Back to فدک

فدک کے متعلق ایک اعتراض کا جواب

فدک کے متعلق ایک اعتراض کا جواب
فدک کے متعلق جواب دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر ( انبیاء ع کی میراث نہیں ہوتی ) والی حدیث صرف حضرت ابوبکر کو پتا تھی تو اس میں کوئی عجیب بات نہیں ہے کیوں کہ رسولِ خدا ﷺ کی آخری آرام گاہ کہاں ہوگی یہ بات بھی صرف حضرت ابوبکر کو پتا تھی - تو اہلسنت کا یہ دعویٰ در جوابِ شہ -- عہ غلط ہے ۔
 
اصول الكافي: عن على عن أبيه عن ابن أبي عمير عن حماد عن الحلبي عن أبي عبدالله الا قال: أتي العباس أميرالمؤمنین ﷺ فقال: یا علی ان الناس قداجتمعوا ان يدفنوا رسول اللہ ﷺ في بقيع المعلي وان يؤمهم رجل منهم فخرج أميرالمؤمنين الى الناس فقال: يا أيها الناس إن رسول اللہ ﷺ امام (امامنا) حياً وميتاً وقال: أني أدفن في البقعة التي أقبض فيها۔
 
امام جعفر صادق (ع) نے فرمایا عباس رض نے امیرالمومنین ع سے کہا لوگ اس خیال سے جمع ہوئے ہیں کہ رسولِ خدا ﷺ کو جنت البقیع میں د -- فن کریں اور ان میں سے کوئی نماز کی امامت کرے۔ یہ سن کر امیرالمونین باہر آئے اور فرمایا لوگو! رسول اللہ جیسے زندگی میں خلق کے امام تھے اور رحلت کے بعد بھی ہیں انھوں نے وصیت کی ہے کہ مجھے اسی جگہ د -- فن کیا جائے جہاں میری روح قبض ہو،۔
 
معجم احادیث معتبرہ ، جلد 1 ، صفحہ 528 ۔
علامہ باقر مجلسی رح نے بھی اس روایت کو معتبر کہا ہے۔
الحديث السابع والثلاثون : حسن كالصحيح
مراۃ العقول جلد 5 ، صفحہ 266

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1