‼️⁉️ حضرت مسلمؑ کی شہادت کا منظر
📜 ابن زیاد نے بُکیر بن حمران کو حکم دیا کہ مسلمؑ کو دارالامارہ کی چھت پر لے جائے اور وہیں اسے قتل کرے۔
بکیر، حضرت مسلمؑ کو قصر کی چھت پر لے گیا، اس وقت حضرت مسلمؑ خدا کا تسبیح، استغفار اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ پر درود بھیج رہے تھے۔
بکیر بن حمران نے اس مظلوم کا سر تن سے جدا کیا، اور پھر گھبراہٹ اور لرزتے ہوئے نیچے اترا۔
جب ابن زیاد کے پاس پہنچا تو ابن زیاد نے پوچھا: تمہیں کیا ہو گیا ہے؟
اس نے کہا: اے امیر! جب میں نے مسلمؑ کو قتل کیا تو اچانک ایک سیاہ چہرہ اور بدصورت آدمی میرے سامنے آیا، جو یا تو اپنی انگلی یا ہونٹ کو کاٹ رہا تھا۔
اسے دیکھ کر مجھے ایسی گھبراہٹ اور خوف ہوا جیسا کبھی زندگی میں نہیں ہوا تھا۔
ابن زیاد نے کہا: شاید یہ تمہاری گھبراہٹ کی وجہ سے ہوا ہو۔
📚 اللہوف، سید ابن طاووس، جلد 1، صفحہ 58
#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد
Gallery
Tap any image to view full screen