Back to معاویہ
صحابی رسول اللہ ﷺ حجر بن عدی کے آخری الفاظ جب اسکو معاویہ بن ابی سفیان نے ناحق قتل کیا
محدث احمد بن ملاعب (المتوفی ۲۷۵ھ) نے اپنی سند سے اس طرح نقل کیا ہے :
حدثنا احمد ثنا جندل بن والق نبأنا عبيد الله بن عمر الرقي عن معمر عن هشام بن حسان عن ابن سيرين قال أتي بحجر بن عدي حين دعا به معاوية فقال أني لا ارى هذا إلا قاتلي فان هو قتلني فلا تطلقوا عني حديدا وادفنوني بثيابي ودمي فاني ملاقي معاوية على الجادة انتهى
محمد بن سیرین نے فرمایا کہ میں حجر بن عدی کے پاس آیا جب اسکو معاویہ بن ابی سفیان نے بلوایا، حجر نے کہا : میں جانتا ہوں کہ میں قتل ہوجاؤں گا اور وہ ہی مجھے قتل کرے گا۔ قتل کے بعد میری بیڑیاں مجھ سے نہ اتارنا اور نہ ہی میرے جسم سے میرا خون دھونا مجھے میرے انہی کپڑوں میں دفن دینا کیونکہ ( قیامت کے دن) میرا معاویہ کے ساتھ جھگڑا ہوگا
کتاب کے محقق قاسم بن محمد قاسم ضاہر نے اس پر " اسناد حسن " کا حکم لگایا ہے۔
.
جندل بن والق
(1)أبو حاتم الرازي : صدوق
(2)أحمد بن صالح الجيلي : لا بأس به
(3)ابن حبان نے اس کو ثقات میں شمار کیا
(4)ابوزرعہ رازی کے نزدیک بھی یہ ثقہ ہے
ابن ابی حاتم اس کے متعلق کہتے ہیں
قال أبو محمد روى عنه أبي وأبو زرعة، سئل أبي عنه فقال: صدوق
یعنی ابوزرعہ جندل بن والق سے روایت کرتے ہیں
تو اس سے واضح یے کہ جندل بن والق ابوزرعہ کے نزدیک بھی ثقہ ہیں کیونکہ ابو زرعہ کسی شیخ سےروایت نقل نہیں لیتے سوائے ثقہ سے
اس لیے ابن حجر داود بن حماد البلخي کے ترجمہ میں لکھتے ہیں «قال ابن القطان: حاله مجهول، قلت: بل هو ثقة فمن عادة أبي زرعة أن لا يحدث الا عن ثقة، وذكره بن حبان في الثقات وقال: كان ضابطا صاحب حديث يغرب"
(5)البانی کے نزدیک بھی یہ حسن الحدیث ہے
اس پر کی گئی تمام جروحات غیر مفسر ہے جو کہ صریحاً توثیق کے مقابلے میں ردی ہیں
.
ابن سعد کی جرح مردود ہے
.
ابن حجر العسقلاني نے توثیق کی ہے
: ثقة فقيه ربما وهم
ربما وھم جرح غیر مفسر ہے
اولاً ربما وھم/ وربما أخطأ جرح غیر مفسر ہے جب تک کہ کوئی کثیر الخطاء یا کثیر الاوھام نہ ہو
ثانیاً:یہ اصول خود ابن حجر عسقلانی نے بتایا جب ابن سعد کی جرح جمہور کے خلاف ہو تب ابن سعد کی جرح کی طرف توجہ نہیں دی جائے گی کیونکہ اس کی زیادہ معلومات کا منبع واقدی ہوتا ہے جو خود ناقابلِ اعتماد یے عبد الرحمن بن شریح کے ترجمہ میں ابن حجر نے ابن سعد کی منکر الحدیث کی جرح کو رد کر دیا یہاں بھی
جمہور کی توثیق کے برخلاف ابن سعد کی جرح مردود ہے
أبو بكر البيهقي : ثقة
أبو حاتم الرازي : صالح الحديث، ثقة صدوق
أبو حفص عمر بن شاهين : ثقة
أحمد بن شعيب النسائي : ثقة
أحمد بن صالح الجيلي : ثقة
ابن حجر العسقلاني : ثقة فقيه ربما وهم
محمد بن سعد كاتب الواقدي : ثقة صدوق ربما وهم، ومرة: كان ثقة كثير الحديث، وربما أخطأ، وكان أحفظ من روى عن عبد الكريم الجزري
محمد بن عبد الله بن نمير : ثقةا
يحيى بن معين : ثقة
.
ذوالفقار مشرقی's Post
Gallery
Tap any image to view full screen