اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ اَلَّذِي جَعَلَنَا مِنَ اَلْمُتَمَسِّكِينَ بِوِلاَيَةِ أَمِيرِ اَلْمُؤْمِنِينَ وَ اَلْأَئِمَّةِ عَلَيْهِمُ اَلسَّلاَمُ»»
متعہ جو کہ ایک معینہ مدت کا عقد ھے جس میں مقرر کردہ حق مہر بھی بطور فرض ادا کر دیا جاتا ھے اور یہ عقد قرآن و حدیث سے ثابت ھے لیکن بعد از پیغمبر یہ مسلمانوں کے درمیان ایک اختلافی موضوع بن گیا کیونکہ جنابِ محمد مصطفیٰ ص کی عہد رسالت میں یہ ھوتا رھا اور صحابہ کرام رض بھی کرتے رھے جس کی ھم آگے مکمل وضاحت پیش کریں گے چنانچہ اس کے باوجود بھی مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا ھو گیا اور مختلف آراء وارد ھونے لگیں ، مکتبِ تشیع میں متعہ جائز سمجھا جاتا ھے لیکن برادرانِ اسلامی کے ہاں اب یہ جائز نہیں ھے کیونکہ ان کے ہاں مختلف اقوال پائے جاتے ھیں کہ متعہ تین مرتبہ حلال کیا گیا اور تین مرتبہ حرام ، سات مرتبہ حلال کیا گیا اور سات مرتبہ حرام یا پھر خیبر کے روز منسوخ ھو گیا ، غزوۂ تبوک کے موقع پر منسوخ ھو گیا ، حجۃ الوداع کے موقع پر منسوخ ھوا ، فتح مکہ کے موقع پر منسوخ ھو گیا ، اوطاس کے موقع پر منسوخ ھوا چنانچہ برادرانِ اسلامی کے ہاں اس کے متعلق مختلف اقوال پائے جاتے ھیں جبکہ حقیقت تو یہ ھے کہ خداوند متعال نے قرآن مجید میں متعہ کی اجازت دی اور پھر جنابِ رسالت مآب کے دور میں صحابہ کرام رض اس پہ عمل پیرا رھے جیسا کہ
فَمَا اسۡتَمۡتَعۡتُمۡ بِہٖ مِنۡہُنَّ فَاٰتُوۡہُنَّ اُجُوۡرَہُنَّ فَرِیۡضَۃً ؕ وَ لَا جُنَاحَ عَلَیۡکُمۡ فِیۡمَا تَرٰضَیۡتُمۡ بِہٖ مِنۡۢ بَعۡدِ الۡفَرِیۡضَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیۡمًا حَکِیۡمًا
ترجمہ:" پھر جن عورتوں سے تم نے متعہ کیا ھے ان کا طے شدہ مہر بطور فرض ادا کرو البتہ طے کرنے کے بعد آپس کی رضا مندی سے (مہر میں کمی بیشی) کرو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ھے یقیناً اللہ بڑا جاننے والا حکمت والا ھے"
(سورہ النساء آیت 24 )
بخاری شریف جلد 1 صفحہ 663 ۔
بخاری شریف جلد 2 صفحہ 795 842 ۔
بخآری شریف جلد 3 صفحہ 65 ۔
(مکتبہ رحمانیہ لاھور 1985 ترجمہ وحیدالزماں)
مشکواۃ شریف جلد 2 صفحہ 82
مسلم شریف جلد 3 صفحہ 297 ۔
مسلم شریف جلد 4 صفحہ 16 ۔ 17 ۔
(نعمانی کتبخانہ لاھور ترجمہ وحیدالزماں)
موطا امام مالک صفحہ 275 ۔
(ادارہ نشریات اسلام لاھور ترجمہ وحیدالزماں)
ابن ماجہ شریف جلد 2 صفحہ 223 ۔
(فرید بکسٹال لاھور ترجمہ عبدالحکیم خان اختر)
ترمذی شریف جلد 1 صفحہ 43
شرح مسلم نووی
مسند احمد
احکام القرآن جصاص
تفسیر روح المعانی
تفسیرِ کبیر فخرالدین رازی
تفسیرِ کشاف
تفسیر فتح القدیر
تفسیرِ طبری
معالم التنزیل
المستدرک الحاکم
المصاحف الابی بکر
تفسیرِ مواہب
جامع البیان
نیل الاوطار
تفسیرِ قرطبی
تفسیرِ حقانی
تفسیر ابن کثیر عماد الدین جلد 2 صفحہ 9 ۔
تفسیر در المنثور السیوطی جلد 2 صفحہ 387 ۔
تفسیر مظہری قاضی ثناءاللہ پانی پتی جلد 3 ,
صفحہ 31
اس کے علاوہ کافی ساری تفاسیر میں موجود ھے کہ یہ آیت متعہ کے متعلق نازل ھوئی اور کثیر صحابہ کرام رض نے اس آیت کے طفیل متعہ کیا اور اسی طرح آیت متعہ کی ایک قرآت "الی اجل مسمیٰ" کو اختیار کیا جس سے متعہ کو بآسانی سمجھا جا سکتا ھے اور کوئی اشکال باقی نہیں رہتا اس کے متعلق برادرانِ اسلامی کے ہاں کثیر روایات موجود ھیں کہ حضرت عبداللہ ابنِ عباس ، ابی ابنِ کعب ، حبیب ابنِ ثابت ، سعید ابنِ جبیر ، سدی ، عبد اللہ ابنِ مسعود نے اس قرآت کو اختیار کیا اور اس قرائت کے مطابق " الی اجل مسمی ’’ ایک مقررہ مدت تک ‘‘ آیت کا حصہ ھے یعنی
فما استمتعتم بہ منھن الی اجل مسمی فاتوھن اجورھن۔۔
"پھر جن عورتوں سے تم نے (ایک مقررہ مدت تک) متعہ کیا ھے ان کا طے شدہ مہر بطور فرض ادا کرو"
ملاحظہ فرمائیں:
شرح صحیح مسلم شرح نووی
تفسیرِ کشاف
بیہقی
تفسیرِ قرطبی
تفسیر روح المعانی
تفسیر طبری
_چنانچہ یہاں تک تو بات قرآن مجید سے ثابت ھو ہی گئی اب آتے ھیں کچھ مزید حقائق کی طرف_
اب یہ نقطہ ھے سمجھنے کا آیا کہ جنابِ رسالت مآب نے واقعی متعہ سے منع کر دیا تھا اور اھلسنت کے اس کے متعلق مختلف اقوال ھیں جو اوپر بیان کئے کہ یہ کب منسوخ ھوا لہذٰا وہ اوپر بیان کر چکے اب اگر واقعی منع کر دیا تو سوالات تو پیدا ھوتے ھیں:
1_اگر رسول خدا نے متعہ سے منع کر دیا تھا تو سورہ النساء میں موجود متعہ کا حکم پھر کیسے اور کس آیت سے منسوخ ھوا ؟؟؟
2_اگر واقعی متعہ حرام کر دیا تھا تو کیا یہ حکم صرف سبرہ نے ہی سنا تھا باقی صحابہ کی وہاں کثیر تعداد نے یہ حکم نہیں سنا اور بعد میں متعہ کرتے رھے جب منع تھا تو متعہ کیوں ؟؟؟
3_اگر واقعی متعہ سے منع کر دیا تو کیا جید صحابہ کرام رض پھر جنابِ رسالت مآب کے حکم کے مخالف ٹھہرے ؟؟؟
4_اگر واقعی منع کر دیا تھا تو کیا حضرت عبداللہ ابنِ عباس ، حضرت عبداللہ ابنِ مسعود ، ابی ابنِ کعب و دیگر جید صحابہ کرام نے یہ حکم نہیں سنا تھا ؟؟
5_اگر واقعی متعہ سے منع کر دیا تو حضرت ابوبکر کی بیٹی حضرت اسماء بنت ابی بکر نے متع کیوں کیا اور آل زبیر متعہ کی پیداوار کیوں ؟؟؟
6_اگر واقعی منع کر دیا تو حضرت ابوبکر کے دور خلافت میں کیوں ھوتا رھا ؟؟؟
7_اگر واقعی منع کر دیا تو حضرت عمر نے اپنے دورِ خلافت میں متعہ کیوں حرام قرار دیا کیا پہلے صحابہ کرام سارے معاذاللہ زنا کرتے رھے ؟؟؟
8_اگر متعہ سے جنابِ رسالت مآب نے خود منع کر دیا تو جب حضرت عمر نے اپنے دورِ خلافت میں متعہ سے منع کیا تو صحابہ کرام نے یہ کیوں کہا کہ ھم آج کے دن سے پہلے تک متعہ کرتے رھے اور خلیفہ ثانی نے آج اس سے منع کر دیا؟؟؟؟
چنانچہ سوالات تو کافی سارے ھیں لیکن ھم اب کچھ احادیث و صحابہ کرام رض کے اقوال پر آتے ھیں اور ثابت کرتے ھیں کہ متعہ کو جنابِ رسول خدا نے نہیں بلکہ کچھ اور لوگوں نے حرام قرار دیا کیونکہ اگر جنابِ رسول خدا ص نے منع کیا ھوتا تو قرآن و حدیث سے اس کا واضح ثبوت ملتا جو کہ نہیں ھے اور اب ھم اھلسنت کی معتبر کتب سے متعہ کی حلیت ثابت کرتے ھیں سب سے پہلے ھم کچھ معتبر روایات نقل کرتے ھیں :
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ سُئِلَ عَنْ مُتْعَةِ النِّسَاءِ ، فَرَخَّصَ ، فَقَالَ لَهُ مَوْلًى لَهُ : إِنَّمَا ذَلِكَ فِي الْحَالِ الشَّدِيدِ ، وَفِي النِّسَاءِ قِلَّةٌ أَوْ نَحْوَهُ ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : نَعَمْ
"ان سے عورتوں کے ساتھ نکاح متعہ کرنے کے متعلق سوال کیا گیا تھا تو انہوں نے اس کی اجازت دی، پھر ان کے ایک غلام نے ان سے پوچھا کہ اس کی اجازت سخت مجبوری یا عورتوں کی کمی یا اسی جیسی صورتوں میں ہو گی؟ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا کہ ہاں"
(صحیح بخاری الحدیث رقم 5116)
حَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ عَمْرٌو ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قَالَا : كُنَّا فِي جَيْشٍ فَأَتَانَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنَّهُ قَدْ أُذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا فَاسْتَمْتِعُوا
"ہم ایک لشکر میں تھے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ تمہیں متعہ کرنے کی اجازت دی گئی ہے اس لیے تم نکاح کر سکتے ہو"
(صحیح بخاری الحدیث رقم 5117، 5118)
وَحَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ فُضَيْلٍ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: «لَا تَصْلُحُ الْمُتْعَتَانِ، إِلَّا لَنَا خَاصَّةً» يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَاءِ وَمُتْعَةَ الْحَجِّ
زبید نے ابراہیم تیمی سے ، انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ، کہا : ابوذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا : دو متعے ہمارے علاوہ کسی کے لئے صحیح نہیں ( ہوئے ) یعنی عورتوں سے ( نکاح ) متعہ کرنا اور حج میں تمتع ( حج کا احرام باندھ کرآنا ، پھر اس سے عمرہ کرکے حج سے پہلےاحرام کھول دینا ، درمیان کے دنوں میں بیویوں اور خوشبو وغیرہ سے متمتع ہونا اورآخر میں روانگی کے وقت حج کا احرام باندھنا )
(صحیح بخاری الحدیث رقم 2967)
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ مُحَمَّدٍ، يُحَدِّثُ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، وَسَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، قَالَا: خَرَجَ عَلَيْنَا مُنَادِي رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «إِنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَذِنَ لَكُمْ أَنْ تَسْتَمْتِعُوا» يَعْنِي مُتْعَةَ النِّسَاءِ
شعبہ نے ہمیں عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے کہا : میں نے حسن بن محمد سے سنا ، وہ جابر بن عبداللہ اور سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہم سے حدیث بیان کر رہے تھے ، ان دونوں نے کہا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک منادی کرنے والا ہمارے پاس آیا اور اعلان کیا : بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں استمتاع ( فائدہ اٹھانے ) ، یعنی عورتوں سے ( نکاح ) متعہ کرنے کی اجازت دی ہے۔
(صحیح مسلم الحدیث رقم 3413)
وحَدَّثَنِي أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامَ الْعَيْشِيُّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ يَعْنِي ابْنَ الْقَاسِمِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، وَجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، «أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَتَانَا فَأَذِنَ لَنَا فِي الْمُتْعَةِ»
روح بن قاسم نے ہمیں عمرو بن دینار سے حدیث بیان کی ، انہوں نے حسن بن محمد سے ، انہوں نے سلمہ بن اکوع اور جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہم سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے ( اعلان کی صورت میں آپ کا پیغام آیا ) اور ہمیں متعہ کی اجازت دی۔
(صحیح مسلم الحدیث رقم 3414)
وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: قَالَ عَطَاءٌ: قَدِمَ جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللهِ مُعْتَمِرًا، فَجِئْنَاهُ فِي مَنْزِلِهِ، فَسَأَلَهُ الْقَوْمُ عَنْ أَشْيَاءَ، ثُمَّ ذَكَرُوا الْمُتْعَةَ، فَقَالَ: «نَعَمْ، اسْتَمْتَعْنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ
عطاء نے کہا : حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما عمرے کے لیے آئے تو ہم ان کی رہائش گاہ پر ان کی خدمت میں حاضر ہوئے ، لوگوں نے ان سے مختلف چیزوں کے بارے میں پوچھا ، پھر لوگوں نے متعے کا تذکرہ کیا تو انہوں نے کہا : ہاں ، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے عہد میں متعہ کیا۔
(صحیح مسلم الحدیث رقم 3415)
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ جِبْرَائِيلَ الْبَغْدَادِيُّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ، أَخْبَرَنَا مُوسَى بْنُ مُسْلِمِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ أَعْطَى فِي صَدَاقِ امْرَأَةٍ مِلْءَ كَفَّيْهِ سَوِيقًا أَوْ تَمْرًا فَقَدِ اسْتَحَلَّ . قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا. وَرَوَاهُأَبُو عَاصِمٍ، عَنْ صَالِحِ بْنِ رُومَانَ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: كُنَّا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَسْتَمْتِعُ بِالْقُبْضَةِ مِنَ الطَّعَامِ عَلَى مَعْنَى الْمُتْعَةِ. قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، عَلَى مَعْنَى أَبِي عَاصِمٍ.
کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے کسی عورت کو مہر میں مٹھی بھر ستو یا کھجور دیا تو اس نے ( اس عورت کو اپنے لیے ) حلال کر لیا ۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے عبدالرحمٰن بن مہدی نے صالح بن رومان سے انہوں نے ابوزبیر سے انہوں نے جابر رضی اللہ عنہ سے موقوفاً روایت کیا ہے اور اسے ابوعاصم نے صالح بن رومان سے، صالح نے ابو الزبیر سے، ابو الزبیر نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اس میں ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک مٹھی اناج دے کر متعہ کرتے تھے ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جریج نے ابو الزبیر سے انہوں نے جابر سے ابوعاصم کی روایت کے ہم معنی روایت کیا ہے۔
(سنن ابی داؤد الحدیث رقم 2110)
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ رضی اللہ عنہما قَالَ مُتْعَتَانِ کَانَتَا عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَنَہَانَا عَنْہُمَا عُمَرُ فَانْتَہْیَنَا۔
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ نکاح متعہ اور حج تمتع دونوں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں اجازت تھی، لیکن جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں ان سے منع کیا تو ہم رک گئے۔
(مسند احمد الحدیث رقم 4203)
عَنْ أَبِی نَضْرَۃَ قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ: إِنَّ ابْنَ الزُّبَیْرِ رضی اللہ عنہما یَنْہٰی عَنِ الْمُتْعَۃِ وَإِنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ رضی اللہ عنہما یَأْمُرُ بِہَا، قَالَ: فَقَالَ لِی: عَلٰییَدِیْ جَرَی الْحَدِیْثُ، تَمَتَّعْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، قَالَ عَفَّانُ: وَمَعَ أَبِی بَکْرٍ، فَلَمَّا وَلِیَ عُمَرُ خَطَبَ النَّاسَ فَقَالَ: إِنَّ الْقُرْآنَ ہُوَ الْقُرْآنُ وَإِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہُوَ الرَّسُوْلُ، وَإِنَّہُمَا کَانَتَا مُتْعَتَانِ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم إِحْدَاہُمَا مُتْعَۃُ الْحَجِّ وَالْأُخْرٰی مُتْعَۃُ النِّسَائِ۔
ابو نضرہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے کہاکہ سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ حج تمتع سے منع کرتے ہیں اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ اس کا حکم دیتے ہیں، سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے کہا: حج سے متعلقہ یہ حدیث میرے ہاتھ پر گھومتی ہے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور پھر سیدنا ابو بکر کے ساتھ حج تمتع کیا تھا، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو خطبہ دیا اور کہا: بیشک قرآن قرآن ہے اور اللہ کے رسول بھی رسول ہیں، بات یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں متعہ کی دو قسمیں رائج تھیں، ایک حج والا متعہ اور دوسرا عورتوں والا۔
(مسند احمد الحدیث رقم 4207)
عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنَّا نَغْزُوْا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَلَیْسَ لَنَا نِسَائٌ، فَقُلْنَا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَلاَ نَسْتَخْصِیْ؟ فَنَہَانَا عَنْہُ ثُمَّ رَخَّصَ لَنَا بَعْدُ فِی أَنْ نَتَزَوَّجَ الْمَرْأَۃَ بِالثَّوْبِ إِلٰی أَجَلٍ، ثُمَّ قَرَأَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ: {یَا اَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبَاتِ مَا أَحَلَّ اللّٰہُ لَکُمْ وَلَا تَعْتَدُوْا إِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ۔}[سورۃ المائدۃ: ۸۷]
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ جہاد میں مصروف تھے، ہمارے پاس بیویاں نہیں تھیں، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم خصی نہ ہوجائیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسا کرنے سے منع کر دیا اور پھر ہمیں یہ اجازت دے دی کہ ہم مقررہ مدت تک کپڑے وغیرہ کے عوض میں عورتوں سے شادی کر سکتے ہیں، (جس کو متعہ کہتے ہیں)، پھر سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے یہ آیت تلاوت کی: اے ایمان والو! اللہ تعالی نے تمہارے لیے جو پاکیزہ چیزیں حلال کی ہیں، ان کو حرام نہ قرار دو اور زیادتی نہ کرو، بیشک اللہ تعالی زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔(سورۂ مائدہ: ۸۷)
(مسند احمد الحدیث رقم 6836، 6984)
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ وَسَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ رَجُلٍ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: کُنَّا فِیْ غَزَاۃٍ فَجَائَنَا رَسُوْلُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَقُوْلُ: ((اسْتَمْتِعُوْا۔))
سیدنا جابر بن عبد اللہ اور سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک غزوہ میں تھے،نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا قاصد ہمارے پاس آیا اور اس نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرما رہے ہیں کہ تم لوگ (نکاحِ متعہ کی صورت میں) فائدہ اٹھا سکتے ہو۔
(مسند احمد الحدیث رقم 6985)
(وَعَنْہُمَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَا: خَرَجَ عَلَیْنَا مُنَادِی رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَنَادٰی: إِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَدْ أَذِنَ لَکُمْ فَاسْتَمْتِعُوْا یَعْنِی مُتْعَۃَ النِّسَائِ۔
(دوسری سند) وہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامنادی ہمارے پاس آیا اور اس نے یہ اعلان کیا: بے شک اللہ کے رسول نے تم کو اجازت دی ہے، پس تم فائدہ حاصل کر سکتے ہو، یعنی نکاح متعہ کی صورت میں۔
(مسند احمد الحدیث رقم 6986)
عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: کُنَّا نَسْتَمْتِعُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِالثَّوْبِ۔
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عہد میں کپڑے کے عوض نکاح متعہ کر لیا کرتے تھے۔
(مسند احمد الحدیث رقم 6987)
قارئین محترم !
_مندرجہ بالا روایات سے بات بالکل واضح ھو جاتی ھے لیکن ھم کچھ مزید حقائق بھی نقل کر دیتے ھیں تا کہ کوئی شبہ باقی نہ رھے لہذٰا اب ھم کچھ مزید اقوال نقل کرتے ھیں تا کہ حقیقت مکمل آشکار ھو جائے_
سب سے پہلے ھم یہ بیان کرتے ھیں کہ جو مولائے کائنات ع کی طرف ایک جھوٹی نسبت دی گئی ھے کہ مولائے کائنات ع فرماتے ھیں کہ خیبر کے موقع پر متع حرام ھو گیا ، اب تہمت لگانے والوں نے تہمت تو لگائی لیکن عقل سے کام نہیں لیا کیونکہ اگر خیبر کے موقع پر منسوخ ھوا تو اھلسنت کی معتبر روایات سے ثابت ھے کہ فتح مکہ تک متعہ ھوتا رھا کچھ میں حجتہ الوداع کا ذکر بھی ھے اب یہ کیسے ممکن ھے کہ مولا علی ع خیبر کے موقع پر متعہ کی حرمت کے قائل جبکہ بعد میں ھوتا رھا ؟؟؟؟؟
اھلسنت محدثین نے اس کی وضاحت بھی کی ھے کہ خیبر کے موقع پر منسوخ ھونے والی روایات ضعیف ھیں جیسے عسقلانی نے بھی ان کی وضاحت کی جن کو ھم انشاء اللہ پھر بیان کریں گے لہٰذا مولا علی ع کی طرف متعہ کی حرمت کی نسبت دینے والے ذرا غور و فکر کریں یہ کیسے ممکن ھے کہ متعہ فتح مکہ تک بھی رائج ھو اور مولا علی ع خیبر میں اس کی حرمت کے قائل؟؟
اھلسنت محدث حافظ گوندلوی فرماتے ھیں :
متعہ کی تحریم کے متعلق ایک حدیث میں ھے کہ خیبر کے وقت حرام ہوا مگر ابن عینہ نے اس میں کلام کی ھے کہ متعہ خیبر کے زمانہ میں حرام نہیں ھوا بلکہ فتح مکہ میں حرام ھوا جیسا کہ ” فتح الباری ” اور ” زاد المعاد ” میں ھے"
آگے صفحہ پر لکھتے ھیں :
غزوہ خیبر کی روایت اگرچہ صحیح ھے مگر اھل علم نے اس پر کلام کی ھے جس کا ذکر پہلے گزر چکا ھے…
حوالہ : دومِ حدیث – محدث حافظ گولوندی / جلد ١/ صفحہ ٣٩٣- ٣٩٤ / طبع ام القریٰ گوجرانوالہ پاکستان
اسی طرح مولائے متقیان علی ابنِ ابی طالب ع کا واضح مؤقف ھے ملاحظہ فرمائیں :
"اگر عمر نے متعہ کو ممنوع قرار نہ دیا ھوتا تو شقی کے سوا کوئی زنا نہ کرتا"
بحوالہ:
تفسیر درالمنثور سورہ النساء
تفسیر غرائب القرآن
کنز العمال ۸: ۲۹۴
البحر المحیط ۳: ۵۸۹۔
تفسیرِ طبری النساء
تفسیرِ کبیر فخرالدین رازی
تفسیرِ ثعلبی
المصنف ابنِ رزاق
تفسیر ابی حیان
_یعنی مولا علی ع نے قیامت تک ھونے والے زنا کا زمہ دار خلیفہ ثانی کو ٹھہرا رھے ھیں_
صحیح مسلم میں عمران ابنِ حصین کی سے روایت ھے:
قال نزلت ایۃ المتعۃ فی کتاب ﷲ تبارک و تعالیٰ و عملنا بھا مع رسول ﷲ فلم تنزل ایۃ تنسخھا و لم ینہ النبی عنھا حتی مات ثم قال رجل برأیہ ماشاء
"آیت متعہ کتاب اللہ تبارک و تعالیٰ میں نازل ھوئی ھے اور ھم نے رسول اللہ کے ساتھ اس پر عمل بھی کیا اس کے بعد نہ تو کوئی ایسی آیت نازل ھوئی جو متعہ کو منسوخ کرے ، نہ ہی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمایا ، یہاں تک کہ آپ ص کا وصال ھو گیا بعد میں ایک شخص (عمر) نے اپنی ذاتی رائے سے جو چاہا کہ دیا"
( صحیح بخاری ۲: ۱۷۶۔ صحیح مسلم ۲: ۹۰۰۔ سنن بیہقی ۵: ۲۰۔)
کان ابن عباس یأمر بالمتعۃ۔۔
"ابنِ عباس متعہ کا حکم دیا کرتے تھے"
(احکام القرآن جصاص، زاد المیعاد ابن قیم وغیرہ ۔ صحیح مسلم ۱: ۴۶۷ )
اسی طرح کنزالعمال میں عروۃ بن زبیر کی روایت میں آیا ھے کہ ابنِ عباس نے کہا :
الا للعجب انی احدثہ عن رسول اللہ و یحدثنی عن ابی بکر و عمر۔۔
"تعجب کا مقام ھے کہ حلیت متعہ کے بارے میں ، میں رسول اللہ (ص) کی حدیث بیان کرتا ھوں اور یہ لوگ ابوبکر و عمر کی باتیں سناتے ھیں"
اسی طرح عطا نے ابنِ عباس سے نقل کیا ھے کہ وہ کہتے تھے :
ما کانت المتعۃ الا رحمۃ من اللہ رحم بھا امۃ محمد لو لا نہی عمر مازنی الاشقی
"امت محمد (ص) کیلئے متعہ اللہ کی طرف سے ایک رحمت تھا اگر حضرت عمر اسے ممنوع قرار نہ دیتے تو شقی کے سوا کوئی زنا نہ کرتا"
بحوالہ:
تفسیر ابن کثیر عمادالدین جلد 1 صفحہ 571
تفسیر مظہری قاضی ثناءاللہ جلد 3 صفحہ 30
نہایۃ المجتھد ۲:۵۷
تفسیر قرطبی ۵ :۱۳۰
تفسیر سمرقندی ۱ :۳۳۴
فتح الباری کتاب النکاح
فتاویٰ قاضی خان کتاب النکاح
شرح موطا زرقانی
تفسیر در المنثور السیوطی جلد 2 صفحہ 390
لغات الحدیث وحیدالزماں جلد 4 باب " م " صفحہ 9
سنن نسائی جلد 2 صفحہ 497 وغیرہ ، وغیرہ
_اسی طرح حضرت عبداللہ ابنِ عباس کی طرف جو جھوٹی نسبت دی گئی کہ انہوں نے متعہ کی حلیت سے رجوع کر لیا تھا اس کو ابنِ حجر عسقلانی نے بخاری کی شرح میں ضعیف قرار دیا_
"عبد اللہ بن زبیر نے ابنِ عباس کو حلیت متعہ کا طعنہ دیا تو ابن عباس نے کہا:
"تم اپنی والدہ سے پوچھو چنانچہ پوچھنے پر اس کی والدہ اسماء بنت ابی بکر نے کہا:
ما ولدتک الا فی المتعۃ۔۔
"تجھے میں نے عقد متعہ ہی سے جنا ھے"
بحوالہ :
تفسیر مظہری قاضی ثناءاللہ پانی پتی جلد 3 صفحہ 31
مسند ابوداؤد
سنن الکبریٰ
تفسیرِ مظہری
معانی الآثار
نیل الاوطار
شرح موطا زرقانی
مروج الذہب
عقد الفرید ۲: ۱۳۹
ابوداؤد طیالسی
مروج الذھب علامہ مسعودی جلد 3 صفحہ 112 وغیرہ
عبد اللہ بن عمر فرماتے ھیں:
"قسم خدا کی ہم عہد رسالت میں زنا کرنے والے تھے اور نہ بے عفتی کرنے والے یعنی متعہ جائز نکاح ھے"
(مسند احمد ۲ : ۹۵)
ابو سعیدخدری فرماتے ھیں:
"ھم نے خلافتِ عمر کی نصف مدت تک متعہ کیا"
(عمدۃ القاری عینی ۸:۳۱۰)
_اب غور کرتے جائیں جید صحابہ کرام اور خلفاء کی اولادیں بھی متعہ کی حلیت کے قائل تھے اور آج کل جھوٹے اقوال پیش کر کے متعہ کو خود منسوخ کرنے کی کاوشوں میں ھیں_
حضرت جابر بن عبداللہ انصاری فرماتے ھیں کہ ھم رسالت مآب اور زمانہ ابوبکر ھم نے چند دنوں کیلئے مٹھی بھر کھجور اور آٹا بطور حق مہر دے کر متعہ کرتے تھے حتیٰ کہ عمر نے عمرو بن حریث کے معاملے میں متعہ سے منع کر دیا"
بحوالہ:
صحیح مسلم شریف
کنزالعمال
نیل الاوطار
سنن الکبریٰ
فتح الباری
زاد المعاد
شرح موطا زرقانی
_روایات اوپر گزر چکی ھیں اسی لئے اب دوبارہ یہاں نقل کرنے کی ضرورت نہیں ھے_
جیسا کہ صحیح بخاری و مسلم میں ھے کہ :
قال عمر ثلاث کن علی عهد رسول الله وانا محرمهن و معاقب علیهن : متعة الحج ، متعة النساء وحیّ علی خیر العمل فی الاذان۔۔
حضرت عمر نے کہا :
"رسول اللہ (ص) کے زمانے میں تین چیزیں رائج تھیں لیکن میں انہیں حرام قرار دیتا ھوں اور انجام دینے والوں کو سزا دوں گا ، وہ متعہ حج ، متعہ نساء اور اذان میں حی علی خیر العمل ھے"
بحوالہ :
صحیح بخاری شریف ، باب التمتع و القران و الافراد ، حدیث 1543 ، و صحیح مسلم شریف ، باب جواز التمتع ، حدیث 1223
کچھ مزید__
*حدیث عمران بن حصین*
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عِمْرَانَ أَبِي بَكْرٍ، حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: " *أُنْزِلَتْ آيَةُ المُتْعَةِ فِي كِتَابِ اللَّهِ، فَفَعَلْنَاهَا مَعَ
رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُنْزَلْ قُرْآنٌ يُحَرِّمُهُ، وَلَمْ يَنْهَ عَنْهَا حَتَّى مَاتَ، قَالَ: رَجُلٌ بِرَأْيِهِ مَا شَاءَ*
صحیح بخاری // حدیث نمبر 4518 //
ان روایات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بعد از رسول اصحاب بھی متعہ کیا کرتے تھے اگر آپ صنے واقعی منسوخ کردیا تھا تو نادان مسلمان ان صحابہ کرام کے بارے میں کیا فرمائیں گے؟؟؟
قال القاضي عياض : روى حديث إباحة المتعة جماعة من الصحابة ، فذكره مسلم من رواية ابن مسعود وابن عباس وجابر وسلمة بن الأكوع وسبرة بن معبد الجهني ، وليس في هذه الأحاديث كلها أنها كانت في الحضر ، وإنما كانت في أسفارهم في الغزو عند ضرورتهم وعدم النساء مع أن بلادهم حارة وصبرهم عنهن قليل
"ایک جماعت نے حدیثِ جوازِ متعہ کو صحابہ ِ کرام کی ایک جماعت سے روایت کیا ھے اور مسلم نے اس میں ذکر کیا ھے ، ابنِ مسعود ، ابنِ عباس ،جابر بن عبداللہ انصاری ، سلمہ ابن اکوع اور سبرہ بن معبد کی روایتوں کو اور ان سب روایتوں میں اس کا جواز سفر میں مذکور ھے نہ کہ حضر میں بوقتِ ضرورت نہ کہ بلا ضرورت اور ظاہر ھے کہ عرب کا ملک گرم ھے اور اسفارِ جہاد میں عورتوں کا ساتھ رکھنا ممکن نہیں ھے"
صحيح مسلم بشرح النووي
باب نكاح المتعة وبيان أنه أبيح ثم نسخ ثم أبيح ثم نسخ واستقر تحريمه إلى يوم القيامة
قال ابن حزم : ثبت على إباحتها بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ابن مسعود ومعاوية وأبو سعيد وابن عباس وسلمة ومعبد ابنا أمية بن خلف وجابر وعمرو بن حريث
ابن حجر عسقلانی امام ابن حزم کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ صحابہ کی یک جماعت نکاحِ متعہ کی اباحت کی قائل رہی جن میں ابنِ مسعود ، معاویہ ، ابو سعید ، ابنِ عباس ، سلمہ و معبد اور امیہ بن خلف کے بیٹے ، جابر بن عبداللہ اور عمرو بن حریث شامل تھے"
فتح الباري شرح صحيح البخاري
كتاب النكاح باب نهي رسول الله صلى الله عليه وسلم عن نكاح المتعة آخرا
ابن ماجہ شریف جلد 2 صفحہ 221
موطا امام مالک صفحہ 390
لغات الحدیث وحید الزمان جلد 2
باب " ش " صفحہ 104
تفسیر مظہری قاضی ثناءاللہ پانی پتی
سیرت الحلبیہ جلد 5 صفحہ 316
ازالتہ الخفاء شاہ ولی اللہ محدث دھلوی
مقصد دوئم صفحہ 195 وغیرہ
اب سوال یہ پیدا ہوتا ھے جب رسول ص نے حلال قرار دے دیا تو حضرت عمر نے اپنی مرضی و قیاس سے حلال چیز کو حرام کیوں قرار دیا جبکہ قرآن مجید میں واضح ھے کہ جو چیز تمہیں رسول دے دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ جیسا کہ
ارشادِ خداوندی ھے :
وَ مَاۤ اٰتٰىکُمُ الرَّسُوۡلُ فَخُذُوۡہُ ٭ وَ مَا نَہٰىکُمۡ عَنۡہُ فَانۡتَہُوۡا ۚ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ ؕ اِنَّ اللّٰہَ شَدِیۡدُ الۡعِقَابِ
ترجمہ:" اور جو کچھ رسول تمہیں دے اس کو لے لو اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ اور اللہ کا خوف کرو اللہ یقیناً شدید عذاب دینے والا ھے"
(سورہ حشر آیت 7)
اسی طرح یہ بھی قرآن مجید میں ھے کہ اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو حرام قرار دینا بھی جنابِ رسول خدا ص کے اختیار میں نہیں ھے تو حضرت عمر نے یہ کیسے کیا کہ جس چیز کی حلیت کا حکم قرآن مجید میں ھے اسے ہی حرام قرار دے دیا چنانچہ
سورہ تحریم آیت 1 میں ارشادِ خداوندی ھے:
یٰۤاَیُّہَا النَّبِیُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰہُ لَکَ ۚ
ترجمہ:" اے نبی ! جو چیز اللہ نے کیلئے حلال کر دی ھے اسے آپ حرام کیوں ٹھہراتے ہیں؟ "
'چنانچہ اہل علم کیلئے واضح نشانیاں موجود ھیں'
_مختصراً اس کے علاوہ اور کثیر تعداد میں صحابہ کرام رض سے متعہ کی حلیت ثابت ھے اور بیشمار روایات ھیں لیکن طوالت کے باعث چھوڑ رھے ھیں_
اھلسنت کے اکثر جید فقہاء نے متعہ کے جواز میں اپنی آراء دی ھیں ملاحظہ فرمائیں :
لم یختلف العلماء من السلف و الخلف ان المتعۃ نکاح الی اجل لا میراث فیہ۔۔
"قدیم اور بعد کے تمام علماء نے اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کیا ھے کہ متعہ ، نکاح کی ایک قسم ھے جو معین مدت کیلئے ہوتا ھے ، جس میں میراث نہیں ھے"
( تفسیرِ قرطبی ۵ : ۱۳۲ )
"اھلبیت ع اور تابعین کی ایک جماعت حلیت متعہ کی قائل رہی ھے"
(البحر المحیط ۳: ۵۸۹)
(تفسیر ابن کثیر ۱: ۴۷۴)
و ان تزوجھا بغیر شرط الا ان فی نیتہ طلاقھا بعد شہر او اذا انقضت حاجتہ فی ھذا البلد فالنکاح صحیح فی قول عامۃ اہل العلم الا الاوزاعی قال: انہ نکاح متعۃ و الصحیح انہ لابأس بہ ولا تضر نِیّتہ۔۔
"اگر عورت سے بغیر شرط کے شادی کرے اور اس کی نیت میں یہ ھو کہ اسے ایک ماہ بعد طلاق دی جائے گی یا جب اس مہینے میں اس عورت کی ضرورت نہ رھے تو طلاق دے دوں گا تو نکاح تمام اہل علم کے نزدیک صحیح ھے سوائے اوزاعی کے انہوں نے کہا ھے ، یہ نکاح متعہ ھے لیکن صحیح بات یہ ھے کہ یہی نکاح صحیح ھے اور نیت میں کوئی حرج نہیں ھے"
(المغنی ۶:۶۴۵)
من تزوج امرأۃ لا یرید امساکھا و انما یرید ان یستمتع بھامدۃ ثم یفارقھا فقد روی محمد عن الامام مالک ان ذلک جائز وان لم یکن من الجمیل۔۔
"کسی عورت سے ازدواج کر لیا جائے ، جس کو ہمیشہ رکھنا نہیں چاہتا بلکہ صرف ایک مدت اس سے تلذذ حاصل کر کے اس سے جدا ہونا چاہتا ھے تو محمد نے امام مالک سے روایت کی ھے ، یہ عقد جائز ھے اگرچہ یہ زیبا نہیں ھے"
ولا یتحقق نکاح المتعۃ الا اذا اشتمل علی ذکر الاجل صراحۃ للولی او للمرأۃ اولھما فان لم یذکر قبل العقد اولم یشترط فی العقد لفظا ولکن قصدہ الزوج فی نفسہ فانہ لایضر ولوفہمت المرأۃ او ولیھا ذلک۔۔
"نکاح متعہ اس وقت تک وقوع پزیر نہیں ہوتا جب تک مدت کا ذکر صراحت کے ساتھ نہ ھو یہ صراحت ولی کے سامنے کرے یا عورت کے یا دونوں کے اور اگر عقد سے پہلے مدت کا ذکر نہ ہو اور نہ ہی عقد کے اندر لفظوں میں اس کا ذکر ہو بلکہ شوہر اپنے ذہن میں مدت کے تعین کا قصد کرے تو اس میں کوئی
حرج نہیں اگرچہ عورت یا اس کے ولی کو اس کا علم ہو جائے"
اذانوی معاشرتھا مدۃ و لم یصرح بذلک فان العقد صحیح۔۔
"اگر عورت سے ایک مدت کیلئے مباشرت کرنے کی نیت کر لے اور اس کی صراحت نہ کرے تو عقد صحیح ھے"
(الفقہ علی المذاہب الاربعۃ ۴: ۹۴)
و علی ذلک فان النکاح بصیغتہ الصحیحۃ المشروعۃ وبلفظہ الظاھر المطلق انہا یقع صحیحا وان کان المتعا قدان اواحدھما یقصد بالزواج مدۃ معینۃ او مجرد الاستمتاع الی اجل من الآجال یخفیہ فی نفسہ۔۔
"پس بنا برایں عقد نکاح اپنے صحیح اور شرعی صیغے اور اپنے ظاہری اطلاق کے ساتھ صحیح واقع ہو جاتا ھے اگرچہ عقد کے طرفین یا ایک طرف اس عقد میں ایک معین مدت کا قصد کریں یا ایسی کوئی مدت تک لذت حاصل کرنا مقصود ہو جس کو وہ اپنے دل میں چھپائے رکھتا ھے"
(الانکحۃ الفاسدہ (۲: ۶۴۴).
شوکانی: نیل الاوطار ۶: ۱۵۴ ط مصر
شیخ عیش: فتح العلی صفحہ ۴۱۵ ط مصر
ابن قدامۃ: المغنی ۶: ۶۴۵ ط دارالکتب
الشافعی: الأم ۵: ۷۱ط بیروت
آگے وہ اس مسئلے پر قاضی عیاض کا فتویٰ نقل کرتے ھیں:
اگر کوئی شخص کسی شہر میں وارد ہو جائے اور وہاں کسی عورت کے ساتھ نکاح کرنا چاھے اور دونوں کی یہ نیت ہو کہ یہ نکاح صرف اس شہر میں قیام کی مدت تک کیلئے ہو یا ہفتہ دو ہفتے کیلئے ہو یا اس سے زیادہ تو نکاح ثابت ھے"
(الانکحۃ الفاسدۃ ۲ :۶۴۵)
اہل سنت کے مشہور حافظ اور جرح وتعدیل کے امام شمس الدین الذہبی اپنی کتاب میں عبدالملک بن عبد العزیز معروف ابن جریح کے حالات بیان کرتے ہوئے فرماتے ھیں :
"جریر کہتے ھیں کہ ابن جریح متعہ کے جواز کے قائل تھے اسی لئے انھوں نے 60 عورتوں سے شادی رچائی تھی ، مزید یہ کہ امام شافعی فرماتے ھیں کہ ابن جریح نے 90 عورتوں سے عقدِ متعہ کیا"
( تذکرۃ الحفاظ امام ذہبی ج 1 ص 169_170_171 )
_چنانچہ متعہ کو مطلقاً حرام کہنے والے کہنے والے اپنے اسلاف کے اعمال سے غافل نہ رہیں _
_ھم نے تمام حقائق کو واضح کیا اور یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ کیسے ممکن ھے کہ جنابِ رسالت مآب ایک چیز سے منع کر دیں اور جید صحابہ کرام معاذاللہ پر زنا کے مرتکب ھوتے رھے؟؟؟ کچھ تو ھمارے برادران کو سوچنا چاھئے اور جس چیز کو خداوند متعال اور جنابِ رسول اکرم ص نے حلال قرار دیا ھے پھر ھم کون ھوتے ھیں اس کو حرام قرار دینے والے یعنی اپنی ذاتی رائے سے اس عمل کو حرام قرار دے دیں جس کا قرآن نے حکم دیا ھے اور پھر اپنی خواہشات کی بناء پر سورہ المؤمنون کی جس آیت کا سہارا لیتے ھیں وہ ھے ہی مکی یعنی ان کو اتنی سوچ و بچار نہیں ھے باقی ھم نے طوالت کے سبب بہت سے حقائق چھوڑ دیئے کیونکہ عقل والوں کیلئے بات کو سمجھنے کیلئے ایک لائن بھی کافی ھوتی ھے_
Gallery
Tap any image to view full screen