بنو امیہ کا قبر رسول (ص) کی زیارت سے روکنا
بنو امیہ کا قبر رسول (ص) کی زیارت سے روکنا
بنو امیہ کا قبر رسول (ص) کی زیارت سے روکنا
بنو امیہ کا قبر رسول (ص) کی زیارت سے روکنا

*بنو امیہ کا قبر رسول (ص) کی زیارت سے روکنا*

 

سب سے پہلے جس نے قبر پیغمبرء کی زیارت سے روکا اور اسے پتھر سے تعبیر کیا وہ مروان بن حکم تھا جس کے باپ کو پیغمبر نے جلا وطن کیا تھا۔

 

جیسا کہ لکھا ہے:

 

📜 أقبل مروان یوما فوجد رجلا واضعا وجھہ علی القبر .فقال : أتدری ما تصنع ؟ فأقبل علیہ ،فاذا ھو أبو أیوب ؟ فقال: نعم جئت رسول اللہ ولم آت الحجر .سمعت رسول اللہ یقول : لا تبکوا علی الدّین اذا ولیہ أھلہ ولکن أبکوا علیہ اذا ولیہ غیر أھلہ

 

📄 ایک دن مروان بن حکم نے دیکھا کہ کوئی شخص قبر پیغمبر (ص) پر چہرہ رکھے ہوئے راز ونیاز کر رہاہے تو اس نے اس کی گردن سے پکڑ کر کہا : 

 

کیا تو جانتا ہے کہ کیا کر رہا ہے؟ 

 

جب آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ ابو ایوب انصاری تھے . 

 

کہنے لگے : ہاں ! میں پیغمبرء کے پاس آیا ہوں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا.

 

اور میں نے پیغمبرء سے سنا ہے آپ (ص)نے فرمایا: جب دین کی سر پرستی اس کے اہل لوگ کر رہے ہوں تو اس پر مت گریہ کروبلکہ دین پر اس وقت روؤ جب اس کی سر پرستی نااہلوں کے ہاتھ میں آجائے .

 

حاکم نیشاپوری اور ذہبی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے .

 

تعلیماتِ اہلبیتؑ 

 

⭕ ۔بنو امیہ کا قبر رسول (ص) کی زیارت سے روکنا

 

سب سے پہلے جس نے قبر پیغمبرء کی زیارت سے روکا اور اسے پتھر سے تعبیر کیا وہ مروان بن حکم تھا جس کے باپ کو پیغمبر نے جلا وطن کیا تھا ؟ جیسا کہ احمد بن حنبل نے لکھا ہے:

 ﴿﴿أقبل مروان یوما فوجد رجلا واضعا وجھہ علی القبر .فقال : أتدری ما تصنع ؟ فأقبل علیہ ،فاذا ھو أبو أیوب ؟ فقال: نعم جئت رسول اللہ ولم آت الحجر .سمعت رسول اللہ یقول : لا تبکوا علی الدّین اذا ولیہ أھلہ ولکن أبکوا علیہ اذا ولیہ غیر أھلہ ﴾﴾ ﴿1﴾

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

1۔ مسند احمد ۵: ۲۲۴؛ المستدرک علی الصحیحین ۴: ۰۶۵،ح ۱۷۵۸فأخذ برقبتہ وقال:...

ایک دن مروان بن حکم نے دیکھا کہ کوئی شخص قبر پیغمبر (ص) پر چہرہ رکھے ہوئے﴿ راز ونیاز کر رہاہے﴾ تواس نے اس کی گردن سے پکڑ کر کہا : کیا تو جانتا ہے کہ کیا کررہاہے؟ جب آگے بڑھ کر دیکھا تو وہ ابو ایوب انصاری تھے . کہنے لگے : ہاں ! میں پیغمبرء کے پاس آیا ہوں کسی پتھر کے پاس نہیں آیا.اور میں نے پیغمبرء سے سنا ہے آپ (ص)نے فرمایا: جب دین کی سر پرستی اس کے اہل لوگ کر رہے ہوں تو اس پر مت گریہ کروبلکہ دین پر اس وقت روؤ جب اس کی سر پرستی نااہلوں کے ہاتھ میں آجائے .

حاکم نیشاپوری اور ذہبی نے اس حدیث کو صحیح قرا ر دیا ہے .

مروان کے بعد حجاج بن یوسف نے بھی قبر پیغمبرء کو بوسیدہ ہڈیوں اور اور لکڑی سے تعبیر کیا اور آنحضرتء کی زیارت کرنے والوں کو سختی سے منع کرتے ہوئے کہاجیسا کہ مبرّد﴿۱﴾ نے لکھا ہے :

 ﴿﴿قال حجاج بن یوسف لجمع یریدون زیارۃ قبر رسول اللہ من الکوفۃ : تبّا لھم ! انّھم یطوفون بأعواد ورمّۃ بالیۃ ، ھلاّ یطوفون بقصر أمیرالمؤمنین عبدالملک ألا یعلمون أنّ خلیفۃ المرئ خیر من رسولہ ﴾﴾﴿۲﴾

 حجاج نے قبر پیغمبرء کی زیارت کے لئے آنے والے کوفیوں سے کہا: وائے ہو تم پر لکڑیوں اور ریت کے ٹیلے کا طواف کرتے ہو ،امیرالمؤمنین عبدالملک کے قصر کا طواف کیوں نہیں کرتے .کیا تمہیں نہیں معلوم کہ کسی شخص کے خلیفہ کا مقام اس کے رسول سے بلند ہوتاہے .

کیا یہ نور رسالت (ص) کو محو کرنے کی سازش نہیں ہے ؟ اور کیا ہم جو سلف صالح کی پیروی کا دعوٰی کرتے ہیں کہیں مروان بن حکم یا حجاج بن یوسف کے پیروکار تو نہیں ہیں جس نے خانہ کعبہ کو منجنیقوں کا نشانہ بنایا ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۱۔ ان کا نام محمد بن یزید ابو العباس بصری متوفٰی ۶۸۲۲ھ تھا ذہبی نے ان کے بارے میں لکھا ہے: کان اماما ،علّامۃ ...فصیحا مفوھا مؤثقا.سیر اعلام النبلائ ۳۱: ۶۷۵

۲۔الکامل فی اللّغۃ والأدب ۱: ۰۸۱؛ شرح ابن ابی الحدید ۵۱: ۲۴۲

البتہ اس میں شک بھی نہیں ہے اس لئے کہ محمد بن عبدالوہاب کا یہ جملہ کہ میرا عصا رسول اکرم سے بہتر ہے یہ حجاج بن یوسف کی پیروی کی واضح دلیل ہے:

 ﴿﴿قال بعض أتباعہ بحضرتہ : عصای ھذہ خیر من محمد لأنّہ، ینتفع بھا فی قتل الحیّۃ والعقرب ونحوھا ومحمّد قد مات ولم یبق فیہ نفع،وانّما ھوطارش ﴾﴾

۔الدّرر السّنیۃ ۱: ۲۴۴.تالیف امام کعبہ زینی دحلان

 

 

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4