🔴 روزِ عرفہ (۹ ذی الحجہ) سنہ 60 ہجری میں حضرت مسلم بن عقیلؑ، جو امام حسینؑ کے سفیر تھے، کی شہادت
علامہ مجلسیؒ جلاء العیون میں نقل کرتے ہیں:
🔸 جب حضرت مسلم بن عقیلؑ نے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنی تو سمجھ گئے کہ لوگ انہیں گرفتار کرنے آئے ہیں۔ آپؑ نے فرمایا: "إِنّا لِلّهِ وَإِنّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ" اور اپنی تلوار اٹھا لی، گھر سے باہر نکل آئے۔ جب ان لوگوں پر نظر پڑی تو تلوار کھینچ کر ان پر حملہ کیا اور ان میں سے کئی کو ہلاک کر دیا۔ وہ جس طرف رخ کرتے، لوگ ان کے سامنے سے بھاگ جاتے۔ یہاں تک کہ چند افراد کو جہنم واصل کر دیا۔
اسی دوران ایک دشمن نے آپؑ کے چہرے پر ضرب لگائی جس سے اوپر والا ہونٹ زخمی ہو گیا، لیکن وہ شیرِ خدا جدھر رخ کرتے، کوئی ان کے سامنے ٹھہر نہ پاتا۔ جب دشمن آپ سے مقابلہ کرنے سے عاجز آ گئے تو گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے اور اوپر سے پتھر اور لکڑیاں پھینکنے لگے، اور آگ جلا کر نیزوں کے ذریعے آپ پر گراتے تھے۔
جب اس مظلوم سید نے یہ حالت دیکھی اور اپنی زندگی سے مایوس ہو گئے تو تلوار کھینچ کر دوبارہ ان کافروں پر حملہ کیا اور کئی کو قتل کر ڈالا۔ اس موقع پر ابن اشعث نے دیکھا کہ انہیں آسانی سے قابو نہیں کیا جا سکتا، تو کہا: اے مسلم! تم اپنے آپ کو کیوں ہلاک کرتے ہو؟ ہم تمہیں امان دیتے ہیں اور ابن زیاد کے پاس لے جائیں گے، وہ تمہیں قتل نہیں کرے گا۔
مسلمؑ نے فرمایا: تم کوفیوں کی بات پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، اور بے دین منافقوں سے وفا کی امید نہیں ہوتی۔
▪️ سید ابن طاؤس نقل کرتے ہیں:
عبداللہ بن عباس سلمی نے کہا: اے مسلم! تم کیوں روتے ہو؟ جس عظیم مقصد کے لیے تم نکلے ہو، اس کے مقابلے میں یہ تکلیفیں کچھ بھی نہیں ہیں۔
مسلمؑ نے فرمایا: میرا رونا اپنے لیے نہیں ہے، بلکہ اس مظلوم ہستی، امام حسینؑ اور ان کے اہل بیت کے لیے ہے، جو ان دھوکے باز منافقوں کے فریب میں آ کر اپنے وطن اور گھر سے نکل آئے ہیں اور اس طرف آ رہے ہیں۔ مجھے نہیں معلوم ان کے ساتھ کیا ہوگا۔
📙جلال العیون ص۶۱۸
📌 رسولِ خدا ﷺ نے فرمایا:
"مہمان کی عزت کرو، اگرچہ وہ کافر ہی کیوں نہ ہو۔"
📖 (جامع الاخبار، ص 84)
اور عنقریب ظالم جان لیں گے کہ وہ کس انجام کی طرف لوٹائے جائیں گے۔
invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen