🔴 15 ﺷﻮﺍﻝ،ﯾﻮﻡ شہادت عظیم، حضرت حمزہ ابن عبدالمطلب علیہ السلام
ﺣﻤﺰﮦ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻄﻠﺐ ( ﻉ ) ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﺳﻼﻡ ( ﺹ ) ﮐﮯ ﭼﭽﺎ ﺗﮭﮯ۔ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻄﻠﺐ ﺑﻦ ﮨﺎﺷﻢ ﮐﯽ ﻭﺍﻟﺪﮦ ﺳﻠﻤﯽ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦ ﺯﯾﺪ ﺑﻦ ﻟﺒﯿﺪ ﮐﯽ ﺑﯿﭩﯽ ﺗﮭﯿﮟ۔ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺑﮭﺎﺋﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﮯ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻠﮧ ، ﺍﺑﻮ ﻃﺎﻟﺐ ، ﺍﺑﻮﻟﮩﺐ ، ﻭﻏﯿﺮﮦﮐﺎ ﻧﺎﻡﻟﯿﺎﺟﺎﺳﮑﺘﺎﮨﮯ۔ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺑﮩﻨﯿﮟ ﺑﮭﯽﻋﺎﺗﮑﮧ ، ﺍﻣﯿﻤﮧ ، ﺻﻔﯿﮧ ، ﺍﻭﺭ ﺑﺮّﮦﺗﮭﯿﮟ۔
ﺁﭖ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺷﺠﺎﻉﺗﺮﯾﻦ ﺷﺨﺺ ﺍﻭﺭ ﺻﺪﺭ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺍﻭﺭ ﺭﺷﯿﺪ ﻣﺮﺩ ﺗﮭﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺘﯿﺠﮯ ﮐﮯ ﺷﺎﻧﮧ ﺑﺸﺎﻧﮧ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﻧﺼﺮﺕ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﺨﺖ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﺮﺍﺣﻞ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡ ( ﺹ ) ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻦ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺩﻓﺎﻉ ﮐﯿﺎ۔ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﮯ ﺳﺮﺩﺍﺭ ﺍﻭﺭ ﻋﺮﺏ ﮐﮯ ﺑﮍﮮ ﺑﮍﮮ ﺳﻮﺭﻣﺎ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺷﺠﺎﻋﺖ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺧﻮﻑﮐﮭﺎﺗﮯﺗﮭﮯ۔
ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﭘﻮﺭﯼ ﻃﺎﻗﺖ ﻭ ﺗﻮﺍﻧﺎﺋﯽ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﮑﮧ ﮐﮯ ﻧﺎﺯﮎ ﺗﺮﯾﻦ ﻣﺎﺣﻮﻝﻣﯿﮟﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡ ( ﺹ ) ﮐﻮ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞﮐﮯ ﺷﺮ ﺳﮯ ﻣﺤﻔﻮﻅ ﺭﮐﮭﺎ۔ ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺟﺐ ﺍﺑﻮﺟﮩﻞ ﻧﮯ ﺷﺎﻥ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﮔﺴﺘﺎﺧﯽ ﮐﯽ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺍﺑﻮ ﺟﮩﻞ ﺳﮯ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﺳﻼﻡ ( ﺹ ) ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻡ ﻟﯿﻨﮯ ﮐﯽ ﻏﺮﺽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﺮ ﭘﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﺒﮑﮧ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺁﻧﮯ ﮐﯽ ﺟﺮﺋﺖ ﻧﮧ ﮐﺮ ﺳﮑﺎ۔
ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﺟﻨﮓ ﺑﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ '' ﺷﯿﺒﮧ ‘‘ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮔﺌﮯﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺯﻣﯿﻦﺑﮭﻮﺱﮐﺮ ﺩﯾﺎﺍﻭﺭﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺌﯽ ﺳﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﻭﺍﺻﻞ ﺟﮩﻨﻢ ﺍﻭﺭ ﺯﺧﻤﯽﮐﯿﺎ۔
ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡ ( ﺹ ) ﮐﯽ ﺑﻌﺜﺖ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﺑﮭﯽ ﺧﺪﺍ ﮐﯽ ﻭﺣﺪﺍﻧﯿﺖ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ( ﺹ ) ﮐﯽ ﺭﺳﺎﻟﺖ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﮭﺘﯿﺠﮯ ﮐﮯ ﺩﯾﻦ ﮐﻮ ﻗﺒﻮﻝ ﮐﯿﺎ۔ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﻻﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﯽ ﭘﯿﺸﻨﮩﺎﺩﯾﮟ ﯾﮑﮯﺑﻌﺪﺩﯾﮕﺮﮮﺷﺮﻭﻉﮨﻮ ﮔﺌﯿﮟ۔ ﺍﺱ ﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺷﺠﺎﻉ ﺷﺨﺺ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻟﮯ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﻟﮩﺬﺍ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﯽ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﮐﯽ ﺍﻣﯿﺪ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮦ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡ( ﺹ ) ﻧﮯ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﯽ ﮐﻮﺋﯽ ﻓﺮﻣﺎﺋﺶ ﻗﺒﻮﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ۔
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺑﻮﺟﮩﻞ ﻧﮯ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﻮ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﺳﻼﻡ (ﺹ ) ﮐﮯ ﻗﺘﻞ ﭘﺮ ﺍﮐﺴﺎﻧﮧ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺍﯾﮏ ﺩﻥ ﺍﺑﻮ ﺟﮭﻞ لع ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ( ﺹ ) ﮐﻮ ﺻﻔﺎ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯾﮟ۔ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ (ﺹ ) ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﮑﻮﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺗﻮﺟﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯽ۔ ﻋﺒﺪﺍﻟﻠﮧﺑﻦﺟﺪﻋﺎﻥ ﮐﯽﮐﻨﯿﺰ ﺍﺱ ﻣﺎﺟﺮﺍ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻓﻮﺭﺍ ﺍﺱﺑﺎﺕﮐﯽﺧﺒﺮ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﻮ ﺩﯼ۔
ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﻮ ﺑﮩﺖ ﺑﺮﺍ ﻟﮕﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺑﻮ ﺟﮩﻞ لع ﺳﮯ ﺍﻧﺘﻘﺎﻡ ﮐﺎ ﺍﺭﺍﺩﮦ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﻓﻮﺭﺍ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻮﺟﮩﻞﮐﯽﺗﻼﺵﻣﯿﮟﻧﮑﻠﮯ ، ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺍﺑﻮﺟﮩﻞ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﺮﻭﮦ ﮐﮯﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺑﯿﭩﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ۔ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﺑﻐﯿﺮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﯾﮟ ﺳﯿﺪﮬﮯ ﺍﺑﻮﺟﮭﻞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺑﮍﮬﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﮐﻤﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺩﮮ ﻣﺎﺭﺍ۔
ﺍﺑﻮ ﺟﮭﻞﮐﺎﺳﺮﭘﮭﭧﮔﯿﺎ۔ﺍﺱﮐﮯﺑﻌﺪ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ : ﺗﻮ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﮐﻮ ﮔﺎﻟﯿﺎﮞ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ؟ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﻻﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﺟﺲ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﭘﺮ ﻭﮦ ﭼﻠﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﻮﮞ ﮔﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﺗﯿﺮﮮ ﺍﻧﺪﺭ جرآت ﮨﮯ ﺗﻮ، ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﺮ۔ ﺍﺑﻮ ﺟﮩﻞ ﻧﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺭﺥ ﮐﺮ ﮐﮯ ﮐﮩﺎ : ﻣﯿﮟﻧﮯ ﻣﺤﻤﺪ ص ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺍ ﮐﯿﺎ۔ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﻮ ﺣﻖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ۔
(ﻓﺮﺍﺯﻫﺎﻳﻲ ﺍﺯ ﺗﺎﺭﻳﺦ ﭘﻴﺎﻣﺒﺮﺍﺳﻼﻡ ، ﺹ 114 )
ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺩﻥﺩﮔﻨﯽ ﺭﺍﺕ ﭼﮕﻨﯽﺗﺮﻗﯽﺳﮯ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﯽ ﭘﺮﯾﺸﺎﻧﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﺿﺎﻓﮧ ﮨﻮﺗﺎ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ (ﺹ ) ﮐﻮ ﺍﺫﯾﺖ ﻭ ﺁﺫﺍﺭ ﺩﯾﻨﮯ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﻣﺰﯾﺪ ﺑﮍﮬﺘﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺣﺘﯽ ﮐﮧ ﺁﭖ ( ﺹ ) ﮐﮯ ﭼﭽﺎ ﺍﺑﻮ ﻟﮩﺐ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ( ﺹ ) ﮐﻮ ﺍﺫﯾﺖ ﻭ ﺁﺯﺍﺭ ﺩﯾﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﺎﺯ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﺱ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡ ( ﺹ ) ﮐﮯ ﭘﮍﻭﺳﯽ ﺗﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﺳﺎﺭﺍ ﮐﻮﮌﺍ ﮐﺮﮐﭧ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ( ﺹ ) ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮈﺍﻟﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏ ﮐﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﮭﯿﮍ ﮐﯽ ﺍﻭﺟﮭﮍﯼ ﮈﺍﻟﻨﮯ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮔﺮﯾﺰ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﯿﺎ۔ ﺍﻟﺒﺘﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺘﻘﺎﻡ ﻟﮯ ﻟﯿﺎ۔
۱۲ ﺭﺑﯿﻊ ﺍﻻﻭﻝ ﮐﻮ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭ ﺁﻟﮧ ﻭ ﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﻣﮑﮧ ﺳﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﯽ،ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﺟﺲ ﻃﺮﺡ ﺳﮯ ﻣﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﺳﻼﻡ ( ﺹ ) ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮈﮬﺎﻝ ﮐﮯ ﻣﺎﻧﻨﺪ ﺗﮭﮯ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﺳﻼﻡ( ﺹ ) ﮐﯽ ﺑﮭﺮ ﭘﻮﺭ ﺣﻤﺎﯾﺖ ﮐﯽ۔ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﺎﻝ ۱۷ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﻮ ﺟﺐ ﺟﻨﮓ ﺑﺪﺭ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﺋﯽ ﺗﻮ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﻧﮯ ﻧﮩﺎﯾﺖ ﺑﮩﺎﺩﺭﯼ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﮓ ﺑﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺷﺮﮐﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﺷﻤﻦﮐﺎﻣﻘﺎﺑﻠﮧ ﮐﯿﺎﺟﻨﮓﺑﺪﺭﻣﯿﮟﺁﭖﻧﮯ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮﺍﻥ ﻋﺘﺒﮧ ﮐﮯ ﻣﺪ ﻣﻘﺎﺑﻞ ﺟﻨﮓ ﮐﯽﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﺑﻮﺱﮐﺮﺩﯾﺎ۔
ﺟﻨﮓ ﺑﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺷﮑﺴﺖ ﺧﻮﺭﺩﮦ ﻣﺸﺮﮐﯿﻦ ﻣﮑﮧ ﻧﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﭼﮑﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺟﻨﮓ ﺍﺣﺪ ﺑﭙﺎ ﮐﯽ۔ ﺟﻨﮓ ﺍﺣﺪ ﻣﯿﮟ ﮨﻨﺪﮦ ﺟﮕﺮ ﺧﻮﺍﺭﮦ ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺳﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺒﺸﯽ ﻏﻼﻡ ﮐﻮ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﻮ ﻗﺘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺟﻨﮓ ﺑﺪﺭ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻗﺘﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﺎﭖ ﻋﺘﺒﮧ ﮐﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﮯ۔ ﮬﻨﺪﮦ ﮐﺎ ﺣﺒﺸﯽ ﻏﻼﻡ ﺟﻨﮓ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ( ﻉ ) ﮐﯽ ﺗﺎﮎ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺻﺖ ﭘﺎﺗﮯ ﮨﯽ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺟﻨﺎﺏﺣﻤﺰﮦ ( ﻉ ) ﮐﮯﺳﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﯿﺰﮦ ﮐﺎ ﻭﺍﺭﮐﺮ ﺩﯾﺎ۔
ﺟﻨﮓ ﺍﺣﺪ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻮ ﺳﻔﯿﺎﻥ ﮐﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮬﻨﺪﮦ لع ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺣﺒﺸﯽﻏﻼﻡ ﮐﻮ ﯾﮧﻻﻟﭻ ﺩﯼﺗﮭﯽﮐﮧﺍﮔﺮﻭﮦ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﻮ ﺷﮩﯿﺪ ﮐﺮ ﺩﮮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﮯ ﺯﯾﻮﺭﺍﺕ ﺍﺳﮯ ﺩﮮ ﮔﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮ ﺩﮮ ﮔﯽ۔ ﮨﻨﺪﮦ لع ﮐﮯ ﻏﻼﻡ ﻧﮯ ﺟﻨﮓ ﺍﺣﺪ ﻣﯿﮟ ﻭﮨﯽ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﻮ ﻧﯿﺰﮦ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺷﮩﯿﺪﮐﺮﺩﯾﺎ ﺍﺱﮐﮯﺑﻌﺪﮨﻨﺪﮦ لع ﻧﮯ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﮯ ﮐﺎﻥ ﻭ ﻧﺎﮎ ﮐﺎﭦ ﮐﺮ ﺍﻥ ﮐﺎ ﮨﺎﺭ ﺑﻨﺎ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﮔﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻻ ﺍﻭﺭ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﺎ ﺟﮕﺮ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﭼﺒﺎ ﺩﯾﺎ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﮨﻨﺪﮦ لع ﺟﮕﺮ ﺧﻮﺍﺭ ﮐﮩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﺟﺐ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡ ( ﺹ ) ﮐﻮ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﻣﻠﯽ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺧﺒﺮ ﻻﺋﯿﮟ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﯽ ﻻﺵ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ( ﺹ ) ﮐﮯﭘﺎﺱ ﻭﺍﭘﺲﺟﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﮨﻤﺖ ﻧﮧ ﮐﺮ ﭘﺎﺋﮯ۔
ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕﻋﻠﯽ ( ﻉ ) ﺭﺳﻮﻝﺍﺳﻼﻡ ( ﺹ ) ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺧﺒﺮ ﻟﮯ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﺳﻼﻡ ( ﺹ ) ﺧﻮﺩ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ( ﻉ ) ﮐﯽ ﻻﺵ ﭘﺮ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ۔ ﺟﺐ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ( ﻉ ) ﮐﻮﺍﺱ ﺭﻗﺖﺑﺎﺭ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮨﺮﮔﺰ ﺁﭖ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﻣﯿﮟﮔﺮﺍﮞﻧﮩﯿﮟﮔﺰﺭﮮ ﮔﯽ ، ﺍﺱ ﻣﻮﻗﻊ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯﺳﺨﺖ ﻧﮩﯿﮟﮨﻮﮔﺎ۔ ": ﻟﻦﺍﺻﺎﺏَ ﺑِﻤِﺜْﻠﮏَﺍﺑَﺪﺍً ، ﻣﺎ ﻭَﻗَﻔﺖُ ﻣَﻮﻗِﻔﺎً ﻗَﻂٌّ ﺍَﻋﻨﻲَ ."...
[ ﺗﺎﺭﻳﺦ ﭘﻴﺎﻣﺒﺮ ﺍﺳﻼﻡ ، ﺩﮐﺘﺮﺁﻳﺘﻲ ، ﺹ 323 )
ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﺍﮔﺮﺧﺪﺍ ﻣﺠﮭﮯ ﻃﺎﻗﺖ ﺩﮮ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﻋﻤﻮ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﮯ ﺑﺪﻟﮯ ﻣﯿﮟ ﻗﺮﯾﺶ ﮐﮯ ﺳﺘﺮ ﺍﻓﺮﺍﺩ ﮐﻮ ﻗﺘﻞﮐﺮﺩﻭﮞ ﺍﻭﺭﺍﻥﮐﮯﺑﺪﻥ ﮐﮯ ﺍﻋﻀﺎﺀ ﮐﮯ ﭨﮑﮍﮮ ﭨﮑﮍﮮ ﮐﺮ ﺩﻭﮞ۔ ﺍﺱ ﮨﻨﮕﺎﻡ میں ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺋﯿﻞ ع ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺁﯾﺖ ﺗﻼﻭﺕ ﮐﯿﺎ : :
ﻭَ ﺇِﻥْﻋﺎﻗَﺒْﺘُﻢْﻓَﻌﺎﻗِﺒُﻮﺍﺑِﻤِﺜْﻞِ ﻣﺎ ﻋُﻮﻗِﺒْﺘُﻢْ ﺑِﻪِ ﻭَ ﻟَﺌِﻦْ ﺻَﺒَﺮْﺗُﻢْ ﻟَﻬُﻮَ ﺧَﻴْﺮٌ ﻟِﻠﺼّﺎﺑِﺮﻳﻦَ [ ﻧﺤﻞ / 126 )
ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺍﻥ ﮐﻮ ﺳﺰﺍ ﺩﯾﻨﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺰﺍ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﺘﺪﺍﻝ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﮔﺮ ﺻﺒﺮ ﺳﮯ ﮐﺎﻡ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺻﺒﺮﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞﮐﮯﻟﯿﮯ ﯾﮧﺑﮩﺘﺮﮨﮯ ۔‘‘
ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ( ﺹ ) ﻧﮯ ﭘﯿﻐﺎﻡ ﺍﻟﮩﯽ ﺳﻨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ : ﭘﺲ ﻣﯿﮟﺻﺒﺮ ﮐﺮﻭﮞﮔﺎ ﺍﻭﺭﺍﻥﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻡ ﺧﺪﺍ ﭘﺮ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﻭﮞ ﮔﺎ۔ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ چادر ﯾﻤﺎﻧﯽ ﺍﺗﺎﺭ ﮐﺮ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﮈﺍﻝ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺍﮔﺮ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻄﻠﺐ ﮐﯽ ﻣﺴﺘﻮﺭﺍﺕ ﻧﺎﺭﺍﺣﺖ ﻧﮧ ﮨﻮﺗﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﺎﮐﮧ ﺻﺤﺮﺍ ﮐﮯ ﺩﺭﻧﺪﮮ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺍ ﮐﮯ ﭘﺮﻧﺪﮮ ﺍﻥ ﮐﮯﮔﻮﺷﺖ ﮐﻮ ﮐﮭﺎ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﮐﮯ ﺩﻥ ﺣﻤﺰﮦ ﺍﻥ ﮐﮯ ﭘﯿﭧ ﺳﮯ ﻣﺤﺸﻮﺭ ﮨﻮﺗﮯ ۔ ﺍﺱﻟﯿﮯ ﮐﮧ ﻣﺼﯿﺒﺖ ﺟﺘﻨﯽ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮ ﮔﯽ ﺍﺗﻨﺎ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺛﻮﺍﺏ ﮨﻮ ﮔﺎ۔
( ﮐﻠﻴﺎﺕ ﻣﻨﺘﻬﻲ ﺍﻻﻣﺎﻝ ، ﺹ 77 )
ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺍﮐﺮﻡ ( ﺹ ) ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﯽ ﻻﺵ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﮐﮭﮍﮮ ﺭﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺟﺒﺮﺋﯿﻞ ﻧﮯﻣﺠﮭﮯ ﺧﺒﺮ ﺩﯼ ﮨﮯﮐﮧ ﺳﺎﺕ ﺁﺳﻤﺎﻧﻮﮞ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺣﻤﺰﮦ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻄﻠﺐ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺷﯿﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﮐﮯ ﺷﯿﺮ ﮨﯿﮟ(ﺍﺳﺪ ﺍﻟﻠﻪ ﻭ ﺍﺳﺪ ﺭﺳﻮﻟﻪ ‘‘( ۔
( ﺗﺎﺭﻳﺦ ﭘﻴﺎﻣﺒﺮﺍﺳﻼﻡ ، ﺩﮐﺘﺮﺁﻳﺘﻲ ، ﺹ 323 )
ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ (ﺹ) ﺳﮯﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ :
ﺟﻮ ﺷﺨﺺ ﻣﯿﺮﯼ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﮐﺮﮮ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﭽﺎ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﯽ ﺯﯾﺎﺭﺕ ﻧﮧ ﮐﺮﮮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﺟﻔﺎ ﮐﯽ ﮨﮯ ۔‘‘
(ﮐﻠﻴﺎﺕ ﻣﻔﺎﺗﻴﺢ ﺍﻟﺠﻨﺎﻥ،ﺯﻳﺎﺭﺕ ﻧﺎﻣﻪﺣﻀﺮﺕﺣﻤﺰﻩ )
ﺟﺐ ﺟﻨﮓ ﺍﺣﺪ ﺗﻤﺎﻡ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺷﮩﯿﺪﻭﮞ ﮐﻮ ﺩﻓﻨﺎﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ۔ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ( ﺹ ) ﻧﮯ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ع ﺍﻭﺭ ﺩﯾﮕﺮ ﺷﮩﺪﺍ ﮐﻮ ﺑﻐﯿﺮ ﻏﺴﻞ ﮐﮯ ﺩﻓﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ :
ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺧﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﻟﺖ ﭘﺖﺩﻓﻨﺎ ﺩﻭ ﻣﯿﮟ ﺍﻥ ﭘﺮ ﮔﻮﺍﮦ ﮨﻮﮞ ۔‘‘
ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ ( ﺹ ) ﻧﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﺎﻗﯽ ﺷﮩﺪﺍ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﮐﮯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﻻ ﮐﺮ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺌﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﺧﺪﺍ( ﺹ ) ﻧﮯ ﮨﺮ ﺷﮩﯿﺪ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﯽ۔ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﺳﺘﺮ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺟﻨﺎﺏ ﺣﻤﺰﮦ ﭘﺮ ﻧﻤﺎﺯ ﺟﻨﺎﺯﮦ ﺍﺩﺍ ﮐﯽ ﮔﺌﯽ۔
( ﻃﺒﻘﺎﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺳﻌﺪ ﮐﺎﺗﺐ ﻭﺍﻗﺪﻱ . )
🔴 حضرت حمزہ (علیہ السلام) کے جنگی کارنامے
حضرت حمزہ سیدالشہدا (علیہ السلام) کی ولادت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ولادت سے دو سال پہلے ہوئی۔[1] آپ شجاع، دلیر اور ظلم کا مقابلہ کرنے والے تھے، آپ کی بہادری اور فوجی صلاحیتیں جوانی کے شروع ہونے کے ساتھ ساتھ ظاہر ہونے لگیں۔ آپ حتی اظہار اسلام سے پہلے بھی مشرکین کی اذیتوں کے سامنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حمایت کیا کرتے تھے، آپ کا اظہار اسلام، اللہ تعالی کے دین کی سربلندی اور سرافرازی کا باعث بنا کیونکہ اس کے بعد مسلمان گوشہ نشینی سے نکل آئے اور قریش کو آپ کی رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے حمایت اور پشت پناہی کا ادراک ہوگیا اسی لیے انہوں نے پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو تکلیف دینے میں کمی کردی۔
جناب حمزہ (علیہ السلام) نے دیگر مسلمانوں کے ساتھ مدینہ ہجرت کی اور قابل قدر خدمات خاص طور پر فوجی مسائل میں پیش کیں۔
جب پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو ایک طرف سے رفتہ رفتہ اسلام کا اقتدار بڑھتا گیا اور دوسری طرف سے مشرکین کی دشمنی بڑھتی گئی یہاں تک کہ مسلمانوں اور مشرکوں کا آپس میں پہلا ٹکراو ہوا۔ جناب حمزہ (علیہ السلام) جو اسدُاللہ و اسدُ رسولہ (اللہ کا شیر اور اللہ کے رسول کا شیر) کے لقب سے مفتخر ہوئے تھے، اس جنگ کی سربراہی آپ کے ذمہ تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے علم آپ کو سونپا اور آپ کو تیس مسلمانوں کی ہمراہی میں قریش کے تین سو افراد کے قافلہ سے جنگ کے لئے بھیجا، اگرچہ اس واقعہ میں کوئی جنگ پیش نہ آئی، لیکن جناب حمزہ (علیہ السلام) نے یہ اعزاز حاصل کیا کہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی طرف سے، لشکر کے علمدار بنے، یہ واقعہ پہلی ہجری کے ماہ رمضان میں واقع ہوا۔[2]
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہجرت کے دوسرے سال، ربیع الاول میں غزوہ "ابواء" کا اہتمام کیا اور جمادی الاولی میں غزوہ "ذات العشیرہ" کا قریش کے قافلہ کے تعاقب کے لئے انتظام کیا، ان دو غزوات میں لشکر اسلام کے علمدار جناب حمزہ (علیہ السلام) تھے۔
مسلمانوں اور کفار قریش کے درمیان پہلا فوجی معرکہ، دوسری ہجری میں پیش آیا۔ "بدر" کے کنووں کے پاس، مسلمان فوج، ابوسفیان کے لشکر کے سامنے قرار پائی اور آخر کار جھڑپ ہوئی۔ جناب حمزہ (علیہ السلام) نے جنگ بدر کے مختلف حصوں میں عظیم جرات دیکھائی، منجملہ جنگ کا وہ حصہ جو تن بہ تن واقع ہوا، جناب حمزہ (علیہ السلام) قریش کے ایک بہادر سے جس کا نام شیبہ تھا، جنگ کرتے ہوئے اسے ہلاکت کے گھاٹ اتار دیا۔ کتنی دیگر تن بہ تن جھڑپوں کے بعد، عام حملہ شروع ہوا اور جناب حمزہ (علیہ السلام) مکمل بہادری کے ساتھ دشمن کے قلب لشکر پر حملہ کرتے تھے۔ اس بہادر فوجی کا جنگ بدر میں چمکتا ہوا کردار تھا۔ یہ جنگ، الہی امدادوں سے اور حضرت امیرالمومنین علی (علیہ السلام) کی بے مثال شجاعتوں سے اور جناب حمزہ (علیہ السلام) کی بہادری سے لشکر اسلام کی یقینی فتح کے ساتھ اختتام پذیر ہوگئی۔ اس جنگ میں لشکر کفر کے چند سربراہ جناب حمزہ (علیہ السلام) کے طاقتور ہاتھوں سے ہلاک یا اسیر ہوئے، طعیمه بنعدى اور ابوقیس بن فاكه مقتولین میں سے ہیں اور اسود بن عامر جناب حمزہ (علیہ السلام) کے ذریعہ اسیر ہوگیا۔ سیدالشہدا حمزہ بن عبدالمطلب (علیہماالسلام) غزوہ "بنی قینقاع" میں لشکر اسلام کے علمدار تھے۔ بنی قینقاع کے یہودی، یہود کا پہلا گروہ تھا جنہوں نے اسلام سے اعلان جنگ کیا، لشکر اسلام نے ان کے قلعہ کو گھیر لیا، پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے انہیں مدینہ سے جلاوطن کردیا اور ان کے مال کو ضبط کرلیا۔
جنگ بدر کے ایک سال بعد، غزوہ احد ان مشرکوں سے مقابلہ کرنے کے لئے رونما ہوا جو مسلمانوں سے انتقام لینے اور بدر کی شکست کی تلافی کرنے کے لئے مدینہ کی طرف آئے تھے۔ جناب حمزہ (علیہ السلام) اور دیگر بعض بہادر مسلمانوں کا نظریہ یہ تھا کہ شہر سے باہر جنگ کی جائے۔ آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے قسم کھائی کہ کچھ نہیں کھائیں گے یہاں تک کہ دشمن کو شہر سے باہر جنگ کریں۔[3]
جنگ اُحد تیسری ہجری میں رونما ہوئی، جناب حمزہ (علیہ السلام) بھی مسلمانوں کے ساتھ ساتھ جانثاری کے لئے تیار تھے، جنگ اُحد کی رات کو گویا پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو معلوم تھا کہ آنحضرت کے چچا اس جنگ میں شہید ہوجائیں گے، آنحضرت نے جناب حمزہ (علیہ السلام) سے گفتگو کی اور ان کے اعتقادات کے سلسلے میں پوچھا اور ان سے کہا کہ خالصانہ طور پر اللہ کی وحدانیت اور محمد (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نبوت و رسالت کی گواہی دیں۔ جناب حمزہ (علیہ السلام) نے بھی شہادتین اور دیگر اعتقادی مطالب کو زبان پر جاری کیا۔ آخر میں آنحضرت نے ان سے فرمایا کہ کہیں: "حمزہ، شہیدوں کے سردار اور اللہ کے شیر اور اللہ کے رسول کے شیر اور پیغمبر کے چچا ہیں"۔
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی ان باتوں سے شہادت کی خوشبو محسوس ہوتی تھی، جناب حمزہ (علیہ السلام) کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے اور جناب حمزہ (علیہ السلام) بہت خوش ہوگئے۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے بھی دعا کی کہ وہ توحید کے عقیدہ پر مضبوط رہیں اور ان کے دل میں کوئی تزلزل پیدا نہ ہو۔[4]
آپ میدان جنگ میں شجاعت اور بہادری کا نمونہ تھے۔ آپ دشمن کی صفوں کے درمیان پہنچ جاتے اور دشمن سے مقابلہ کرتے۔ آپ بازووں کی عظیم طاقت کے مالک تھے، آپ جنگ احد میں دو تلواروں کے ذریعے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے سامنے جنگ کرتے اور کہتے: "میں اللہ کا شیر ہوں"، دشمن کے حملہ کرنے کے مقابلہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) سے وفاداری اور ثابت قدمی کے ساتھ دفاع کرتے اور آپ نے اس جنگ میں تیس مشرکوں کو ہلاک کردیا۔ مشرکین میں سے ایک شخص جس کا نام "وحشی" تھا، درخت کے نیچے اس بہادر سربراہ کے لئے کمین کیے بیٹھا تھا، جناب حمزہ (علیہ السلام) نے اسے دیکھا تو اس کی طرف جانے لگے، ایک دشمن نے آپ کا راستہ روک لیا۔ حضرت حمزہ (علیہ السلام) نے اس پر حملہ کرتے ہوئے اسے قتل کردیا، پھر تیزی کے ساتھ وحشی کی طرف بڑھے، لیکن آپ کا پاوں کیچڑ میں پھسل گیا اور آپ زمین پر گرگئے تو وحشی نے آپ کی طرف برچھی پھینکی، اس طریقہ سے اسلام کے یہ بزرگ حامی اتنا عرصہ جہاد فی سبیل اللہ اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی مدد کرتے ہوئے 59 سال کی عمر میں ملکوت اعلی کی طرف انتقال کرگئے اور وہ رشید سربراہ، جام شہادت نوش کرتے ہوئے، بارگاہ الہی کے شہید شاہد بن گئے۔
نتیجہ: حضرت حمزہ سیدالشہدا (علیہ السلام) تاریخ اسلام کی وہ عظیم ہستی ہیں جنہوں نے اسلام کی سربلندی کے لئے اللہ کی راہ میں مخلصانہ طور پر قربانیاں دیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حفاظت کرنے کے لئے اظہار اسلام سے پہلے اور بعد میں انتہائی کوششیں اور جانثاریاں کیں۔ آپ نے جنگ بدر و احد اور دیگر کئی جنگوں میں حصہ لیتے ہوئے آخر کار جنگ احد میں جام شہادت نوش فرمایا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
[1] ماخوذ: السیرة النبویة ابن ہشام، قسم2، ص96.
[2] مغازی واقدی، ج 1، ص 9.
[3] طبقات ابن سعد، ج3، ص12.
[4] بحارالانوار، ج 22، ص 278.
🔴حضرت حمزہ سیدالشہدا (علیہ السلام) کی جان نثاریاں
خلاصۃ: اسلام کی مشہور اور شجاع شخصیات میں سے ایک حضرت حمزہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے چچا ہیں، آپ نے پیغمبر اکرم (ص) کی بھرپور حمایت اور حفاظت کی، نیز آپ نے آنحضرت کی دعوت اسلام میں خاص کردار ادا کیا کہ آپ کے اظہار اسلام کا رشتہ داروں کے اسلام کی طرف مائل ہونے پر اثر پڑا، آپ نے اسلام کے لئے ایسی جان نثاری کی کہ جنگ احد میں جام شہادت نوش کرلیا۔
جناب حمزہ بن عبدالمطلب جن کے القاب، اسد اللہ، اسد رسول اللہ اور سیدالشہدا ہیں، نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے چچا ہیں اور جنگ اُحد کے شہدا میں سے ہیں، حضرت حمزہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی دعوت رسالت کے حامیوں میں سے تھے، آپ رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے اسقدر حامی، مددگار اور پشت پناہ تھے کہ ابھی تک آپ نے اپنے مسلمان ہونے کا اعلان نہیں کیا تھا تب بھی آپ، مشرکوں کے مقابلہ میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی حمایت کیا کرتے تھے اور چونکہ آپ قریش کے بزرگوں میں سے تھے تو آپ کے اظہار اسلام سے قریش نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو اذیت و تکلیف دینے میں کمی کردی، نیز بعض تاریخی دستاویز کے مطابق، ابولہب اور دیگر مشرکین جو رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی توہین کرتے تھے، آپ ان کی توہین کا جواب دیا کرتے تھے۔[1]
نمونہ کے طور پر ایک دن ابوجہل کا کوہ صفا کے قریب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سامنا ہوا تو اس نے آنحضرت سے نازیبا باتیں کیں۔ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے کوئی جواب نہ دیا۔ ایک کنیز وہاں پر موجود تھی اس نے یہ واقعہ دیکھ لیا۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد جناب حمزہ شکار سے مکہ واپس پلٹ آئے، جناب حمزہ کا طریقہ کار یہ تھا کہ جب شکار سے واپس آتے تو کعبہ کا طواف کرتے، پھر قریش کی انجمنوں میں جاتے اور ان سے بات چیت کرتے۔ قریش جناب حمزہ سے ان کی بہادری کی وجہ سے محبت کرتے تھے۔ اس مرتبہ جب جناب حمزہ اپنے طریقہ کار کے مطابق، اپنے جاننے والوں سے ملاقات میں مصروف تھے تو وہ کنیز آپ کے پاس آئی اور کہا: آپ موجود نہیں تھے کہ دیکھتے کہ ابوجہل نے آپ کے بھتیجے سے کیا کچھ کہا۔ جناب حمزہ ابوجہل کے پاس گئے، اسے دیکھا کہ وہ مسجدالحرام میں لوگوں کے درمیان بیٹھا ہے۔ آپ نے اپنی کمان اس کے سر پر ماری یہاں تک کہ ابوجہل کے سر میں بڑا سا زخم ہوگیا۔ پھر آپ نے کہا: "کیا تم محمد کو گالی دیتے ہو، کیا نہیں جانتے کہ میں نے ان کا دین اختیار کرلیا ہے، جو کچھ وہ کہیں میں بھی وہی کہوں گا"۔ بنی مخزوم ابوجہل کی مدد کرنے لگے، لیکن اس نے کہا: حمزہ کو چھوڑو، کیونکہ میں نے اس کے بھتیجے کو نازیبا گالیاں دی ہیں، یہ واقعہ باعث بنا کہ جناب حمزہ مسلمانوں میں سے ہوجائیں، اس کے بعد، کیونکہ قریش نے دیکھا کہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کا حمزہ جیسا طاقتور حامی ہے جو آنحضرت کو ان لوگوں کے خطرے سے محفوظ رکھے گا تو وہ کم ہی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو تکلیف دیا کرتے تھے۔[2]
حضرت امام زین العابدین (علیہ السلام) سے منقول روایت کے مطابق، جناب حمزہ کے اسلام لانے کی وجہ، اس مسئلہ میں غیرت تھی جو مشرکین نے اونٹنی کی بچہ دانی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے سر پر پھینکی۔[3] تاہم بعض محققین کا نظریہ ہے کہ جناب حمزہ کا اسلام، ابتدا ہی سے علم و معرفت پر قائم تھا۔[4]
جناب حمزہ کا اظہار اسلام آپ کے قرابتداروں کا اسلام کی طرف مائل ہونے پر اثر انداز ہوا۔[5]
جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے اپنی دعوت، اعلانیہ طور پر کردی تو جناب حمزہ بھی اعلانیہ طور پر دعوت کرنے لگے۔[6]
آپ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے ساتھ رہے اور حبشہ ہجرت نہ کی۔[7] دو یا تین سال جو مشرکوں نے بنی ہاشم اور بنی مطلب پر شعب ابی طالب میں پابندی لگائی ہوئی تھی، جناب حمزہ مسلمانوں کے ساتھ تھے۔[8]
دوسری بیعت عقبہ میں بعثت کے بارہویں سال جب مدینہ کے کچھ لوگوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے عہد کیا تو جناب حمزہ، حضرت علی (علیہ السلام) کے ساتھ موجود اور محافظ تھے کہ اس جگہ مشرکین قریب نہ ہونے پائیں۔[9]
رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے جنگ کا پہلا علم، ماہ رمضان میں ہجرت کے پہلے سال میں، جناب حمزہ پر باندھا تاکہ آپ، قریش کے شام سے مکہ واپس آنے والے تجارتی قافلہ پر حملہ کے سریہ کی قیادت کریں۔ جناب حمزہ ۳۰ مہاجرین کے ساتھ عیص علاقہ تک سمندر کی ساحل میں بڑھے اور وہاں پر ابوجہل کی زیرنگرانی مشرکین مکہ کے ۳۰۰ سوار افراد کے لشکر سے سامنا ہوا۔ مَجدی بن عَمرو جُهَنی کی ثالثی سے جس کا دونوں گروہوں سے صلح کا وعدہ تھا، کوئی جنگ پیش نہ آئی اور دونوں لشکر واپس پلٹ گئے۔[10] جناب حمزہ اَبواء یا وَدّان، ذوالعُشَیره اور بنی قَینُقاع کے غزوات میں علمدار تھے۔[11]
غزوہ بدر میں جناب حمزہ لشکر اسلام میں مشرکین سے قریب ترین جگہ پر تھے۔[12] اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے آپ کو، حضرت علی (علیہ السلام) کو اور عُبَیدة بن حارث بن عبدالمطلب کو مشرکین کے چند سربراہوں سے جنگ کے لئے بھیجا۔ مختلف رپورٹوں کے مطابق، عُتْبة بن ربیعه یا شَیبه، براہ راست جناب حمزہ کے ہاتھوں جنگ میں قتل ہوگئے۔[13]
ہجرت کے تیسرے سال غزوہ احد کے سلسلے میں جناب حمزہ ان افراد میں سے تھے جن کا ارادہ یہ تھا کہ جنگ مدینہ سے باہر کی جائے، یہاں تک کہ آپ نے قسم کھائی کہ کچھ نہیں کھائیں گے یہاں تک کہ شہر سے باہر دشمن سے جنگ کریں، قلب لشکر کی ذمہ داری آپ پر تھی، آپ دو تلواروں سے جنگ کرتے اور اس جنگ میں آپ نے شجاعت دکھائی۔[14]
جنگ احد میں حضرت حمزہ، وحشی بن حرب حبشی غلام کے ذریعہ شہید ہوئے، اس غلام کو ابوسفیان کی بیوی ہند نے مال کا وعدہ دیتے ہوئے اس کام کے لئے ابھارا تھا۔ آپ کی شہادت کے بعد ہند آپ کی لاش پر آئی اور آپ کے بدن کو مثلہ (ٹکڑے ٹکڑے) کردیا۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے آپ کی یہ صورتحال دیکھی تو گریہ کیا اور جب سنا کہ انصار اپنے مقتولین پر گریہ کررہے ہیں تو فرمایا: "لیکن حمزہ پر گریہ کرنے والا نہیں ہے" سعد بن معاذ نے پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی یہ بات سنی اور خواتین کو حضور اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے گھر کے دروازے پر لایا اور خواتین نے جناب حمزہ پر گریہ کیا۔ اس کے بعد جب بھی انصار کی کوئی عورت کسی مقتول پر گریہ کرنا چاہتی تو پہلے جناب حمزہ پر گریہ کرتی۔[15] کہا گیا ہے کہ زینب ابوسلمہ کی بیٹی نے جناب حمزہ کے لئے تین دن عزا کا لباس پہنا۔[16] جناب حمزہ جنگ اُحُد کے پہلے شہید تھے جن پر پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے نماز پڑھی اور پھر دیگر شہدا کو کئی گروہوں میں لایا گیا اور ان کو آپ کے جنازے کے پاس رکھا گیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے ان پر اور آپ پر نماز پڑھی، اس طرح سے الگ اور نیز دیگر شہدا کے ساتھ آپ کے جنازے پر تقریباً ستر بار نماز پڑھی۔[17]
جناب حمزہ کی مقبولیت اور آپ کی شخصیت کا ہردل عزیز ہونے کا ایک ثبوت یہ ہے کہ آپ کی شہادت کے بعد، بعض اصحاب نے اپنے بیٹوں کا نام "حمزہ" رکھا۔[18]
اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوسکتی ہے کہ آپ اور جناب جعفر بن ابی طالب کی شہادت سے بنی ہاشم کا قریش کے مقابلے میں اقتدار کم ہوگیا اور ان دو حضرات کی شہادت، رسول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد حضرت امیرالمومنین علی بن ابی طالب (علیہ السلام) کا خلیفہ نہ بن پانے کی وجہ بتائی گئی ہے۔[19]
نتیجہ: حضرت حمزہ، اسلام کی ان شخصیات میں سے ہیں جو شجاع، نامور اور ہر دل عزیز ہیں، آپ نے اظہار اسلام کے بعد اور قبل بھی رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی حمایت اور حفاظت کی، آپ جنگ احد میں ہند جگرخوار کے ناپاک عزائم کے تحت حبشی غلام کے ذریعے شہید ہوئے، آپ کے جام شہادت نوش کرنے کے بعد نبی اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) نے گریہ کیا،
حوالہ جات:
[1] الکافی، ج1، ص449.
[2] تاریخ تحلیلی اسلام، شهیدی، ص49؛ کتاب السیر و المغازی، ابن اسحاق، ص171-172؛ السیرة النبویة، ابن هشام، قسم1، ص291ـ292.
[3] الکافی، ج1، ص449، ج2، ص308.
[4] الصحیح من سیرة النبی، عاملی، ج3، ص153ـ154.
[5] الطبقات ابن سعد، ، ج3، ص123.
[6] انساب الاشراف، ج1، ص123.
[7] السیرة النبویة ابن هشام.
[8] ابن اسحاق، ص160ـ161.
[9] تفسیر القمی، ذیل انفال: 30.
[10] المغازی، ج1، ص9؛ السیرة النبویة ابن هشام، قسم 1، ص595ـ596؛ طبقات ابن سعد، ج2، ص6.
[11] طبقات ابن سعد ، ج2، ص8ـ9 و ج3، ص10.
[12] طبقات ابن سعد ، ج3، ص12.
[13] المغازی، ج1، ص68ـ69.
[14] طبقات ابن سعد ، ج3، ص12.
[15] المغازی، ج1، ص315ـ317.
[16] النهایة، ابن اثیر، ج5، ص68۔
[17] طبقات ابن سعد ، ج3، ص11.
[18] الکافی، ج6، ص19.
[19] الکافی، ج8، ص189ـ190؛ شرح نهج البلاغہ ابن ابی الحدید، ج11، ص111، 115 ـ 116۔