🔴 سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:
حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
📜 گزشتہ شب جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے دیکھا کہ (حضرت) جعفر (رضی اللہ تعالی عنہ) جنت میں فرشتوں کے ساتھ پرواز کررہے ہیں اور (حضرت) حمزہ (رضی اللہ تعالی عنہ) ایک عظیم تخت پر ٹیک لگائے بیٹھے ہیں۔
📚 (المستدرک علی الصحیحین للحاکم، ذکر إسلام حمزۃ بن عبد المطلب، حدیث 4878)
🔴 سورۂ آل عمران کی آیت 169 میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
📜 ولا تحسبن الذين قتلوا في سبيل الله أمواتا بل أحياء عند ربهم يرزقون
📃 اور جو اللہ کی راہ میں مارے گئے ہرگز انہیں مردہ نہ خیال کرنا بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں روزی پاتے ہیں۔
اس آیت کریمہ میں عمومی طور پر تمام شہداء کرام کی حیات اور انہیں ملنے والی نعمتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے، بعض مفسرین کے نزدیک یہ آیت کریمہ سید الشہداء سیدنا حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ اور آپ کے ساتھ شہید ہونے والے حضرات کی شان میں نازل ہوئی۔
📚 (المستدرک علی الصحیحین للحاکم، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ الحج، حدیث 3414)
🔴 سورۂ زمر میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
📜 أفمن شرح الله صدره للإسلام فهو على نور من ربه
📃 تو کیا وہ جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیا تو وہ اپنے رب کی طرف سے نور پر ہے
📜 تفسیر روح البیان میں لکھا ہے کہ یہ آیت کریمہ بطور خاص سیدنا امیر حمزہ اور سیدنا علی مرتضی کی شان میں نازل ہوئی۔
📚 (تفسیر روح البیان، سورۃ الزمر 22)
🔴 حضرات صحابۂ کرام رضی اللہ تعالی عنہم نے فرمایا:
📜 جب سیدنا امیر حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم ارشاد فرمانے لگے:
📜 آپ کی جدائی سے بڑھ کر میرے لئے کوئی اور صدمہ نہیں ہوسکتا، پھر آپ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور اپنی پھوپھی جان حضرت صفیہ رضی اللہ تعالی عنہا سے فرمایا: خوش ہوجاؤ! ابھی جبریل امین علیہ السلام میرے پاس آئے تھے، انہوں نے مجھے خوشخبری سنائی کہ یقینا حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کا نام مبارک آسمان والوں میں لکھا ہوا ہے: سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اللہ تعالی اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے شیر ہیں۔
📚 (المستدرک علی الصحیحین للحاکم، ذکر إسلام حمزۃ بن عبد المطلب،حدیث 4869)
🔴 حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالی عنہما سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:
📜 ہمارے قبیلہ کے ایک صاحب کو لڑکا تولد ہوا،تو انہوں نے عرض کیا کہ اس لڑکے کا کیا نام رکھا جائے؟ تو حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مجھے سب سے زیادہ محبوب جو نام ہے وہی اس لڑکے کا نام رکھا جائے! (مجھے سب سے پسندیدہ نام) "حمزہ بن عبد المطلب" رضی اللہ تعالی عنہ کا ہے۔
📚 (المستدرک علی الصحیحین للحاکم، ذکر إسلام حمزۃ بن عبد المطلب ،حدیث 4876)
🔴 حضرت علی مرتضی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، آپ نے فرمایا:
📜 جس دن اللہ تعالی تمام مخلوق کو جمع فرمائے گا ان میں سب سے افضل انبیاء ومرسلین ہی رہیں گے اور رسولوں کے بعد سب سے افضل شہداء کرام ہوں گے اور یقینا شہداء کرام میں سب سے افضل حضرت حمزہ رضی اللہ تعالی عنہ ہونگے۔
📚 المستدرک علی الصحیحین للحاکم، ذکر إسلام حمزۃ بن عبد المطلب،حدیث 4864
📚 المعجم الأوسط للطبرانی، حدیث 930
📚 جامع الأحادیث للسیوطی، حدیث 4003
📚 کنز العمال فی سنن الأقوال والأفعال، حدیث 36937
۔
🔴 شیرِ رسول ﷺ
📜 قال رسول اللہ ص: «وَعَلی قائمه العرش مکتوبٌ: حمزه اسدالله و اسد رسوله و سیّد الشهداء».
📃 عرش کے پایوں پر لکھا ہے: حمزہ خدا اور اس کے رسول کے شیر اور شہیدوں کے سردار ہیں.
📚 ( بصائر الدرجات، ص۳۴؛ بحارالانوار، ج۲۷، ص۷)
🖋 علامہ سبطین امروھوی
Invisibleislam.com