رسول خدا ص کے امیرالمؤمنینؑ کو قبور گرانے کے حکم سے متعلق شبہ کا جواب
❓ رسول خدا ﷺ کے امیرالمؤمنینؑ کو قبور گرانے کے حکم سے متعلق شبہ کا جواب
اہل سنت علماء کی نظر میں
❌ ایک روایت اس مضمون کے ساتھ نقل کی جاتی ہے کہ امیرالمؤمنینؑ نے فرمایا: رسول اللہ ﷺ نے مجھے مدینہ بھیجا اور حکم دیا کہ کوئی تصویر یا مجسمہ باقی نہ چھوڑوں مگر اسے مٹا دوں، اور کوئی اونچی بنی ہوئی قبر نہ چھوڑوں مگر اسے برابر کر دوں، اور کوئی کتا نہ چھوڑوں مگر اسے قتل کر دوں۔
✅ اس روایت کی بنیاد پر وہابی کہتے ہیں کہ تمام قبور کو گرا دینا چاہیے اور تمام بارگاهیں ختم کر دینی چاہئیں❗️
ہم بغیر کسی تمہید کے اس روایت پر اہل سنت علماء کا جواب پیش کرتے ہیں۔
▪️ تونس کے اہل سنت عالم عمر غامسوری اپنی کتاب إتحاف أهل الزمان بأخبار ملوك التونس وعهد الأمان میں اس طرح جواب دیتے ہیں:
📜 "اور جو احادیث تم نے پیش کی ہیں کہ نبی ﷺ نے قبور کو تبدیل کیا اور علی بن ابی طالبؓ کو حکم دیا کہ انہیں مٹا دیں اور برابر کر دیں، تو تم نے ان کو سمجھنے میں غلطی کی ہے، اور تمہیں ان کی حقیقت معلوم نہیں ہوئی۔ اگر تم اس علم والوں سے پوچھتے تو وہ تمہیں بتاتے کہ اس کا مقصد جاہلیت کے آثار کو مٹانا تھا۔ جاہلیت کے زمانے میں جب ان کے بڑے لوگ مر جاتے تو وہ ان کی قبروں پر بڑی بڑی عمارتیں بناتے، فخر، تکبر اور بڑائی کے اظہار کے لیے۔ پس نبی ﷺ نے ایسے لوگوں کو بھیجا کہ جاہلیت کے ان آثار اور فخر و مباہات کو مٹا دیں۔ ورنہ اگر بات وہی ہوتی جو تم کہتے ہو، تو ہر قسم کی قبر کا حکم ایک جیسا ہوتا...
اور ان علاقوں کے لوگ اور وہ جن کے ہاتھ میں ان مزارات کی نگرانی ہے، وہ زیادہ حق دار ہیں کہ ہمارے بھائی ہوں، اور ہم ان کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں، کیونکہ ان کے عقائد صحیح اہل سنت کے مطابق ہیں، وہ شریعت محمدی ﷺ کی پیروی کرتے ہیں، بدعت کو چھوڑتے ہیں، اور اجماع اور مومنین کے راستے پر چلتے ہیں۔"
📚 کتاب: إتحاف أهل الزمان، عمر غامسوری، جلد 1، صفحہ 15
🔴 مزید سوال مخالفین سے:
❓ یہ جو نہی (ممانعت) ہے کہ قبور کو برابر کیا جائے، کیا یہ انبیاء اور ائمہ علیہم السلام کی قبور کو بھی شامل ہے؟ ہرگز نہیں،
👈 کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت علیؑ کو مدینہ بھیجا۔
❓ سوال یہ ہے کہ اس وقت مدینہ میں کس نبی یا امام کی قبر تھی؟ کون سا امام تھا جو اس وقت وفات پا چکا تھا؟
❓ کیا تاریخ میں کوئی مثال ہے کہ امیرالمؤمنینؑ نے کسی نبی کی قبر کو منہدم کیا ہو؟
✅ نہیں۔
لہٰذا یہ حکم انبیاء اور اولیاء کی قبور پر لاگو ہی نہیں ہوتا، بلکہ شروع سے ہی اس کا اطلاق ان پر نہیں تھا، اس لیے کسی استثنا کی ضرورت بھی نہیں۔
⭕ نتیجہ:
اس حکم کا مقصد ہرگز اولیاء اللہ اور بزرگان دین کی قبور کو گرانا نہیں تھا، بلکہ مشرکین کے فخر و تکبر کو ختم کرنا تھا۔ لہٰذا قبور کے بارے میں عمومی ممانعت والی روایات خاص موارد سے متعلق ہیں، اور انبیاء و ائمہؑ کی قبور کو شامل نہیں کرتیں۔
بلکہ ائمہ علیہم السلام کی قبور پر عمارت بنانا مستحب مؤکد ہے، اور دونوں فریقین (شیعہ و سنی) کی کتب میں اس کے جواز پر متعدد روایات موجود ہیں۔
لہٰذا قبور کو گرانے والی روایت عام نہیں بلکہ مخصوص حالات سے متعلق ہے، اور ہرگز انبیاء اور ائمہ اطہار علیہم السلام کی قبور کو شامل نہیں کرتی۔
بدر علی
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen