Back to شہادت جناب محسن ابن علی ع

جنابِ سیٍّده کی شہادت اور علامہ احمد بن علی طبرسی صاحبِ الاحتجاج

جنابِ سیٍّده کی شہادت اور علامہ احمد بن علی طبرسی صاحبِ الاحتجاج
جنابِ سیٍّده کی شہادت اور علامہ احمد بن علی طبرسی صاحبِ الاحتجاج
جنابِ سیٍّده کی شہادت اور علامہ احمد بن علی طبرسی صاحبِ الاحتجاج
جنابِ سیٍّده کی شہادت اور علامہ احمد بن علی طبرسی صاحبِ الاحتجاج
جنابِ سیٍّده کی شہادت اور علامہ احمد بن علی طبرسی صاحبِ الاحتجاج
علامہ کا تعارف
نام "احمد بن علی بن ابی طالب الطبرسي"کنیت ابو منصور کثیر علماء نے آپ کا یہی نام ذکر کیا ہے لیکن علامہ ابن شہر آشوب نے آپ کا نام " احمد بن ابی طالب " لکھا
چنانچہ معالم العلماء ص ٢٥ پر لکھا :
شيخي أحمد بن أبي طالب الطبرسي
ترجمہ :میرے شیخ احمد بن ابی طالب طبرسی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یعنی دادا "ابو طالب" کا نام باپ "علی" کی جگہ پر ذکر فرمایا ہمارے نزدیک علامہ طبرسی کے بابا کا نام علی ہے جیسا کہ ایک کثیر تعداد نے ذکر کیا اور جہاں تک علامہ ابن شہر آشوب کی بات ہے تو ظن غالب یہ ہے کہ ان کی شہرت ان کے داد کے نام سے ہوگی یا یہ کہ ابن شہر آشوب نے اختصارا آپ کا نام اس طرح لکھا۔
توثیق :
علامہ حر عاملی آپ کے بارے میں لکھتے ہیں :
" ھو عالم فقيه فاضل، محدث، ثقة "
وہ عالم فقیہ فاضل محدث اور ثقہ ہیں۔
حوالہ : أمل الآمل، ج2، ص17.
اللہ اکبر ہر ہر لقب اپنے اندر ایک خاص تاثیر رکھتا ہے جس سے ملقب کی شخصیت کے پہلو واضح و آشکار ہوتے ہیں
نیز شیخ یوسف بحرانی لکھتے ہیں :
" الفاضل، العالم، المعروف، كان من أجل العلماء، ومشاهير الفضلاء " ( کشکول البحراني ج 1 ص 301 )
آپ فاضل عالم اورمعروف تھے ہمارے جلیل القدر مشہور علماء و فضلاء میں سے تھے۔
علامہ خونساری لکھتے ہیں :
إنّ هذا الرجل ­ أحمد بن علي بن أبي طالب الطبرسي ­ من أجلاّء أصحابنا المتقدّمين
(روضات الجنات ج1 ص19 )
بے شک یہ شخص احمد بن علی طبرسی ہمارے جلیل القدر اصحابِ متقدمین میں سے ہیں۔
علامہ مامقانی لکھتے ہیں :
لا ينبغي التأمّل في وثاقة المترجم وجلالته، فهو ثقة جليل، وفقيه نبيل، ومورّخ أمين، صحيح الرواية
صاحب ترجمہ کی جلالت و وثاقت پر تامل سزاوار نہیں کیونکہ وہ ثقہ جلیل فقیہ نبیل مورخ امین اور روایات میں صحیح ہیں۔
حوالہ :تنقيح المقال 6 /333 رقم1161
تبصرہ: مذکورہ بالا تصریحات روزِ روشن کی طرح واضح ہوا کہ شخصیت متفق علیہ ثقہ بلکہ ہمارے ان اجلاء میں سے ہے جو اس سے بالا تر ہیں کہ جن کی توثیق کا مطالبہ کیا جائے۔
کتاب " الاحتجاج" کی نسبت :
علامہ ابن شہر آشوب لکھتے ہیں :
شيخي أحمد بن أبي طالب الطبرسي له الكافي في الفقه حسن، الاحتجاج، مفاخر الطالبية، تاريخ الأئمة عليهم السلام، فضائل الزهراء، كتاب الصلاة
میرے شیخ احمد بن ابی طالب الطبرسی
الکافی فی الفقہ حسن ، الاحتجاج ، متاخر طالبیہ، تاریخ ائمہ ، فضائل زھراء اور کتاب الصلاة ان کی کتب ہیں۔
حوالہ : معالم العلماء ص 12
علامہ حر عالمی فرماتے ہیں:
هو عالم، فقيه، فاضل، محدّث، ثقة. له كتاب الاحتجاج على أهل اللجاج كثير الفوائد
شیخ احمد بن علی عالم فقیہ فاضل محدث اور ثقہ ہیں
انکی کتاب "الاحتجاج" بڑی مفید ہے۔
حوالہ : مل الآمل، ج2، ص17.
اور وسائل الشیعہ کے خاتمہ میں لکھا :
کتاب الاحتجاج تأليف الشيخ الجليل أحمد بن علي بن أبي طالب الطبرسي
ترجمہ : کتاب الاحتاج شیخِ جلیل احمد بن علی بن ابی طالب طبرسی کی تالیف ہے۔
علامہ مجلسی لکھتے ہیں :
كتاب الاحتجاج وإن كانت أكثر أخباره مراسيل، لكنّه من الكتب المعروفة المتداولة، وقد أثنى السيد ابن طاووس على الكتاب وعلى مؤلفه، وقد أخذ عنه أكثر المتأخرين
ترجمہ : کتابِ احتجاج اگرچہ اس کی بہت احادیث مرسل ہیں لیکن کتاب " معروف و متداول " ہے جبکہ سید بن طاؤس نے کتاب اور صاحب کتاب کی تعریف کی ہے اور ہمارے بہت سارے متاخرین نے اس سے علم لیا ہے۔
تبصرہ : جہاں تک اخبار مرسلہ کا تعلق تو ان شاء اللہ ہم اس پر مفصل کلام کریں گے لیکن علامہ مجلسی کی باقی عبارت میں بہت اہم بات ہے کہ کتاب " الاحتجاج" مشہور و معروف و متداول ہے ثانیا: علامہ نے اس سے حوالہ نقل کئے ہیں
اور یہ کتاب کی صحت کے لئے کافی ہے اگرچہ ہمارے اعلام کی بالجزم تصریح کتاب کی نسبت کو کافی و شافی ہے۔
علامہ خونساری لکھتے ہیں :
الاحتجاج كتاب معتبر معروف بين الطائفة
الاحتجاج ایک معتبر اور شیعہ گروہ کے درمیان مشہور کتاب ہے۔
حوالہ : روضات الجنات، ج1، ص64 عن تذكرة الأعيان للشيخ السبحاني ص134
بعض مولفین نے غلطی سے اس کتاب کو "فضل بن حسن طبرسی " صاحبِ تفسیر مجمع البیان کی طرف نسبت دے دی
شیخ یوسفِ بحرانی لکھتے ہیں :
" ويظهر من كتاب المجلى لابن أبي جمهور الأحسائي أن كتاب الاحتجاج للشيخ أبي الفضل الطبرسي. قال في أول البحار بعد نسبة كتاب الاحتجاج لأحمد بن أبي طالب: وينسب هذا الكتاب إلى أبي علي الطبرسي وهو خطأ، بل هو تأليف أبي منصور أحمد بن علي بن أبي طالب الطبرسي، كما صرح به السيد ابن طاووس في كتاب كشف المحجة "
(کشکول ج1 ص 301 )
ابن ابی جمہور کی کتاب " المجلی" سے ظاہر ہوتا ہے کہ کتابِ احتجاج شیخ ابی الفضل طبرسی ( صاحب تفسیر مجمع البیان) کی ہے۔
اور علامہ نے بحار کی شروع جب کتاب الاحتجاج کی نسبت احمد بن علی بن ابی طالب ( جو کہ اصل مصنف ہیں ) طرف ثابت کرنے بعد فرمایا :
اس کتاب کو جو علی طبرسی " صاحب تفسیر" کی طرف نسبت فی گئی وہ خطا ہے بلکہ یہ کتاب تو ابو منصور احمد بن علی بن ابی طالب کی تصنیف ہے جیسا کہ سید ابن طاووس نے کشف المحجة میں اس کی تصریح کی ہے۔
علامہ خونساری لکھتے ہیں :
" وقد غلط صاحب الغوالي، والمحدث الأسترآبادي غلطا فاحشا يبعد عن مثلهما غاية البعد في نسبة (كتاب الاحتجاج) إلى الشيخ أبي علي الطبرسي صاحب التفسير، مع أن بينهما بونا بعيدا، وتصريح جمهور الأصحاب وإسنادهم عنه وإليه على خلاف ذلك جدا "
صاحبِ غالی اور محدث استرآبادی سے خطاء فاش سرزد ہوئی جبکہ ان سے اس طرح کا سہو بعید تر تھا کہ انہوں نے " کتاب الاحتجاج" کی نسبت شیخ ابو علی صاحب تفسیر کی طرف دی جبکہ دنوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے اور ہمارے اصحاب کی تصریح ہے اور ان کی اسناد ان ( صاحب احتجاج ) سے ہے جبکہ صاحب تفسیر کی طرف کا معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔
حوالہ: اعيان الشيعة: ١٠٠ - ٩
علامہ مجلسی علیہ الرحمة بہار کے مقدمہ فرماتے ہیں :
و ينسب هذا الكتاب الاحتجاج إلى أبى على الطبرسى و هو خطا ، بل هو تأليف أبى منصور أحمد بن على بن أبى طالب
اور اس کتاب " الاحتجاج " کی نسبت ابو علی طبرسی کی طرف دی گئی جو کہ خطاء ہے بلکہ یہ کتاب تو شیخ ابو منصور احمد بن علی بن علی بن ابی طالب کی ہے۔
آیة اللہ سبحانی علامہ مجلسی کی تائید میں لکھتے ہیں :
أضف إلى ذلك أنّ ما ذكره من السند لروايات الإمام العسكرى ـ على ما عرفت يدلّ على أنّه ليس من تأليف صاحب التفسير ، إذ لم يعرف له مثل هذا السند
نیز جو امام حسن عسکری کی روایات کے لئے سند ذکر کی ہے تو تم جانتے ہو کہ یہ دلالت کرتا ہے کہ یہ کتاب صاحب تفسیر کی نہیں کیونکہ اس طرح کی سند ان کو حاصل ہے نہیں۔
کتاب میں موجود مراسیل اور علامہ طبرسی کا موقف :
واضح رہے کہ علامہ طبرسی "منہجِ صدوری" کے قائل تھے اور اسی منہج پر ہمارے علماء کی اکثریت رہی ہے اور ہمارے معاصر مراجع کی اکثریت بھی اسی منہج کی قائل ہے
یعنی روایت کی صحت کا معیار یہ ہے کہ اس میں ایسے قرائن پائے جائے کہ جس سے ہمیں روایت کے صدور کا اطمئنان ہو جائے۔
ان قرائن میں موافقتِ عقل و کتاب روات کا ثقہ و ممدوح ہونا مابین علماء روایت کا مشہور ہونا یا اس پر اجماع ہونا وغیرہ وغیرہ شامل ہیں
ہمارا موضوع اس منہج کو تفصیل بیان کرنا نہیں
چنانچہ ہم علامہ کے موقف کی طرف آتے ہیں:
علامہ طبرسی کے سند ذکر نہ کرنے کی وجہ :
مولف خود مقدمہ کتاب میں تحریر فرماتے ہیں:
لا نأتي في أكثر ما نورده من الأخبار بإسناده إمّا لوجود الاجماع عليه أو موافقته لما دلّت العقول إليه، أو لاشتهاره في السير والكتب بين المخالف والمؤالف
ہم اکثر احادیث کو ان کی اسانید کے ساتھ ذکر نہیں کریں کیونکہ یا تو ان اخبار پر اجماع ہوگا یا عقل سلیم سے اس کی صداقت کی گواہی دے رہی کوہی یا کتب خاصہ و عامہ میں وہ شہرت کی حامل ہوگی۔
تبصرہ : معلوم شد کہ علامہ طبرسی مراسیل عام مراسیل کی طرح نہیں ہیں بلکہ علامہ طبرسی نے ان پر اجماع ہونے کی سے یا ان کی شہرت کی وجہ ان کو کی اسانید کو ذکر کرنا تکلف قرار دیا
کیونکہ ضعیف روایت پر اگر اجماع ہو تو وہ حجت ہوتی ہے شہرت منجبرِ ضعف ہے موافقت عقل منجبر ضعف ہے وغیرہ وغیرہ
اور بالفرض اگر ان مراسیل کو بقیہ عام مراسیل کی طرح ہی سمجھا جائے پھر بھی ایسا نہیں کہ ان کی کو 0 سے ضرب دے دیا جائے بلکہ ان کی تائید و موافقت مل جانے سے یہ بھی حجت قرار پائیں گی ۔
بلکہ ان تمام مروایات پر بالعموم علامہ طبرسی کی تصحیح تو ہے ہی۔
حصہ دوم : علامہ طبرسی اور واقعہ احراق و شہادت:
سیدہ فاطمہ ( صلوت اللہ و سلامہ علیھا ) پر حملہ :
علامہ طبرسی روایت نقل فرماتے ہیں۔۔۔۔ جاری
نوٹ : یہ تحریر ہماری محنت ہے لہذا اس کو کاپی کر کے اپنی تحریر ظاہر کرنا ہم آپ کے لئے جائز قرار نہیں دیتے ۔
یا تو شیئر فرمائیں یا پھر جس کی تحریر ہے اس کے نام سے وال پر شیئر کریں میں نے اردو دان حضرات کے لئے اردو میں کتاب کے اوراق ڈال دیئے ہیں(شکریہ )
احقر العباد : عبد الزھراء

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5