Back to شہادت جناب محسن ابن علی ع

اگر رسول اللہ اُس زمانہ میں حیات ھوتے تو حضرت فاطمه س کو ڈرانے کہ جس وجہ سے انکا بچه سقط ھوا) ان لوگوں کا خون مباح قرار دے دیتے۔۔۔

اگر رسول اللہ اُس زمانہ میں حیات ھوتے تو حضرت فاطمه س کو ڈرانے کہ جس وجہ سے انکا بچه سقط ھوا) ان لوگوں کا خون مباح قرار دے دیتے۔۔۔
💠 استاد ابن ابی الحدید:
اگر رسول اللہ ﷺ زندہ ہوتے تو جس شخص نے حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کو ڈرا کر ان کا حمل گرا دیا، اُس کا خون مباح قرار دے دیتے۔
 
🔻 سقطِ جنین کا واقعہ
یہ واقعہ تاریخ میں سورج کی طرح روشن ہے، لیکن بعض علماء نے، اپنے خلفاء کی محبت میں، اس حقیقت کو چھپانے اور اس پر خاموشی اختیار کرنے کی کوشش کی ہے؛ بعض اوقات بے اختیار انہوں نے حقیقت کو تسلیم بھی کیا ہے اور اس طرح ہماری بات کے گواہ بن گئے ہیں۔
 
ابن ابی الحدید نے اپنی شرح نہج البلاغہ میں، دخترِ رسول ﷺ کے سقطِ جنین کے واقعہ کو بیان کرنے کے بعد کہا:
 
جب میں نے اپنے استاد "ابو جعفر نقیب" (شیخ معتزلہ) کو بتایا کہ جب رسول اللہ ﷺ کو یہ خبر پہنچی کہ "ہبّار بن اسود" نے زینب (دختر رسول ﷺ) کے ہودج پر نیزہ مارا، اور اس حملے سے زینب خوفزدہ ہو کر اپنا حمل گنوا بیٹھی، تو رسول اللہ ﷺ نے اس کا خون مباح قرار دے دیا۔
 
تو ابو جعفر نے کہا:
اگر رسول اللہ ﷺ زندہ ہوتے تو ضرور اُس شخص کا خون مباح قرار دیتے، جس نے فاطمہ سلام اللہ علیہا کو خوفزدہ کیا، یہاں تک کہ ان کا حمل (حضرت محسن علیہ السلام) گر گیا۔
 
✍ عربی متن:
 
📜 «...فكان أول من سبق إليها هبار بن الأسود... فلذلك أباح رسول الله ﷺ يومئذ دم هبار بن الأسود... قلت وهذا الخبر أيضاً قرأته على النقيب أبي جعفر رحمه الله فقال إذا كان رسول الله ﷺ أباح دم هبار... فظهر الحال أنه لو كان حياً لأباح دم من روّع فاطمة حتى ألقت ذا بطنها...»
 
جب میں نے (ابن ابی الحدید) نے نقیب سے کہا:
کیا میں آپ سے یہ بات نقل کرسکتا ہوں جو بعض لوگ کہتے ہیں کہ فاطمہ کو خوفزدہ کیا گیا اور انہوں نے محسن کو گرادیا؟
نقیب نے جواب دیا:
"نہیں، یہ بات مجھ سے نقل نہ کرو، لیکن اس خبر کے بطلان کو بھی مجھ سے نقل نہ کرنا، کیونکہ میں اس مسئلے میں مختلف روایات کی وجہ سے توقف اختیار کیے ہوئے ہوں۔"
 
📗 حوالہ: کتاب: شرح نہج البلاغہ
مصنف: ابن ابی الحدید
جلد: 14، صفحہ: 192
 
✍ مزید اعتراف:
ابن ابی الحدید اپنی کتاب کے دوسرے مقام پر لکھتا ہے:
 
📜 «على أن جماعة من أهل الحديث قد رووا نحوه»
 
یعنی:
اہلِ حدیث (اہلِ سنت) میں سے ایک گروہ نے بھی وہی بات روایت کی ہے جو شیعہ بیان کرتے ہیں (حضرت زہراء سلام اللہ علیہا کی شہادت کا واقعہ)۔
 
📗 حوالہ: کتاب: شرح نہج البلاغہ
مصنف: ابن ابی الحدید
جلد: 2، صفحہ: 21
 
نتیجہ:
یہ واقعہ واضح طور پر اس بات کو ثابت کرتا ہے کہ اہلِ سنت کی روایات میں بھی شیعہ نظریے کے مطابق خبریں موجود ہیں، اور خود ابن ابی الحدید اور ان کے استاد نے اس بات کا اعتراف کیا کہ جس نے دخترِ رسول ﷺ حضرت فاطمہ زہراء سلام اللہ علیہا کو خوفزدہ کیا اور ان کی شہادت کا سبب بنا، اُس کا خون مباح قرار پاتا۔
 
نوٹ: ابن ابی الحدید سنی العقیدہ شخص تھا
 
#بدر_علی 
 
Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1