Back to حضرت عمر

کیا حضرت عمر رضی عنہما مراد رسول تھے

کیا حضرت عمر  رضی عنہما مراد رسول تھے
کیا حضرت عمر  رضی عنہما مراد رسول تھے
اہلتشع کے مطابق
امام باقر علیہ السلام نے فرمایا نبی پاک ص نے دعا کی
یا اللہ ۔ابوجہل یا عمر کے زریعہ اسلام کو غلبہ عطاء فرما تو اس دعا کے بعد وحی نازل ہوئی اللہ پاک نے فرمایا
سورۃ الکہف آئت 51
وَ مَا کُنۡتُ مُتَّخِذَ الۡمُضِلِّیۡنَ عَضُدًا ﴿۵۱﴾
اور میں گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنانے والا بھی نہیں ۔
کے میں گمراہ کرنے والوں کو اپنے دین کے غلبے کا سبب نہیی بناؤں گا ۔۔اور مزکورہ آئت میں گمراہ کرنے والوں سے مراد ابوجھل اور عمر بن خطاب ہیی ۔
پھر صاحب تفسیر لکھتے ہیی
کیوں کے اس آئت سے پہلے والی آیت میں شیطانوں کا زکر ہے ۔اس لئے اس آٰئت سے مراد شیطان ہوسکتے ہیی اور کیوں کے امام باقر ع نے فرمایا اس آئت سے مراد ابوجھل اور عمر ہیی تو پس دونوں معنوں کو اکٹھا کیا جاسکتا ہے ۔شیطان کے معنی میں تصرف کیا جائے گا کیونکہ شیطان کا معنی ہے گمراہ کرنے والا خواہ وہ گمراہ کرنے والا شیطان جن ہو ی
یا شیطان انسان پس اگر مزکورہ آیت سے شیطان بھی مراد لیا جائے اور ابوجھل و عمر بھی مراد لیے جائیی تو کوئی حرج نہیی کیوں کے ابوجھل وغیرہ بھی شیطانوں میں داخل ہیی
تفسیر الصافی۔۔تفسیر سورت الکہف آئت نمبر 50 +51
نوٹ ۔۔ پوسٹ کرنے کا مقصد ایک مشہور واقعہ پر اہلتشیع کا نقطہ نظر بیان کیا گیا لہزا اہلسنت کا متفق ہونا ضروری نہیی
 
.
 
بحار الانوار میں موجود ہے
ورووا أن ابن بشير قال: قلت لأبي جعفر عليه السلام: إن الناس يزعمون أن رسول الله صلى الله عليه وآله قال: اللهم أعز الاسلام بأبي جهل أو بعمر. فقال أبو جعفر: والله ما قال هذا رسول الله صلى الله عليه وآله قط، إنما أعز الله الدين بمحمد صلى الله عليه وآله، ما كان الله ليعز الدين بشرار خلقه
ترجمہ:
اور روایت کی گئی ہے کہ ابن بشیر نے کہا: میں نے ابو جعفر علیہ السلام سے پوچھا: "لوگ یہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہم اعز الاسلام بابی جهل یا عمر بن خطاب۔" ابو جعفر علیہ السلام نے فرمایا: "اللہ کی قسم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی یہ نہیں کہا۔ بلکہ اللہ نے دین کی عزت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعے دی، اللہ نہیں چاہتا کہ وہ اپنے دین کو اپنے بدترین مخلوق کے ذریعے عزت دے۔"
.
 
بحار الانوار میں وہ روایت اس طرح ہے
تفسير العياشي (4): عن محمد بن مروان، عن أبي جعفر عليه السلام في قوله:* (ما أشهدتهم خلق السماوات والأرض ولا خلق أنفسهم وما كنت متخذ المضلين عضدا) * (5)؟. قال: إن رسول الله صلى الله عليه وآله قال: اللهم أعز الدين بعمر بن الخطاب! أو بأبي جهل بن هشام!، فأنزل الله: * (وما كنت متخذ المضلين عضدا (6) يعنيهما (7).
رسول ﷺ نے جب دعا کی تو اللّه نے آیت نازل کی
"ما أشهدتهم خلق السماوات والأرض ولا خلق أنفسهم وما كنت متخذ المضلين عضدا"
"میں نے انہیں آسمانوں اور زمین کی تخلیق کا گواہ نہیں بنایا اور نہ ہی اپنی تخلیق کا، اور نہ ہی میں نے گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنایا ہے۔" (الکہف 18:51)
 
 

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2