یاد رکھیں کہ زمانہ جاہلیت میں عاشورہ کا روزہ رسول ﷺ رکھتے تھے
2️⃣ روایت دوم:
🔵 حضرت ابن عباسؓ کہتے ہیں: جب نبی اکرمﷺ مدینہ آئے تو آپ نے دیکھا کہ یہود عاشورا کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے فرمایا: "یہ کیا ہے؟"
وہ بولے: "یہ نیک دن ہے، جس میں اللہ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمنوں سے نجات دی، اس لیے موسیٰ علیہ السلام نے اس دن کا روزہ رکھا تھا۔"
تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: "ہم موسیٰ کے پیروکار ہونے میں تم سے زیادہ حق دار ہیں۔"
👈🏻 چنانچہ آپ نے خود بھی روزہ رکھا اور دوسروں کو بھی حکم دیا کہ روزہ رکھیں۔
📚 صحیح بخاری، ج2، ص251، حدیث 2004
😳😳🤐
ذرا دیکھیں! دو صفحے کے فرق سے دو بالکل الگ باتیں: ایک طرف کہا کہ یہ قریش اور مشرکین کی سنت تھی،
دوسری طرف کہا کہ یہود کی سنت تھی!
👈🏻👈🏻 جی آپکو تو یاد ہوگا عاشورہ کا روزہ تو رسول ﷺ زمانہ جاہلیت میں رکھتے تھے۔ مگر یہاں تو ہجرت کے بعد پتا چلنے پر روزہ رکھا 🤣
⛔️ اعوذ بالله من الوهابيون
ہم یہاں کھُلا چیلنج دیتے ہیں کہ: 👈 "کوئی ایک صحیح روایت پیش کرو جس سے ثابت ہو کہ یہود واقعی عاشورا کا روزہ رکھتے تھے!" 👉
3️⃣ روایت سوم:
🔵 رسول اللہﷺ کا فرمان ہے: "عاشورا کا روزہ رکھو اور اس میں یہود کی مخالفت کرو۔"
📚 مجمع الزوائد، ہیثمی، ج3، ص188
📚 السنن الکبریٰ، ج4، ص475
4️⃣ روایت چہارم:
👈🏻 "یہود کی مشابہت اختیار نہ کرو۔"
📚 مجمع الزوائد، ج8، ص38
📚 فتح الباری شرح صحیح بخاری، ج3، ص71
📚 عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری، ج4، ص59
⛔️ اب وهابیوں سے سوال: بتاؤ تو سہی! کبھی کہہ رہے ہو یہود کی پیروی کرو، کبھی کہہ رہے ہو مخالفت کرو۔ پہلے اپنی پوزیشن تو واضح کرو!😉
5️⃣ روایت پنجم:
🔵 حضرت ابو سعید خدریؓ کی روایت: "رسول اللہﷺ عاشورا کے روزے کا حکم دیتے تھے، لیکن خود روزہ نہیں رکھتے تھے۔"
📚 مجمع الزوائد، ہیثمی، ج3، ص186
🔴 یعنی نعوذ بالله، وهابیوں کے مطابق: رسول اللہﷺ خود عمل نہ کرتے، صرف حکم دیتے تھے!
جبکہ قرآن کہتا ہے: 👇👇
"اے ایمان والو! کیوں ایسی بات کہتے ہو جو خود نہیں کرتے؟"
(سورہ صف، آیت 2)
😱 یہ بھی توہینِ نبوت ہے! کہ نعوذ بالله رسول اللہﷺ ایسا کام کہنے کا حکم دیتے جو خود نہ کرتے!
6️⃣ روایت ششم:
🔵 حضرت ابن عمرؓ کہتے ہیں: "رسول اللہﷺ عاشورا کا روزہ رکھتے اور اس کا حکم دیتے تھے، پھر جب رمضان فرض ہوا تو عاشورا کا روزہ چھوڑ دیا گیا۔
عبداللہ بن عمرؓ بھی اس دن روزہ نہیں رکھتے تھے، سوائے اس دن کے جب عاشورا کسی ایسے دن آتا جو ان کے عادتاً روزے کا دن ہوتا۔"
📚 صحیح بخاری، ج2، ص226، حدیث 1892، کتاب الصوم، باب وجوب صوم رمضان
✅ نتیجہ:
کبھی کہتے ہو مشرکین کی سنت تھی۔
کبھی کہتے ہو یہود کی سنت تھی۔
کبھی کہتے ہو زمانہ جاہلیت میں نبی رکھتے تھے
کبھی کہتے ہو ہجرت کے بعد رکھا اور رکھنے کا حکم دیا
کبھی کہتے ہو کہ نبیؐ خود نہیں رکھتے تھے۔
کبھی کہتے ہو کہ نبیؐ رکھتے تھے۔ لیکن بعد میں چھوڑ دئے
کبھی مخالفت کا حکم، کبھی موافقت کا۔
کبھی صحابہ رکھتے تھے، کبھی نہیں رکھتے تھے۔
سچ تو یہ ہے جو خود انکے محدثین نے نقل کیا ، ملاحظہ کیجئے 👇🏼👇🏼👇🏼👇🏼👇🏼👇🏼
۔
🔴 عاشورہ کا روزہ بدعت ہے بنو امیہ کی 🔴
1⃣ اہل حدیث عالم
📜 عاشوراء کے روزے اور اسمین نماز س انفاق اور خضاب اور تیل اور سرمہ لگانے کی فضیلت کے بارے میں جو روایت کی جارہی ہے وہ بدعت ہے جس کو حسینؓ کے قاتلین نے ایجاد کیا ہے۔
📚 تمام المنہ فی التعلیق علیٰ فقہ السنہ ناصر الدین البانی صفحہ ۵۱۵
2⃣ اہل سنت کے ایک با بصیرت عالم مناوی نے روز عاشورا کے بارے میں کہا ہے کہ:
📜 ما یروى فی فضل صوم یوم عاشوراء والصلاه فیه والانفاق والخضاب والادهان والاکتحال، بدعه ابتدعها قتله الحسین (رضی اللَّه عنه) وعلامه لبغض اهل البیت، وجب ترکه.
📃 جو کچھ عاشورا کے دن کے روزے کی فضیلت، نماز، انفاق، خضاب کرنے، بالوں میں تیل لگانے اور آنکھوں میں سرمہ لگانے وغیرہ کے بارے میں بیان کیا گیا ہے، وہ سب بدعت ہے کہ جسکو امام حسین کے قاتلوں نے ذکر کیا ہے اور یہی باتیں انکی اہل بیت کے ساتھ دشمنی کی بھی علامت ہے کہ ان سب بدعتوں کو ترک کرنا واجب ہے۔
📚 فیض القدیر ج 6 ص 306
⭕ علامہ ابو طاہر فیروزآبادی (اہلِ سنت کے بڑے عالم)
عاشورا کے فضائل کے بارے میں فرماتے ہیں:
نمازِ سنت، سرمہ لگانا، کھانے پکانا، صدقہ دینا، بالوں کو رنگنا وغیرہ
یہ تمام اعمال ضعیف روایات ہیں اور
امام حسینؑ کے قاتلوں کی گھڑی ہوئی بدعتیں ہیں!
علامہ ابو طاہر فیروزآبادی اپنی کتاب "شناختِ روایاتِ صحیح از غیر صحیح" میں
عاشورا کے فضائل پر مفصل گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
باب نمبر 36: فضائلِ عاشورا
عاشورا کے فضائل کے بارے میں جتنی روایات وارد ہوئی ہیں،
چاہے وہ نماز پڑھنے، صدقہ دینے، سرمہ لگانے،
بالوں کو رنگنے یا کھانے پکانے کے متعلق ہوں…
یہ سب کی سب من گھڑت اور جھوٹی ہیں۔
حدیث کے اماموں کا کہنا ہے کہ
عاشورا کے دن سرمہ لگانا وہ بدعت ہے جو امام حسینؑ کے قاتلوں نے ایجاد کی۔
📚 "شناخت روایاتِ صحیح از غیر صحیح"،
مؤلف: علامہ مجدالدین ابو طاہر فیروزآبادی
مترجم: جہانگیر ولدبیگی
صفہ 71
⭕ مفسر و محدث شیخ اسماعیل بن محمد العجلونی الجراحی (متوفی 1162ھ) اہل سنت کے عالم،
عاشورا کے دن کے مخصوص اعمال جیسے روزہ رکھنا، مخصوص نماز پڑھنا، خوشی منانا وغیرہ کے بارے میں احادیث بیان کرنے کے بعد، جنہیں ناصبی اپنے حق میں دلیل کے طور پر پیش کرتے ہیں، فرماتے ہیں:
🔸
"عاشورا کی فضیلت کے باب میں، روزہ رکھنے کے استحباب، اور دیگر احادیث جیسے نماز کی فضیلت، خرچ کرنا، خضاب لگانا، بدن پر تیل ملنا، سرمہ لگانا، اناج پکانا وغیرہ — یہ سب کی سب موضوع (من گھڑت) اور جھوٹی روایات ہیں۔ محدثین کے ائمہ نے کہا ہے کہ عاشورا کے دن سرمہ لگانا ایک بدعت ہے، جسے امام حسینؑ کے قاتلوں نے ایجاد کیا تھا۔"
🔹
یعنی عاشورا کے دن روزہ رکھنے، خرچ کرنے، داڑھی یا بالوں میں خضاب لگانے، مخصوص نماز پڑھنے، سرمہ لگانے، بدن پر تیل ملنے، کھانے پکانے وغیرہ کی جتنی بھی روایات ہیں، یہ سب جھوٹی اور جعلی ہیں۔ عاشورا کے دن سرمہ لگانا ان بدعتوں میں سے ہے جنہیں امام حسینؑ کے قاتلوں نے گھڑا تھا۔
📚 ماخذ: كشف الخفاء ومزيل الإلباس عما اشتهر من الأحاديث على ألسنة الناس
جلد 2، صفحہ 513
مصنف: شیخ اسماعیل بن محمد العجلونی الجراحی
ناشر: مکتبہ علم الحدیث
⭕ علامه ابوطاهر فيروز آبادی از علمای اهلسنت :روایات فضایل عاشورا، مانند نماز سنت، روزه گرفتن، سرمه کشیدن، طبخ غذا، انفاق و رنگ کردن مو ضعیف و بدعت قاتلان امام حسین علیه السلام است
باب فضایل عاشوراء: ورد استحباب صيامه و سایر الاحاديث في فضله .....و غير ذلک بمجموعه موضوعة مفتري. فيه بدعة ابتدعها قتله الحسين.
علامہ ابوطاہر فیروز آبادی (اہلِ سنت کے عالم) کہتے ہیں:
عاشورا کے فضائل سے متعلق جتنی بھی روایات ہیں،
جیسے:
نمازِ سنت، روزہ رکھنا، سرمہ لگانا، کھانے پکانا، صدقہ دینا، بالوں کو رنگنا وغیرہ —
یہ سب کی سب ضعیف اور امام حسینؑ کے قاتلوں کی ایجاد کردہ بدعتیں ہیں۔
باب فضائل عاشورا:
روز عاشورا کے روزے کے مستحب ہونے اور دیگر فضیلتوں کے بارے میں جو روایات وارد ہوئی ہیں،
یہ سب مجموعی طور پر موضوع (جھوٹی) اور افترا (گھڑی ہوئی) ہیں،
اور ان میں وہ بدعت شامل ہے
جو امام حسینؑ کے قاتلوں نے خود ایجاد کی۔
📚 رساله في بيان ما لم يثبت فيه حديث من الأبواب، ص30
3⃣ امام حاکم نیشاپوری
📜 قَالَ الْحَاكِم: أَنَا أَبْرَأ إِلَى اللَّهِ من عُهْدَة جُوَيْبِر.
قَالَ: والاكتحال يَوْم عَاشُورَاءَ لم يرو عَن رَسُول الله صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِيهِ أثر وَهُوَ بِدعَة ابتدعها قتلة الْحُسَيْن عَلَيْهِ السَّلامُ.
📃 امام حاکم کہتے ہیں کہ میں جوبیر سے خدا کی جانب سے بیزاری چاہتا ہوں۔ یومِ عاشورہ پورے دن کا روزہ رکھنا رسول اللہ ص سے بلکل ثابت نہیں بلکہ یہ تو قاتلانِ امام حسین کی بدعت ہے جس کو انھوں نے شروع کیا تھا۔
📚 امام ابن الجوزی کتاب الموضوعات جز الثانی ص ۲۰۴
4⃣ ہیثمی نے کتاب مجمع الزوائد میں ابو سعید خدری سے روایت نقل کی ہے کہ:
📜 انّ رسول الله صلى الله علیه وسلم أمر بصوم عاشوراء وکان لا یصومه.
📃 رسول خدا صلی الله علیہ و آلہ و سلّم عاشورا کے دن روزہ رکھنے کا حکم دیتے تھے، حالانکہ وہ خود اس دن روزہ نہیں رکھتے تھے۔
📚 مجمع الزوائد، هیثمی، ج 3، ص 186
👈🏼 کیسے ممکن ہے کہ رسول خدا دوسروں کو تو ایک کام کرنے کا حکم دیں، لیکن خود وہ اس عمل کو انجام نہ دیں ؟
5⃣ ابن عمر
📜 وحَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ شُعْبَةَ أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ عَنْ صَوْمٍ عَاشُورَاءَ فَقَالَ كَانَ ابن عمر رَضِيَ الله عَنْهما لَا يَصُومُهُ
📃 حضرت عبد اللہ بن عمر عاشورہ کا روزہ نہیں رکھتے تھے
صحیح 👇🏻
📚 المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية ، الجزء: 6، ص 148
💯 بخاری مسلم میں جو روایات پائی جاتی ہیں وہ انتہائی متضاد ہیں
🔴 شیخ الحدیث حکیم ابوالحسن عبید اللہ رحمانی مبارکپوری کہتے ہیں کہ
یوم عاشوراء اسلامی تاریخ میں خوشی اور شکر کا دن قرار دیا گیا ہے۔ اب ہمیشہ یہ دن اسلام کی نظر میں خوشی اور شکر کا ہی دن رہے گا ۔ جیسے عید الفطر عید الاضحیٰ کے ایام خوشی اور شکر کے دن قرار دئے گئے
📚 عاشوراء محرم روز عید یا روز غم و ماتم؟
تعلیماتِ اہلبیتؑ
#بدر_علی
#بدر_علی #تعلیمات_اہلبیتؑ #التماس_دعا #تبدیلی_ممنوع
Gallery
Tap any image to view full screen