Back to شہادتِ سیدہ فاطمہ زھراء (س)
امام محمد تقی علیہ سلام اور مصائب زہرا ع
شیخین کے ظالم ہونے کا ثبوت اور ائمہ کا ان سے بیزاری کا اعلان
یہ ان مسائل میں سے ایک ہے جن پر عمری فرقہ والے بہت زیادہ اعتراض کرتے ہیں، اور اپنی خیالی سوالات کے ذریعے شیعہ کو دباؤ اور تنہائی میں ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ تمام ائمہ سنی تھے، شیخین کے تابع تھے اور ان سے محبت رکھتے تھے۔
لیکن اس پوسٹ میں ہم اللہ کی مدد سے چند باتیں ثابت کریں گے:
1. ائمہ نے خلفاء (شیخین) کو ظالم قرار دیا۔
2. ائمہ ان سے بیزاری کا اظہار کرتے تھے۔
3. ائمہ ان کے لیے کوئی قدر و منزلت نہیں رکھتے تھے، محبت تو دور کی بات ہے۔
4. حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا پر کیے گئے مظالم کی طرف اشارہ کیا جائے گا۔
5. اہل بیت کی امامت کو بھی ثابت کیا جائے گا۔
📜 روایت : 358/18 - ابوالحسین محمد بن ہارون بن موسیٰ نے ہمیں خبر دی، کہا: میرے والد (رضوان اللہ علیہ) نے ہمیں خبر دی، کہا: ابوجعفر محمد بن حسن بن احمد بن ولید نے ہمیں خبر دی، کہا: محمد بن احمد بن ابی عبداللہ برقی نے ہمیں خبر دی، کہا: زکریا بن آدم نے مجھے بتایا:
میں امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں تھا کہ امام جواد علیہ السلام کو لایا گیا جبکہ ان کی عمر چار سال سے کم تھی۔ پس انہوں نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا اور گہری سوچ میں ڈوب گئے۔
امام رضا علیہ السلام نے فرمایا: میری جان تم پر قربان ہو، اتنی دیر سے کس بات میں سوچ رہے ہو؟
امام جواد علیہ السلام نے فرمایا: اس ظلم کے بارے میں جو میری ماں فاطمہ (سلام اللہ علیہا) پر کیا گیا۔
خدا کی قسم! میں ان دونوں (ظالموں) کو قبروں سے نکالوں گا، پھر انہیں آگ میں جلا دوں گا، پھر ان کی راکھ اڑا دوں گا، پھر ان کی خاک کو دریا میں بہا دوں گا۔
یہ سن کر امام رضا علیہ السلام ان کے قریب آئے، ان کے دونوں آنکھوں کے درمیان بوسہ دیا اور فرمایا: میرے ماں باپ تم پر قربان ہوں، تم اسی (امامت) کے اہل ہو۔
📚 دلائل الامامہ، صفحہ 400
اب ممکن ہے بعض حضرات کہیں کہ یہاں امام جواد علیہ السلام نے شیخین کا نام تو نہیں لیا، تو تم نے کیسے سمجھا کہ مراد شیخین ہی ہیں؟
جواب:
1. جملے کے پہلے حصے نے خود ہی ہمارا مقصد اور ترجمہ واضح کر دیا ہے، اور اس پر بتریہ اور ناصبیوں کا اعتراض بھی ختم ہو جاتا ہے۔ ہم سوال کرتے ہیں کہ وہ دو افراد جنہوں نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا پر ظلم کیا، وہ کون تھے؟ ہابیل اور قابیل؟ یا شیخین؟
کس نے فدک غصب کیا؟
کس نے حضرت کو شہید کیا؟
کس نے ظلم کیا؟
کس نے خلافت کو غصب کیا؟
کیا یہ ہابیل و قابیل تھے؟ یا شیخین؟
🔳 دوسرا جواب یہ ہے کہ شیعہ روایات میں بعض اوقات "هما" (وہ دونوں) یا "فلان و فلان" (فلاں فلاں) جیسے الفاظ بہت استعمال ہوتے ہیں۔
علامہ مجلسی رضوان اللہ علیہ نے اس کا جواب دیا ہے کہ روایات میں "هما" اور "فلان و فلان" سے مراد شیخین ہی ہوتے ہیں۔
🔸 ان کے قول کا ترجمہ:
قولِ معصوم (علیہ السلام): "هما" یعنی ابو بکر و عمر مراد ہیں۔
📜 مقصد یہی دو افراد ہیں: ابو بکر اور عمر
📚 مرآۃ العقول، جلد 26، صفحہ 488
نتیجہ:
1. جملے کا سیاق واضح طور پر بتاتا ہے کہ مراد ابو بکر و عمر ہیں، کیونکہ ان کے علاوہ کسی اور نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا پر ظلم نہیں کیا۔
2. اگر کوئی انکار کرے تو اسے اپنی عقل پر شک کرنا چاہیے، کیونکہ یہ بات اتنی واضح ہے کہ اس کی وضاحت کی بھی ضرورت نہیں۔
3. علما نے بھی تصریح کی ہے کہ روایات میں "هما" سے مراد ابو بکر و عمر ہیں۔
🔴 روایت کی سند کی تصحیح:
1⃣ محمد بن ہارون بن موسیٰ
وہ شیخ نجاشی کے معتبر اساتذہ میں سے ہیں، اور نجاشی کے تمام اساتذہ ثقہ ہیں۔
✍ معجم رجال الحدیث، ج 16، ص 17
2⃣ ہارون بن موسیٰ التلعکبری
رجال نجاشی، ص 439: "ہمارے اصحاب میں قابل اعتماد، معتبر اور معتمد تھے، ان پر کوئی طعن نہیں۔"
رجال طوسی، ص 449: "بلند مقام، وسیع روایت، بے نظیر، ثقہ۔"
3⃣ محمد بن الحسن بن احمد بن الولید
رجال نجاشی، ص 383: "قم کے مشہور فقیہ، معتبر و پیشوا۔"
رجال طوسی، ص 439: "بلند مقام، فقیہ، ثقہ۔"
4⃣ احمد بن محمد بن خالد برقی
رجال نجاشی، ص 77: "اپنی ذات میں ثقہ تھے، اگرچہ ضعیفوں سے روایت کرتے تھے اور مرسل روایات کو بھی نقل کرتے تھے۔"
فہرست طوسی، ص 53: "ثقہ، مگر ضعیفوں سے روایت زیادہ۔"
5⃣ زکریا بن آدم اشعری
رجال نجاشی، ص 174: "ثقہ، جلیل القدر، امام رضا علیہ السلام کے نزدیک مقام رکھتے تھے۔"
الخلاصہ للحلی، ص 75: "ثقہ، جلیل القدر، امام رضا کے نزدیک معزز۔"
🔴 یہ روایت خود سنی العقیدہ عالم مسعودی نے بھی نقل کی ہے اسکین دیکھیں
#بدر_علی
#التماس_دعا
#تبدیلی_ممنوع
#تعلیمات_اہلبیتؑ
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen