🔴 السّيّدة طوعة بطلة الكوفة

 

انسان اکثر ایسے مواقع سے گزرتا ہے جو اس کی زندگی میں فیصلہ کن اور نقطۂ تحول ہوتے ہیں۔ کبھی وہ اسے بلند ترین مقامات تک پہنچا دیتا ہے اور کبھی اسے گہرائیوں میں گرا دیتا ہے۔

 

حر رضی اللہ عنہ نے ایسا ہی موقع پایا، انہوں نے بہترین انتخاب کیا اور ان کے انتخاب کا نتیجہ جنت ہوا۔ جبکہ عمر بن سعد (لع_نت اللہ علیہ) نے بھی انتخاب کا موقع پایا تو اس نے ایک فانی حکومت کا انتخاب کیا، چاہے اس کی قیمت امام حسین علیہ السلام کا خون ہی کیوں نہ ہو۔

 

طوعہ ایک عام عورت تھی، مگر اہل بیت علیہم السلام کے ساتھ ولاء نے اسے ایک ایسے سست اور بے ارادہ معاشرے میں فعال عنصر بنا دیا جہاں غداری اور وعدہ خلافی عام سمات بن چکی تھیں۔

 

طوعہ نے اس نازک وقت میں وہ کام کیا جو مرد بھی نہ کر سکے، اس لیے تاریخ نے اسے ہمیشہ کے لیے امر کر دیا اور اسے امام حسین علیہ السلام کی نصرت کا تمغہ ملا۔ وہ واقعہ کربلا کی عظیم داستان کا حصہ بن گئی۔ کوئی بھی کتاب جو امام حسین علیہ السلام کی تحریک پر لکھی جائے، اس میں طوعہ کا ذکر ضرور ملتا ہے۔

 

⁉️ طوعہ کون تھی اور امام حسین علیہ السلام کی نصرت میں اس کا کردار کیا تھا؟

 

طوعہ اشعث بن قیس کی لونڈی تھی۔ اشعث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے صحابی تھے مگر بعد میں مرتد ہو گئے اور ملعون خارجیت اختیار کر لی۔

 

شیخ صدوق کی روایت کے مطابق وہ ان لوگوں میں سے تھے جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے فرمان "من كنت مولاه فهذا علي مولاه" کی گواہی چھپائی۔

 

اشعث نے اسے آزاد کیا تو اس کا نکاح اسید بن مالک سے ہوا جو آل محمد کے دشمنوں میں سے تھا۔ طوعہ اس رشتے سے ناخوش تھی کیونکہ وہ اموی حکومت کے غلاموں میں سے تھا۔ اس کے سایہ میں وہ ایک غمگین زندگی گزار رہی تھی۔ مگر ان دونوں شوہروں کی اہل بیت علیہم السلام سے دشمنی نے اس مومنہ عورت کے ولاء پر کوئی اثر نہ ڈالا۔

 

اس نے وہ کام کیا جس سے کمزور لوگ دستبردار ہو گئے۔ اس دور کے اندھیرے میں اس کا نور چمکا اور اس کے انجام کی خوشنصیبی یہ ہوئی کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ کی شفاعت اور جنت الفردوس میں ان کے جوار کی سعادت ملی۔

 

⭕ مسلم بن عقیل علیہ السلام کی نصرت میں اس کا کردار

 

مسلم بن عقیل علیہ السلام امام حسین علیہ السلام کے سفیر بن کر کوفہ آئے۔ اہل کوفہ نے ان سے بیعت کی، تعداد اٹھارہ ہزار تک پہنچ گئی۔ مگر جب عبید اللہ بن زیاد کوفہ داخل ہوا تو صورتحال یکدم پلٹ گئی۔

 

ابن زیاد نے کئی اقدامات کیے:

- اپنے درباری اشرافیہ کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو محل سے دیکھیں، اہل اطاعت کو انعام و اکرام کا لالچ دیں اور اہل معصیت کو سزا اور محرومی کا ڈر دکھائیں۔

- پولیس کو لوگوں پر چھوڑ دیا تاکہ وہ شامی فوج کے آنے کا ڈر دکھائیں۔

- عورتیں اپنے بیٹوں اور بھائیوں کو کہنے لگیں کہ لوگ واپس جا چکے ہیں، تم بھی لوٹ آؤ۔ مرد بھی یہی کر رہے تھے۔

 

آخر کار مسلم کے ساتھ صرف تیس آدمی رہ گئے۔ مغرب کی نماز پڑھ کر جب وہ مسجد کے دروازے کی طرف نکلے تو صرف دس باقی رہے، اور باہر نکلتے ہی وہ بھی چھوٹ گئے۔

 

ابن زیاد نے اعلان کیا کہ جس نے مسلم کو پناہ دی اس کی ذمہ داری ختم۔  

مسلم کو پکڑنے والے کو دس ہزار درہم، یزید کے دربار میں بلند مقام اور روزانہ حاجت پوری کرنے کا وعدہ کیا گیا۔  

مسلم کے حامیوں جیسے مختار ثقفی، عبدالاعلیٰ کلبی، اصبغ بن نباتہ وغیرہ کو گرفتار کر لیا گیا۔  

گلیوں میں پولیس اور پہرے بڑھا دیے گئے، گھروں کی تلاشی لی جانے لگی۔

 

مسلم بن عقیل علیہ السلام تنہا رہ گئے۔ تھکاوٹ اور تھکن کی انتہا تھی۔ گلیوں میں پہرے تھے۔ آخر کار وہ طوعہ کے گھر کے دروازے پر پہنچ گئے۔

 

طوعہ اپنے بیٹے کا انتظار کر رہی تھی جو لوگوں کے ساتھ گیا ہوا تھا۔ مسلم قریب آئے اور پانی مانگا۔ اس نے پانی پلایا مگر وہ نہ گئے۔ کھڑے رہے۔

 

طوعہ نے کہا: "اے اللہ کے بندے! کیا آپ نے پانی نہیں پیا؟"  

انہوں نے کہا: "جی ہاں۔"  

وہ بولی: "اپنے گھر والوں کے پاس جائیے۔"  

وہ خاموش رہے۔  

اس نے دوبارہ کہا۔ وہ ایک پاک دامن عورت تھی، اجنبی کا دروازے پر کھڑا رہنا اسے ناگوار تھا۔

 

آخر میں اس نے کہا: "سبحان اللہ! اے اللہ کے بندے! اٹھئیے، آپ کو عافیت دے، اپنے گھر والوں کے پاس جائیے۔ میرے دروازے پر بیٹھنا آپ کے لیے جائز نہیں، میں آپ کو حلال نہیں کرتی۔"

 

مسلم نے جواب دیا: "اے اللہ کی بندی! اس شہر میں نہ میرا کوئی گھر والا ہے نہ قبیلہ۔ کیا آپ کو اجر اور نیکی کا موقع چاہیے؟ شاید میں کل آپ کا بدلہ دے سکوں۔"  

طوعہ نے پوچھا: "وہ کیا؟"  

انہوں نے کہا: "میں مسلم بن عقیل ہوں۔ یہ لوگ مجھ سے جھوٹ بولے اور دھوکہ دیا۔"  

طوعہ نے حیرت سے کہا: "آپ مسلم ہیں؟"  

انہوں نے کہا: "جی ہاں۔"  

وہ بولی: "آئیے، بڑے اہتمام سے داخل ہوں۔"

 

اس نے انہیں ایک الگ کمرہ دیا، بستر بچھایا، کھانا پیش کیا مگر وہ صرف پانی پر اکتفا کر کے سو گئے۔

 

جب اس کا بیٹا واپس آیا تو اس نے ماں کی بار بار اس کمرے میں جانے پر شک کیا۔ دباؤ ڈالا تو طوعہ نے سخت قسمیں دلانے کے بعد راز بتایا۔ بیٹا رات بھر جگر پر انگارے رکھ کر سوتا رہا اور صبح اٹھ کر غداروں کو راز بتا دیا۔

 

مسلم کو گرفتار کر کے قصر امارت پر لے جایا گیا، وہاں ان کا سر مبارک قلم کیا گیا اور لاش نیچے پھینک دی گئی۔

 

بدر علی

 

⭕ مسلم کی شہادت کے بعد طوعہ

 

مسلم کی شہادت کے بعد ابن زیاد نے طوعہ کو گرفتار کرنے اور اس کا گھر مسمار کرنے کا حکم دیا۔ اسے لوہے کی زنجیروں میں جکڑ کر اس کے سامنے پیش کیا گیا۔

 

ابن زیاد نے پوچھا: "تم نے مسلم بن عقیل کو پناہ کیوں دی؟"  

طوعہ نے جواب دیا: "کیوں نہ پناہ دوں؟ وہ رسول اللہ کے چچا زاد بھائی اور میرے آقا امام حسین علیہ السلام کے سفیر ہیں۔"  

ابن زیاد نے کہا: "یہ لوگ خوارج ہیں۔"  

طوعہ نے بڑی جرأت سے کہا: "یہ لوگ دین کے امام ہیں۔ خوارج تو تم اور تمہارا باپ ہو۔"  

ابن زیاد نے کہا: "خاموش ہو جا اے گمراہ عورت!" پھر اسے قید خانے میں بھیج دیا۔

 

قید خانہ اہل بیت کے حامیوں سے بھرا ہوا تھا۔ کچھ عرصے بعد ایک رشتہ دار جو حکومت کا حامی تھا، اسے رہا کروا لے گیا۔ وہ کمزور اور بیمار حالت میں باہر آئی۔ زیادہ دن نہ گزرے کہ شدید بیماری نے اسے اپنا شکار بنا لیا اور وہ وفات پا گئی (رضوان اللہ علیہا)۔

 

سیدنہ طوعہ نے ایک ہی موقف لیا مگر وہ بہت بلند اور مشرف تھا۔ اس سے اس کے رسالتی شعور، واضح سوچ، گہرے ایمان اور اہل بیت کے ساتھ ولاء کا اظہار ہوتا ہے۔ اس لیے تاریخ نے اسے امر کر دیا۔

 

اس کا نام بطل کوفہ مسلم بن عقیل کے نام کے ساتھ ہمیشہ کے لیے جڑ گیا۔ جب حکومت کے جلاد ان پر حملہ آور ہوئے تو مسلم نے فرمایا: "ہاں، مجھے موت آنی ہی تھی، مگر تم نے اپنا فرض نبھا دیا، برائی اور احسان کیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی شفاعت میں اپنا حصہ پا لیا۔"

 

وہ ایک ایسی عورت تھی جو مردوں سے بھرے معاشرے میں اکیلی کھڑی رہی، مگر اس نے ذمہ داری اٹھائی۔ وہ دوسری کوفی عورتوں کی طرح اپنے مردوں سے یہ نہ کہہ سکی کہ "واپس آ جاؤ، لوگ کافی ہیں"، بلکہ حق کی نصرت کا فریضہ ادا کیا اور ثابت کیا کہ عظیم اور خالدہ مواقع مردوں تک محدود نہیں۔

 

📚 مآخذ

 

الطبري، تاريخ الرسل و الملوك، ج5، ص371

 ابن الأثير،الكامل في التاريخ، ج3،ص349

 أحمد بن محمد، مسكويه، تجارب الأمم و تعاقب الهمم، ج2، ص31

 

نساء حول الحسین (سعید رشید زميزم)  

سفیر الحسین مسلم بن عقيل (محمد نعمۃ السماوی)  

الشهيد مسلم بن عقيل (سید عبدالرزاق المقرم)  

نفس المهموم (شیخ عباس قمی)  

نساء الطفوف (کفاح الحداد)  

 

🖋 خدیجہ احمد موسیٰ

 

📑 بدر علی