مسلمان جنت البقیع کی تاریخی بے حرمتی پر خاموش کیوں ؟
جنت البقیع وہ قبرستان ہے کہ جس میں رسول اکرم (ص) کے اجداد ،اہل بیت (ع) ، اُمّہات المومنین، جلیل القدر اصحاب، تابعین اوردوسرے اہم افراد کی قبور ہیں کہ جنہیں ٨٦ سال قبل آل سعود نے منہدم کر دیا کہ اُن میں سے تو اکثر قبور کی پہچان اور اُن کے صحیح مقام کی شناخت ممکن نہیں!
یہ عالم اسلام خصوصاً شیعہ و سنی مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء، دانشوروں اوراہل قلم کی ذمہ داری ہے کہ اِن قبور کی تعمیرنو کیلئے ایک بین الاقوامی تحریک کی داغ بیل ڈالیں تا کہ یہ روحانی اور معنوی سرمایہ اور آثار قدیمہ سے تعلق رکھنے والے اِس عظیم نوعیت کے قبرستان کی کہ جس کی فضیلت میں روایات موجو دہیں، حفاظت اورتعمیر نوکے ساتھ یہاں مدفون ہستیوں کی خدمات کا ادنیٰ سا حق ادا کرسکیں۔
تاریخ قبرستان جنت البقیع
٨/ شوال تایخ جہان اسلام کا وہ غم انگیز دن ہے کہ جب چھیاسی سال قبل ١٣٤٤ ہجری کو وہابی فرقے سے تعلق رکھنے والے افراد نے جنت البقیع کے تاریخی قبرستان کومنہدم و مسمارکر دیا تھا۔یہ دن تاریخ اسلام میں ''یوم الہدم ''کے نام سے معروف ہے ،یعنی وہ دن کہ جب بقیع نامی تاریخی اور اسلامی شخصیات کے مدفن اور مزاروں کو ڈھا کر اُسے خا ک میں ملا دیا۔
جدّہ کے معروف عرب کالم نویس ''منال حمیدان''لکھتے ہیں:
''بقیع وہ زمین ہے کہ جس میں رسول اکرم (ص) کے بعد اُن کے بہترین صحابہ کرام (رض) دفن ہوئے اورجیسا کہ نقل کیا گیا ہے کہ یہاں دس ہزار سے زیاد اصحاب رسول (رض)مدفون ہیں کہ جن میں اُن کے اہل بیت ،اُمّہات المومنین (رض).....،فرزند ابراہیم،چچا عباس بن المطلب (رح)،پھپھی صفیہ بنت عبدالمطّلب (رح)،اُن کے نواسے حسن(ع)،اکابرین اُمت اور تابعین شامل ہیں۔ یوں تاریخ کے ساتھ ساتھ بقیع کا شمارشہر مدینہ کے اُن مزاروں میں ہونے لگا کہ جہاں حجا ج بیت اللہ الحرام اوررسول اللہ (ص) کے روضہ مبارکہ کی زیارت اور وہاں نماز ادا کرنے والے زائرین اپنی زیا رت کے فوراً بعد حاضری دینے کی تڑپ رکھتے تھے۔ نقل کیا گیا ہے کہ آنحضرت (ص) نے وہاں کی زیارت کی اور وہان مدفو ن افرادپر سلام کیااوراستغفار کی دعا کی۔
''(الشر ق الاوسط؛١٥/ ذی الحجہ ١٤٢٦ ہجری، شمارہ ٩٩٠٩)
تین ناموں کی شہرت رکھنے والے اِس قبرستان ''بقیع،بقیع الغرقد یا جنت البقیع'' کی تاریخ، قبل از اسلام زمانے سے مربوط ہے لیکن تاریخی کتابیں اِس قبرستان کی تاریخ پر روشنی ڈالنے سے قاصر ہیں لیکن اِس سب کے باوجود جو چیز مسلّم حیثیت رکھتی ہے وہ یہ ہے کہ بقیع،ہجرت کے بعدشہر مدینہ کے مسلمانوں کیلئے دفن ہونے کا واحد قبرستان تھا۔شہر مدینہ کے لوگ وہاں مسلمانوں کی آمد سے قبل اپنے مردوں کو دو قبرستانوں''بنی حرام''اور''بنی سالم''میں دفن کیا کرتے تھے ۔
(حجۃ الاسلام محمدصادق نجمی؛تاریخ حرم ائمہ بقیع ،صفحہ ٦١ )
بقیع میں مدفون شخصیات
اِس قبرستان میں اسلام کی اہم شخصیات میں ائمہ اربعہ تشیع(حضرت امام حسن مجتبیٰ (ع) ،حضرت امام زین العابدین (ع) ، حضرت امام محمدباقر (ع) اورحضرت امام جعفر صادق (ع) )کے علاوہ اور بھی شخصیا ت مدفون ہیں۔
علامہ سید محمد امین اِس بارے میں لکھتے ہیں:
''بقیع میں رسول اللہ (ص) کے چچا حضرت عباس بن المطّلب (ع) بھی مدفون تھے ،اِسی طرح حضرت ختمی مرتبت (ص) کے والد امجد حضرت عبداللہ (ع)، اُمّہات ُ المومنین، عثمان بن عفان، اسماعیل بن جعفر الصادق (ع) اورمذہب مالکی کے پیشوا، امام ابو عبداللہ مالک بن انس الاصبحی (متوفی ١٧٩ ہجری ) کی قبور کو بھی ویران کیا گیا ہے۔''
(کشف الارتیاب؛صفحہ ٥٥)
خلیفہ سوم عثمان بن عفان کے قتل کے بعد جب اُنہیں بقیع میں دفن ہونے سے روکا گیا تو اُنہیں بقیع سے باہر مشرقی حصے میں ''حش کوکب '' نامی حصے میں دفن کردیا گیا لیکن معاویہ ابن ابی سفیان کے زمانے میں جب مروان بن حکم مدینے کا والی بناتو اُس نے حش کوکب اور بقیع کی درمیانی دیوار کو ہٹا کر اُن کی قبر کو اِسی قبرستان میں داخل کر دیا اورپتھر کا وہ ٹکڑا کہ جسے خود رسو ل اکرم (ص) نے اپنے ہاتھوں سے حضرت عثما ن بن مظعون (رض) کی قبر پر رکھا تھا، اُٹھا کر حضرت عثمان کی قبر پر رکھتے ہوئے کہا: ''واللّٰہ لا یکون علی قبر عثمان بن مظعون حجرٌ یعرف بہ''(خد اکی قسم !عثمان بن مظعون (رض) کی قبر پر کوئی نام ونشان نہ ہو کہ وہ اُس کے ذریعے سے پہچانی جائے)۔
(اُسد الغابۃ؛جلد ٣،صفحہ ٣٨٧۔تاریخ المدینہ ابن زبالہ نقل از وفاء الوفاء ؛جلد٣،صفحہ ٩١٤۔٨٩٤)
اُمّہات المومنین میں حضرت زینب بنت خزیمہ، حضرت ریحانہ بنت زبیر، حضرت ماریہ قبطیہ، حضرت زینب بنت جحش، اُم ّ حبیبہ بنت ابی سفیان، حضرت سودہ اورعائشہ بنت ابی ابی بکر مدفون ہیں۔ اِس کے علاوہ حضرت ختمی مرتبت (ص) کے فرزندابراہیم (ع) ، حضرت علی (ع) کی والدہ ماجدہ حضر ت فاطمہ بنت اسد(س)، زوجہ حضرت اُمّ البنین (س)،حلیمہ سعدیہ (س) ، حضرت عاتکہ، عبداللہ بن جعفر، محمد بن حنفیہ اورعقیل بن ابی طالب (ع)، نافع مولائے عبد اللہ بن عمر شیخ القراء السبعہ (متوفی ١٦٩ ہجری) کی قبور بھی وہاں موجود ہیں۔
(البقیع؛یوسف الہاجری،صفحہ ٣٧۔مرآۃ الحرمین؛ابراہیم رفعت پاشا،صفحہ ٤٢٧۔آثار اسلامی مکہ ومدینہ؛صفحہ ٩٩۔تاریخ المعالم المدنیۃ المنوّرۃ ؛ سید احمد آل یاسین،صفحہ ٢٤٥۔طبقات القرای ؛جلد ٢،صفحہ ٣٣٠۔تہذیب التھذیب؛جلد ١٠ ،صفحہ ٤٠٧)
اِس کے علا وہ یہاں مقداد بن الاسود، مالک بن حارث، مالک اشتر نخعی، خالد بن سعید، خزیمہ ذو الشہادتین، زید بن حارثہ، سعد بن عبادہ، جابر بن عبداللہ انصاری، حسّا ن بن ثابت، قیس بن سعد بن عبادہ، اسعد بن زارہ، عبد اللہ بن مسعود اورمعاذ بن جبل سمیت دوسر ے جلیل القدر صحابہ کرام بھی یہیں مدفون ہیں۔
(مستدرک حاکم؛جلد ٢،صفحہ ٣١٨۔سیرہ ابن ہشام ؛جلد ٣،صفحہ ٢٩٥۔)
یہ عالم اسلام کی چودہ سوسالہ تاریخ کا ایک مختصر سا ورق ہے کہ جو تاریخی اسناد و دستاویزات کی روشنی میں آل سعود اور فرقہ وہابیت کے سیاہ کارناموں کی ایک زندہ اور حقیقی مثال ہے اوردورِ حاضر کا مسمار قبرستان بقیع آج کے مسلمانوں سے اِس بات کاسوال کر رہا ہے کہ وہ اِس تاریخی بے حرمتی پر کیوں خاموش ہیں؟