Back to معاویہ

صحیح وہ ہیں جو معاویہ بن ابی سُفیان کو باغی کہتے ہیں۔

صحیح وہ ہیں جو معاویہ بن ابی سُفیان کو باغی کہتے ہیں۔
صحیح وہ ہیں جو معاویہ بن ابی سُفیان کو باغی کہتے ہیں۔
ملا علی قاری الحنفی اپنی مشہور و معروف کتاب “ شرح الفقہ الاکبر “ میں لکھتے ہیں:
 
و ختلف اھل السنت فی تسميته باغيا فمنهم من امتنع ذالك و الصحيحً من اطلق اقوله عليه الصلوة و السلام لعمار ( تقتلك الفئة الباغية )
 
ترجمہ : اہل السنت کا معاویہ بن ابی سفیان کو باغی کہنے کے بارے میں اختلاف ہے تو ان میں وہ ہے جو منع کرتے ہیں جبکہ صحیح وہ ہے جو “ معاویہ پر باغی “ کا اطلاق کرتے ہیں
 
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کی اس حدیث کی وجہ سے جو عمار سے فرمایا:
 
آپ کو ایک باغی گُروہ قتل کرے گا۔
 
مذکورہ بالا عبارت سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ حدیث میں جس باغی گروہ کا ذکر ہے ملا علی قاری اس کا مصداق معاویہ ابن ابی سفیان کو مانتے ہیں۔

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2