حضرت امیر حمزہ ع کا عرس
اہل مدینہ بلکہ تمام حجاز والے حضرت امیر حمزہ ع سے ایک خاص عقیدت رکھتے ہیں چند سال قبل تک ( آل سعود کی حکومت سے پہلے ) بیمار تندرست ہونیکی اور خاجتمند حاجت روائی کے لیے ان سے منت مانتے تھے تقریبا" سو برس سے اسکا پتہ چلتا ہے کہ یہاں ہر سال ١٢ رجب کو بڑی دھوم دھام سے عرس ہوا کرتا تھا مدینے والے اور آس پاس کے عرب یہاں آیا کرتے تھے اور ان مکانوں میں جو مدینے کے مالدار لوگوں نے تبدیل آب و ہوا اور تفریح طبع کے لیے یہاں بنا رکھے تھے ہر طرف ڈیرے نصب ہو جاتے تھے اور بازار لگ جایا کرتا تھا یہ سلسلہ تین چار دن تک رہتا تھا جن کی منتیں مرادیں پوری ہو جایا کرتی تھیں وہ حضرت امیر حمزہ ع کے نام پر بکری بھیڑ ذبح کرتے تھے اب وہ میلا اکھڑ گیا اہل نجدان ان باتوں کو خلاف شرع سمجھتے ہیں آج کل مدینے والے چند روز کے لیے تبدیل آب و ہوا کے واسطے کبھی کبھی یہاں آجاتے ہیں اور ان مکانوں میں جو زمانہ کے ہاتھ سے ثابت رہے ٹھہر جاتے ہیں
کتاب:مزارات حرمین
صفحہ:٢٩١
Gallery
Tap any image to view full screen