ھند جگر خوار
ھند جگر خوار
ھند جگر خوار
ھند جگر خوار
ھند جگر خوار
ھند جگر خوار
ھند جگر خوار
ھند جگر خوار
ھند جگر خوار
ھند جگر خوار

🔴 ھند جگر خوار

 

پوسٹ نمبر 2

 

1⃣📜 أخبرني معاوية بن صالح قال حدثنا عبد الرحمن بن صالح قال حدثنا عمرو بن هاشم الجنبي عن محمد بن إسحاق عن محمد بن كعب القرطبي عن علقمة بن قيس قال قلت لعلي تجعل بينك وبين بن أكلة الأكباد حكما قال إني كنت كاتب رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الحديبية فكتب هذا ما صالح عليه محمد رسول الله وسهيل بن عمرو فقال سهيل لو علمنا أنه رسول الله ما قاتلناه امحها فقلت هو والله رسول الله وإن رغم أنفك لا والله لا أمحها فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم أرني مكانها فأريته فمحاها وقال أما إن لك مثلها ستأتيها وأنت مضطر

 

📃 علقمہ بن قیس(امام ابوحنیفہ کے دادا استاد ابراہیم نخعی کے استاد اور کوفہ میں عبداللہ بن مسعود کے شاگردوں کے سردار اور مشہور محدث اور فقیہہ) نے حضرت علی ؑ سے کہا:آپ نے جگر چبانے والی کے بیٹے اور اپنے درمیاں حکم بنایا؟

 

حضرت علی ؑ نے کہا:میں حدیبیہ کے دن رسول اللهﷺ کا کاتب تھا۔میں نے لکھا: یہ صلح رسول الله ﷺ اور سہیل بن عمرو کے درمیان ہورہی ہے۔

 

سہیل نے کہا:اگر ہم اسے الله کا رسول مانتے تو اسے قتال نہ کرتے۔ اسے مٹا دو۔

میں نے کہا:وہ الله کے رسول ہیں چاہے تجھے گراں گزرے۔الله کی قسم میں اسے ہرگز نہیں مٹاؤں گا۔

 

رسول الله ﷺ نے مجھ سے کہا:مجھے دکھاؤ کہاں لکھا ہے تو میں نے ان کو دکھایا اور انہوں نے اسے مٹا دیا۔

رسول الله ﷺ نے مجھ سے کہا: عنقریب تیرے ساتھ بھی ایسا ہی واقعہ پیش ائے گا اور تو اس وقت مضطر و مجبور ہوگا.... 

 

تبصرہ:اس صحیح السند اور متصل روایت میں علقمہ بن قیس جگر چبانے والی کا بیٹا کہتا ہے اور امام علی ؑ فورا سمجھ جاتے ہیں کہ علقمہ کی مراد باغی معاویہ ہے۔

اسلئے ثابت ہوا کہ ہندہ کا جگر چبانے کا واقعہ دور صحابہ میں اتنا مشہور تھا کہ یہ خباثت ہندہ کی پہچان تھی۔

 

📚 السنن الكبرى - النسائي - ج ٥ - الصفحة ١٦٧..

رقم الحديث : 8256

 

(تحقیق: مرحوم شجاع عباس )

 

(راويوں کی توثیق) 

 

(1) عَلْقَمَةَ بْنَ قَيْسٍ ثقة ثبت 

(2) مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ ثقة 

(3) مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ صدوق 

(4) عَمْرُو بْنُ هَاشِمٍ الْجَنْبِيُّ مقبول

(5) عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ صَالِحٍ صدوق ،

(6) مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ صدوق حسن الحديث

 

2⃣📜 أخبرنا محمد بن اسما عيل بن أبي فديك المديني عن بن أبي ذئب أن أمامة بنت أبي العاص قالت للمغيرة بن نوفل بن الحارث إن معاوية قد خطبني فقال لها تزوجين بن آكلة الأكباد فلو جعلت ذلك إلي قالت نعم قال قد تزوجتك قال بن أبي ذئب فجاز نكاحه

 

📃 ابن سعد فرماتے ہیں کہ أبي فديك نے أبي ذئب سے نقل کیا ہے کہ أمامة بنت أبي العاص نے مغیرہ بن نوفل سے کہا کہ معاویہ نے مجھے نکاح کا پیغام دیا ہے مغیرہ نے کہا کیا تم جگر کھانے والی کے بیٹے سے شادی کروگی؟

اگر تم پیغام نکاح میرے لئے کردو؟ کہنے لگی جی ہاں میں تم سے نکاح کیا ابی ذئب کہتے ہیں ان کا نکاح ہو گیا...

 

📚 الطبقات الكبرى - محمد بن سعد - ج ٨ - الصفحة ٤٠

 

3⃣📜 رواية الشافعي عن أنس بن عياض عن هشام أن هندا أم معاوية وكانت هند لما قتل أبوها عتبة وعمها شيبة وأخوها الوليد يوم بدر شق عليها فلما كان يوم أحد وقتل حمزة فرحت بذلك وعمدت إلى بطنه فشقتها وأخذت كبده فلاكتها ثم لفظتها..

 

📃 ہند معاویہ کی ماں کہ جنگ بدر میں جب ہند کا باپ عتبہ اور اس کا چچا شیبہ اور اس کا بھائی ولید قتل ہوئے تو یہ اس پر بہت بھاری گزرا اور جب حضرت حمزہ ؑ کو شھید کروایا۔ اس سے وہ بہت خوش ہوئی اور حضرت حمزہ ؑ کے پیٹ کو اس نے پاک کیا اور آپ کے کلیجہ کو نکال کر چبا کر پھینک دیا....

 

فتح الباري - ابن حجر - ج ٩ - الصفحة ۵۰۸

 

4⃣📜 قال ابن إسحاق حدثني صالح بن كيسان قال خرجت هند والنسوة معها يمثلن بالقتلى يجد عن الآذان والأنف حتى اتخذت هند من ذلك حزما وقلائد وأعطت حزمها وقلائدها أي اللاتي كن عليها لوحشي جزاء له على قتل حمزة وبقرت عن كبد حمزة فلاكتها فلم تستطع أن تسيغها فلفظتها

 

📚 فتح الباري - ابن حجر - ج ٧ - الصفحة ٢٧٢

 

5⃣📜 قَالَ : أَخْبَرَنَا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَوْفٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ هِنْدَ بِنْتَ عُتْبَةَ بْنِ رَبِيعَةَ جَاءَتْ فِي الأَحْزَابِ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَكَانَتْ قَدْ نَذَرَتْ لَئِنْ قَدَرَتْ عَلَى حَمْزَةَ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ لَتَأْكُلَنَّ مِنْ كَبِدِهِ ، قَالَ : فَلَمَّا كَانَ حَيْثُ أُصِيبَ حَمْزَةُ ، وَمَثَّلُوا بِالْقَتْلَى وَجَاءُوا بِحُزَّةٍ مِنْ كَبِدِ حَمْزَةَ ، فَأَخَذَتْهَا تَمْضُغُهَا لِتَأْكُلَهَا فَلَمْ تَسْتَطِعْ أَنْ تَبْتَلِعَهَا ، فَلَفَظَتْهَا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ أَنْ تَذُوقَ مِنْ لَحْمِ حَمْزَةَ شَيْئًا أَبَدًا " ، ثُمَّ قَالَ مُحَمَّدٌ : وَهَذِهِ شَدَائِدٌ عَلَى هِنْدٍ الْمِسْكِينَةِ .

 

📚 الطبقات الكبرى لابن سعد 

رقم الحديث : 2663

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7
Gallery Image 8
Gallery Image 9
Gallery Image 10