"امام" محمد بن اسماعیل بخاری اپنے سلسلہ سند سے نقل کرتا ہے کہ عبداللہ بن عمر نے خبر دی کہ:
سالم جو ابو حذیفہ کا غلام تھا وہ اولین مجاھرین اور صحابہ کو مسجد قباء میں نماز پڑھاتے تھے جن میں ابوبکر، عمر، ابو سلمۃ، زید اور عامر بن ربیعۃ شامل تھے۔
اس صحیح حدیث سے مندرج زیل فوائد ثابت ہوجاتے ہیں :
۱ - اگر رسول اللہ (ﷺ) نے اس وقت ھجرت کی تھی تو رسول اللہ (ﷺ) کے بدلے سالم لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے۔ اھل سنت کا دعوہ کہ رسول اللہ (ﷺ) کی حیات میں ابوبکر نے لوگوں کو نماز پڑھائی لہذا یہ انکی خلافت کی طرف اشارہ تھا بے بیناد کہلائے گا کیونکہ اوپر والی حدیث میں پھر یہ اشارہ سالم ابو حذیفہ کے غلام کی طرف پہلے جاتا ہے۔
۲ - اگر رسول اللہ (ﷺ) نے ابھی خود ھجرت نہیں کی تھی تو ابوبکر وہاں سالم کے پیچھے مدینے میں کیسے نماز ادا کر رہا تھا جبکہ اھل سنت کے مطابق وہ "غار یار" تھا مطلب رسول اللہ (ﷺ) کے ساتھ ھجرت کا ساتھی۔
دونوں میں سے ایک بات مانے سے دوسری بات باطل قرار پائے گی۔

جب ابتدائی مہاجرین (قباء کے مقام عُصبہ میں) رسول اللہ ﷺ کی آمد سے پہلے پہنچے تو ان کی امامت سالم مولیٰ ابی حذیفہ کرتے تھے، کیونکہ وہ ان میں سب سے زیادہ قرآن جاننے والے تھے۔
📚 بخاری
ابتدائی مہاجرین کے زمانے میں سالم مولیٰ ابی حذیفہ مسجدِ قباء میں نبی ﷺ کے صحابہ کو نماز پڑھاتے تھے، جن میں ابو بکر، عمر، ابو سلمہ، زید اور عامر بن ربیعہ شامل تھے۔
📚 بخاری
Gallery
Tap any image to view full screen