Back to بیعت و خلافتِ شیخین

قاضی عبدالجبار (عمریہ مکتب کے عالم)، ابوبکر کی بیعت پر اجماع کے دعوے کا رد کرتے ہوئے

قاضی عبدالجبار (عمریہ مکتب کے عالم)، ابوبکر کی بیعت پر اجماع کے دعوے کا رد کرتے ہوئے

🌏🌏 قاضی عبدالجبار (عمریہ مکتب کے عالم)، ابوبکر کی بیعت پر اجماع کے دعوے کا رد کرتے ہوئے

 

🔻 ہمارا جواب یہ ہے کہ یہ بات (اجماع کا دعویٰ) صرف اسی صورت میں درست ہو سکتی ہے جب یہ ثابت ہو کہ صحابہ کے درمیان کچھ لوگوں نے بیعت کی، کچھ نے ان کی پیروی کی اور کچھ خاموش رہے، اور ان کی خاموشی رضامندی پر دلالت کرتی ہو۔ یہی اجماع کی صورت ہے۔

 

لیکن ہم اس بات کو تسلیم نہیں کرتے۔

 

👈 یہ بات معلوم ہے کہ جب علی علیہ السلام نے بیعت کرنے سے انکار کیا تو لوگوں نے فاطمہ علیہا السلام کے گھر پر دھاوا بول دیا۔

 

اسی طرح عمار کو مارا گیا، زبیر کی تلوار توڑ دی گئی اور سلمان کے ساتھ تحقیر آمیز سلوک کیا گیا۔

 

تو ان تمام واقعات کے باوجود اجماع کا دعویٰ کیسے کیا جا سکتا ہے؟! اور خاموش رہنے والوں کی خاموشی کو رضامندی کی دلیل کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟!

 

📚 حوالہ: شرح الأصول الخمسة

 

Invisible islam

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1