🔴 حضرت مسلم علیہ السلام کے حوالے سے مصائب کی روایات
⭕ سید الشہداء علیہ السلام یتیم بچی مسلم علیہ السلام کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتے ہیں...
حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کی ایک گیارہ سالہ بیٹی تھی جس کا نام حمیدہ تھا۔ وہ امام حسین علیہ السلام کی بیٹیوں کے ساتھ رہتی تھی اور دن رات ان کے ساتھ مصاحبت رکھتی تھی۔
جب امام حسین علیہ السلام کو مسلم علیہ السلام کی شہادت کی خبر ملی،
"امام حسین علیہ السلام اپنی مجلس سے اٹھے اور خیمے میں آئے، پھر بچی کو اپنے قریب بلا کر اس کی دلجوئی کی۔ بچی نے فوراً کسی ناگوار واقعے کا اندازہ کر لیا۔"
▪️ آپ خیمے میں آئے اور مسلم کی بیٹی کو بلایا، پھر اس کے سر پر شفقت کا ہاتھ پھیرا۔ بچی کو کسی ناخوشگوار خبر کا احساس ہو گیا۔
"کیونکہ امام حسین علیہ السلام نے اس کے سر اور پیشانی پر اسی طرح ہاتھ پھیرا جیسے یتیموں کے سروں پر رکھا جاتا ہے۔"
▪️ تب اس نے عرض کیا:
"یا ابن رسول اللہ! آپ میرے ساتھ یتیموں جیسا برتاؤ کیوں کر رہے ہیں؟ کیا میرے والد شہید ہو چکے ہیں؟"
"یہ سن کر امام حسین علیہ السلام خود پر قابو نہ رکھ سکے اور رونے لگے، پھر فرمایا: اے بیٹی! اگر مسلم نہ رہے تو میں تمہارا باپ ہوں اور میری بیٹیاں تمہاری بہنیں ہیں۔"
مسلم کی بیٹی نے ایک درد بھری چیخ ماری اور زار و قطار رونے لگی۔ مسلم کے دیگر بچوں نے سرد آہیں بھریں، شدت سے گریہ کیا اور اپنے عمامے زمین پر رکھ دیے۔
📚 مآلی السبطین، ج ۱، ص ۲۶۶
📚 المنتخب، ج ۲، ص ۳۷۲
📚 الدمعۃ الساکبہ، ج ۴، ص ۲۴۷
📚 أسرار الشہادۃ، ص ۲۵
⭕ یا ابا عبداللہ!
کیا ہی خوبصورت وہ لمحہ تھا جب آپ نے مسلم کی یتیم بچی کے سر پر دست شفقت رکھا..
لیکن ہم کیسے بیان کریں اور کس طرح گریہ کریں اس لمحے پر، جب آپ کی اپنی یتیم بیٹی فاطمہ صغریٰ (حضرت سکینہ سلام اللہ علیہا) کہتی ہیں:
"میں خیمے کے دروازے پر کھڑی تھی اور دیکھ رہی تھی کہ میرے والد اور ان کے ساتھیوں کے سر کٹے لاشے قربانی کے جانوروں کی طرح ریت پر پڑے تھے، اور گھوڑے ان کے جسموں پر دوڑ رہے تھے۔
➖ میں سوچ رہی تھی کہ والد کے بعد ہمیں بنی امیہ کے ہاتھوں کیا سہنا ہوگا؟ کیا ہمیں قتل کیا جائے گا یا قید کر لیا جائے گا؟
➖ اچانک میں نے دیکھا کہ گھوڑوں پر سوار لوگ عورتوں کو نیزوں کے دباؤ سے دھکیل رہے تھے، اور عورتیں ایک دوسرے سے لپٹ کر پناہ لے رہی تھیں۔ ان کے سروں سے چادریں اور ہاتھوں سے کنگن چھین لیے گئے تھے۔
وہ چیخ رہی تھیں:
"وا جدّاہ! وا ابتاہ! وا علیاہ! وا قلة ناصراہ! وا حسن اہ! وا حسین اہ"
"کیا کوئی فریاد رس ہے جو ہماری مدد کو آئے؟ کیا کوئی ہے جو ہماری حفاظت کرے؟"
➖ اس المناک منظر سے میرا دل خوف سے بھر گیا، میرا جسم کانپنے لگا۔ میں ڈر رہی تھی کہ کہیں وہ لوگ میری طرف نہ آ جائیں، اس لیے میں اپنی پھوپھی ام کلثوم کے پاس پناہ لینے لگی۔
➖ میں ابھی اسی خوف میں تھی کہ اچانک دیکھا وہ شخص میری طرف بڑھا۔ میں نے بھاگنے کی کوشش کی، لیکن وہ میرے پیچھے آیا۔ میں نے سوچا شاید میں بچ جاؤں، مگر وہ نیزے کی نوک سے مجھ پر وار کر چکا تھا، جس سے میں زمین پر منہ کے بل گر گئی۔
➖ اس نے میرا کان زخمی کر دیا، میرے گوشوارے اور چادر چھین لی۔ میرے سر اور چہرے سے خون بہنے لگا، اور جلتی دھوپ میری کھال جھلسا رہی تھی..."
📚 جلاء العیون، ص ۶۹۴
#بدر_علی
⭕ سنگ اور آگ، طوعہ کے گھر میں پھینک دی گئی تاکہ امام حسین علیہ السلام کے سفیر کو باہر نکالا جا سکے...
... صبح کا وقت تھا جب ابن زیاد لعین کے لشکریان طوعہ کے گھر کے دروازے پر پہنچے۔ جب حضرت مسلم علیہ السلام نے گھوڑوں کے سموں کی آواز اور لشکر کی ہلچل سنی،
"حضرت مسلم رحمۃ اللہ علیہ مسکرا دیے، پھر فرمایا:
اے نفس! اٹھ اور موت کو گلے لگا، کہ اس سے بچنے کی کوئی راہ نہیں!"
طوعہ نے عرض کیا:
"اے میرے آقا! کیا آپ نے خود کو موت کے لیے تیار کر لیا ہے؟"
حضرت نے فرمایا:
"ہاں، خدا کی قسم! اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔"
"لشکریوں نے گھر پر پتھروں کی بارش کر دی اور نیزوں کے سروں کو آگ لگا کر اندر پھینک دیا۔"
تب حضرت مسلم علیہ السلام نے طوعہ کی طرف دیکھ کر فرمایا:
"اے ماں! میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھ پر حملہ کر دیں اور میں تیرے گھر میں ہوں!"
(گویا حضرت مسلم کو سیدہ زہرا سلام اللہ علیہا کے گھر کو جلائے جانے کا منظر یاد آ گیا اور وہ نہیں چاہتے تھے کہ ایک اور عورت کو آگ اور دھویں میں مبتلا کیا جائے۔)
"پھر وہ دروازے کی طرف بڑھے، اسے جڑ سے اکھاڑ دیا، اور گھر سے باہر نکل آئے۔"
ان کے بازو اتنے مضبوط تھے کہ جیسے ہی وہ لشکر کے سامنے آئے، سپاہیوں کے جسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور ان کے کپڑوں سے باہر جھانکنے لگے۔
⭕ حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام کی شجاعت و طاقت کے بارے میں لکھا گیا ہے:
"وہ اتنی طاقت رکھتے تھے کہ ایک آدمی کو ہاتھوں سے اٹھا کر گھر کی چھت پر پھینک دیتے تھے۔"
📚 مقتل ابو مخنف، ص ۳۳
📚 أسرار الشہادۃ، ص ۲۲۵
📚 معالی السبطین، ج ۱، ص ۲۳۵
📚 الفتوح (ابن اعثم)، ج ۵، ص ۹۲
📚 تاریخ طبری، ج ۷، ص ۲۹۲۱
⭕ "میں اس شہر میں بے یار و مددگار ہوں، نہ میرا کوئی گھر ہے، نہ اہل و عیال..."
تاریخ بیان کرتی ہے:
... رات کا وقت تھا، حضرت مسلم علیہ السلام کوفہ کی گلیوں میں تنہا اور سرگردان پھر رہے تھے، یہ نہیں جانتے تھے کہ کہاں جائیں۔ یہاں تک کہ ایک بوڑھی خاتون "طوعہ" کے دروازے پر پہنچے، وہاں رک گئے اور اس سے پانی طلب کیا۔
طوعہ نے پانی لا کر دیا اور حضرت مسلم علیہ السلام نے نوش فرمایا۔
� طوعہ برتن اندر لے جا کر دوبارہ باہر آئی اور انہیں دروازے پر کھڑا دیکھا۔
اس نے کہا:
"اے بندۂ خدا! کیا تم نے پانی نہیں پیا؟"
حضرت نے فرمایا: "ہاں، پی لیا ہے۔"
طوعہ نے پوچھا:
"پھر اپنے گھر کیوں نہیں جاتے؟"
حضرت خاموش رہے۔
طوعہ نے پھر یہی بات کہی، لیکن حضرت نے کچھ نہ کہا۔ تیسری بار اس نے کہا:
"سبحان اللہ! اے بندۂ خدا! اللہ تمہیں برائیوں سے محفوظ رکھے، یہاں سے چلے جاؤ اور اپنے گھر جاؤ، کیونکہ میرے دروازے پر رکنا مناسب نہیں، میں نہیں چاہتی کہ اس وقت رات میں میرے گھر کے سامنے کوئی ٹھہرے۔"
➖ تب حضرت مسلم علیہ السلام اٹھے اور فرمایا:
"اے اللہ کی بندی! اس شہر میں میرا نہ کوئی گھر ہے، نہ خاندان۔ کیا تم مجھ پر احسان کر سکتی ہو کہ میں آج کی رات تمہارے گھر میں قیام کر لوں؟ شاید میں کل تمہاری نیکی کا بدلہ چکا سکوں۔"
طوعہ نے کہا:
"اے بندۂ خدا! تمہارا اس شہر میں کوئی گھر کیوں نہیں؟"
حضرت نے جواب دیا:
"میں مسلم بن عقیل ہوں۔
ان لوگوں نے مجھ سے جھوٹ بولا، مجھے دھوکہ دیا اور بالآخر تنہا چھوڑ کر بے یار و مددگار نکال دیا۔"
طوعہ نے تعجب سے کہا:
"کیا واقعی تم مسلم ہو؟"
حضرت نے فرمایا: "ہاں۔"
تب طوعہ نے کہا: "آئیے اندر تشریف لایے۔"
پھر اس نے حضرت کو ایک الگ کمرے میں ٹھہرایا، آرام کا سامان فراہم کیا اور کھانے کے لیے کچھ پیش کیا، لیکن حضرت مسلم علیہ السلام نے کھانے سے انکار کر دیا...
📚 مقاتل الطالبین، ص ۶۷
📚 الارشاد، ج ۲، ص ۵۴
#بدر_علی
⭕ "میرا کوئی امیر نہیں سوائے میرے مولا حسین بن علی علیہما السلام کے..."
⚡️ ابن زیاد کے محل میں حضرت مسلم علیہ السلام کا پُرعزم اور باوقار جملہ
جب حضرت مسلم علیہ السلام کو زنجیروں میں جکڑ کر ابن زیاد لعین کے دربار میں لایا گیا، تو ان سے کہا گیا:
"امیر کو سلام کرو!"
حضرت مسلم علیہ السلام نے فرمایا:
السّلامُ على مَنِ اتَّبَعَ الهُدى، وَ خَشيَ عَواقِبَ الرِّدىٰ، وَ أطاعَ المَلِكَ الأعلَى۔
"سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے، اپنے انجام سے خوف کرے اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرے۔"
یہ سن کر ابن زیاد ملعون ہنسنے لگا، اور کچھ لوگوں نے حضرت مسلم علیہ السلام سے کہا:
"کیا تم نہیں دیکھ رہے کہ امیر تم پر ہنس رہا ہے؟ اسے 'امیر' کہہ کر سلام کرو!"
یہ سن کر حضرت مسلم علیہ السلام نے پُرعظمت اور جرأت مندانہ لہجے میں فرمایا:
"وَ اللّهِ ما لي أمِيرٌ غَيرُ الحُسَينِ بنِ عَليٍّ عليهما السّلام۔"
"اللہ کی قسم! میرا کوئی امیر نہیں، سوائے حسین بن علی علیہما السلام کے!"
جو ابن زیاد کو امیر کہتا ہے، وہی ہے جو موت سے ڈرتا ہے...
📚 مخزن البکاء، ص ۳۸۷
📚 المنتخب، ج ۲، ص ۴۲۷
⭕ قربان جاؤں اس سفیر پر، جس کے مقدر میں لکھا تھا کہ اپنے مولا کی طرح، پیاس کی حالت میں شہید ہو...
... حضرت مسلم علیہ السلام شدید کمزوری اور پیاس کی وجہ سے دیوار کے سہارے بیٹھ گئے۔
عمرو بن حریث کو حضرت مسلم علیہ السلام پر ترس آیا، اس نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ ان کے لیے پانی لائے۔
غلام نے کوزہ بھر کر ایک پیالہ حضرت مسلم علیہ السلام کے سامنے رکھا۔
فَأَخَذَ كُلَّمَا شَرِبَ امْتَلَأَ القَدَحُ دَمًا مِن فَمِهِ
▪️ جب بھی پانی پینے کی کوشش کی، پیالہ ان کے دہن مبارک سے نکلنے والے خون سے بھر جاتا۔
انہوں نے وہ پانی گرا دیا اور دوسرا پانی مانگا،
لیکن دوبارہ خون آلود ہو گیا۔
تیسری مرتبہ جب پینے لگے، تو...
سَقَطَتْ ثَنَايَاهُ فِي القَدَحِ
▪️ ان کے سامنے کے دندان مبارک پیالے میں گر گئے۔
🔻 اس وقت حضرت مسلم علیہ السلام نے فرمایا:
"الْحَمْدُ لِلَّهِ لَوْ كَانَ مِنَ الرِّزْقِ الْمَقْسُومِ لَشَرِبْتُهُ."
▪️ "سب تعریف اللہ کے لیے ہے... گویا مقدر میں نہیں تھا کہ میں دنیا میں پانی پیوں..." 😭
📚 بحارالانوار، ج ۴۴، ص ۳۵۵
⭕ چچا امیرالمؤمنین علیہ السلام کو خواب میں دیکھا...
صبح کے وقت، جب طوعہ حضرت مسلم علیہ السلام کے لیے وضو کا پانی لے کر آئی،
تو اس نے عرض کیا:
"اے میرے مولا! آپ نے رات بھر کیوں آرام نہیں کیا؟"
حضرت مسلم علیہ السلام نے فرمایا:
"اندکی نیند آئی تھی، اور خواب میں اپنے چچا امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو دیکھا،
وہ فرما رہے تھے:
ألْوحا ألْوحا، اَلْعَجَل اَلْعَجَل
▪️ "جلدی کرو، جلدی کرو! شتاب کرو، شتاب کرو!"
وَ ما أظَنّ ألاّ أنَّهُ آخَر أيّامِي مِنَ الدُّنْيا.
▪️ "مجھے لگتا ہے کہ آج میری دنیا میں آخری صبح ہے..." 😭
📚 المنتخب، طریحی، ص ۴۱۵
⭕ مسلم بن عقیل کا گریہ، صرف حسین اور آلِ حسین کے لیے تھا...
نقل کیا گیا ہے:
وَ اجْتَمعُوا حَولَهُ، وَ انْتَزعُوا سَيفَهُ مِن عُنُقِه، فَكأنّهُ عند ذلكَ آيِسٌ مِن نَفسِه، فَدَمَعَتْ عَيناهُ
▪ دشمنوں نے حضرت مسلم علیہ السلام کو گھیر لیا اور ان کی گردن پر تلوار رکھی،
گویا وہ اپنی زندگی سے مایوس ہو گئے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے،
پھر فرمایا:
إِنَّا لِلَّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ.
➖ عمرو بن عبید اللہ نے حضرت مسلم علیہ السلام سے کہا:
"تم جیسے بہادر اس وقت نہیں روتے!"
حضرت مسلم علیہ السلام نے فرمایا:
إنّي وَ اللّهِ ما لِنَفسي أبكي،وَ لٰكِن أبكي لِأهلي الْمُقبلينِ إلَيَّ، أبكي لِلحسينٍ و آلِ الحسينٍ.
▪ خدا کی قسم! میں اپنے لیے نہیں رو رہا، بلکہ ان اہلِ بیت کے لیے رو رہا ہوں
جو میرے پیچھے آ رہے ہیں... میں حسین اور آلِ حسین علیہم السلام کے لیے رو رہا ہوں۔ 😭
📚 التّاريخ الطّبري، ج ۵، ص ۳۷۳
📚 البداية و النّهاية، ج ۸، ص ۱۵۸
📚 نفس المهموم، ص ۱۱۳
⁉️ سوال:جناب مسلم بن عقیل کی قبر کہاں هے اور انکی نماز جنازه کس نے پڑھائی
جواب
📜 جناب مسلم کی شهادت کے تین روز بعد عمر ابن سعد بن ابی وقاص نے جنازه پڑھایا اور قبیله مزحج نے ان کو دفن کیا اور جناب مسلم کی قبر مسجد کوفه میں هے جس مسجد میں حضرت علی کو ضرب لگی تھی اور اس مسجد میں ھی حضرت مختار ثقفی کی اور حضرت هانی بن ارواه کی بھی قبر هے
📚 لباب الانساب، بیهقی جلد ١ صفحه 397
📚 2تاریخ اسلام ذهبی؛ جلد 4 صفحه 89
📑 بدر علی
#بدر_علی
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
#اَلّٰلھُمَّ_لْعَنْ_قَتَلَۃَ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اُولاَدِ_اَلحُسَیِنَؑ_وَ_اَصحَابِ_الحُسینؑ