Back to حضرتِ عثمان

امیر شام نے اپنے دور میں کوئی قصاص عثمان نہیں لیا

امیر شام نے اپنے دور میں کوئی قصاص عثمان نہیں لیا
امیر شام نے اپنے دور میں کوئی قصاص عثمان نہیں لیا
امیر شام نے اپنے دور میں کوئی قصاص عثمان نہیں لیا
بشکریہ : ابوعمر الشوکانی
 
1) امام قرطبی لکھتے ہیں :
 
«فعل معاوية حين تمت له الخلافة و ملك مصر و غيرها بعد أن قتل علي رضي الله عنه لم يحكم على واحد من المتهمين بقتل عثمان بإقامة قصاص و أكثر المتهمين من أهل مصر و الكوفة و البصرة و كلهم تحت حكمه و أمره و نهيه و غلبته و قهره و كان يدعي المطالبة بذلك قبل ملكه و يقول : لا نبايع من يؤوي قتلة عثمان و لا يقتص منهم»
 
«اور اسی طرح معاویہ نے کیا جب ان کو خلافت اور بادشاہت حاصل ہوگئی مصر وغیرہ کی، سیدنا علی علیہ السلام کے قتل کے بعد ،تو معاویہ نے کسی ایک بھی قاتل عثمان کے مجرموں پر اقامت قصاص نہیں کیا، اور اکثر قتل عثمان کے مجرم (جن پر الزام تھا) وہ مصر، کوفہ اور بصرہ سے تھے، اور سارے کے سارے معاویہ کے حکم اور رعایت، نہی اور غلبے اور قہر کے ماتحت تھے،جب کہ معاویہ اپنی حکومت سے پہلے قصاص کا مطالبہ کرتے رہے اور کہا کرتے تھے “ہم اس کی بعیت نہیں کرینگے جو قاتلان عثمان کو پناہ دے اور نہ ان سے قصاص لے »
 
 
📚(التذكرة في احرال الموتي و امور الاخرة ص:189)
 
 
2) ابن تیمیہ حرانی :
 
ابن تیمیہ في كتاب منهاج السنة لابن تيمية الجزء 4، صفحة 408: پر تحریر کرتے ھیں
 
حضرت علی علیہ السلام کی وفات کے بعد معاویہ تمام مسلمانوں کا امیر بن گیا ، لیکن اس کے باوجود انہوں نے قاتلینِ عثمان کو قتل نہیں کیا، جو باقی رہ گئے تھے۔ بلکہ ان سے یہ روایت بھی منقول ہے کہ جب وہ حج کے لیے مدینہ آئے اور انہوں نے حضرت عثمان کے گھر سے آواز سنی: "یا امیر المؤمنیناہ! یا امیر المؤمنیناہ!" تو انہوں نے پوچھا: "یہ کیا آواز ہے؟"
لوگوں نے کہا: "یہ حضرت عثمان کی بیٹی ہیں، جو اپنے والد کا نوحہ کر رہی ہیں۔"
تو انہوں نے لوگوں کو وہاں سے ہٹا دیا اور خود ان کے پاس گئے اور فرمایا:
"اے میری چچا زاد بہن! لوگوں نے ناگواری کے ساتھ ہمیں اپنی اطاعت دی ہے، اور ہم نے غصے کے باوجود ان کے ساتھ حلم (بردباری) کا مظاہرہ کیا ہے۔ اگر ہم نے اپنے حلم کو ترک کر دیا تو وہ اپنی اطاعت واپس لے لیں گے۔ اور یہ کہ تم امیر المؤمنین کی بیٹی کہلاؤ، یہ اس سے بہتر ہے کہ تم عام لوگوں میں شمار کی جاؤ۔ تو میں آج کے بعد تمہیں حضرت عثمان کا ذکر کرتے ہوئے نہ سنوں۔"
اس سے صاف ظاھر ھے کہ معاویہ اقتدار کا طلب گار تھا اس نے بدلہ لینے کے لیے علی علیہ السلام کے خلاف خروج نہیں کیا بلکہ اقتدار کے لیے جنگ کی
 
(منھاج السنہ ج:2 ، ص:408)
 
3) سلفی عثمان الخمیس:
 
«جب معاویہ کو خلافت مل گئی تو انہوں نے بھی قات لین عثمان کو ق تل نہیں کیا، کیوں؟ کیونکہ معاویہ نے بھی وہ حقیت دیکھ لی تھی جو علی رض نے ان سے پہلے دیکھ چکے تھے، علی رض حقیقی طور یہ سب دیکھ چکے تھے جب کہ معاویہ سرسری نگاہ سے اس معاملے کو دیکھ رہے تھے حتی کے ان کو خلافت مل گئی اور پھر حقیقتا اس معاملے کو دیکھ لیا۔ ہاں معاویہ نے ان میں سے بعض قات لین کی طرف بھیجا لیکن باقی قات لین حجاج کے زمانے تک زندہ رہے عبد الملک بن مروان کی خلافت تک حتی کے ان میں سے آخری لوگوں تک کو ق تل کردیا گیا۔ اور اس میں سب سے ضروری بات یہ ہے کہ علی رض اس لیے ق تل کرنے کی استطاعت نہیں رکھتے کیونکہ وہ بے بس تھے مگر امت کے حوالے سے خوف زدہ تھے۔»
 
(حقبة من التاريخ ص:184)

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3