🔴 حمزہ بن عبد المطلب ع
Post 2/2
⭕ شہادت
غزوہ احد 15 شوال سنہ 3 ہجری میں واقع ہوا اور اس جنگ میں حمزہ حارث بن عامر بن نوفل کی بیٹی کے غلام یا جبیر بن مطعم کے غلام "وحشی بن حرب" کے ہاتھوں شہید ہوئے۔[34]
ایک روایت کے مطابق حارث کی بیٹی نے وحشی کو آزادی کا وعدہ دیا اور اس کے عوض اس کو حکم دیا کہ اس کے باپ کے بدلے کے طور پر ـ جو جنگ بدر میں مارا گیا تھا ـ محمدؐ، یا حمزہ یا علیؑ کو قتل کرے۔[35]
ایک روایت یہ بھی کہ جبیر بن مطعم نے اس کو آزادی کا وعدہ دیا اور کہا کہ اس کے چچا طعیمہ بن عدی کا انتقال نے جو جنگ بدر میں مارا گیا تھا؛[36]
تاہم اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ہند بن عتبہ جو ابو سفیان کی بیوی تھی کا باپ، بھائی اور چچا غزوہ بدر میں مارے گئے تھے اور بدلہ لینے کے محرکات بنت حارث اور جیبر کی نسبت اس کے ہاں کچھ زيادہ ہی تھے۔ بعض روایات میں منقول ہے کہ ہند نے ابتداء ہی سے وحشی کو مال و دولت کا وعدہ دے کر اس کو اس جرم کے ارتکاب پر اکسایا تھا۔[37]
⭕ ہند کا مثلہ کرنا
مروی ہے کہ ہند بنت عتبہ نے نذر مانی تھی کہ حمزہ کا کلیجہ چبا لے گی![38] وحشی نے ابتداء میں علیؑ کے قتل کا وعدہ دیا لیکن میدان میں جاکر اس نے حمزہ کو شہید کردیا اور ان کا کلیجہ نکال کر ہند بنت عتبہ کے حوالے کیا۔ ہند نے اپنا لباس اور زیور وحشی کو دیا اور وعدہ دیا کہ مکہ پہنچ کر 100 دینا بطور انعام اس کو ادا کرے گی۔ بعدازاں حمزہ کے جسم بےجان کے قریب آئی اور بدن کا مثلہ[39] کردیا اور ان کے اعضاء جسمانی سے ہار، کنگن، بالیاں اور پازیب بنالی اور انہیں حمزہ کے کلیجے کے ہمراہ مکہ لے گئی۔[40] مروی ہے کہ معاویہ بن مُغیرہ اور ابو سفیان بن حرب نے بھی حمزہ کے بدن کا مثلہ کیا یا اس پر چوٹیں لگائیں۔[41]
حمزہ کے پیکر بےجان کی حالت دیکھ کر بعض اصحاب[42] قسم اٹھائی کہ وہ قریش کے 300 یا اس بھی زیادہ افراد کا مثلہ کریں گے لیکن سورہ نحل کی آیت 1266 نازل ہوئی جو اگرچہ مسلمانوں کو ہوبہو کاروائی کی اجازت دی گئی مگر صبر کو بہتر چارہ کار قرار دیا گیا؛ ارشاد ہوا:"اور اگر تم لوگ سزا دو تو ویسی ہی جیسی تمہیں سزا دی گئی تھی اور اگر صبر کرو تو وہ صبر کرنے والوں کے لیے بہتر ہے"۔[43]
⭕ ستر بار نماز جنازہ
حمزہ احد کے پہلے شہید تھے جن کی نماز جنازہ رسول اللہؐ نے پڑھائی اور بعدازاں شہداء کو باری باری لایا گیا اور حمزہ کے قریب رکھا گیا اور آپؐ نے ان شہداء اور حمزہ کی نماز جنازہ پڑھائی۔ یوں 700 مرتبہ حمزہ کی مستقل طور پر اور دیگر شہداء کے ہمراہ نماز جنازہ پڑھائی گئی۔[44] حمزہ کو بہن صفیہ کے لائے ہوئے کپڑے کا کفن دیا گیا کیونکہ مشرکین نے ان کے بدن کو برہنہ کردیا تھا۔[45]
⭕ حمزہ پر گریہ و بکاء
رسول اللہؐ نے حمزہ کی وہ حالت دیکھی تو روئے[46] اور پھر انصار کے اہل خانہ کو دیکھا جو اپنے شہداء کے لئے گریہ و بکاء کررہے تھے تو فرمایا:"لیکن حمزہ کا کوئی رونے والا نہیں ہے"۔ سعد بن معاذ نے آپؐ کی بات سن لی اور انصاری خواتین کو رسول خداؐ کے گھر کے دروازے پر لائے اور وہ انھوں نے حمزہ کے لئے گریہ کیا؛ اس دن کے بعد جب بھی کوئی انصاری خاتون اپنے کسی مرحوم کے لئے رونا چاہتی پہلے حمزہ کے لئے گریہ و بکاء کرتی تھی۔[47] مروی ہے کہ زینب بنت ابی سلمہ نے حمزہ کے سوگ میں تین دن تک لباس عزا پہنے رکھا۔[48]
⭕ حمزہ کا مقبرہ
مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ زہراءؑ قبر حمزہ کی زیارت پر جاتی تھیں اور آپؑ نے قبر کے گرد پتھر رکھ کر نشان لگایا تھا۔[49]
امویوں نے خاندان رسالت کے ساتھ دشمنی کے باعث، حضرت حمزہ اور غزوہ احد کے دوسرے شہداء کی قبروں کے ساتھ غیر شائستہ رویہ روا رکھا۔ مروی ہے کہ ابو سفیان نے عثمان بن عفان کے دور حکومت میں قبر حمزہ پر لات ماری اور کہا "اے ابا عمارہ! جس چیز کے لئے تو نے کل ہمارے خلاف تلوار سونت لی تھی آج ہمارے نوجوانوں کے ہاتھوں کا کھلونا ہے جس کے ساتھ وہ کھیل رہے ہیں!"۔[50]
معاویہ نے غزوہ احد کے 40 سال بعد احد میں ایک چشمے یا کاریز کا پانی جاری کرنے کی غرض سے ـ گویا خاندان رسالت کے ساتھ دشمنی کی بنا پر ـ حکم دیا کہ حضرت حمزہ سید الشہداء سمیت شہدائے احد کی قبریں کھول دی جائیں اور ان کو دوسرے مقام پر دفنا دیا جائے۔ اس اقدام کے بعد بعض شہداء منجملہ حمزہ کی قبروں کے مقامات تبدیل ہوگئے۔[51]
حمزہ کے مزار کے اوپر قدیم الایام سے ایک مسجد اور بارگاہ تعمیر کی گئی تھی لیکن حجاز پر وہابیوں کے تسلط اور آل سعود کے بر سر اقتدار آنے کے بعد حضرت حمزہ کے مزار پر تعمیر شدہ گنبد و بارگاہ کو سنہ 1344 ہجری قمری میں منہدم کیا گیا۔[52]
نیز مسجد حمزہ کو گرا دیا گیا اور مزار شہدائے احد کے مغرب میں ایک مسجد تعمیر کی گئی جو مسجد احد، مسجد علی اور مسجد حمزہ کے نام سے مشہور ہے۔[53]
حمزہ سید الشہداء کا مزار قدیم الایام سے مدینہ کی زيارت کا شرف حاصل کرنے والے زائرین اور حجاج ـ بالخصوص شیعہ اور ایرانیوں کی خاص توجہ کا مرکز رہا ہے۔
⭕ حمزہ کی منزلت
حمزہ کی شخصیت کی گہری تاثیر اور مقبولیت و ہر دلعزیزی کا ایک نمونہ یہ تھا کہ ان کی شہادت کے بعد بعض صحابیوں نے اپنے بچوں کو ان کے نام سے موسوم کیا۔[54] حضرت حمزہ اور جعفر طیار کی شہادت کو قریشیوں کے مقابلے میں بنو ہاشم کی طاقت میں کمی آنے اور رسول خداؐ کی طرف سے جانشینی کے واضح اعلان کے باوجود علی بن ابی طالبؑ کی خلافت سے محروم ہونے کا سبب گردانا گیا ہے۔[55]
⭕ حمزہ کے فضائل احادیث کی روشنی میں
امیرالمؤمنینؑ اور دوسرے ائمہؑ نے مخالفین کے ساتھ بحث کے دوران حمزہ اور جعفر کے ساتھ اپنی قرابت پر فخر کا اظہار کیا ہے۔[56]
حمزہ کے فضائل اور کرامات کے سلسلے میں متعدد احادیث نقل ہوئی ہیں۔[57] رسول اللہؐ نے حمزہ، جعفر بن ابی طالب اور علیؑ کو لوگوں میں سب سے بہتر[58] اور بنو ہاشم کی نسل سے آنے والے 77 بہترین افراد کے زمرے میں شمار کیا[59] نیز علیؑ جعفر اور حمزہ کو بہترین شہداء قرار دیا۔[60]
رسول اکرمؐ فرمایا کرتے تھے کہ "حمزہ نے قرابت کا حق ادا کیا اور نیک اعمال بجا لانے والے تھے"۔[61]
احادیث میں حمزہ کے گھوڑے "وَرد" اور ان کی تلوار "لیاح"[62] اور دیگر ذاتی وسائل کی طرف اشارہ ہوا ہے جو ان کے معنوی عظمت کی علامت ہے جو صدیوں سے استوار ہے۔
⭕ اولاد
حمزہ سیدالشہداء کے تین بیٹے تھے: عمارۃ، یعلی اور عامر۔[63] ان کے بڑے فرزند عمارہ فتح عراق میں شریک تھے۔[64] یعلی پانچ بیٹوں کے باپ تھے۔[65] اس کے باوجود کہ بعض مآخذ نے حمزہ کی نسل منقطع ہونے پر تاکید کی ہے،[66] دسویں صدی ہجری میں بعض افراد کو حمزہ کی اولاد کے عنوان سے متعارف کرایا گیا ہے۔[67]
حمزہ کی بیٹیوں کے متعدد اسماء متعدد مآخذ میں مذکور ہیں لیکن وہ سب ایک ہی بیٹی کی طرف لوٹتے ہیں جس کا نام مرجَّح یا امامہ ہے۔[68]
امامہ کا نام حدیث غدیر کے راویوں کے زمرے میں درج ہوا ہے۔[69]
📚 حوالہ جات
34: ابن اسحاق، السیر والمغازی، ص323؛ ابن سعد، الطبقات، ج3، ص10؛ الواقدی، المغازی، ج1، ص285۔
35: الواقدی، المغازی، ج1، ص285۔
36: ابن اسحاق، السیر والمغازی، ص323، 329؛ ابن ہشام، السیرة النبویۃ، قسم 2، ص70ـ72۔
37: البلاذري، انساب الاشراف، ج3، ص286ـ287؛ القمي، تفسیر القمی، ج1، ص116۔
38: ابن سعد، الطبقات، ج3، ص12۔
39: مثلہ کرنا: یعنی کان اور ناک یا اطراف جسم سے کوئی عضو کاٹنا، کسی کے اعضاء جسمانی میں سے کوئی عضو کاٹنا (یادداشت به خط مرحوم دهخدا)؛ فرهنگ لغت عمید۔
40: الواقدی، المغازی، ج1، ص285ـ286۔
41: البلاذري، انساب الاشراف، ج1، ص338؛ ابن هشام، السیرة النبویة، قسم 2، ص93۔
42: القمي، تفسیر القمی، ذیل آیت 126 سورہ نحل؛ الطوسی، التبیان، ذیل آیت 126 سورہ نحل۔
43: ابن اسحاق، السیر والمغازی، ص335۔
44: ابن سعد، الطبقات، ج3، ص11، مقایسه کنید با ج3، ص16؛ نہج البلاغۃ، مکتوب شماره 28؛ الکلینی، الکافی، ج3، ص186، 70 تکبیریں۔
45: ابن سعد، الطبقات، ج3، ص15ـ166؛ البلاذري، انساب الاشراف، ج3، ص288ـ289؛ الکلینی، الکافی، ج3، ص211۔
46: ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج1، ص374۔
47: الواقدی، المغازی، ج1، ص315ـ317؛ ابن سعد، الطبقات، ج3، ص11، قس ج3، ص17۔
48: ابن اثیر، النہایة، ج5، ص68۔
49: ابن سعد، الطبقات، ج3، ص19؛ ابن شبّہ نمیری، کتاب تاریخ المدینۃ المنورہ، ج1، ص132۔
50: ابن ابی الحدید، ج16، ص136۔
51: الواقدی، المغازی، ج1، ص267ـ268؛ ابن سعد، الطبقات، ج3، ص11؛ ابن شبّہ نمیری، کتاب تاریخ المدینۃ المنورة، ج1، ص133؛ محمد باقر نجفی، مدینہ شناسی، ج2، ص257۔
52: جعفر خیاط، المدینۃ المنورة فی المراجع الغربیۃ، ص254؛ نجمی، حمزه سیدالشہداء، ص191، 212۔
53: قائدان، تاریخ و آثار اسلامی مکہ مکرمہ و مدینہ منوره، ص332۔
54: ابن سعد، الطبقات، ج5، ص186؛ الکلینی، الکافی، ج6، ص19؛ حاکم نیشابوری، المستدرک علی الصحیحین، ج3، ص196۔
55: الکلینی، الکافی، ج8، ص189ـ190؛ ابن ابی الحدید، شرح نہج البلاغۃ، ج11، ص111، 115ـ 116۔
56: نہج البلاغۃ، نامہ 28؛ الطبري، تاريخ الامم والملوک، ج5، ص424؛ نجمی، حمزه سیدالشہداء، ص37ـ50۔
57: ابن سعد، الطبقات، ج3، ص122؛ نجمی، حمزه سیدالشہداء، ص21ـ 35۔
58: ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص17۔
59: الکلینی، الکافی، ج8، ص50۔
60: الکلینی، الکافی، ج1، ص4500۔
61: ابن سعد، الطبقات، ج3، ص13ـ14۔
62: ابن حبیب، کتاب المُنَمَّق، ص407 و411۔
63: ابن سعد، الطبقات، ج3، ص8۔
64: البلاذري، انساب الاشراف، ج3، ص288ـ289۔
65: ابن سعد، الطبقات، ج3، ص9۔
66: ابن سعد، الطبقات، ج3، ص9؛ ابن قدامہ، التبیین فی انساب القرشیین، ص147۔
67: آقابزرگ طہرانی، الذریعۃ، ج26، ص96۔
68: البلاذري، انساب الاشراف، ج3، ص2833؛ ابن اثیر، اسدالغابۃ، ج6، ص21، 147، 199، 219، 378۔
69: امینی، الغدیر، ج1، ص139۔
ماخذ : وکی شیعہ