امام حسن عسکری (ع) اسی سلسلہ عصمت کی ایک کڑی تھے جس کا ہر حلقہ انسانی کمالات کے جواہر سے مرصع تھا , علم وحلم , عفو وکرم , سخاو ت وایثار سب ہی اوصاف بے مثال تھے۔ عبادت کا یہ عالم تھا کہ ا س زمانے میں بھی کہ جب آپ سخت قید میں تھے، معتمد نے جس سے بھی آپ کے متعلق دریافت کیا یہی معلوم ہوا کہ آپ دن بھر روزہ رکھتے ہیں اور رات بھر نمازیں پڑھتے ہیں اور سوائے ذکر الٰہی کے کسی سے کوئی کلام نہیں فرماتے , اگرچہ آپ کو آپنے گھر پر آزادی کے سانس لینے کا موقع بہت کم ملا۔ پھر بھی جتنے عرصہ تک قیام رہا اور دور دراز سے لوگ آپ کے فیض و عطا کے تذکرے سن کر اتے تھے اور بامراد وآپس جاتے تھے۔آپ کے اخلاق واوصاف کی عظمت کا عوام وخواص سب ہی کے دلوں پر سکہ قائم تھا۔ چنانچہ جب احمد بن عبداللہ بن خاقان کے سامنے جو خلیفہ عباسی کی طرف سے شہر قم کے اوقاف وصدقات کے شعبہ کا افسر اعلیٰ تھا سادات علوی کاتذکرہ آگیا تو وہ کہنے لگا کہ مجھے کوئی حسن علیہ السّلام عسکری سے زیادہ مرتبہ اور علم و ورع , زہدو عبادت ,وقار وہیبت , حیاوعفت , شرف وعزت اور قدرومنزلت میں ممتاز اور نمایاں نہں معلوم ہوا۔
جب امام علی نقی علیہ السّلام کا انتقال ہوا اور لوگ تجہیز وتکفین میں مشغول تھے تو بعض گھر کے ملازمین نے اثاث اللبیت وغیرہ میں سے کچھ چیزیں غائب کردیں اور انھیں خبر تک نہ تھی کہ امام علیہ السّلام کو اس کی اطلاع ہوجائے گی۔ جب تجہیز اور تکفین وغیرہ سے فراغت ہوئی تو آپ نے ان نوکروں کو بلایا اور فرمایا کہ جو کچھ پوچھتا ہوں اگر تم مجھ سے سچ سچ بیان کرو گے تو میں تمھیں معاف کردوں گا اور سزا نہ دوں گا لیکن اگر غلط بیانی سے کام لیا تو پھر میں تمھارے پاس سے سب چیزیں بر آمد بھی کرالوں گا اور سزا بھی دوں گا۔ اس کے بعد آپ نے ہر ایک سے ان اشیا ء کے متعلق جو ان کے پا س تھیں دریافت کیا اور جب انھوں نے سچ بیان کر دیا تو ان تمام چیزوں کو ان سے واپس لے کر آپ نے ان کو کسی قسم کی سزا نہ دی اور معاف فرمادیا-
حضرت امام حسن عسکری علیہ السلام اپنے اصحاب کی مالی امداد بھی فرمایا کرتے تھے، مختلف علاقوں سے جہاں آپ کے عقیدت مند پائے جاتے تھے بہت سی رقم آپ کی خدمت میں مومنین اپنے فرائض کی ادائیگی کے سلسلے میں خمس کی شکل میں ارسال فرماتے تھے، یہ کام ان علاقوں میں آپ کے وکلاء کے ذریعے انجام پاتا تھا اس امر کو حکومت سے مکمل طور پر آپ مخفی رکھتے تھے
اور مختلف طریقے اختیار فرماتے تھے۔
امام حسن عسکري کي عمر 29 سال تھي ليکن انہوں نے اپني امامت کے 6 سالوں ميں اسلامي اشاعت اور تبليغ کا بہت کام کيا - تفسير قرآن ، مسائل فقھي ، نشر و اشاعت اور شيعوں ميں انقلابي تحريک لانے کے ليۓ ان کے دور ميں بہت زيادہ کام ہوا اور اس دور ميں دور دور سے لوگ فيض پانے کے ليۓ امام عليہ السلام کے محضر پر آتے تھے- امام حسن عسکري کے دور امامت ميں قرآني تعليمات اور احکامات الہي کي ترويج کے ليۓ خاص محنت کي گئي- اس دور ميں شيعوں کو ايک الگ پہچان حاصل ہوئي- دوسرے علوم مثلا فلسفے و کلام ميں يعقوب بن اسحاق کندي جيسے عظيم لوگ سامنے آۓ- يعقوب بن اسحاق نے علمي ميدان ميں امام عليہ السلام سے فيض حاصل کيا -
علماء فریقین نے لکھا ہے کہ ایک دن آپ ایک ایسی جگہ کھڑے تھے جس جگہ کچھ بچے کھیل میں مصروف تھے اتفاقا ادھرسے عارف آل محمد جناب بہلول دانا گزرے، انہوں نے یہ دیکھ کر کہ سب بچے کھیل رہے ہیں اور ایک خوبصورت سرخ وسفید بچہ کھڑا رو رہا ہے ادھر متوجہ ہوئے
اورکہا کہ اے نونہال مجھے بڑا افسوس ہے کہ تم اس لیے رو رہے رہو کہ تمہارے پاس وہ کھلونے نہیں ہیں جو ان بچوں کے پاس ہیں سنو! میں ابھی ابھی تمہارے لیے کھلونے لے کر آتا ہوں یہ کہنا تھا کہ اس کمسنی کے باوجود بولے، ہم کھیلنے کے لیے نہیں پیدا کیے گئے، ہم علم وعبادت کے لیے پیدا کئے گئے ہیں انہوں نے پوچھا کہ تمہیں یہ کیونکر معلوم ہوا کہ غرض خلقت علم و عبادت ہے، آپ نے فرمایا کہ اس کی طرف قرآن مجید رہبری کرتا ہے، کیا تم نے نہیں پڑھا کہ خدا فرماتا ہے
”افحسبتم انما خلقنا کم عبثا“ الخ (پ ۱۸ رکوع ۶) ۔
کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے تم کوعبث (کھیل وکود) کے لیے پیدا کیا ہے؟ اور کیا تم ہماری طرف پلٹ کر نہ آؤ گے
یہ سن کر بہلول حیران رہ گئے، اورکہنے پر مجبور ہوگئے کہ اے فرزند تمہیں کیا ہوگیا تھا کہ تم رو رہے تھے گناہ کا تصور تو ہو نہیں سکتا کیونکہ تم بہت کم سن ہو، آپ نے فرمایا کہ کمسنی سے کیا ہوتا ہے میں نے اپنی والدہ کو دیکھا ہے کہ بڑی لکڑیوں کو جلانے کے لیے چھوٹی لکڑیاں استعمال کرتی ہیں میں ڈرتا ہوں کہ کہیں جہنم کے بڑے ایندھن کے لیے ہم چھوٹے اور کمسن لوگ استعمال نہ کئے جائیں
.
"بیشک اللہ تعالیٰ نے اپنی حجت کو اپنی تمام مخلوقات میں ممتاز اور نمایاں بنایا ہے اور اسے ہر چیز کی معرفت اور شناخت عطا کی ہے۔ وہ تمام زبانوں، نسلوں اور پیش آنے والے واقعات کو جانتا اور پہچانتا ہے، اور اگر ایسا نہ ہو تو حجتِ خدا اور عام لوگوں میں کوئی فرق باقی نہ رہے گا۔"
Gallery
Tap any image to view full screen