Back to امام موسیٰ کاظم ع

امام موسیٰ الکاظم (ع) کا مقام و مرتبہ اور وجہ شہادت؛ اہل سنت کتاب سے!

امام موسیٰ الکاظم (ع) کا مقام و مرتبہ اور وجہ شہادت؛ اہل سنت کتاب سے!
امام موسیٰ الکاظم (ع) کا مقام و مرتبہ اور وجہ شہادت؛ اہل سنت کتاب سے!
امام موسیٰ الکاظم (ع) کا مقام و مرتبہ اور وجہ شہادت؛ اہل سنت کتاب سے!
امام موسیٰ الکاظم (ع) کا مقام و مرتبہ اور وجہ شہادت؛ اہل سنت کتاب سے!
امام موسیٰ الکاظم (ع) کا مقام و مرتبہ اور وجہ شہادت؛ اہل سنت کتاب سے!
امام موسیٰ الکاظم (ع) کا مقام و مرتبہ اور وجہ شہادت؛ اہل سنت کتاب سے!
اہل سنت کے مشہور و معروف عالم، ابن حجر المکی الھیتمی (المتوفی 974ھ) اپنی کتاب، "الصواعق المحرقہ"، جو کہ آج سے قریب 500 سال پہلے اہل تشیع (شیعوں) کے عقائد کے رد (refutation) کے لئے لکھی گئی تھی، میں اہل البیت/آل محمد (ع) کے ساتویں امام، حضرت موسیٰ الکاظم علیہ السلام کے بارے لکھتے ہیں:
 
مُوسَى الكاظم وَهُوَ وَارثه علما وَمَعْرِفَة وكمالا وفضلا سمي الكاظم لِكَثْرَة تجاوزه وحلمه وَكَانَ مَعْرُوفا عِنْد أهل الْعرَاق بِبَاب قَضَاء الْحَوَائِج عِنْد الله وَكَانَ أعبد أهل زَمَانه وأعلمهم وأسخاهم
 
ترجمہ:
حضرت موسیٰ الکاظم (ع) عِلم و معرفت اور فضل و کمال میں [اپنے والد، حضرت امام جعفر الصادق (ع)] کے وارث تھے۔ آپ (ع) کو بکثرت درگزر کرنے اور حِلم اختیار کرنے کی وجہ سے "الکاظم" کہتے ہیں۔ اہل عراق میں آپ (ع) "باب قضاء الحوائج عند اللہ" [یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس اسکے حضور لوگوں کی ضروریات کو پورا کرنے والا دروازہ بطور وسیلہ] مشہور ہیں۔ آپ (ع) اپنے زمانے کے سب سے بڑے عابد، عالم و سخی تھے۔
حوالہ:
 
[الصوائق المحرقہ (عربی)، ص 553، مكتبة فياض ؛ الصوائق المحرقہ (اردو)، ص 674-673، شبیر برادرز - لاہور]
 
عبارت (عربی) کا لنک:
https://al-maktaba.org/book/6544/594
 
اسی طرح امام موسیٰ الکاظم (ع) کی خلیفہ ہارون رشید کے ہاتھوں قید و شہادت کے بارے اہل سنت عالم، الھیتمی، اپنی اسی کتاب، الصواعق المحرقہ میں مزید رقمطراز ہیں:
 
قَالَ لَهُ الرشيد حِين رَآهُ جَالِسا عِنْد الْكَعْبَة أَنْت الَّذِي تبايعك النَّاس سرا فَقَالَ أَنا إِمَام الْقُلُوب وَأَنت إِمَام الجسوم.
وَلما اجْتمعَا أَمَام الْوَجْه الشريف على صَاحبه أفضل الصَّلَاة وَالسَّلَام قَالَ الرشيد السَّلَام عَلَيْك يَا ابْن عَم - مسمعا من حوله فَقَالَ الكاظم السَّلَام عَلَيْك يَا أَبَت. فَلم يحتملها وَكَانَت سَببا لإمساكه لَهُ وَحمله مَعَه إِلَى بَغْدَاد وحبسه فَلم يخرج من حَبسه إِلَّا مَيتا مُقَيّدا وَدفن جَانب بَغْدَاد الغربي
 
ترجمہ:
[خلیفہ ہارون] رشید نے آپ (ع) کو کعبہ کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھ کر کہا: "آپ وہ شخص ہیں جن کی لوگ پوشیدہ طور پر بیعت کرتے ہیں؟" آپ (ع) نے فرمایا: "میں دِلوں کا امام ہوں اور تو جسموں کا امام ہے۔"
جب دونوں [امام موسیٰ الکاظم (ع) اور خلیفہ ہارون رشید] حضور افضل الصلاۃ والسلام کے چہرہ مبارک کے سامنے اکٹھے ہوئے تو رشید نے کہا: "السلام علیک اے چچا کے بیٹے۔" اس بات کو ان لوگوں نے بھی سنا جو اس کے ارد گرد تھے۔ تو حضرت الکاظم (ع) نے فرمایا: "اے والد السلام علیک۔" پس وہ [خلیفہ ہارون رشید] اسے برداشت نہ کر سکا اور یہ اسکے کے لئے انکو [امام (ع) کو] گرفتار کرنے، اور اپنے ساتھ بغداد لے جا کر قید کرنے کی ایک وجہ تھی اور آپ (ع) اس کی قید سے بیڑیاں پہنے شہید ہوکر ہی نکلے اور بغداد کی غربی جانب دفن ہوئے۔
 
حوالہ:
[الصوائق المحرقہ (عربی)، ص 556، مكتبة فياض ؛ الصوائق المحرقہ (اردو)، ص 677، شبیر برادرز - لاہور]
عبارت (عربی) کا لنک:
https://al-maktaba.org/book/6544/596
https://al-maktaba.org/book/6544/597
 

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6