روایات اہل بیت ع کے مطابق قبر کا پختہ کرنا جائز ہے
روایات اہل بیت ع کے مطابق قبر کا پختہ کرنا جائز ہے
🖋 تحریر : سید علی حیدر شیرازی
📜 مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ حُسَيْنِ بْنِ عُثْمَانَ عَنِ ابْنِ مُسْكَانَ عَنْ أَبَانِ بْنِ تَغْلِبَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ع يَقُولُ جَعَلَ عَلِيٌّ ع عَلَى قَبْرِ رَسُولِ اللَّهِ ص لَبِناً فَقُلْتُ أَ رَأَيْتَ إِنْ جَعَلَ الرَّجُلُ عَلَيْهِ آجُرّاً هَلْ يَضُرُّ الْمَيِّتَ قَالَ لَا-
ابان بن تغلب رض بیان کرتے ہیں کہ میں نے
امام جعفر صادق علیہ السلام کو فرماتے ہوئے سنا کہ :
📄 " حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام نے حضرت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر پر کچی اینٹ لگائی تھی ".
ابان بن تغلب نے ( امام صادق ع سے ) عرض کیا اگر کوئی شخص قبر پر پختہ (پکی) اینٹ لگائے تو آیا یہ میت کو نقصان پہنچاتی ہے؟
فرمایا: نہیں
📚 فروع کافی ج ۱ ص ۲۹۹
💯 علامہ مجلسی رح فرماتے ہیں حدیث کی سند صحیح ہے-
📚 مراة العقول ج 14 ص 104حديث 3
---------------
قبر پر سنگریزے ڈالنا ، قبر پختہ کرنا یا قبر پر ایسی تختی نصب کرنا جس پر میت کا نام کندہ جائز ہے-
📜 حُمَيْدُ بْنُ زِيَادٍ عَنِ اَلْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ غَيْرِ وَاحِدٍ أَبَانٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِهِ عَنْ أَبِي عَبْدِ اَللَّهِ عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ قَالَ:
قَبْرُ رَسُولِ اَللَّهِ صَلَّى اَللَّهُ عَلَيْهِ وَ آلِهِ مُحَصَّبٌ حَصْبَاءَ حَمْرَاءَ-
📄 ابان بن تغلب رض بعض اصحاب سے اور وہ امام جعفر صادق علیہ السلام سے روایت کرتے ہیں کہ فرمایا:
" حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی قبر پر سرخ رنگ کے سنگریزے ڈالے گئے تھے".
📚 وسائل الشیعہ ج ۲ ص ۲۶۸ باب ۳۷ ابواب دفن
📜 عِدَّةٌ مِنْ أَصْحَابِنَا عَنْ سَهْلِ بْنِ زِيَادٍ عَنِ اِبْنِ مَحْبُوبٍ عَنْ يُونُسَ بْنِ يَعْقُوبَ قَالَ: لَمَّا رَجَعَ أَبُو اَلْحَسَنِ مُوسَى عَلَيْهِ اَلسَّلاَمُ مِنْ بَغْدَادَ وَ مَضَى إِلَى اَلْمَدِينَةِ مَاتَتْ لَهُ اِبْنَةٌ بِفَيْدَ فَدَفَنَهَا وَ أَمَرَ بَعْضَ مَوَالِيهِ أَنْ يُجَصِّصَ قَبْرَهَا وَ يَكْتُبَ عَلَى لَوْحٍ اِسْمَهَا وَ يَجْعَلَهُ فِي اَلْقَبْرِ .
📄 یونس بن یعقوب رض بیان کرتے ہیں کہ
حضرت امام موسیٰ کاظم علیہ السلام (ایک بار بغداد سے رہائی کے بعد)مدینہ واپس تشریف لائے تو(مکہ کے راستے میں)بمقام " فید " آپ علیہ السلام کی بچی کا انتقال ہوگیا۔امام علیہ السلام نے اسے وہیں دفن کیا اور اپنے بعض غلاموں کو حکم دیا کہ اس کی قبر کو چونہ گچ کرکے پختہ کریں اور کسی تختی پر اس کا نام لکھ کر اسے قبر پر آویزاں کریں
📚 وسائل الشیعہ ج ۲ ص ۲۶۹ ابواب دفن
Gallery
Tap any image to view full screen