Back to حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام

حدیث اقتداء بہ شیخین کا راوی اور قاصدِ امام حسینؑ

حدیث اقتداء بہ شیخین کا راوی اور قاصدِ امام حسینؑ
حدیث اقتداء بہ شیخین کا راوی اور قاصدِ امام حسینؑ

🔴 حدیث اقتداء بہ شیخین کا راوی اور قاصدِ امام حسینؑ

 

اس کا شمار اہلسنت کے نزدیک مشہور و معروف احادیث میں ہوتا ہے    

 

*لیکن*

 

بخاری اور مسلم نے عام طور سے اپنی کتابوں میں اس حدیث کو ذکر نہیں کیا ہے ہم یہاں پر اس حدیث کی حذیفہ کی سند کے ذریعہ سے بیان کیا گیا ھے 

 

حذیفہ کی حدیث کو احمد بن حنبل ، ترمذی بن ماجہ ، حاکم نیشاپوری اور بن حازم نے نقل کیا ہے کہ پیغمبر اسلام (ص) نے فرمایا :

 

📜 اقتدوا باللذین من بعدی ابی بکر و عمر (۱)

 

📝 تم لوگ میرے بعد آنے والے شخص کی اقتداء کرو یعنی ابی بکر و عمر کی۔

 

لیکن حذیفہ کی یہ روایت جو مشہور ترین اسناد طرف سے بیان ہوئی ہے اس حدیث کی تمام سندیں 👈 *عبد الملک بن عمیر* کی طرف پلٹتی ہیں جو کہ *مدلّس، بہت زیادہ ضعیف* اور اس کی حدیثوں میں بہت زیادہ *غلطیاں اور اضطراب* پایا جا تا ہے ۔  

 

احمد بن حنبل اس شخص کے متعلق کہتے ہیں : 

 

📝 یہ شخص روایت نقل کرنے میں *مضطرب الحدیث* ہے اور ہم نے اس کی پانچ سو سے کم حدیثوں کا مشاہدہ کیا ہے جن میں اس نے بہت زیادہ اشتباہ کیا ہے (۲)

 

اسحقاق بن منصور نے کہا ہے کہ احمد بن حنبل نے اس کو واقعاً *ضعیف* کہا ہے (۳)۔

 

ذھبی نے کہا ہے : ا بن جوزی نے اس کے متعلق جرح و تعدیل کی ہے اور اس کو *موثق بھی نہیں* جانا ہے (۴)  

 

سمّعانی اور ابن حجر عسقلانی نے اس کو *مدّلس الحدیث* شمار کیا ہے (۵)۔

 

👈🏼 *عبد الملک بن عمیر وہی شخص ہے جس نے کوفہ میں امام حسین علیہ السلام کے قاصد قیس بن مسھّر صیداوی کا سر، تن سے جدا کیا تھا*۔ جس وقت ابن زیاد کے حکم سے ان کو قصر کی چھت سے نیچے گر ایا گیا تھااور ابھی ان کے جسم میں تھوڑی سی رمق حیات باقی تھی ،جب اس نے آپ کا سر تن سے جدا کیا تھا جب کچھ لوگوں نے اس پر اعتراض کیا تو اس نے جواب میں کہا میں ان کو راحت پہو نچانے کی فکر میں تھا (۶)۔

 

*حوالہ جات* 

 

(۱)کتاب مسند احمد جلد ۵ ، ص ۳۸۲ ۔۳۸۵ و کتاب صحیح ترمذی باب مناقب ابو بکر و عمر و باب مناقب عمار بن یاسر ، سنن ابن ماجہ باب مناقب ابو بکر ، مستدرک حاکم ، جلد ۳ ،ص ۷۵ ،الاحکام فی الاصول الاحکام جلد ۲ ، ص ۲۴۲ ۔ 

(۲)کتاب تھذیب التھذیب جلد ۶ ، ص ۴۱۱۔ 

(۳)کتاب تھذیب التھذیب جلد ۶ ، ص ۴۱۲ ۔ 

(۴) کتاب میزان الاعتدال جلد ۲ ص ۶۶۰۔ 

(۵) کتاب الالساب جلد ۱۰ ،ص ۵۰ و تقریب التھذیب جلد ۱ ، ص ۵۲۱ ۔ 

(۶) کتاب مقتل الحسین ص ۱۸۵

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2