Back to حضرت مسلم بن عقیل علیہ السلام

مسلم بن عقیل (علیہ السلام) کا اہلِ کوفہ سے خطبہ

🔴 مسلم بن عقیل (علیہ السلام) کا اہلِ کوفہ سے خطبہ (کوفہ پہنچنے کے بعد) 🪐

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

تمام تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے محمد اور علی کو اپنی ذات کے لیے دلیل بنایا، اور اپنی تمام مخلوقات میں انہیں اپنا مقام عطا کیا۔ پس ان میں سے ایک کو اپنی روح اور دوسرے کو اپنی ذات بنایا، پہلے کو اپنی مشیّت کا تاج اور دوسرے کو اپنی ارادے کی تلوار بنایا۔

 

پس ہمارے سردارِ بزرگ اللہ کی طرف سے اور اللہ کے لیے اور اللہ کے ساتھ کلام کرتے تھے، اور ہمارے سردارِ اصغر اس کی طرف سے، اس کے لیے اور اس کے ساتھ عمل کرتے تھے۔ پس دونوں پاکیزہ اور مطہر ہو کر گزر گئے۔

 

اور آج روئے زمین پر ان دونوں کا کوئی وارث نہیں سوائے حسین (علیہ السلام) کے 🪐، جو قرآن کے ہم کلام، رحمن کے مناجات کرنے والے، ایمان کے حلیف، ہر خیر کے تقسیم کرنے والے، جن کی اطاعت جن و انس، جنگلی جانوروں اور پرندوں پر فرض ہے۔

 

اے اہلِ کوفہ! عقل سے کام لو، اگر تم عقل رکھتے ہو… کیا تم نے ابو عبد اللہ حسین (علیہ السلام) کو چھوڑ دیا، جو نماز کا چراغ اور محراب کا نور ہیں، وجود کا خلاصہ اور کتاب کی تفسیر ہیں، اور انہیں شراب پینے والوں اور کتوں سے کھیلنے والوں کے حوالے کر دیا؟!

 

کیا ناپاک موت اور روشن زندگی برابر ہو سکتی ہیں؟ اور کیا شراب اور سلسبیل یکساں ہو سکتے ہیں؟ اور کیا گانے سننے والا اور جبرائیل کے سننے والا برابر ہو سکتا ہے؟!

 

میں تمہاری طرف بھیجا گیا سفیر ہوں، تمہارے درمیان نائب اور نمائندہ بن کر آیا ہوں، اللہ کی بیعت کی طرف بلانے والا ہوں، پس آؤ بیعت کی طرف، اور ابو عبد اللہ کے گھوڑے کی گرد کے پیچھے چلو، تم جنت تک پہنچ جاؤ گے۔

 

📕 ماخذ: مناقب السادة الكرام في جواهر الخطب والكلام، ص 286–287

 

🔴 سفیر امام حسین ع حضرت مسلم بن عقیل ع کا کوفہ میں خطبہ 

 

حضرت مسلم بن عقیل ع نے اللہ کی حمد اور پغیمبر خدا پر درود و سلام کے بعد فرمایا

 

📜 "اے لوگو یقینا" اللہ نے شہنشاہ انبیا ع اور امیر کائنات ع کو اپنی ذات کی دلیل قرار دیا ہے آپ جاتنے ہیں کہ ہر دعوای کی دلیل ہوتی ہے اور دعوای اس وقت تک ثابت نہیں ہوتا جب تک دلیل نہ ہو اور جس دعوای کی کوئی محکم دلیل نہ ہو وہ باطل ہوتا ہے بالکل اسی طرح ان ذوات مقدسہ کے زریعہ ہی سے اللہ کی ذات کی معرفت ہوئی ہے ذات واجب نے شہنشاہ انبیاع اور امیر کائنات ع کو تمام عالم موجودات میں اپنا قائم مقام بنایا ہے

اے اہل کوفہ اللہ نے ان دونوں کے انوار میں سے سید الانبیاع کے نور کو اپنی ذات کے لیے بلا تشبیہ روح قرار دیا ہے اس طرح یہ دونوں روح اللہ اور نفس اللہ ہیں 

اللہ نے اپنی دونوں ذات اطہار ع میں سے ایک ذات پاک کو اپنی مشیت خواہش کا تاج قرار دیا اور دوسری ذات پاک کو اپنے ارادوں کا محور قرار دیا ہے

اے لوگو اللہ نے حضرت نبی کریم ع کو اپنی بولنے والی زبان قرار دیا ہے اور حضرت امیرالمومنین ع جو بھی کام کرتے رہے وہ اللہ کی طرف سے کرتے رہے حضرت امیرالمومنین ع کو فرمان رسول ع کی عملی تفسیر بنایا 

اے لوگو آج یہاں بھی وہ ہی صورت و کفیت ہے ان دونوں ذات مقدسہ کا اس زمانہ میں سوائے تاجدار کربلا کے کوئی وارث نہیں ہے

حضرت امام حسین ع وہ ذات مقدسہ ہیں جو قرآن کے سوا کلام نہیں کرتے اور رحیم و رحمان سے سرگوشیاں کرتے ہیں اور ان کے حلیف ہیں 

حضرت امام حسین ع وہ ذات مقدسہ ہیں جو دنیا و عقبی کی ہر قسم کی خیر و برکت کو تقسیم کرنے والے ہیں ان کی اطاعت تمام جن و انس چرند و پرند اور ذی روح پر اسی واجب ہے جس طرح اللہ کی اطاعت واجب ہے 

اے اہل کوفہ اگر آپ عقل و شعور رکھتے ہیں تو عقل و شعور سے کام لیں 

اے اہل کوفہ اس فرزند رسول ع کو چھوڑنا چاہتے ہو جو نماز کے لیے روشن چراغ ہیں جو محراب و عبادت کا نور ہیں جو عالم بری وما لا بری کے وجود کا خلاصہ اور وجبہ وجود ہیں اور ام الکتاب کی تفسیر ہیں ان کی ذات مقدس کی بجائے اس شخص کی پیروی کر رہے ہو جو روز روشن میں شراب پیتا ہے اور جس میں ظاہری و باطنی خباثتیں موجود ہیں 

اے اہل کوفہ کیا تم ایسے کریم امام ع کی بجائے یزید ملعون کو منتخب کر رہے ہو جو کتوں سے دل بہلاتا ہے کیا تم آب حیات کے جاری و ساری چشمے کی بدلے جہنم کی غلاظت کو پسند کر رہے ہو ؟ 

اے اہل کوفہ مجھے شہنشائے کائنات امام ع نے تمہارے پاس اپنا سفیر بنا کر بھیجا ہے اور ہم تمہارے درمیان اللہ کی بیعت کی طرف بلانے والے ہیں اور امام حسین ع بیعت دراصل اللہ کی بیعت ہے 

اے اہل کوفہ اگر تم امام حسین ع کے نقش قدم سے اٹھنے والی دھول کے پیچھے پیچھے آجاؤ تو جنت تمہاری قدم بوسی کرے گئ 

 

کتاب: کلام امام حسین ع

صفحہ: ١١٦

 

#مظاہر_عباس Mozzahir Abbas