حضرت مسلمؑ کا پلید شیطان ابن زیاد (لع_نت اللہ علیہ) کے محل میں داخل ہونا اور پیاس کی شدت
🔴 حضرت مسلمؑ کا پلید شیطان ابن زیاد (لع_نت اللہ علیہ) کے محل میں داخل ہونا اور پیاس کی شدت
... اس حالت میں محمد بن اشعث بن قیس، مسلم بن عقیل کو ابن زیاد کے محل کے دروازے تک لے آیا اور خود اندر جانے کی اجازت طلب کی۔ اسے اجازت دی گئی تو محمد بن اشعث محل میں داخل ہوا (جبکہ مسلم بن عقیل دروازے پر تھے)۔ اندر جا کر اس نے ابن زیاد کو مسلم کا سارا واقعہ بتایا، اور وہ تلوار کا وار بھی ذکر کیا جو بکر نے ان پر کیا تھا، اور وہ امان بھی بیان کی جو اس نے خود مسلم کو دی تھی۔ عبیداللہ نے کہا: تمہیں امان دینے سے کیا کام؟ کیا ہم نے تمہیں اس لیے بھیجا تھا کہ تم اسے امان دو؟ ہم نے تو تمہیں صرف اس لیے بھیجا تھا کہ اسے ہمارے پاس لے آؤ۔ یہ سن کر محمد بن اشعث خاموش ہو گیا۔
پھر مسلم بن عقیل کو محل کے دروازے پر لایا گیا۔ اس وقت پیاس نے ان پر غلبہ کر لیا تھا۔ محل کے دروازے پر ٹھنڈے پانی کا ایک گھڑا رکھا تھا۔ مسلمؑ نے فرمایا: مجھے اس پانی میں سے ایک گھونٹ دے دو۔ مسلم بن عمرو نے کہا: کیا تم دیکھتے نہیں کہ یہ پانی کتنا ٹھنڈا ہے؟ خدا کی قسم! تم اس میں سے ایک قطرہ بھی نہیں پیو گے یہاں تک کہ جہنم کا کھولتا ہوا پانی پیو!
مسلم بن عقیلؑ نے فرمایا: تیری ماں تجھے کھو دے! تو کتنا ظالم، سخت مزاج اور سنگ دل ہے! اے باہلہ کے بیٹے! تو مجھ سے زیادہ جہنم کے کھولتے پانی اور ہمیشہ آگ میں رہنے کا مستحق ہے۔
یہ فرما کر آپ بیٹھ گئے اور دیوار سے ٹیک لگا لی۔ عمرو بن حریث نے اپنے غلام کو بھیجا، اس نے ایک گھڑا لایا جس پر کپڑا ڈھکا ہوا تھا اور ایک پیالہ بھی ساتھ تھا۔ اس نے اس میں پانی ڈالا اور کہا: پی لیجیے۔
مسلمؑ نے پیالہ لیا، لیکن جب پینا چاہا تو آپ کا منہ خون سے بھر جاتا تھا اور آپ پی نہ سکتے تھے۔ ایک یا دو مرتبہ پانی گرایا گیا اور دوبارہ ڈالا گیا، مگر آپ نہ پی سکے۔ تیسری بار جب پینا چاہا تو آپ کے سامنے کے دانت پیالے میں گر گئے۔ تب آپ نے فرمایا: اللہ کا شکر ہے، اگر یہ میرے نصیب میں ہوتا تو میں اسے پی لیتا۔
📚 فارسی ترجمه ارشاد شيخ مفيد نویسنده : رسولي محلاتي، سيد هاشم جلد2 صفحه59 و اسکن الحاقی ترجمه محمدباقر ساعدی خراسانی
invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen