Back to علیؑ خلیفہ و جانشینِ رسول ﷺ

رسول اللہ ص نے اپنی وفات کی خبر دیے جانے کے بعد ابوبکر اور عمر کو اپنا جانشین مقرر کرنے سے انکار کیا اور امام علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔

رسول اللہ ص نے اپنی وفات کی خبر دیے جانے کے بعد ابوبکر اور عمر کو اپنا جانشین مقرر کرنے سے انکار کیا اور امام علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔
رسول اللہ ص نے اپنی وفات کی خبر دیے جانے کے بعد ابوبکر اور عمر کو اپنا جانشین مقرر کرنے سے انکار کیا اور امام علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔
رسول اللہ ص نے اپنی وفات کی خبر دیے جانے کے بعد ابوبکر اور عمر کو اپنا جانشین مقرر کرنے سے انکار کیا اور امام علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔
رسول اللہ ص نے اپنی وفات کی خبر دیے جانے کے بعد ابوبکر اور عمر کو اپنا جانشین مقرر کرنے سے انکار کیا اور امام علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔
رسول اللہ ص نے اپنی وفات کی خبر دیے جانے کے بعد ابوبکر اور عمر کو اپنا جانشین مقرر کرنے سے انکار کیا اور امام علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔
رسول اللہ ص نے اپنی وفات کی خبر دیے جانے کے بعد ابوبکر اور عمر کو اپنا جانشین مقرر کرنے سے انکار کیا اور امام علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔
رسول اللہ ص نے اپنی وفات کی خبر دیے جانے کے بعد ابوبکر اور عمر کو اپنا جانشین مقرر کرنے سے انکار کیا اور امام علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔

🔴 رسول اللہ ﷺ نے اپنی وفات کی خبر دیے جانے کے بعد ابوبکر اور عمر کو اپنا جانشین مقرر کرنے سے انکار کیا اور امام علی علیہ السلام کو اپنا جانشین مقرر فرمایا۔

 

اس بارے میں ایک صحیح روایت احمد بن حنبل نے اپنی مسند میں نقل کی ہے۔ لیکن بعض لوگوں نے اس روایت کی سند میں موجود راوی مِینا کو ضعیف قرار دے کر روایت کو رد کرنے کی کوشش کی اور اس پر رفض (شیعہ ہونے) کا الزام لگایا۔

 

حالانکہ احمد بن حنبل اور امام بخاری جن راویوں سے روایت لینے پر متفق ہیں، ان کی روایات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ مِینا بھی ان راویوں میں سے ہے جن سے احمد بن حنبل اور امام بخاری دونوں نے روایت نقل کی ہے۔

 

چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ احمد بن حنبل مِینا کی موجودگی کے باوجود اس سند کو صحیح قرار دیتے ہیں، اور اس طرح روایت کو ضعیف ثابت کرنے کی کوشش بے بنیاد ہو جاتی ہے۔

 

⭕ روایت:

 

سلمہ نے ہم سے بیان کیا، انہوں نے کہا: ہم سے عبدالرزاق نے، اپنے والد کے واسطے سے، مینا سے اور انہوں نے عبداللہ بن مسعود سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جنّات والی رات فرمایا:

”خدا کی قسم! مجھے میری وفات کی خبر دے دی گئی ہے۔“

میں نے عرض کیا: ”لوگوں کی امامت ابوبکر صدیق کریں۔“

آپ ﷺ خاموش رہے۔

میں نے عرض کیا: ”لوگوں کی امامت عمر کریں۔“

آپ ﷺ پھر خاموش رہے۔

میں نے عرض کیا: ”لوگوں کی امامت علی کریں۔“

تو آپ ﷺ نے فرمایا:

 

👈 ”وہ ایسا نہیں کریں گے، اور اگر وہ ایسا کر لیتے تو سب کے سب جنت میں داخل ہو جاتے۔“ 

 

Invisible Islam

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5
Gallery Image 6
Gallery Image 7