Back to شہادت جناب محسن ابن علی ع
جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی پسلی کا ٹوٹنا شیعہ مصادر میں ۔
سوال ۔
جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ کی پسلی کا ٹوٹنا شیعہ کے کونسے مصادر میں مذکور ہے ؟
الجواب ۔
فاطمة زہراء سلام اللہ علیہا کی مصیبت اور ان کی پسلی کا ٹوٹنا انتہائی درد امیز ہے جس پر ہر محب اھلبیت علیہم السلام اور انسانیت کا درد رکھنے والا افسوس اور گریہ کرتا ہے ۔
آپ کی پسلی ٹوٹنے کا واقعہ بہت ساری شیعہ کتب میں مذکور ہے۔ اور بعض اہلسنت مورخین نے بھی اس کو ذکر کیا ہے ۔
شیعہ کے نزدیک یہ واقعہ مشہور اور مستفیض ہے ۔ اور علماء محققین اور سیرت نگاروں میں کسی نے بھی اس کا انکار یا اس میں اختلاف نہیں کیا ۔
البتہ گزشتہ چند سالوں سے بعض علم و ثقافت کے دعوی دار اس میں شک اور وسوسہ ڈالتے آ رہے ہیں ۔
اور ان کا ھدف مخالفین کو راضی کرنا اور ان سے اتحاد بتایا جاتا ہے ۔ تاکہ اپنے تاریخی حقائق اور مذہب کے اتفاقی مسائل سے تنازل کر کے ان کا قرب حاصل کیا جا سکے ۔ لیکن ایسا ہونا ممکن نہیں ہے ۔ قرآن فرماتا ہے ۔ ( وَ لَنۡ تَرۡضٰی عَنۡکَ الۡیَہُوۡدُ وَ لَا النَّصٰرٰی حَتّٰی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمۡ ؕ قُلۡ اِنَّ ہُدَی اللّٰہِ ہُوَ الۡہُدٰی ؕ وَ لَئِنِ اتَّبَعۡتَ اَہۡوَآءَہُمۡ بَعۡدَ الَّذِیۡ جَآءَکَ مِنَ الۡعِلۡمِ ۙ مَا لَکَ مِنَ اللّٰہِ مِنۡ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیۡرٍ﴿۱۲۰﴾ؔ
۱۲۰۔ اور آپ سے یہود و نصاریٰ اس وقت تک خوش نہیں ہو سکتے جب تک آپ ان کے مذہب کے پیرو نہ بن جائیں، کہدیجئے: یقینا اللہ کی ہدایت ہی اصل ہدایت ہے اور اس علم کے بعد جو آپ کے پاس آ چکا ہے، اگر آپ نے ان کی خواہشات کی پیروی کی تو آپ کے لیے اللہ کی طرف سے نہ کوئی کارساز ہو گا اور نہ مددگار۔)
ہم اھلبیت علیہم السلام کی مصیبت کے اظہار اور ان کے امر کے احیاء پر مامور ہیں ۔ اور اپنی نسلوں اور نوجوانوں کی اسی پر تربیت کرنے پر گامزن ہیں ۔ اور ہر زمانے اور مکان کی مناسبت سے اپنے بچوں کو اھلبیت کی محبت اور ان پر ہونے والے مظالم کو دہراتے اور ان کو یاد کرواتے ہیں ۔
ہم ان حقائق کو صرف کسی سے اتحاد اور وحدت یا مصلحت کی وجہ سے نہیں چھوڑ سکتے ۔ کیونکہ ایسا کرنا ان پر ظلم کرنے کے مساوی ہو گا ۔
کیونکہ اھلبیت پر ظلم کرنا ایک جرم ہے اور پھر ان پر ہوئے مظالم میں سے کسی ایک کا بھی انکار کرنا اس سے زیادہ جرم ہے ۔
مظلومیت کا پرچار کرنا اور اس کو یاد رکھنا عقلاء کی سیرت رہی ہے ۔ اور اسی پر اقوام اور معاشرے قائم ہیں ۔ اور قرآن کریم میں بھی یہ سیرت جاری رہی ہے ۔
اللہ تعالی نے قرآن مجید میں اپنے بعض انبیاء اور حجج اور خلفاء کے مقتل اور ظلم کا تذکرہ فرمایا ہے ۔ جیسے جناب ھابیل کا قتل ہونا ۔ (وَ اتۡلُ عَلَیۡہِمۡ نَبَاَ ابۡنَیۡ اٰدَمَ بِالۡحَقِّ ۘ اِذۡ قَرَّبَا قُرۡبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِہِمَا وَ لَمۡ یُتَقَبَّلۡ مِنَ الۡاٰخَرِ ؕ قَالَ لَاَقۡتُلَنَّکَ ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰہُ مِنَ الۡمُتَّقِیۡنَ﴿۲۷﴾
۲۷۔ اور آپ انہیں آدم کے دونوں بیٹوں کا حقیقی قصہ سنائیں جب ان دونوں نے قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہ ہوئی تو اس نے کہا: میں تجھے ضرور قتل کروں گا، (پہلے نے)کہا: اللہ تو صرف تقویٰ رکھنے والوں سے قبول کرتا ہے۔
لَئِنۡۢ بَسَطۡتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقۡتُلَنِیۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیۡکَ لِاَقۡتُلَکَ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الۡعٰلَمِیۡنَ﴿۲۸﴾
۲۸۔ اگر تو مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ میری طرف بڑھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ تیری طرف بڑھانے والا نہیں ہوں، میں تو عالمین کے رب اللہ سے ڈرتا ہوں۔
اِنِّیۡۤ اُرِیۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓاَ بِاِثۡمِیۡ وَ اِثۡمِکَ فَتَکُوۡنَ مِنۡ اَصۡحٰبِ النَّارِ ۚ وَ ذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۚ۲۹﴾
۲۹۔ میں چاہتا ہوں کہ میرے اور اپنے گناہ میں تم ہی پکڑے جاؤ اور دوزخی بن کر رہ جاؤ اور ظالموں کی یہی سزا ہے۔
فَطَوَّعَتۡ لَہٗ نَفۡسُہٗ قَتۡلَ اَخِیۡہِ فَقَتَلَہٗ فَاَصۡبَحَ مِنَ الۡخٰسِرِیۡنَ﴿۳۰﴾
۳۰۔چنانچہ اس کے نفس نے اس کے بھائی کے قتل کی ترغیب دی تو اسے قتل کر ہی دیا، پس وہ خسارہ اٹھانے والوں میں (شامل) ہو گیا۔)
اس آیت میں اللہ تعالی نے اپنے نبی اکرم کو حکم دیا ہے کہ وہ ھابیل اور قابیل کا ذکر اپنی امت میں کریں اور جناب ھابیل کی مصیبت اور ان پر ہونے والے ظلم کا پرچار کریں ۔
اور قابیل کے ظلم اور جرم کو بیان کریں کہ کس طرح اس نے اپنے بھائی کو ناحق قتل کیا ۔
اللہ نے اس آیت میں( واتل) فعل امر کا صیغہ استعمال کیا ہے جس کا ظاہر وجوب میں ہوتا ہے ۔ جبکہ جناب ھابیل کے واقعہ کو ہزاروں سال گزر گئے تھے ۔
اسی طرح اللہ نے جناب صالح اور ان کی قوم ثمود کا ذکر کیا کہ اس کی قوم نے جناب صالح کی تکذیب کی اور اوٹنی کو قتل کر دیا ۔ فرمایا (کَذَّبَتۡ ثَمُوۡدُ بِطَغۡوٰىہَاۤ ﴿۪ۙ۱۱﴾
۱۱۔ (قوم) ثمود نے اپنی سرکشی کے باعث تکذیب کی ۔
اِذِ انۡۢبَعَثَ اَشۡقٰہَا ﴿۪ۙ۱۲﴾
۱۲۔ جب ان کا سب سے زیادہ شقی اٹھا،
فَقَالَ لَہُمۡ رَسُوۡلُ اللّٰہِ نَاقَۃَ اللّٰہِ وَ سُقۡیٰہَا ﴿ؕ۱۳﴾
۱۳۔ تو اللہ کے رسول نے ان سے کہا: اللہ کی اونٹنی اور اس کی سیرابی کا خیال رکھو۔
فَکَذَّبُوۡہُ فَعَقَرُوۡہَا ۪۬ۙ فَدَمۡدَمَ عَلَیۡہِمۡ رَبُّہُمۡ بِذَنۡۢبِہِمۡ فَسَوّٰىہَا ﴿۪ۙ۱۴﴾
۱۴۔ پھر انہوں نے پیغمبر کو جھٹلایا اور اونٹنی کی کونچیں کاٹ دیں تو ان کے رب نے ان کے گناہ کے سبب ان پر عذاب ڈھایا پھر سب کو (زمین کے) برابر کر دیا۔
وَ لَا یَخَافُ عُقۡبٰہَا﴿٪۱۵﴾
۵ ۱۔ اور اسے اس (عذاب) کے انجام کا کوئی خوف نہیں )
یہاں اللہ تعالی اس اوٹنی کے قتل کا ذکر کر رہا ہے جس کو ان کے لئے آیت اور نشانی بنا کر بھیجا تھا اور پھر اس کے نتیجے میں ان پر عذاب نازل کیا ۔
اور یہ معلوم ہے کہ جناب فاطمة زہراء سلام اللہ علیہا کا مقام جناب ھابیل اور جناب صالح اور ان کی اوٹنی سے کم بھی نہیں ہے ۔
اور ان واقعات کو بیان کرنے کی غرض جیسا کہ قرآن نے بھی بیان کی ہے وہ لوگوں کی ھدایت اور رحمت ہے ۔ اللہ فرماتا ہے ( لَقَدۡ کَانَ فِیۡ قَصَصِہِمۡ عِبۡرَۃٌ لِّاُولِی الۡاَلۡبَابِ ؕ مَا کَانَ حَدِیۡثًا یُّفۡتَرٰی وَ لٰکِنۡ تَصۡدِیۡقَ الَّذِیۡ بَیۡنَ یَدَیۡہِ وَ تَفۡصِیۡلَ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ ہُدًی وَّ رَحۡمَۃً لِّقَوۡمٍ یُّؤۡمِنُوۡنَ﴿۱۱۱﴾٪
۱۱۱۔ بتحقیق ان (رسولوں) کے قصوں میں عقل رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے، یہ (قرآن) گھڑی ہوئی باتیں نہیں بلکہ اس سے پہلے آئے ہوئے کلام کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل (بتانے والا) ہے اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت و رحمت ہے۔)
انبیاء کے واقعات اور قصص کی تلاوت کرنا جن میں ان پر ہونے والے مظالم بھی شامل ہیں تمام بشر کے لئے ھدایت اور رہنمائی کے طرق ہیں ۔ اور مومنین کے لئے عبرت اور رحمت ہیں ۔ اور گمراہی سے مانع ہیں ۔
کیونکہ ان قصص اور واقعات سے انسان کی بصیرت اور اللہ کے اولیاء سے معرفت میں اضافہ ہوتا ہے ۔ بس انسان اللہ کے اولیاء سے محبت اور اس کے دشمن سے براءت کرتا ہے ۔
لذا جو ماتم اور مجالس شیعہ ائمہ اھلبیت علیہم السلام کے لئے برپا کرتے ہیں ان میں رحمت اور اللہ کے اولیاء سے معرفت میں اضافہ ہوتا ہے۔
ان سے محبت اور ان کے دشمنوں سے براءت حاصل ہوتی ہے ۔ اور دشمن کے طریق سے دوری اور اللہ کا قرب اور ثواب حاصل ہوتا ہے ۔
البتہ جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی مظلومیت کو بیان کرنے میں مکان اور زمان کی مناسبت اور حکمت سے کام لینا چاہئے۔ جیسے اللہ فرماتا ہے ( اُدۡعُ اِلٰی سَبِیۡلِ رَبِّکَ بِالۡحِکۡمَۃِ وَ الۡمَوۡعِظَۃِ الۡحَسَنَۃِ وَ جَادِلۡہُمۡ بِالَّتِیۡ ہِیَ اَحۡسَنُ ؕ اِنَّ رَبَّکَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِمَنۡ ضَلَّ عَنۡ سَبِیۡلِہٖ وَ ہُوَ اَعۡلَمُ بِالۡمُہۡتَدِیۡنَ﴿۱۲۵﴾
۱۲۵۔ (اے رسول) حکمت اور اچھی نصیحت کے ساتھ اپنے رب کی راہ کی طرف دعوت دیں اور ان سے بہتر انداز میں بحث کریں، یقینا آپ کا رب بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹک گیا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کو بھی خوب جانتا ہے۔ )
قرآن کا منہج بھی حقائق کو بیان کرنے پر قائم ہے ۔ لیکن حکمت اور احسن طریقہ سے وعظ و نصیحت کے ذریعہ ہونا چاہئے نہ مخالفین کے اتحاد کی خاطر اصل حقائق کا ہی انکار کرنا چاہئے ۔
اور جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے مظالم سے انکار کرنے کی کوشش کرنا اور منافقین اور ظالمین کو ان پر ظلم کرنے ۔ پسلی توڑنے ۔ جناب محسن کی شہادت ۔ چہرے کو زخمی کرنے اور ان مظالم کے نتیجے میں ان کی شہادت سے بری قرار دینا ۔ جناب فاطمہ پر مظالم سے زیادہ جرم اور ظلم ہے ۔ اور متواتر طرق سے ثابت شدہ مصیبت اور مظالم کا انکار ہے ۔
آپ کے مظالم کا انکار کرنا جناب ھابیل ۔صالح کی اوٹنی اور جناب یوسف ہر ہونے والے مظالم کے انکار کے مترادف ہے جس کو قرآن مجید نے بیان کیا ہے۔
لذا ایک مومن کو ہوشیار رہنا چاہیے ایسے لوگوں سے جو جناب فاطمہ سلام اللہ علیہا کی پسلی کے ٹوٹنے ۔ان کے گھر میں داخل ہونے ۔ مارنے اور جناب محسن کی شہادت کا انکار کرتا ہے ۔ اور کہتا ہے کہ جناب فاطمہ اپنی طبیعی موت مری تھیں نہ کہ کسی کے ظلم کی وجہ سے شہید ہوئی تھیں ۔ اور دلیل یہ پیش کرتا ہے کہ یہ واقعات اہلسنت کے مصادر میں موجود نہیں ہے۔ لذا ہمیں صرف مشترکات کو لینا چاہئے ۔
اور یہ واضح ہے کہ مشترکات کو لینا اور خصوصیات کو ترک کرنا مذہب کا نام و نشان مٹانے اور ایک نیا مذہب بنانے کے مترادف ہے ۔
کیونکہ مذاہب میں مشترکات بہت زیادہ ہیں ۔ اور ہر مذہب کے مختصات بھی ہیں جن سے وہ دوسرے مذہب سے الگ ہوتے ہیں ۔ بلکہ مذاہب کا مختلف ہونا انہی مختصات کی وجہ سے ہے ۔
اور شیعہ کے ہاں مصادر جن میں جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کی مظلومیت کا ذکر ہوا ہے بہت زیادہ اور متواتر ہیں ۔ اور مستفیضہ روایات میں یہ حادثہ وارد ہوا ہے ۔
ہم یہاں بعض مصادر اور روایات کا ذکر کرتے ہیں ۔
پہلی روایت ۔
الشیخ الصدوق نے علی بن احمد بن موسی الدقاق اور الجوینی الشافعی سے الدقاق کی سند سے اور عماد الدین الطبری سے الشیخ حسن سے اپنے والد الشیخ الطوسی سے ۔ ابو محمد بن الفحام سے ۔محمد ابن ابی عبداللہ الکوفی سے روایت کی ہے کہ موسی بن عمران النخعی نے اپنے چچا الحسین بن یزید النوفلی سے الحسن بن علی بن ابی حمزہ سے اپنے والد سے ۔ سعید بن جبیر سے ۔ ابن عباس سے روایت کی ہے کہ ایک دن رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ بیٹھے ہوئے تھے کہ امام حسن علیہ السلام تشریف لائے ۔ تو آپ ان کو دیکھ کر رونے لگے اور انہیں اپنے پاس بلایا اور اپنے دائیں زانو پہ بٹھایا ۔
پھر امام حسین علیہ السلام ائے تو ان کو دیکھ کر بھی گریہ کیا اور انہیں اپنے بائیں زانو پہ بٹھایا ۔
پھر جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا تشریف لائیں تو ان کو دیکھ کر بھی رونے لگے اور انہیں اپنے سامنے بٹھایا ۔ پھر امیرالمومنین علیہ السلام آئے تو ان کو دیکھ کر رونے لگے اور ان کو اپنے قریب بلا کر اپنے دائیں پہلو میں جگہ دی ۔
تو آپ سے آپ کے اصحاب نے کہا ائے اللہ کے رسول ان میں سے ہر ایک کو دیکھ کر آپ رونے لگے ہیں ۔ کیا ان کو دیکھ کر خوش نہیں ہوئے ۔
تو آپ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس نے مجھے نبی بنایا اور تمام مخلوق پر فوقیت دی ۔ میں اور یہ لوگ اللہ کے ہاں تمام مخلوق سے افضل ہیں ۔
اور علی علیہ السلام کی مصیبت اور ان پر ہونے والے مظالم کا ذکر کیا ۔
پھر اپنے بیٹی فاطمہ کے بارے فرمایا ۔کہ یہ میرے جگر کا ٹکڑا ہیں ۔ اولین و آخرین میں سے عالمین کی خواتین کی سردار ہیں ۔ میری آنکھوں کا نور ۔ میرے جگر کا پھل ۔ میرے پہلوں میں دھڑکتا ہوا میرا دل اور میری روح ہیں ۔ انسانوں میں سے حور ہیں ۔ جب یہ محراب عبادت میں کھڑی ہوتی ہیں تو ان کا نور آسمان کے فرشتوں میں ایسے ظاہر ہوتا ہے جیسے زمین پر سیارے ظاہر ہوتے ہیں ۔
تو اللہ اپنے ملائکہ سے فرماتا ہے میری کنیز جناب فاطمہ کو دیکھو ۔ میرے سامنے عبادت کے لئے اس کے اعضاء کانپ رہے ہیں ۔ اور صدق دل سے میری عبادت کر رہی ہیں ۔ میں تمہیں گواہ بنا کر کہتا ہوں کہ میں نے ان کے شیعوں کو جہنم کی آگ سے پناہ دی ہے ۔
میں نے جب ان کو دیکھا تو مجھے ان پر گزرنے والے مصائب اور میرے بعد جو کچھ ان کے ساتھ ہو گا وہ یاد آ گیا ۔ گویا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ ذلت ان کے گھر میں داخل ہو گئی ہے ۔ ان کی حرمت پامال ہو گی ۔ ان کو حق غصب کر لیا گیا ہے ۔ وراثت سے منع کر دیا گیا ۔ ان کا پہلو زخمی کر دیا گیا ۔ ان کے محسن کو شہید کر دیا گیا ہے ۔ اور آپ ندا دیتی رہیں وامحمداہ ۔ لیکن کسی نے جواب نہیں دیا ۔ اپ استغاثے بلند کریں گی کوئی مددگار نہ ہو گا ۔
میرے بعد غمگین مکروب اور شکستہ دل رہیں گی ۔ کبھی وحی کے انقطاع کو یاد کریں گی اور کبھی میرے فراق میں آنسو بہائے گی ۔
رات کی تاریکی میں وحشت زدہ ہو جائیں گی کیونکہ میری تہجہد کے وقت قرآن کی آواز سے مانوس تھیں ۔
اپنے والد کے دنوں میں محترم و معزز تھیں لیکن میرے بعد ان کا کوئی احترام نہیں کرئے گا ۔ اس وقت اللہ تعالی ملائکہ کے ذریعہ ان کو تسلیت دے گا اور ندا دے گا جیسے جناب مریم بنت عمران کو ندا دی تھی ۔ تو ملائکہ کہیں گے ۔ یا فاطمة ( اِنَّ اللّٰہَ اصۡطَفٰکِ وَ طَہَّرَکِ وَ اصۡطَفٰکِ عَلٰی نِسَآءِ الۡعٰلَمِیۡنَ) ( اقۡنُتِیۡ لِرَبِّکِ وَ اسۡجُدِیۡ وَ ارۡکَعِیۡ مَعَ الرّٰکِعِیۡنَ. اپنے رب کی اطاعت کرو اور سجدہ کرتی رہو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرتی رہو۔ )
پھر آپ مریض ہو جائیں گی تو اللہ مریم کو ان کی تیمارداری کے لئے بھیجے گا ۔ تو اس وقت آپ کہیں گی ائے میرے اللہ میں اس دنیا کی زندگی سے تھک چکی ہوں ہیں مجھے میرے بابا کے ساتھ ملحق کر دیں تو اللہ ان کو میرے ساتھ ملحق فرما دے گا ۔ اور آپ میرے اھل میں سے سب سے پہلے میرے ساتھ ملحق ہوں گی ۔
میرے پاس مکروبہ محزونہ اور مقتولہ ہو کر آئیں گی تو میں کہوں گا اللھم العن من ظلمھا ۔ و عاقب من غصبھا ۔ واذل من اذلھا ۔ و خلد فی نارک من ضرب جنبھا حتی القت ولدھا ۔ اس وقت ملائکہ آمین کہیں گے ۔
پھر آپ نے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی مصیبت بیان فرمائی ۔
اس وقت آپ اور آپ کے آس پاس بیٹھے ہوئے اصحاب نے گریہ کیا ۔ پھر آپ کھڑے ہوئے اور فرمایا میرے اللہ میں اپنے اھلبیت پر ہونے والے مظالم کی آپ کی طرف شکایت کرتا ہوں ۔ پھر آپ اپنے گھر میں داخل ہو گئے ۔
الامالی للشیخ الصدوق ص 174 ۔ بشارة المصطفی لشیعة المرتضی للطبری ص 305 ۔
فرائد السمطین للجوینی الشافعی ج 2 ص 34 ۔
شاذان بن جبرئیل القمی نے الفضائل ص 8 پر ابن عباس سے مرسلا روایت کیا ہے ۔ الحلی نے المحتضر ص 196 پر ارشاد القلوب للدیلمی ج 2 ص 295 پر ۔ بحار الانوار للمجلسی ج 43 ص 172 ۔
السید عبداللہ شبر نے کہا ہے کہ الشیخ الصدوق نے اس روایت کو معتبر اسناد سے ابن عباس روایت کیا ہے ۔ جلاء العیون ج 1 ص 186 ۔
دوسری روایت ۔
سلیم بن قیس الھلالی نے کہا ہے کہ میں نے جناب سلمان فارسی سے سنا اور ان کی ایک طویل کلام نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں ۔ قنفذ لعنہ نے جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو کوڑوں سے مارا جب آپ علی علیہ السلام کو قنفذ کے ساتھ جانے سے روکنے آئیں ۔ اور یہ پیغام جناب عمر نے بھیجا کہ اگر تمہارے اور علی کے درمیان بنت نبی آ جائیں تو اس کو بھی مارنا ۔
اور قنفذ ملعون نے آپ کو دروازے کی طرف دھکیلا اور دھکا دیا کہ آپ کا پہلو زخمی ہوا اور پسلی ٹوٹ گئی ۔ اور جناب محسن شہید ہو گئے ۔ اور پھر آپ مریض ہو گئیں اور صاحب فراش ہو گئیں ۔اور کچھ دن بعد شہید ہو گئیں ۔
سلیم بن قیس ۔ بتحقیق محمد باقر الانصاری ص 153 ۔
تیسری روایت
سلیم بن قیس نے ابن عباس سے روایت کی ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ نے علی علیہ السلام سے ایک طویل کلام فرمایا ۔
جس میں آپ نے علی سے فرمایا ۔ میرے بھائی میرے بعد قریش آپ پر تجاوز کریں گے ۔ آپ پر ظلم ہو گا اور آپ کے خلاف جمع ہو جائیں گے ۔ اگر آپ کو مددگار مل جائیں تو ان سے جہاد کرنا اور اگر نہ ملیں تو صبر کرنا ۔ اور اپنی جان بچا لینا ۔ اور شہادت آپ کو انتظار کرئے گا ۔ اور آپ کے قاتل پر لعنت ہے ۔ پھر آپ نے اپنی بیٹی فاطمہ سے فرمایا ۔ اپ میرے اھلبیت میں سے سب سے پہلے میرے پاس آؤ گی ۔ آپ اھل جنت کی خواتین کی سردار ہیں ۔ میرے بعد ظلم و جور کو دیکھیں گی ۔ یہاں تک کہ آپ کو مارا جائے گا آپ کی پسلی توڑ دی جائے گی ۔ اللہ آپ کے قاتل پر ۔ اس کو حکم دینے والے پر اور اس پر راضی رہنے والے پر ۔ اس کی مدد کرنے والے پر اور امآپ پر ۔ آپ کے شوہر اور آپ کی اولاد پر ظلم کرنے والے پر لعنت کرئے ۔ سلیم بن قیس ۔ ص 427 ۔
الشیخ النعمانی المتوفی 380 ھ نے کہا ہے کہ تمام شیعہ اھل علم اور حدیث کے درمیان اتفاق ہے کہ سلیم بن قیس کی کتاب کتب الاصول میں سے بہت بڑی اصل ہے جس کو اھل علم اور محدثین نے روایت کیا ہے ۔ اور اس کتاب میں رسول اکرم ۔ امیرالمومنین ۔ سلمان ۔ مقداد اور ابوذر الغفاری سے روایت کی گئی ہے ۔ اور یہ ایسے اصول میں سے ہے جس کی طرف شیعہ رجوع کرتے ہیں اور اس پر اعتماد کرتے ہیں ۔ الغیبة للنعمانی ص 103 ۔
چوتھی روایت ۔
ابن جریر الطبری الشیعی نے دلائل الامامة میں صحیح سند سے روایت کی ہے کہ ہم سے ابو الحسین محمد بن ھارون بن موسی التلعکبری نے اپنے والد سے ۔ اس نے ابو علی محمد بن ھمام بن سہیل سے اس نے احمد بن محمد بن البراقی سے اس نے احمد بن محمد الاشعری القمی سے ۔ عبدالرحمن بن ابی نجران سے ۔ عبداللہ بن سنان سے ۔ ابن مسکان سے ۔ ابی بصیر سے امام محمد باقر علیہ السلام سے روایت کی ہے ۔ کہ جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا 20 جمادی الثانی کو رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ کی ولادت کے 45 سال بعد پیدا ہوئیں ۔ آپ مکہ میں 8 سال تک رہیں ۔ اور مدینہ میں 10 سال تک ۔ اپنے والد کی وفات کے پچھتر دن بعد اس دنیا سے رخصت ہو گئیں ۔ اور آپ 3 جمادی الاخرہ سنہ 11 ھجری منگل کے دن اس جہاں سے رخصت ہوئیں ۔
اور آپ کی وفات کا سبب یہ تھا کہ عمر بن خطاب کے غلام قنفظ نے ان کے حکم سے آپ کے پہلو پر تلوار کا دستہ مارا ۔ تو آپ کا محسن شہید ہو گیا ۔ اور آپ سخت مریض ہو گئیں ۔ جنہوں نے آپ پر ظلم کیا ان کو تیمارداری کی اجازت نہیں دی ۔
یہاں تک کہ اصحاب نبی میں سے دو امآدمیوں نے امیرالمومنین علیہ السلام سے سفارش کروائی ۔ تو آپ نے ان کی سفارش قبول فرما لی ۔ جب وہ دونوں آپ کے پاس آئے تو انہوں نے آپ کا حال پوچھا ۔ تو آپ نے فرمایا الحمد للہ سب خیریت ہے ۔ تو امآپ نے ان دونوں سے کہا کیا تم نے رسول اکرم سے یہ نہیں سنا کہ فاطمہ میرا ٹکڑا ہے ۔ جس نے اس کو اذیت دی اس نے مجھے اذیت دی اور جس نے مجھے اذیت دی اس نے اللہ کو اذیت دی ۔ ؟ تو ان دونوں نے کہا جی ہاں ہم نے سنا ہے ۔
تو آپ نے فرمایا اللہ کی قسم تم دونوں نے مجھے اذیت دی ۔ پس جب وہ گھر سے باہر نکلے تو آپ ان پر ناراض تھیں ۔ دلائل الامامة للطبری الشیعی ۔ ص 134 ۔
اس روایت کے بارے المامقانی نے کہا ہے کہ اس کی سند قوی ہے ۔ مراة الکمال ج 3 ص 267 ۔
المیرزا التبریزی اور الشیخ عباس القمی نے اس کی سند کو معتبر قرار دیا ہے ۔ صراط النجاة ج 3 ص 441 ۔
بیت الاحزان ص 189 ۔
پانچویں روایت ۔
علامہ مجلسی نے کہا ہے کہ میں نے الشیخ محمد بن علی الجبعی کے خط سے الشہید سے نقل کرتے ہوئے اور شہید نے الشیخ ابو منصور کی مصباح سے نقل کرتے ہوئے کہا ہے کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ والہ جناب فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کے گھر داخل ہوئے تو آپ نے ان کو خوش آمدید کہا ۔ اور آپ کے لئے کجھور روٹی اور پنیر سے کھانا تیار کیا ۔ تو رسول اکرم ۔ علی ۔ حسن اور حسین اور فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا نے مل کھانا کھایا ۔
پھر آپ نے سجدہ شکر ادا کیا تو آپ روئے اور پھر ہنسنے لگے ۔ تو علی علیہ السلام نے اس کا سبب پوچھا ۔ تو آپ نے فرمایا کہ جب میں نے امآپ لوگوں کے ساتھ کھانا کھایا تو میں خوش ہوا اور اللہ کا شکر ادا کیا ۔ پھر جناب جبرائیل نازل ہوئے ۔ اور مجھے کہا آپ اپنے اھل کی خوشی میں سجدہ شکر ادا کر رہے ہیں ۔ تو میں نے کہا جی ہاں ۔
تو جبرائیل نے کہا کیا میں آپ کو اس کی خبر نہ دوں جو آپ کے بعد ان کے ساتھ ہو گا ۔ تو میں نے کہا جی ہاں بتائیں ۔ تو انہوں نے کہا ۔ کہ امآپ کی یہ بیٹی سب سے پہلے آپ کے ساتھ ملحق ہو گی ۔ اور اس پر ظلم کیا جائے گا ۔ ان کا حق غصب کر لیا جایے گا ۔ وراثت سے محروم رکھا جائے گا ۔ ان کے شوہر پر ظلم ہو گا ۔ ان کی پسلی توڑ دی جائے گی ۔ اور آپ کے بھائی پر ظلم ہو گا ان کو قتل کیا جائے گا ۔
اور حسن پر ظلم ہو گا اس کو اس کے حق سے محروم رکھا جائے اور زہر سے شہید کیا جائے گا ۔ اور امام حسین پر ظلم ہو گا ان کو قتل کیا جائے گا ۔ ان کی لاش پامال ہو گی اور ان کے اہل و عیال کو قیدی بنایا جائے گا ۔ اور اپنے خون سے غلطان دفن ہو گا اور لوگ ان کو دفن کریں گے ۔
تو میں یہ سن کر رونے لگا ۔ اور میں نے پوچھا کیا کوئی ان کی زیارت بھی کرئے گا ۔ تو جبرائیل نے کہا ان کی دور دراز سے لوگ زیارت کریں گے ۔ تو آپ نے پوچھا ان کے لئے کتنا ثواب ہو گا ۔ تو جبرائیل نے فرمایا ان کے زائر کے لیے ایک ہزار حج کا ثواب لکھا جائے گا ۔ اور ایک ہزار عمرہ کا ثواب لکھا جائے گا اور یہ حج اور عمرہ وہ ہوں گے جو اپ کے ساتھ کئے ہوں ۔ تو میں خوشی سے ہنس پڑا ۔ بحار الانوار ج 98 ص 44 ۔
چھٹی روایت ۔
علامہ مجلسی نے کتاب البلد الامین و جنة الامان سے نقل کیا ہے کہ یہ دعا عظیم الشان ہے ۔ جس کو عبداللہ بن عباس نے امیرالمومنین علیہ السلام سے نقل کیا ہے ۔ کہ اپ دعائے قنوت میں اس دعا کو پڑھتے تھے ۔ اور اس کو پڑھنے والا ایسے ہے جس نے بدر و احد و حنین میں رسول اکرم کے ساتھ دشمنوں پر کئی ہزار تیر چلائے ہوں ۔
اور وہ دعا یہ ہے : اللهمَّ العَن صَنمي قُريش وجبتيها وطاغوتيها وإفكيها ، وابنتيهما اللذينِ خالفا أمرَك وأنكرا وحيَك ، وجحدا إنعامَك ، وعصيا رسولَك ، وقلبا دينَك وحرّفا كتابَك ، وعطّلا أحكامَك ، وأبطلا فرائضَك ، وألحدا في آياتِك ، وعاديا أولياءَك وواليا أعداءَك ، وخرّبا بلادَك ، وأفسدا عبادَك . اللهمَّ العَنهما وأنصارَهما فقد أخربا بيتَ النبوّةِ ، ورَدمَا بابَه ، ونقضا سقفَه ، وألحقا سماءَه بأرضِه ، وعاليَهُ بسافلِه ، وظاهرَهُ بباطنِه ، واستأصلا أهلَهُ ، وأبادا أنصارَهُ ، وقتلا أطفالَهُ ، وأخليا منبرَهُ مِن وصيّهِ ووارثِه ، وجحدا نبوّتَهُ ، وأشركا بربّهِما ، فعظّم ذنبهما وخلِّدهُما في سقَر ! وما أدراكَ ما سقر ؟ لا تُبقي ولا تذَر . اللهمَّ العَنهم بعددِ كلِّ مُنكرٍ أتوهُ ، وحقٍّ أخفوهُ ، ومِنبرٍ علَوهُ ، ومُنافقٍ ولّوه ومؤمنٍ أرجَوهُ ، ووليٍّ آذوهُ ، وطريدٍ آووهُ ، وصادقٍ طردوهُ ، وكافرٍ نصروهُ ، وإمامٍ قهروهُ ، وفرضٍ غيّروه ، وأثرٍ أنكروه ، وشرٍّ أضمروهُ ، ودمٍ أراقوهُ ، وخبرٍ بدّلوه ، وحُكمٍ قلبوهُ ، وكفرٍ أبدعوهُ ، وكذبٍ دلّسوهُ ، وإرثٍ غصبوهُ ، وفيئٍ اقتطعوهُ ، وسحتٍ أكلوهُ ، وخُمسٍ استحلّوهُ وباطلٍ أسّسوهُ ، وجورٍ بسطوهُ ، وظلمٍ نشروهُ ، ووعدٍ أخلفوهُ ، وعهدٍ نقضوهُ ، وحلالٍ حرّموهُ وحرامٍ حلّلوهُ ، ونفاقٍ أسرّوهُ ، وغدرٍ أضمروهُ وبطنٍ فتقوهُ ، وضلعٍ كسَروهُ ، وصكٍّ مزّقوهُ ، وشملٍ بدّدوهُ ، وذليلٍ أعزّوهُ ، وعزيزٍ أذلّوهُ ، وحقٍّ منعوهُ ، وإمامٍ خالفوه . اللهمَّ العَنهما بكلِّ آيةٍ حرّفوها ، وفريضةٍ تركوها ، وسُنّةٍ غيّروها ، وأحكامٍ عطّلوها ، وأرحامٍ قطعوها ، وشهاداتٍ كتموها ، ووصيّةٍ ضيّعوها ، وأيمانٍ نكثوها ودعوىً أبطلوها ، وبيّنةٍ أنكروها ، وحيلةٍ أحدثوها ، وخيانةٍ أوردوها ، وعَقبةٍ ارتقَوها ودِبابٍ دحرجوها ، وأزيافٍ لزموها [ وأمانةٍ خانوها ] . اللهمَّ العَنهُما في مكنونِ السرِّ وظاهرِ العلانية لعناً كثيراً دائباً أبداً دائماً سرمداً لا انقطاعَ لأمدِه ، ولا نفادَ لعددِه ، ويغدو أوّلُه ولا يروحُ آخرُه ، لهُم ولأعوانِهم و أنصارِهم ومُحبّيهم ومواليهم والمُسلّمينَ لهُم ، والمائلينَ إليهم والناهضينَ بأجنحتِهم والمُقتدينَ بكلامِهم ، والمُصدّقينَ
بأحكامِهم . ثمَّ يقولُ : اللهمَّ عذّبهم عذاباً يستغيثُ منهُ أهلُ النارِ آمينَ ربّ العالمين ) أربعَ مرّات ، ودعا عليهِ السلام في قنوتِه : اللهمَّ صلِّ على محمّدٍ وآلِ محمّد ، وقنّعني بحلالِك عَن حرامِك ، وأعِذني منَ الفقرِ إنّي أسأتُ وظلمتُ نفسي ، واعترفتُ بذنوبي ، فها أنا واقفٌ بينَ يديك ، فخُذ لنفسِكَ رضاها مِن نفسي ، لكَ العُتبى لا أعود ، فإن عُدتُ فعُد عليَّ بالمغفرةِ والعفو ، ثمَّ اپ علیہ السلام نے العفو العفو سو مرتبہ کہا ، پھر أستغفرُ اللهَ العظيم مِن ظُلمي وجُرمي و إسرافي على نفسي وأتوبُ إليه ، سو مرتبہ کہا ، جب اپ عليهِ
السلام الاستغفارِ سے فارغ ہوئے تو ركوع اور سجدَہ کیا اور تشهّدَ َاور سلّام پڑھا ۔
الكفعميُّ رحمَه الله نے اس دعا کے ذکر کرتے وقت کہا ہے کہ یہ دعا غوامضِ الأسرارِ ، وكرائمِ الأذكار میں سے ہے ۔
اور أميرُ المؤمنين عليهِ السلام دن رات میں اس دعا پر مواظبُ تھے . (بحارُ الأنوار، للعلّامةِ المجلسي: 82 / 260 - 261، رشحُ الولاءِ لأبي السّعاداتِ سفرويه الأصفهاني، ص60، المصباحُ للكفعمي، ص552، المُحتضرُ للحسنِ بنِ سُليمان، ص111).
العلّامةُ المجلسي نے کہا ہے کہ دعاءُ صَنمي قُريش شيعة.کے ہاں مشہور و معروف ہے ۔ (بحارُ الأنوار: 30 / 394).