🔴 شہید بزرگوار حمزہ بن عبدالمطلب
حمزہ احد کے پہلے شہید تھے جن کی نماز جنازہ رسول اللہ(ص) پڑھائی اور بعدازاں شہداء کو باری باری لایا گیا اور حمزہ کے قریب رکھا گیا اور آپ(ص) نے ان شہداء اور حمزہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ یوں 70 مرتبہ حمزہ کی مستقل طور پر اور دیگر شہداء کے ہمراہ نماز جنازہ پڑھائی گئی۔[ حمزہ کو بہن صفیہ کے لائے ہوئے کپڑے کا کفن دیا گیا کیونکہ مشرکین نے ان کے بدن کو برہنہ کردیا تھا۔
ابن سعد، الطبقات، ج3، ص11، مقایسه کنید با ج3، ص16۔
نهج البلاغة، مکتوب شماره 28۔
الکلینی، الکافی، ج3، ص186، 70 تکبیریں۔
ابن سعد، الطبقات، ج3، ص15ـ16۔
البلاذري، انساب الاشراف، ج3، ص288ـ289۔
🔴 حمزہ پر گریہ و بکاء
رسول اللہ(ص) نے حمزہ کی وہ حالت دیکھی تو روئےاور پھر انصار کے اہل خانہ کو دیکھا جو اپنے شہداء کے لئے گریہ و بکاء کررہے تھے تو فرمایا: "...لیکن حمزہ کا کوئی رونے والا نہیں ہے"۔ سعد بن معاذ نے آپ(ص) کی بات سن لی اور انصاری خواتین کو رسول خدا(ص) کے گھر کے دروازے پر لائے اور وہ انھوں نے حمزہ کے لئے گریہ کیا؛ اس دن کے بعد جب بھی کوئی انصاری خاتون اپنے کسی مرحوم کے لئے رونا چاہتی پہلے حمزہ کے لئے گریہ و بکاء کرتی تھی۔مروی ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ نے حمزہ کے سوگ میں تین دن تک لباس عزا پہنے رکھا۔
ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج1، ص374۔
الواقدی، المغازی، ج1، ص315ـ317۔
ابن سعد، الطبقات، ج3، ص11، قس ج3، ص17۔
ابن اثیر، النهایة، ج5، ص68۔
🔴 مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ زہراء(س) قبر حمزہ کی زیارت پر جاتی تھیں اور آپ(س) نے قبر کے گرد پتھر رکھ کر نشان لگایا تھا
ابن سعد، الطبقات، ج3، ص19۔
ابن شبّه نمیری، کتاب تاریخ المدینة المنورة، ج1، ص132
🔴 امویوں نے خاندان رسالت کے ساتھ دشمنی کے باعث، حضرت حمزہ اور غزوہ احد کے دوسرے شہداء کی قبروں کے ساتھ غیر شائستہ رویہ روا رکھا۔ مروی ہے کہ ابو سفیان نے عثمان بن عفان کے دور حکومت میں قبر حمزہ پر لات ماری اور کہا "اے ابا عمارہ! جس چیز کے لئے تو نے کل ہمارے خلاف تلوار سونت لی تھی آج ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں کا کھلونا ہے جس کے ساتھ وہ کھیل رہے ہیں!
ابن ابی الحدید، ج16، ص136
🔴 معاویہ نے غزوہ احد کے 40 سال بعد احد میں ایک چشمے یا کاریز کا پانی جاری کرنے کی غرض سے ـ گویا خاندان رسالت کے ساتھ دشمنی کی بنا پر ـ حکم دیا کہ حضرت حمزہ سید الشہداء سمیت شہدائے احد کی قبریں کھول دی جائیں اور ان کو دوسرے مقام پر دفنا دیا جائے۔ اس اقدام کے بعد بعض شہداء منجملہ حمزہ کی قبروں کے مقامات تبدیل ہوگئے
الواقدی، المغازی، ج1، ص267ـ268۔
ابن سعد، الطبقات، ج3، ص11۔
ابن شبّه نمیری، کتاب تاریخ المدینة المنورة، ج1، ص133۔
محمد باقر نجفی، مدینه شناسی، ج2، ص257۔
🔴 سید الشہداء عمِ رسول خدا اسدِ رسول خدا ابو عمارہ حضرت امیر حمزہ صلواۃ اللّٰه علیه کی مختصر شہادت
15 شوال سنه 3 ہجری جب رسول خدا کے چچا حضرت امیر حمزہ صلواۃ اللّٰه علیه کی شہادت احد کے میدان میں ہوئی تو زنان کفار جشن منانے کے لیے لاشوں پر آگئی اور ان کی سردار ھندہ جو کہ معاویہ کی ماں اور ابو سفیان کی بیوی نے امیر حمزہ کی لاش کی بے حرمتی کی اور ان کا جگر نکال کر چبانا شروع کردیا لیکن چبایا نہ گیا تو وہ تھوک کر چلی گئی
جب رسول خدا جسد اطہر امیر حمزہ پر تشریف لائے تو آپ رونے اور چلانے لگے جب تدفین کا وقت آیا تو آپ نے امیر حمزہ کے جنازے پر ستر تکبیریں فرمائیں اور ان کو دفنا دیا
جب آپ مدینہ منورہ واپس تشریف لائے تو ہر گھر سے رونے کی صدا بلند تھی اس وقت آپ نے فرمایا کہ ہائے افسوس چچا حمزہ پر گریہ کرنے والا کوئی نہیں جب اصحاب نے سنا تو اپنے گھر والوں کو حکم دیا کہ وہ امیر حمزہ پر گریہ کریں
واقدی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے اب تک زنان انصار مرثیوں کا آغاز امیر حمزہ سے کرتی ہیں
حوالہ کتاب
اسد الغابہ فی معرفہ الصحابہ جلد 1 حصہ 2 صفحہ 603 در حالات امیر حمزہ بن عبد المطلب بن هاشم بن عبد مناف بن قصي
🔴 مصیبت حضرت حمزہ علیہ السلام، اسد اللہ
حضرت حمزہ علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ کے کئی مواقع پر مدد کی، اور ان میں سب سے عظیم موقع یوم احد تھا، جب وہ دشمن پر حملہ آور ہوئے۔ دشمن نے جب انہیں دیکھا تو پیچھے ہٹ گیا اور کسی نے ان کا مقابلہ نہ کیا۔
ہند بنت عتبة (لعنت اللہ علیہا)، جو معاویہ کی ماں تھی، نے وحشی سے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ محمد، علی یا حمزہ کو قتل کرے تو اسے اپنی خوشی ملے گی۔
وحشی نے کہا:
"محمد پر میں قادر نہیں ہوں، اور علی کو میں نے بہت ہوشیار اور محتاط پایا، اس لیے اس کی توقع نہ کی۔"
پھر وحشی نے حضرت حمزہ کو نشانہ بنایا۔ حضرت حمزہ لوگوں کو سیدھا دیکھ رہے تھے کہ وحشی نے ان پر حملہ کیا اور انہیں نہر کے کنارے پر گرایا۔ وحشی نے اپنی نیزہ سے ان کے پیٹ پر وار کیا، اور ان کی جگر نکالی، پھر ہند کے پاس لے گیا اور کہا:
"یہ حمزہ کی جگر ہے۔"
ہند نے اسے اپنی دہنی طرف میں دبایا، لیکن اللہ نے اسے اتنا سخت کر دیا کہ وہ دہنی طرف میں پتھر کی طرح سخت ہو گئی اور اسے باہر پھینک دیا۔ پھر انہوں نے حضرت حمزہ کی بدن پر ظلم کیا اور بدترین انداز میں ان کا قتل و تشدد کیا۔
وحشی خود کہتا تھا:
"میں نے اللہ کے بہترین خلق، حمزہ بن عبد المطلب، کو قتل کیا۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ فرماتے تھے:
"حمزہ کے قتل کے دن سے زیادہ کوئی دن میرے لیے مشکل نہ تھا۔"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ نے ان کے پاس آ کر دیکھا کہ ان کا پیٹ کھولا گیا، جگر نکالا گیا، ناک کٹی ہوئی، ہاتھ اور پاؤں اور کان کٹے ہوئے تھے۔ رسول اللہ اپنی آنکھوں سے آنسو بہا کر رنج و غم کے ساتھ روئے اور فرمایا:
"تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اور مدد بھی اسی سے ہے، اور میں شکایت بھی اسی کے پاس لے کر جاتا ہوں۔ پھر فرمایا: میں کبھی حمزہ جیسا نقصان نہ دیکھوں گا۔"
📚 ماخذ: شجرة طوبى
🔴 حمزہ علیہ السلام کی تدفین
رسول خدا (صلى الله عليه وآله) نے فرمایا: "جو شخص میرے چچا حمزہ کے بارے میں جانتا ہو، وہ بتائے۔" حارث بن سمیہ نے کہا: "میں ان کی جگہ جانتا ہوں۔" پھر وہ گیا یہاں تک کہ حمزہ پر آ کر کھڑا ہو گیا، لیکن رسول خدا (صلى الله عليه وآله) کے پاس واپس جا کر اطلاع دینے سے ہچکچایا۔ تو رسول خدا (صلى الله عليه وآله) نے امیر المؤمنین (علیہ السلام) سے فرمایا: "اے علی، اپنے چچا کو تلاش کرو۔" علی (علیہ السلام) گئے اور حمزہ پر آ کر کھڑے ہو گئے، مگر واپس جانے میں تردد کیا۔ پھر رسول خدا (صلى الله عليه وآله) خود آئے اور حمزہ پر آ کر کھڑے ہو گئے۔ جب آپ نے دیکھا کہ ان کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا ہے، تو آپ رو پڑے اور فرمایا: "خدا کی قسم! میں کبھی کسی مقام پر اس قدر رنجیدہ نہیں ہوا جتنا یہاں ہوں۔"
پھر رسول خدا (صلى الله عليه وآله) نے اپنے اوپر کی چادر حمزہ (علیہ السلام) پر ڈال دی۔ جب آپ نے چادر کو ان کے سر پر ڈالا تو ان کے پاؤں ظاہر ہو گئے، اور جب پاؤں پر ڈالا تو سر ظاہر ہو گیا۔ پس آپ نے ان کا سر ڈھانپا اور پاؤں پر گھاس ڈال دی۔ رسول خدا (صلى الله عليه وآله) نے حکم دیا کہ شہداء کو جمع کیا جائے، پھر ان پر نماز پڑھی گئی اور انہیں ان کی جگہوں پر دفن کر دیا گیا۔ اور آپ (صلى الله عليه وآله) نے حمزہ (علیہ السلام) پر ستر تکبیریں کہیں۔
ماخذ:
تفسیر القمی جلد 1 صفحہ 123، تفسیر الصافی جلد 3 صفحہ 164، بحار الأنوار جلد 20 صفحہ 62، تفسیر نور الثقلین جلد 3 صفحہ 96 (بعض حصہ)، تفسیر کنز الدقائق جلد 7 صفحہ 292 (بعض حصہ)
🔴 حمزہ کے مزار کے اوپر قدیم الایام سے ایک مسجد اور بارگاہ تعمیر کی گئی تھی لیکن حجاز پر وہابیوں کے تسلط اور آل سعود کے بر سر اقتدار آنے کے بعد حضرت حمزہ کے مزار پر تعمیر شدہ گنبد و بارگاہ کو سنہ 1344 ہجری قمری میں منہدم کیا گیا۔
نیز مسجد حمزہ کو گرا دیا گیا اور مزار شہدائے احد کے مغرب میں ایک مسجد تعمیر کی گئی جو مسجد احد، مسجد علی اور مسجد حمزہ کے نام سے مشہور ہے۔
حمزہ سید الشہداء کا مزار قدیم الایام سے مدینہ کی زيارت کا شرف حاصل کرنے والے زائرین اور حجاج ـ کی خاص توجہ کا مرکز ہے
Invisibleislam.com