Back to حضرت حمزہؓ بن عبدالمطلب

حضرت حمزہ علیہ السلام اور شہداء اُحد کی قبروں کو معاویہ کے حکم سے کھودا جانا

حضرت حمزہ علیہ السلام اور شہداء اُحد کی قبروں کو معاویہ کے حکم سے کھودا جانا
حضرت حمزہ علیہ السلام اور شہداء اُحد کی قبروں کو معاویہ کے حکم سے کھودا جانا
حضرت حمزہ علیہ السلام اور شہداء اُحد کی قبروں کو معاویہ کے حکم سے کھودا جانا
حضرت حمزہ علیہ السلام اور شہداء اُحد کی قبروں کو معاویہ کے حکم سے کھودا جانا
حضرت حمزہ علیہ السلام اور شہداء اُحد کی قبروں کو معاویہ کے حکم سے کھودا جانا

📌 حضرت حمزہ علیہ السلام اور شہداء اُحد کی قبروں کو معاویہ کے حکم سے کھودا جانا

 

📒 محمد بن سعد الطبقات الکبری میں لکھتے ہیں:

 

📗 جابر بن عبداللہ کہتے ہیں: جب معاویہ نے اپنی نہر کو جاری کرنے کا ارادہ کیا جو اُحد میں واقع تھی، تو اس کے کارندوں نے اسے خط لکھا کہ یہ کام اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ہم اسے شہداء کی قبروں پر سے نہ گزاریں۔ معاویہ نے جواب میں لکھا: "قبروں کو کھود ڈالو (انہیں کھول دو)۔"

 

راوی کہتا ہے: میں نے دیکھا کہ ان پاک اجساد کو مردوں کے کندھوں پر اٹھایا جا رہا تھا، اور وہ اس حال میں تھے کہ گویا سوئے ہوئے افراد ہوں۔ اور جب قبر کھودی جا رہی تھی تو کدال حضرت حمزہ سلام اللہ علیہ کے پاؤں پر لگی اور وہاں سے خون جاری ہوگیا۔

 

📚 حوالہ: الطبقات الکبری، جلد 3، صفحہ 10

 

📌 ابن جوزی نے بھی اپنی کتاب المنتظم فی تاریخ الملوک والأمم میں اسی سند کے ساتھ یہ روایت نقل کی ہے:

 

📒 ابو بکر بن ابی طاہر نے ہمیں خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں جوہری نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن حیویہ نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں ابن معروف نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں حسین بن الفہم نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں محمد بن سعد نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں شِہاب بن عباد نے خبر دی، انہوں نے کہا: ہمیں عبدالجبار بن ورد نے زبیر کے واسطے سے جابر سے خبر دی کہ:

 

جب معاویہ نے اپنی نہر کو جاری کرنا چاہا جو احد کے قریب تھی، تو لکھا گیا کہ ہم اس نہر کو شہداء کی قبروں پر سے گزرائے بغیر جاری نہیں کرسکتے۔ معاویہ نے جواب میں لکھا: "انہیں قبروں کو کھود ڈالو۔"

 

جابر کہتے ہیں: میں نے دیکھا کہ انہیں (شہداء کو) مردوں کے کندھوں پر اٹھایا جا رہا تھا، گویا وہ سوئے ہوئے لوگ ہوں۔ اور جب کدال حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاؤں کے کنارے پر لگی تو وہاں سے خون بہنے لگا۔

 

📚 حوالہ:

ابن الجوزی الحنبلی، جمال الدین ابوالفرج عبدالرحمن بن علی بن محمد (متوفی 597ھ)، المنتظم فی تاریخ الملوک والأمم، جلد 3، صفحہ 183، ناشر: دار صادر، بیروت، پہلی اشاعت 1358ھ۔

 

🔴 حضرت حمزہ کی قبرکو کھودا جانا

 

 شہدائے احد کی کرامت اور معاويه کی سیاست کو شکست: جنگ احد اور معاویہ کو طاقت و قدرت ملنے کے بعد اس نے پانی کے کھال بنانے کے بہانے سے شہدائے احد کی قبروں کو منہدم کرنے کا حکم دیا ( جیسا کہ آپ وہّابيّت مختلف بہانوں سے یہی کام انجام دے رہی ہے) لیکن شہدائے احد کے اجساد سالم تھے کہ گویا وہ سو رہے ہوں۔ اور یوں اس کی یہ سازش ناکام ہو گئی بلکہ جناب حمزه عليه السلام اور تمام شہداء کی عظمت میں مزید اضافہ ہو گیا اور ابو سفیان، ہند اور معاویہ کے دوسرے ہم فکر افراد کے ظلم آشکار ہو گئے۔

 

   جنگ احد کے چھیالیس سال بعد سنہ ۴۹ ہجری میں معاویہ بن ابو سفیان کی حکومت کے دوران اس کی طرف سے یہ حکم صادر ہوا کہ احد میں پانی کے کھال اور نالیاں کھودی جائیں اور ان کا بہاؤ دریا کے کنارے یا شہدائے احد کی قبروں کو قرار دیا جائے۔ جب پانی کے وہ کھالے تیار ہو گئے تو منادی نے مدینہ میں اعلان کیا: جن لوگوں کے احد میں کوئی شہید دفن ہیں وہ نبش قبر کر کے اپنے اپنے شہداء کے جسد کسی دوسری جگہ دفن کر لیں تا کہ وہ پانی سے محفوظ رہ سکیں۔ اس حکم کی بنیاد پر شہدائے احد کی قبروں کی کھودائی اور نبش قبور کا عمل شروع ہوا۔

 

   منجملہ حمزه عليه السلام، عمرو بن جموح اور جابر کے والد عبد اللَّہ کی قبروں کو کھودا گیا لیکن معاویہ کے کارندوں کو اس وقت بہت تعجب ہوا جب انہوں نے یہ دیکھا کہ اجساد اب بھی اسے طرح سے تر و تازہ ہیں کہ جیسے کل ہی دفن ہوئے ہوں حتی کہ ان کے لباس وغیرہ بھی اپنی اسی اصلی حالت میں باقی تھے اور ان میں تھوڑی سی بھی کوئی تبدیلی رونما نہیں ہوئی تھی۔ یہاں تک کہ جب حضرت حمزه کی قبر کو کھودنے کے لئے اس پر بیلچہ مارا گیا تو اس سے خون جاری ہو گیا، یا جب ایک شہید کی زخمی پیشانی سے ہاتھ کو ہتایا گیا تو اس سے خون جاری ہو گیا۔ شہداء کی انہی کرامات کو دیکھ کر معاویہ کے کارندے اپنے اس عمل سے منصرف ہونے اور شہداء کی قبروں کو ان کی اصلی حالت پر باقی چھوڑنے پر مجبور ہو گئے۔

 

تاريخ مدينه (ابن شبه): 133/1، تاريخ الطبرى: 319/2، تاريخ ابن كثير: 43/4، تاريخ الخميس (دياربكرى):443/1، مدينة الرسول (ابن نجّار): 57، شرح نہج البلاغه ابن ابى الحديد: صص 14 و 264، شفاء السقام (سبكى): 162، اُسد الغابة (ابن اثير): 55/2، وفاء الوفاء (سمہودى): 938/3.

#بدر_علی 

#التماس_دعا 

#تعلیمات_اہلبیتؑ 

#اللھم_صلی_علی_محمد_وآل_محمد 

#تبدیلی_ممنوع

Gallery

Tap any image to view full screen

Gallery Image 1
Gallery Image 2
Gallery Image 3
Gallery Image 4
Gallery Image 5