🔴 حمزہ بن عبد المطلب ع

 

post 1/2

 

حَمزۃ بن عَبدالمُطَّلِب، الملقب بہ "اسد اللہ"، "اسد رسول اللهؐ" اور سید الشہداء، پیغمبر اکرمؐ کے چچا اور اُحُد کے شہداء میں سے ہیں۔ حمزہ رسول اکرمؐ کی دعوت رسالت کے اہم حامیوں میں سے ہیں۔ اور مروی ہے کہ ابھی انھوں نے قبول اسلام کا اعلان نہیں کیا تھا لیکن مشرکین کے مقابلے میں رسول خداؐ کی حمایت کرتے تھے۔ وہ خود قریش کے ز‏عماء میں سے تھے اسی وجہ سے ان کی طرف سے قبول اسلام کے اظہار کے بعد قریش کی طرف سے رسول اللہؐ پر ظلم و جور اور آزار و اذيت میں کمی آگئی۔

 

حمزہ نے اسلام قبول کرنے کے بعد صدر اسلام کی جنگوں میں شرکت کی اور جنگ احد میں جام شہادت نوش کیا۔ مشرکین نے ان کے جسم کا مثلہ[جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا] کر دیا۔ رسول اللہؐ نے اپنے چچا کو اس حال میں دیکھا تو روئے۔ بعدازاں انصار کی عورتیں اپنے مرحومین کے لئے گریہ کرنے سے قبل حضرت حمزہ کے لئے گریہ کیا کرتی تھیں۔

 

رسول اکرمؐ نے حمزہ کو بنو ہاشم کے 7 بہترین افراد اور بہترین شہداء کے زمرے میں شمار کیا ہے۔

 

⭕ نام، کنیت اور لقب

 

آپ کی کنیت ابوعُمارہ اور ابو یعْلی ہیں[1] آپ کی والدہ ہالہ بنت اُہَیب (وُہَیب) بن عبد مَناف بن زُہرہ تھیں۔[2]

 

انہیں "اسد اللہ" اور "اسدُ رسولِ اللہ" جیسے القاب دیئے گئے ہیں۔[3] رسول خداؐ سے منقولہ ایک حدیث کے مطابق حمزہ کو شہادت کے بعد بھی اللہ کی تائید حاصل ہوئی اور سید الشہداء کے عنوان سے مشہور ہوئے۔[4]

 

حمزہ کے معنی "شیر"[5] یا تیز فہمی[6] کے ہیں۔

 

⭕ قبل از اسلام

 

حمزہ جنگ فِجار اور حلف الفضول میں شریک تھے۔ وہ ابو طالب اور دیگر اعمام کے ہمراہ حضرت خدیجہ کا رشتہ مانگنے کی رسم میں حاضر تھے؛ حتی کہ بعض مآخذ میں ہے کہ گو کہ حمزء رسول اللہؐ کے ساتھ عمر کے لحاظ سے تھوڑا سا فرق رکھتے تھے اور ابھی نوجوان تھے اور خطبۂ نکاح حضرت ابو طالب نے پڑھا لیکن خدیجہ کبری کا رشتہ مانگنے کی رسم میں حمزہ کا نام بھی مذکور ہے۔[7]

 

ایک سال مکہ میں قحط پڑا اور لوگوں کو شدید خشک سالی کا سامنا کرنا پڑا، تو رسول اللہؐ نے اپنے کثیر العیال چچا ابو طالبؑ کی مدد کی تجویز دی تو حمزہ نے جعفر کی سرپرستی قبول کی اور انہیں گھر لے گئے۔[8] (طبری کا کہنا ہے کہ جعفر کی سرپرستی عباس نے قبول کی تھی)۔[9]

 

حمزہ شکاری تھے اور شکار کیا کرتے تھے۔[10] دوران جاہلیت وہ عبد المطلب کے فرزندوں میں سے ایک تھے جنہوں نے قریش میں زعامت پائی اور اس قدر بلند مرتبہ تھے کہ بعض لوگ ان کے ساتھ معاہدے منعقد کرتے تھے۔[11]

 

⭕ بعد از اسلام

 

'مفصل مضمون: دعوت ذوالعشیرہ

 

جس دن رسول اللہؐ نے اپنے اقرباء اور اہل خاندان کو دعوت اسلام کی غرض سے چچا ابو طالب کے گھر آنے کی دعوت دی، حمزہ بھی موجود تھے۔[12]

 

حمزہ حتی کہ اظہار اسلام سے قبل ابوطالب کی طرح مشرکین کے آزار و اذیت سے آپؐ کی حمایت کرتے تھے۔ بعض تاریخی روایات کے مطابق رسول اللہؐ کی شان میں ابو لہب اور دوسرے مشرکین کی توہین اور گستاخی کا جواب دیا کرتے تھے۔[13]۔[14]

 

⭕ قبول اسلام

 

ایک دن ابو جہل کوہ صفا کے قریب رسول اللہؐ کے سامنے آيا اور نازیبا الفاظ کہہ کر آپؐ کی شان میں اہانت کی۔ رسول اللہؐ نے ابو جہل کو جواب نہیں دیا۔ ایک کنیز بھی اس واقعے کی گواہ تھی۔ تھوڑی دیر بعد حمزہ شکار سے واپس مکہ پلٹ آئے۔ حمزہ کا معمول یہ تھا کہ شکار سے واپسی پر کعبہ کا طواف کرتے تھے اور اس کے بعد قریش کے اجتماعات میں چلے جاتے تھے اور ان سے بات چیت کرتے تھے۔ قریش حمزہ کی جوانمردیوں کے باعث ان سے محبت کرتے تھے۔ اس بار واپسی پر حمزہ اپنے معمول کے مطابق جانے پہچانے افراد کے ساتھ دیدار میں مصروف تھے کہ وہ کنیز ان کے قریب آئی اور کہا: "آپ یہاں موجود نہ تھے کہ دیکھتے ابو جہل نے محمدؐ سے کیا کہا!" حمزہ فوری طور ابو جہل کے قریب پہنچے جو مسجد الحرام میں لوگوں کے درمیان بیٹھا تھا اور اپنی کمان اس کے سر پر دے ماری اور ابو جہل شدید زخمی ہوا۔ حمزہ نے کہا: "تو محمد کو گالیاں دیتا ہے؟ کیا تو نہیں جانتا کہ میں نے آپؐ کا دین اختیار کیا ہے؛ وہ جو بھی کہیں میں بھی وہی کہتا ہوں"۔ بنو مخزوم نے ابو جہل کی مدد کا ارادہ کیا لیکن اس نے کہا: حمزہ کو جانے دو کیونکہ میں نے ان کے بھتیجے کو ناخوشایند گالی دی ہے۔ اس واقعے کے نتیجے میں حمزہ مسلمانوں کے زمرے میں شامل ہوئے۔ قریش نے دیکھا کہ محمدؐ کو حمزہ جیسے جوانمرد کی حمایت بھی حاصل ہوئی ہے اور کسی بھی منصوبے کے مقابلے میں آپؐ کی حفاظت کرے گا تو ان کی ریشہ دوانیوں میں کافی حد تک کمی آئی۔[15]

 

بایں حال امام سجادؑ سے منقولہ حدیث کے مطابق مشرکین نے رسول اللہؐ کے سر پر اونٹنی کی بچہ دانی پھینک دی تو اس واقعے میں حمزہ کی غیرت ان کے اسلام لانے کا سبب بنی۔[16] تاہم بعض محققین نے مستند اور مدلل انداز سے لکھا ہے کہ حمزہ کا اسلام ابتداء سے ہی آگہی اور شناخت پر استوار تھا۔[17]

 

محدثین اور مؤرخین کا کہنا ہے کہ حمزہ بن عبدالمطلب بعثت کے دوسرے یا چھٹے سال میں ابو ذر کے اسلام لانے سے قبل مسلمان ہوئے۔[18]

 

حمزہ کا قبول اسلام ان کے اعزاء و اقارب کے قبول اسلام میں مؤثر تھا۔[19]

 

حمزہ کے قبول اسلام سے لے کر ہجرت تک کے حالات زندگی کے حوالے سے بہت کم معلومات تاریخ میں دستیاب ہیں؛ بس اتنا معلوم ہے کہ رسول اللہؐ نے اعلانیہ دعوت کا آغاز کیا تو حمزہ نے بھی اعلانیہ دعوت و تبلیغ کا آغاز کیا۔[20] وہ رسول اللہؐ کے ساتھ رہے اور حبشہ کی طرف ہجرت نہیں کی۔[21]

 

مشرکین نے شعب ابی طالب میں بنو ہاشم اور بنو المطلب کی ناکہ بندی کی تو مسلمین کے ساتھ تھے شعب میں تھے۔[22]

 

بعثت کے بارہویں سال دوسری بیعت عقبہ میں مدینہ کے بعض افراد نے رسول خداؐ کے ساتھ بیعت کی تو حمزہ اور علیؑ موجود تھے اور نگرانی کررہے تھے کہ کہیں مشرکین قریب نہ آئیں۔[23]

 

⭕ ہجرت مدینہ

 

حمزہ مکہ میں مواخات کے دوران زید بن حارثہ کے بھائی بنے اور یوم احد بھی ان ہی کو اپنا وصی قرار دے چکے،[24]۔[25] مدینہ میں مسلمانوں کے درمیان عہد اخوت کے دوران کلثوم بن ہدم کے بھائی بنے۔[26]

 

پیغمبر اکرمؐ نے سب سے رمضان سنہ 1 ہجری میں جنگ کا سب سے پہلا پرچم حمزہ کے لئے باندھ لیا تاکہ وہ شام سے پلٹنے والے قریش کے کاروان تجارت کا راستہ روکنے کے لئے سریے کی قیادت کریں۔ حمزہ مہاجرین کے 300 سواروں کے ہمراہ ساحل سمندر پر واقع "عیص" نامی علاقے تک آگے بڑھے اور وہاں انہیں ابو جہل کی سرکردگی میں 300 سواروں کا سامنا کرنا پڑا۔ مجدی بن عمرو جہنی نامی شخص ـ جس نے دونوں فریقوں کے ساتھ امن کا معاہدہ منعقد کیا تھا ـ کی وساطت سے کوئی جھڑپ نہیں ہوئی اور فریقین لڑے بغیر واپس چلے گئے۔[27]

 

حمزہ مختلف غزوات ـ جیسے غزوہ ابواء، غزوہ ذوالعشیرہ اور غزوہ بنی قینقاع میں رسول خداؐ کے لشکر کے علم بردار تھے۔[28]

 

غزوہ بدر میں حمزہ سپاہ اسلام کی صف اول میں تعینات تھے،[29] اور رسول خداؐ نے انہیں اور علیؑ اور عبیدہ بن حارث بن عبدالمطلب کو مشرکین کے چند سرغنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے بھیجا۔ مختلف روایات کے مطابق عتبہ بن ربیعہ یا شیبہ حمزہ کے ساتھ دو بدو لڑائی میں مارے گئے۔[30]

 

سد ابواب کے واقعے میں حمزہ کی طرف بھی اشارہ ہوا ہے۔ گویا حمزہ ان افراد میں سے تھے جن کے گھروں کے دروازے مسجد کی طرف کھلتے تھے۔ رسول خداؐ نے حکم دیا کہ علیؑ کے گھر کے سوا دوسرے تمام گھروں کے دروازے بند کئے جائیں تو حمزہ بھی اس کا سبب پوچھا اور رسول خداؐ نے اس عمل کو اللہ کے ایک حکم کا نتیجہ قرار دیا۔[31] اگرچہ بعض روایات سے معلوم ہوتا کہ گویا سد ابواب کا واقعہ فتح مکہ کے بعد رونما ہوا لیکن اول الذکر قول کو ترجیح حاصل ہے۔[32]

 

سنہ 3 ہجری میں غزوہ احد سے قبل، حمزہ ان لوگوں میں شامل تھے جو مدینہ سے باہر دشمن کا سامنا کرنے کے حق میں تھے؛ یہاں تک کہ انھوں نے قسم اٹھائی کہ جب تک مدینہ سے باہر دشمن کے ساتھ دو دو ہاتھ نہ کریں گے کچھ بھی نہیں کھائیں گے۔ وہ سپاہ اسلام کے قلب کے امیر تھے اور دو تلواروں سے لڑرہے تھے اور اس جنگ میں انھوں نے عدیم المثال شجاعت کے جوہر دکھائے۔[33]

 

⭕ حوالہ جات

 

1: ابن سعد، الطبقات، ج3، ص8؛ البلاذري، انساب الاشراف، ج3، ص282۔

2: ابن کلبی، جمہرة النسب، ج1، ص28؛ ابن ہشام، السیرة النبویۃ، قسم 1، ص109۔

3: رجوع کریں: الواقدی، المغازی، ج1، ص68؛ ابن سعد، الطبقات، ج3، ص8۔

4: رجوع کریں: الواقدی، المغازی، ج1، ص290؛ نہج البلاغۃ، مکتوب شماره 28۔

5: الزبیدی، تاج العروس، ج8، ص53۔

6: ابن درید، الاشتقاق، ج1، ص45ـ46۔

7: رجوع کریں: البلاذري، انساب الاشراف، ج1، ص98، 100، 103؛ البلاذری، وہی ماخذ، ج2، 15؛ الیعقوبی، تاریخ الیغقوبی، ج2، ص20؛ ابن اسحاق، کتاب السیر والمغازی، ص82؛ ابن ہشام، السیرة النبویۃ، قسم1، ص189ـ190۔

8: رجوع کریں: ابوالفرج اصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص26۔

9: الطبري، تاريخ الامم والملوک، ج2، ص313۔

10: ابن حبیب، کتاب المُنَمَّق، ص2433۔

11: رجوع کریں: وہی مؤلف، کتاب المُحَبَّر، ص164ـ 165؛ وہی مؤلف، کتاب المُنَمَّق، ص243؛ الواقدی، المغازی، ج1، ص153۔

12: ابن اسحاق، کتاب السیر والمغازی، ص145ـ146؛ الطبري، تاريخ الامم والملوک، ج2، ص319ـ320۔

13: رجوع کنید به البلاذري، انساب الاشراف، ج1، ص131۔

14: الکلینی، الکافی، ج1، ص449۔

15: شہیدی، تاریخ تحلیلی اسلام، ص499؛ ابن اسحاق، السیر والمغازی، ص171-172؛ ابن ہشام، السیرت النبویہ، قسم1، ص291ـ292۔

16: الکلینی، الکافی، ج1، ص449، ج2، ص308۔

17: العاملي، الصحیح من سیرة النبی، ج3، ص153ـ154۔

18: ابن عبدالبرّ، الاستیعاب، ج1، ص369؛ ابن سعد، الطبقات، ج3، ص9؛ الکلینی، الکافی، ج8، ص298۔

19: ابن سعد، الطبقات، ج3، ص123۔

20: البلاذري، انساب الاشراف، ج1، ص123۔

21: ابن ہشام، السیرة النبویۃ، قسم 1، ص343ـ344۔

22: ابن اسحاق،کتاب السیر والمغازی، ص160-161۔

23: القمی، تفسیر القمی، ذیل انفال: 30۔

24: ابن حبیب، کتاب المُحَبَّر، ص70۔

25: ابن ہشام، السیرة النبویہ، قسم 1، ص505۔

26: البلاذري، انساب الاشراف، ج1، ص270۔

27: الواقدی، المغازی، ج1، ص9؛ ابن ہشام، السیرة النبویۃ، قسم 1، ص595ـ596؛ ابن سعد، الطبقات، ج2، ص6۔

28: ابن سعد، الطبقات، ج2، ص8ـ9 و ج3، ص10۔

29: ابن سعد، الطبقات، ج3، ص12۔

30: الواقدی، المغازی، ج1، ص68ـ69؛ الطبري، تاريخ الامم والملوک، ج2، ص445۔

31: السمہودی، وفاءالوفا، ج2، ص477-479۔

32: العاملي، الصحیح من سیرة النبی، ج5، ص342 به بعد۔

33: الواقدی، المغازی، ج1، ص211؛ ابن سعد، الطبقات، ج3، ص12؛ الواقدی، المغازی، ج1، ص226۔؛ الواقدی، المغازی، ج1، ص76، 83، 259، 290۔

 

ماخذ : وکی شیعہ