🔴 شہادت طفلان مسلم علیہ السلام 🔴
شیخ صدوق کے مطابق اہل کوفہ کے ایک بزرگ نے کہا ہے کہ: جب امام حسین علیہ السلام شہید ہو گئے تو میدان کربلا سے مسلم کے دو شہزادوں کو گرفتار کر کے ابن زیاد کے پاس لایا گیا-
ابن زیاد ملعون نے زنداں کے داروغہ کو بلایا اور کہا: ان دو بچوں کو زندان میں ڈال دو اور ان پر سختی کرو- ان کو اچھا کھانا اور ٹھنڈا پانی ہرگز نہ دینا. اس نے ایسا ہی کیا.
وہ مظلوم بچے اس زنداں کی تنگی اور تاریکی میں رورو کر زندگی بسر کرتے رہے. دن کو روزہ رکھتے اور رات کو جو کی ایک ایک روٹی اور گرم پانی سے، جو حکومت کی طرف سے، افطار کر لیتے تھے-
یہ مدت ایک سال ہو گئی تو ایک بھائی نے دوسرے سے کہا:
ہماری زنداں کی مدت بہت لمبی ہو گئی ہے، اس طرح تو ہم قید خانے میں ہی مر جائیں گے اور ہمارے جسم اس قید خانے میں ہی ختم ہو جائیں گے. لہٰذا اپنا تعارف کرائیں شاید داروغہ کو ہم پر رحم آ جاۓ. جب شام کو داروغہ کھانا دینے آیا تو چھوٹے شہزادے نے کہا:
اے بزرگ! کیا آپ حضرت محمد صلی الله علیہ و آلہ وسلم کو پہچانتے ہیں؟
اس نے کہا: ہاں پہچانتا ہوں، وہ تو میرے نبی ہیں.
پھر شہزادے نے کہا:
کیا جعفر بن ابی طالب علیہ السلام کو جانتے ہیں؟
اس نے کہا: کہ ہاں پہچانتا ہوں جعفر تو وہ شخصیت ہیں کہ خدا نے جنت میں ان کو دو پر عطا کیے ہیں تاکہ ملائکہ کے ساتھ پرواز کرتے رہیں.
بچے نے کہا: کیا حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو پہچانتے ہو؟
اس نے کہا: ہاں انکو کیسے نہ پہچانوں، وہ تو میرے امام ہیں.
پھر شہزادے نے کہا: اے بزرگوار! ہم تمہارے پیغمبر کی عترت و ذریت ہیں- ہم مسلم بن عقیل کے بیٹے ہیں اور تمہارے ہاتھوں گرفتار ہیں- ہم پر اس قدر سختی نہ کر، کچھ نہ کچھ پیغمبر اسلام (ص) کی وجہ سے ہم پر مہربانی فرماؤ-
جونہی اس شیخ نے یہ بات سنی تو شہزادوں کے قدموں میں گر پڑا اور پاؤں کو بوسہ دے کر کہنے لگا:
اے ذریت پیغمبر! میری جان تم پر قربان، ابھی زنداں کا دروازہ کھولتا ہوں، جہاں جانا چاہو چلے جاؤ-
اس طرح جب داروغہ رات کا کھانا لے کر آیا تو بچوں کو زنداں سے آزاد کر دیا اور کہا کہ میری آنکھوں کے نور تمہارے دشمن بہت زیادہ ہیں ان سے بچتے رہنا اور رات کو سفر کرنا اور دن کو چھپ کر آرام کرنا.
یہ شہزادے سفر کرتے کرتے ایک بوڑھی ضعیفہ کے گھر پہنچے اور اس ضعیفہ نے ایک کمرے میں انہیں چھپا دیا-
دیر رات جب اس عورت کا داماد آیا تو اس نے اپنی بوڑھی ضعیفہ کو بچوں کے زندان سے نکل جانے اور انعام کے اعلان کا بتایا- عورت نے اسے نصیحت کی کہ پیغمبر کی دشمنی سے پرہیز کرو. عورت نے دروازہ کھولا اور اسے کھانا دیا. رات کو اس نے شہزادوں کی سانسوں کو چلتا محسوس کیا تو مشتعل اونٹ کی طرح اٹھا اور غصے سے آوازیں نکالنے لگا- اور سانسوں کی آواز کو سنتا ہوا شہزادوں تک جا پہنچا اور اس کا نجس ہاتھ چھوٹے شہزادے کے بالوں تک جا پہنچا.
مظلوم شہزادے نے کہا اگر ہم سچ بتا دیں تو کیا تو ہمیں تکلیف تو نہ دے گا؟
اس نےان کی جان کی امان کا اقرار کیا تو شہزادوں نے اپنا تعارف کرا دیا- جب صبح ہوئی تو اس ملعون نے اپنے غلام کو حکم دیا کہ نہر فرات کے کنارے لے جا کر انہیں قتل کر دو. لیکن جب غلام کو انکے ذریت پیغمبر ہونے کا علم ہوا تو اس نے خود نہر میں چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی-
حارث خبیث نے اپنے بیٹے کو حکم دیا کہ انہیں قتل کر دو اس نے بھی باپ کے حکم کی مخالفت کی اور نہر کے دوسرے کنارے چلا گیا.
جب اس نے یہ حال دیکھا تو خود تلوار لہراتا ہوا شہزادوں کے نزدیک آیا. شہزادوں نے رحم کی فریاد کی اور کہا کہ ہمارے چھوٹے سن اور بچپن پہ رحم کر- اس نے کہا کہ خدا نے میرے دل میں رحم پیدا ہی نہیں کیا.
پس طفلان مسلم نے نماز کی مہلت مانگی- اور چار چار رکعت نماز ادا کی اور الله تعالیٰ کے فریاد کی کہ ہمارے اور اس کے درمیان تو ہی فیصلہ فرما. اسی وقت اس ملعون نے بڑے شہزادے پر تلوار کھینچی اور سر تن سے جدا کر دیا- اور سر کو ٹوکری میں رکھ لیا- جب چھوٹے شہزادے نے یہ منظر دیکھا تو اپنے بھائی کے سر سے لپٹ گیا اور کہا کہ میں اپنے بھائی کے خون سے خضاب کرتا ہوں تاکہ اسی حالت میں رسول خدا (ص) سے ملوں.
اس ملعون نے کہا کہ میں ابھی تجھے تیرے بھائی سے ملحق کرتا ہوں اوراس نے چھوٹے شہزادے کا سر بھی تن سے جدا کر دیا اور ان کو ٹوکری میں ڈال کر عبید الله کے دربار میں جا پہنچا-
عبید الله ملعون کی نظر جب ان نورانی سروں پر پڑی تو تین دفعہ کرسی سے اٹھا اور بیٹھا- اور قاتل سے مخاطب ہو کر کہا کہ تو برباد ہو جاۓ تو نے انہیں کہاں سے تلاش کیا.
حارث ملعون نے کہا کہ یہ ایک بوڑھی عورت کے مہمان تھے-
ابن زیاد کو یہ جواب ناگوار گزرا، اس نے کہا تو نے ان کے مہمان ہونے کا بھی لحاظ نہ کیا اور اس کے قتل کا حکم دے دیا اور کہا کہ اس کو اسی نہر کے کنارے لے جا کر قتل کر دو اور اس کا سر میرے پاس لے آؤ-
جب کوفہ کےبچوں نے اس ملعون کا سر نوک نیزہ پر دیکھا تو اسے پتھر مارنے لگے اور کہنے لگے یہی ہے منکر ذریت پیغمبر .....
الله نے طفلان مسلم کی فریاد کو سنا اور ان کے اور حارث کے درمیان فیصلہ فرما دیا-
لعنت بر حارث ملعون .....
لعنت بر ابن زیاد ملعون .....
📚 مدینہ سے مدینہ تک، صفحہ: ١٣٠-١٣٥