ایک اور روایت جو اشارہ کرتی ہے آئمہ ع کی قبور کی تعمیر کے بارے میں ہے:
ایک اور روایت جو اشارہ کرتی ہے آئمہ ع کی قبور کی تعمیر کے بارے میں ہے:
ایک راوی امام جعفر صادقؑ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے فرزندِ رسول! جو شخص امیرالمؤمنینؑ کی قبر کی زیارت کرے اور اس کی تعمیر و آبادانی کرے، اس کے لیے کیا اجر ہے؟
امام صادقؑ نے اپنے والد، انہوں نے اپنے والد، انہوں نے اپنے جد حسین بن علیؑ، انہوں نے امیرالمؤمنینؑ سے روایت کرتے ہوئے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا:
خدا کی قسم! تم عراق کی سرزمین میں قتل کیے جاؤ گے اور وہیں دفن کیے جاؤ گے۔
امیرالمؤمنینؑ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! جو شخص ہماری قبور کی زیارت کرے، انہیں آباد کرے اور ان سے مانوس رہے، اس کے لیے کیا اجر ہے؟
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اے ابا الحسن! اللہ تعالیٰ نے تمہاری اور تمہاری اولاد کی قبور کو جنت کے باغات میں سے ایک باغ اور اس کے میدانوں میں سے ایک میدان قرار دیا ہے۔ اللہ نے اپنے برگزیدہ بندوں کے دلوں کو تمہاری طرف مائل کیا ہے، وہ تمہاری زیارت کے لیے تکلیف اور اذیت برداشت کرتے ہیں، تمہاری قبور کو اللہ کی قربت اور رسولؐ کی محبت کی خاطر آباد کرتے ہیں اور کثرت سے زیارت کرتے ہیں۔
اے علیؑ! قیامت کے دن یہی لوگ میری خاص شفاعت کے مستحق ہوں گے، میرے حوض پر وارد ہوں گے اور جنت میں میرے زائر شمار ہوں گے۔
اے علیؑ! جو شخص تمہاری قبور کو آباد کرے اور ان سے تعلق رکھے، وہ ایسے ہے جیسے اس نے سلیمان بن داؤدؑ کی بیت المقدس کی تعمیر میں مدد کی ہو۔ اور جو تمہاری قبور کی زیارت کرے، اسے حجِ اسلام کے بعد ستر حج کے برابر ثواب ملے گا، اور جب وہ زیارت سے واپس آئے گا تو گناہوں سے ایسے پاک ہوگا جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا ہو۔
پس اپنے دوستوں اور محبین کو ایسی نعمتوں کی خوشخبری دو جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا اور نہ کسی انسان کے دل میں ان کا خیال آیا۔
لیکن کچھ پست لوگ تمہاری قبور کے زائرین کو طعنہ دیں گے، جیسے بدکار عورت کو اس کے گناہ پر طعنہ دیا جاتا ہے۔ یہی لوگ میری امت کے بدترین افراد ہیں، انہیں میری شفاعت نصیب نہیں ہوگی اور نہ ہی یہ میرے حوض پر آئیں گے۔
📚 بحار الانوار، جلد 97، صفحہ 120، باب: قبور نبیؐ و ائمہ کی تعمیر کا ثواب
اور اس موضوع پر روایات اتنی زیادہ ہیں کہ شمار سے باہر ہیں۔
📚 منتهى المطلب، علامہ حلی، جلد 2، صفحہ 890
🔹 قابلِ غور دو نکات:
اول: علامہ مجلسی نے اس روایت کو اس باب میں ذکر کیا ہے جس کا عنوان ہے "ائمہ کی قبور کی تعمیر کا ثواب"، یعنی قبور کی تعمیر اور آبادانی کے بارے میں متعدد روایات موجود ہیں۔
دوم: علامہ حلی فرماتے ہیں کہ اس موضوع کی روایات متواتر ہیں، یعنی ائمہ کی قبور کی تعمیر کے بارے میں اتنی زیادہ روایات ہیں کہ وہ تواتر کے درجے تک پہنچتی ہیں، اس لیے سند کی تحقیق کی مزید ضرورت نہیں رہتی۔
Invisibleislam.com