محمد الثقفی سے روایت ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

 

"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کی دختر، فاطمہ سلام اللہ علیھا، اپنی تسبیح میں اون کے دھاگے استعمال کرتی تھیں جس پر تسبیح کے جتنے کلمات تھے وہ باندھے ہوئے تھے۔ وہ اسے اپنے ہاتھ سے گھما کر تسبیح اور تکبیر کہتی تھیں۔ 

 

حضرت حمزہ بن عبد المطلب علیہ السلام کے شہید ہونے کے بعد، انہوں نے ان کی قبر کی مٹی کو استعمال کیا اور تسبیح بنائی، جسے لوگ استعمال کرنے لگے۔ 

 

جب حضرت حسین علیہ السلام شہید ہوئے 

تو اسی عمل کو دوبارہ اختیار کیا گیا، کیونکہ اس میں فضیلت اور برکت تھی۔"

 

📚 بحار الأنوار، ج98، ص133

📚 مستدرك الوسائل، ج4، ص12