🔴 *قبر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پاس بلند آواز میں زیارت پڑھنا*

 

1⃣ ایک شیعہ عالم کہتے ہیں: ”ہم تقریبا ً پچاس آدمیوں کے ایک گروہ کے ساتھ مدینہ منورہ مسجد النبی میں گئے اور وہاں جا کر آنحضرت کی زیارت پڑھنے میں مشغول ہو گئے۔

 

▪️حرم کا منتظم (شیخ عبد اللہ بن صالح )میرے قریب آیا اور اعتراض کے طور پر اس نے کہا: ”رسول خدا صلی الله علیه و آله وسلم کے مرقد کے قریب اپنی آواز بلند نہ کرو“۔

 

❓میں نے اس سے کہا: ”کیا وجہ ہے؟“

 

منتظم: ”خدا وند متعال قرآن (سورہ حجرات آیت ۲)میں فرماتا ہے:

 

📜 ” یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا لاَتَرْفَعُوا اٴَصْوَاتَکُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِیِّ وَلاَتَجْہَرُوا لَہُ بِالْقَوْلِ کَجَہْرِ بَعْضِکُمْ لِبَعْضٍ اٴَنْ تَحْبَطَ اٴَعْمَالُکُمْ وَاٴَنْتُمْ لاَتَشْعُرُونَ“۔

 

📃 ”اے ایمان لانے والو! نبی کی آواز کے اوپر اپنی آواز بلند نہ کرو اور نہ ہی ان کے سامنے چیخوچلاوٴ جس طرح تم ایک دوسرے کے سامنے چیختے ہو کہ کہیں تمہارے اعمال بیکار نہ ہوجائیں اور تمہیں خبر بھی نہ ہونے پائے“۔

 

✅ میں نے کہا: 

 

📜 ”امام جعفر صادق علیہ السلام “کے اسی جگہ پر چار ہزار شاگرد تھے اور تدریس کے وقت باآواز بلند درس دیتے تھے تاکہ ان کی آواز ان کے شاگردوں تک پہنچ جائے کیا انھوں نے حرام کام کیا؟

❓ ابو بکر و عمر اسی مسجد میں بلند آواز سے خطبہ دیا کرتے تھے اور تکبیر کہتے تھے کیا ان سب لوگوں نے حرام کا م انجام دیا؟

❓ اور ابھی ابھی تمہارے خطیب نے بلند آواز سے خطبہ دیا تم لوگ مل کر با آواز بلند تکبیر کہہ رہے تھے کیا یہ لوگ قرآن کے خلاف کر رہے تھے؟ کیونکہ قرآن اس سے منع کرتا ہے ؟

 

❓منتظم: ”اچھا تو پھر آیت کاکیا مطلب ہوا؟“ 😨

 

✅✅ میں نے کہا: ”اس آیت سے مراد ہے بے فائدہ اور بے جا شور و غل نہ کرو جو آنحضرت کی حرمت و احترام کے خلاف ہو جیسا کہ اس آیت کے شان نزول کے بارے میں روایت ہے:

 

📜 قبیلہٴ ”بنی تمیم“ کے کچھ لوگ مسجد میں داخل ہوئے اور پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر کے پیچھے سے چیخ کر کہنے لگے یا محمد باہر نکلو اور ہم سے ملاقات کرو۔ 

 

📚 تفسیر قرطبی ،ج۹،ص۶۱۲۱۔

📚 صحیح بخاری ،ج۶،ص۱۷۲۔

 

2⃣ دوسری بات یہ کہ ہم تو نہایت ہی تواضع و احترام سے زیارت پڑھنے میں مشغول ہیں اور مذکورہ آیت میں غور وفکر کرنے سے یہ سمجھ میں آتا ہے کہ اس آیت میں وہ لوگ شامل ہیں جو رسول اکرم کی اہانت کی غرض سے چیخ کر آواز لگاتے تھے کیونکہ اس آیت میں اعمال کے بیکار ہونے کی بات آئی ہے اور یقینا اس طرح کی سزا کافر یا گناہ کبیرہ انجام دینے والے اور توہین کرنے والے کے لئے ہوگی نہ کہ ہمارے لئے کیونکہ ہم تو نہایت ادب واحترام سے ان کی زیارت پڑھ رہے ہیں اگرچہ ذراسی آواز بلند ہوگئی تو کیا ہوا 

 

اس لئے روایت میں آیا ہے کہ 

 

📜 جب یہ آیت نازل ہوئی تو ثابت بن قیس (رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے خطیب )جن کی آواز بہت ہی موٹی تھی نے کہا کہ اس آیت سے مراد میں ہوں اور میرے نیک اعمال حبط ہو گئے۔جب اس بات کا علم آنحضرت کو ہوا تو آپ نے فرمایا: ”نہیں ایسا نہیں ہے ثابت بن قیس جنتی ہے“۔(کیونکہ وہ توہین نہیں کرتا ہے)۔

 

📚 مجمع البیان ،ص۹،ص۱۳۰۔تفسیر فی ظلال ومراغی 

 

بدر علی

 

Invisibleislam.com