عمر بن خطاب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قبر پر گنبد یا بارگاه کیوں نہیں توڑا؟
عمر بن خطاب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قبر پر گنبد یا بارگاه کیوں نہیں توڑا؟

🔴 عمر بن خطاب نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قبر پر گنبد یا بارگاه کیوں نہیں توڑا؟

 

▪️ ابن تیمیہ جب فتح بیت المقدس کے واقعہ کو بیان کرتے ہیں، لکھتے ہیں کہ عمر رضی اللہ عنہ جب وہاں گئے تو قبر خلیل علیہ السلام کی قبر پر گئے مگر زیارت کے لیے مخصوص طور پر نہیں گئے، حالانکہ قبر پر عمارت موجود تھی، مگر وہ بند تھی:

 

📜 "بل كان هناك البناء المبني على المغارة وكان مسدودا بلا باب له مثل حجرة النبي"

 

📃 ترجمہ: "غار پر ایک عمارت بنی ہوئی تھی، اور وہ بغیر دروازے کے بند تھی، جیسے کہ نبی ﷺ کی حجرة۔"

 

📚 منہاج السنة النبوية، جلد 1، ص 480

 

❓ سوال:

اگر واقعی قبور پر عمارت بنانا حرام ہے، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے توڑنے کا حکم کیوں نہیں دیا؟ کیا عمر کا اس عمارت پر ردعمل نہ دینا اس بات کا ثبوت نہیں کہ قبور پر عمارت بنانا حرام نہیں تھا؟

 

یہاں اہم نکتہ یہ ہے کہ ابن تیمیہ نے خود اس واقعے کو نقل کیا اور اسے رد نہیں کیا، یعنی اس روایت کی موجودگی اور عمر کی عدم مداخلت عملی طور پر قبور پر عمارت بنانے کی جوازیت کی دلیل ہے۔

 

❓ وهابیت اس معاملے پر کس دلیل یا جواب دیتی ہے؟ 

 

✅ یہ تاریخی حقیقت اہل سنت کے علماء کی رائے اور عمل سے واضح ہوتی ہے کہ قبور پر چھوٹے یا بڑے نشانات، عمارت یا گنبد جائز رہا۔

 

بدر علی

 

Invisibleislam.com

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2