دیوبندی کتب سے: قبور پر عمارت و گنبد بنانے اور اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا جوازیت
💠 دیوبندی کتب سے: قبور پر عمارت و گنبد بنانے اور اسے دوبارہ تعمیر کرنے کا جوازیت
شیخ عزیز الرحمن عثمانی دیوبندی، عالم اہل سنت
ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں کہ
📜 جواب: لیکن قبوں (عمارت پر گمنبد) کے انہدام کا حکم فقہاء رحمہم اللہ نے کہیں نہیں کیا، اور بعض آثار سے ثبوت قبہ کا معلوم ہوتا ہے؛ چنانچہ منقول ہے کہ حضرت عمر بھی بین حضرت ابراہیم خلیل اللہ علی نبینا وعلیہ السلام کی قبر پر پہنچے، وہاں دو رکعت نفل پڑھی اور
👈 انہدام قبہ کا حکم نہیں فرمایا
لہذا یہ فعل انہدام قبات کا جس نے کیا اچھا نہ کیا، اور قبر پر کوئی علامت رکھنا خود آنحضرت صلی الی ایلام کے فعل سے ثابت ہے۔
اور اثر حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے معلوم ہوا کہ ان کے زمانے میں بھی وجود قبے کا تھا۔
📚 فتاویٰ دار العلوم دیوبند، جلد 5، صفحہ 348
❓❗ سوال مخالفین سے: صحابہ اور انبیاء کو قبرپرست یا بت پرست کیوں نہیں کہا جاتا؟ کیا صرف اہل بیت علیہم السلام اور شیعہ بزرگان کے لیے گنبد یا بارگاه بنانا جرم یا حرام ہے؟
🖋 بدر علی
Invisibleislam.com
Gallery
Tap any image to view full screen