ابن اصحاق نے بیان کیا ھے کہ جنگ احد میں ھند بنت عتبہ ( یعنی معاویہ کی ماں ) نے حضرت حمزہ علیہ السلام کا سینہ چاک کرکے کلیجہ باھر نکالا اور اسے دانتوں کے ساتھ چبایا لیکن اسے نگل نہ سکی اور پھر اسے پھینک دیا پھر ایک بلند چٹان پر چڑھ گئی اور بلند آواز سے چیخ کر یہ کہا
اے مسلمانوں ھم نے یوم بدر کا بدلہ چکا دیا اور جنگ کے بعد جنگ آگ کے شعلوں کی طرح بھڑکتی ھے
مجھے (اپنے باپ) عتبہ ، اپنے بھائی (ولید بن عتبہ) اسکے چچا (شیبہ بن ربیع) اور اپنے پہلے بیٹے (حنظلہ بن ابی سفیان ) سے صبر نہیں آتا تھا
میں نے اپنا دل ٹھنڈا کرلیا اور اپنی نذر پوری کرلی اے وحشی تو نے میرے سینے کو ٹھنڈا کردیا
📚 تفسیر قرطبی سورہ آل عمران آیت نمبر 122 ص 725
Gallery
Tap any image to view full screen